ذیشان خان

Administrator
کہیں ہم الحادی ذہنیت کے شکار تو نہیں ہو رہے؟

✍ فاروق عبداللہ نراین پوری

انسان کو راہ راست سے بھٹکانے کے شیطان کے مختلف حربے ہوتے ہیں۔ شیطان ہر ایک کو ایک ہی طریقے سے بھٹکانے کی کوشش نہیں کرتا۔ علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے تلبیس ابلیس میں ان کے بہت سارے راستوں کی نشاندہی کی ہے۔ اگر کسی کو سود، شراب، جوئے اور دوسری برائیوں میں مبتلا کرکے گمراہ کرتا ہے تو بعض دوسروں کے ساتھ یہ کھیل کھیلنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اب اگر ایک متقی تہجد گزار کو ان برائیوں کی طرف مائل کرے گا تو اسے بھی پتہ ہے کہ کامیابی ملنی بہت مشکل ہے، اس لیے ان کو اسی راستے سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے بہ آسانی کامیابی ملنے کی توقع ہوتی ہے۔ چنانچہ ان کے لیے بدعات کو مزین کرتا ہے اور نیکی کے راستے انھیں راہ راست سے بھٹکا دیتا ہے۔
انہی خفیہ راہوں میں سے ایک مہلک راہ الحادی ذہنیت کی طرف مسلمانوں کو مائل کرنا ہے۔ چنانچہ اسلوب کی سحر انگیزی سے ان کے جذبات پر چوٹ کرتا ہے۔ انھیں بھاوناؤں میں بہاتا ہے اور مختلف راستوں سے کسی اہم اسلامی عبادت کے مقابلے دوسرے نیک اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا ہے۔ اس سے اس کا اصل مقصد اس نیک عمل کی طرف ترغیب دلانا نہیں ہوتا بلکہ اسلامی شعائر سے دور کرنا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ یہ دھیما زہر ہوتا ہے اس لیے بظاہر اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی لاشعوری طور پر اس کے شکار بن جاتے ہیں اور انھیں احساس تک نہیں ہوتا کہ جانے انجانے میں ہم الحادی ذہنیت کی کٹھ پتلی بن رہے ہیں۔
عید الاضحی کا موسم آتے ہی اسی طرح کی الحادی ذہنیت کے شکار لوگوں کی یہ نصیحت آپ نے بارہا سنی ہوگی کہ ایک جانور قربان کرکے دو چار دنوں میں اس کا گوشت کھاکر اور کھلا کر ختم کر دینے سے کہیں زیادہ نیکی کا کام ہے غریبوں مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کے لیے سال بھر کے کھانے پینے کا انتظام کردیا جائے۔ ایسے موقع پر انھیں یہ فقراء ومساکین شدت سے یاد آتے ہیں۔ اور ان کی فقیری دور کرنے کا اس سے بہتر کوئی راستہ انھیں دکھائی نہیں دیتا۔
لیکن فقراء ومساکین کے غموں تلے دبے ہوئے انہی غمگساروں کو آپ پائیں گے کہ رمضان المبارک میں زکات اور صدقہ فطر کی تقسیم کے وقت ان کی غریب نوازی کہیں رخصت ہوجاتی ہے۔ اس وقت انھیں ان کی غریبی نہیں بلکہ قوم کی تنزلی، اسکولوں کالجوں اور اسپتالوں کی کمی کا غم ستانے لگتا ہے۔ اب ان کی ترجیحات بالکل بدل جاتی ہیں۔ چنانچہ اب ان کی لاجک یہ ہوتی ہے کہ ہم ہر سال اس طرح اربوں کھربوں کا مال ان فقراء ومساکین میں برباد کر دیتے ہیں۔ اس سے ان کی کوئی بھلائی نہیں ہوتی بلکہ ہر سال مزید نئے فقراء سامنے آجاتے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں کہ زکات وصدقات کا مال انھیں دے کر ہم قوم کو مزید کھائی میں دھکیل رہے ہیں۔
ایک بار تو ہمارے گمانی علاقے میں ایک تحریک تک چلائی گئی کہ ”فقراء ومساکین کا تعاون کرنا بند کرو“، ”بھکاری کو بھیک نہ دو“۔ پمفلیٹ چھاپے گئے، عام سبھا بلائی گئی اور لوگوں میں بیداری لانے کی کوشش کی گئی کہ مسلم قوم کی ترقی کے راستے میں یہ فقراء سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر ان پیسوں کو ہم نے اسکولوں کالجوں اور اسپتالوں کی تعمیر وترقی میں خرچ کیا ہوتا تو ہم کہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔
کئی سال پہلے کی بات ہے میں رمضان کے آخری عشرے میں اپنے ایک قریبی رشتے دار کے پاس گیا ہوا تھا۔ اسی الحادی ذہنیت کے شکار ایک صاحب ملے، پوچھنے لگے صدقہ فطر کو ہم اسپتالوں اور اسکولوں کی تعمیر وترقی میں استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔ میں نے کہا: نہیں۔ کہنے لگے: پھر ہمارے اموال کو یہ فقراء اسی طرح لوٹتے رہیں گے؟
میں نے کہا: سب سے پہلے اپنے ذہن سے اس بات کو نکال دیں کہ یہ آپ کا مال ہے۔ در حقیقت انہی فقراء کا یہ حق ہے، اگر آپ خود کھالیں تو گنہگار ہوں گے، جب کہ ان تک اسے پہنچاکر اجر کے مستحق ہوں گے۔ تب انھیں بات سمجھ میں آئی۔
خلاصہ یہ کہ قربانی کے وقت فقیروں کے مسیحا نظر آنے والے اور زکات وصدقات کے وقت ان کے دشمن نظر آنے والے در حقیقت اسی الحادی ذہنیت کے شکار ہوتے ہیں۔ انھیں فقراء کی فقیری یا قوم کی تنزلی سے زیادہ اسلامی شعائر سے پریشانی ہوتی ہے۔ اور ان کی چال میں کچھ سادہ لوح علما بھی لا شعوری طور پر پھنس جاتے ہیں اور ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔ یقینا ان کی نیت اچھی ہوسکتی ہے لیکن طریقہ کار اسی الحادی ذہنیت کی مدد کرنے والا ہوتا ہے۔
یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے بعض یہاں تک پہنچ جاتے ہیں کہ پانچ وقت کی نماز وقت کا ضیاع لگتا ہے، حج میں وقت اور مال دونوں کی بربادی نظر آتی ہے۔ اور روزہ میں بھوک پیاس سے نڈھال پڑے رہنے سے بہتر اسپتالوں میں مریضوں کو خون ڈونیشن کرنا زیادہ نیکی کا کام نظر آتا ہے۔
چنانچہ آئے دن ایسی خبریں ہم پڑھتے ہی رہتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک بنگلہ دیشی مسلم وزیر کا حج کے موقع پر ایک بیان آیا تھا کہ ملک کے لاکھوں لوگ تقریبا ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے اپنے تمام کاموں سے دور رہ کر اپنا اور ملک کا نقصان کر رہے ہیں۔
اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے عمرے متاثر ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس سال حج بھی نہ ہو، حالانکہ ابھی تک اس کا اعلان نہیں ہوا ہے، اور ہم اللہ کی ذات سے ابھی بھی پر امید ہیں کہ ان شاء اللہ اس سال بھی اس فریضہ کی ادائیگی کی جائے گی۔ ایسے موقع پر پھر اسی ذہنیت کے ہم لا شعوری طور پر شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ مشورے مل سکتے ہیں کہ حج کے ان پیسوں کو غریبوں فقیروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ چونکہ ایسے موقع پر انسان جذبات کا شکار رہتا ہے، اس لیے شرعی اصولوں کی طرف ان کا دھیان جلدی نہیں جاتا۔ بظاہر ایسے مشورے اچھے بھی لگتے ہیں لیکن غور فرمائیں کہ کیا غرباء اور فقراء کی مدد کرنے کا یہی واحد ذریعہ ہے؟
آخر ایسے موقع پر ہمیں اسلامی شعائر پر خرچ ہونے والے پیسے ہی کیوں نظر آنے لگتے ہیں؟
کوئی یہ مشورہ کیوں نہیں دیتا کہ اپنی زمین جائداد، دکان مکان بیچ کر فقراء کی مدد کی جائے۔ بلکہ کوئی اپنی فضول خرچی پر کنٹرول کرنے تک پر راضی نہیں ہوتا۔ بلکہ مکروہ اور حرام چیزوں پر مسلمانوں کے اس سے کہیں زیادہ پیسے برباد ہوتے ہیں۔ اس پر مشورے دینے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ بس حج، قربانی، مساجد ومدارس پر خرچ ہونے والے پیسے نظر آتے ہیں۔
آخر وطن عزیز سے مسلمانوں کی کتنی فیصد تعداد ہر سال حج کرنے جاتی ہے؟ دو فیصد سے بھی کم۔ اور اپنے علاقے میں تو ایک فیصد سے بھی کم۔ حالانکہ اس سے کہیں بڑی تعداد ایسے مالداروں کی ہوتی ہے جن پر حج فرض ہے لیکن انھیں اس کی فکر ہی نہیں۔
جو ایک ڈیڑھ فیصد حج کرنے والے ہوتے ہیں عموما وہ پہلے سے ہی صدقات وخیرات میں دوسروں سے کہیں آگے ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود غرباء وفقراء کی مدد کے لیے سب سے پہلے حج پر خرچ ہونے والے پیسے ہی ہمیں کیوں نظر آنے لگتے ہیں؟
 
Top