ذیشان خان

Administrator
کتب ستہ کے متعلق علامہ ابن الملقن کی خدمات

✍ فاروق عبداللہ نراین پوری

علامہ سراج الدين ابو حفص عمر بن علي بن احمد الشافعي المصري (المتوفى: 804) المعروف بابن الملقن رحمہ اللہ کثرت تصنیف میں معروف ومشہور ہیں۔ تقریبا تین سو کے آس پاس آپ نے کتابیں لکھی ہیں۔ آپ کو کتابیں خریدنے اور جمع کرنے کا کافی شوق تھا، اسی طرح لکھنے کا بھی۔ لیکن افسوس کہ آخری عمر میں آگ لگنے کی وجہ سے آپ کی لائبریری جل کر راکھ ہو گئی، جس میں آپ کے لکھے ہوئے بہت سارے مسودے بھی نیست ونابود ہو گئے۔ اس حادثہ سے ذہنی طور پر آپ کو سخت صدمہ پہنچا اور کچھ دنوں کے بعد سنہ 804 ہجری میں آپ کی وفات ہو گئی۔
آپ کی ایک اہم پہچان یہ ہے کہ آپ کوئی بھی موضوع بسط وتفصیل کے ساتھ لکھتے ہیں، بطور مثال آپ البدر المنیر، التوضیح، الأعلام وغیرہ دیکھ سکتے ہیں۔
مذہب شافعی کی کتابوں اور کتب ستہ سے آپ کو خاص لگاؤ تھا۔ مذہب شافعی سے متعلق آپ نے درج ذیل کتابیں تصنیف کیں:
(۱)البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير
(۲)تحفة المحتاج إلى أدلة المنهاج (على ترتيب المنهاج للنووي)
(۳)التذكرة في الفقه الشافعي
(۴)عجالة المحتاج إلى توجيه المنهاج
(۵)العقد المذهب في طبقات حملة المذهب
(یہ تمام کتابیں الحمد للہ مطبوع ہیں)
جب کہ کتب ستہ میں سے ہر کتاب کی مستقل شرح لکھی۔ پہلے صحیح بخاری کی ایک مفصل شرح لکھی جو کہ ”التوضيح لشرح الجامع الصحيح“ کے نام سے چھتیس (36) جلدوں میں مطبوع ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس شرح سے کافی استفادہ کیا ہے۔ یہ حافظ ابن حجر کے خاص استاد بھی ہیں اور ان سے براہ راست انھوں نے کافی استفادہ بھی کیا ہے۔
علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی شرح لکھنے کے بعد صحیح مسلم کی وہ احادیث جو صحیح بخاری میں نہیں ہیں (یعنی زوائد مسلم علی البخاری) کی شرح لکھی۔ اس کا تھوڑا سا حصہ مخطوط کی شکل میں خزانة الأوقاف بغداد میں موجود ہے۔
پھر سنن ابی داود کی وہ احادیث جو صحیحین میں نہیں ہیں ان کی شرح لکھی۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اس شرح سے استفادہ کیا ہے۔
پھر جامع ترمذی کی وہ احادیث جو مذکورہ تینوں کتابوں میں نہیں ہیں ان کی شرح لکھی۔ اس کا تھوڑا سا حصہ “إنجاز الوعد الوفي في شرح جامع الترمذي” کے نام سے ابو مالک المرشدی کی تحقیق سے دو جلدوں میں مطبوع ہے۔ مصنف کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخے سے ہی انھوں نے تحقیق کا کام ہے۔
پھر سنن نسائی کی وہ احادیث جو مذکورہ چاروں کتابوں میں نہیں ہیں ان کی شرح لکھی۔
پھر سنن ابن ماجہ کی وہ احادیث جو مذکورہ تمام کتابوں میں نہیں ہیں ان کی شرح لکھی۔ اس کا تھوڑا سا حصہ (تقریبا سُبُع حصہ) ”ما تمس إليه الحاجة على شرح ابن ماجه“ کے نام سے دار المقتبس دمشق سے مطبوع ہے۔
آپ نے کتب ستہ کے روات پر بھی کام کیا ہے ”إكمال تهذيب الكمال“ کے نام سے، لیکن یہ ابھی تک مخطوط ہے۔ اس نام سے جو کتاب مطبوع ہے وہ ابن الملقن کی نہیں بلکہ ان کے استاد مغلطائی کی ہے۔ بعض لوگوں کو نام میں مشابہت کی وجہ سے دھوکہ ہو جاتا ہے۔ بلکہ بعض مخطوطات میں بھی غلطی سے مغلطائی کی کتاب پر ابن الملقن کا نام درج ہو گیا ہے جس وجہ سے مزید شبہ ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ آپ نے “التلويح إلى معرفة رجال الصحيح” کے نام سے صحیح بخاری کے روات پر بھی کام کیا ہے۔ اس کا مخطوط دو جلدوں میں موجود ہے۔ اور الکٹرانک نسخہ “موسوعۃ صحیح البخاری” نامی ویب سائٹ میں موجود ہے۔
اسی طرح آپ نے ”عمدة الأحكام“ کی بھی مفصل شرح لکھی ہے جو کہ ”الإعلام بفوائد عمدة الأحكام“ کے نام سے گیارہ جلدوں میں مطبوع ہے۔واضح ہو کہ عمدۃ الاحکام میں علامہ عبد الغنی المقدسی نے احکام کی وہ احادیث جمع کی ہیں جو صحیحین میں ہیں۔ اس طرح سے علامہ ابن الملقن کی یہ خدمت بھی صحیحین کی ہی ایک طرح سے خدمت ہوئی۔
فجزاه الله خيرا وكتب أجره ونفعنا بعلمه ورفع درجته في عليي
 
Top