ذیشان خان

Administrator
نواب صدیق حسن خان قنوجیؒ (م: ۱۸۹۰ء) اور ان کی قرآنی خدمات

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

امیر الملک والا جاہ نواب صدیق حسن خاں قنوجی رحمہ اللہ کا شمار ہندوستان کے ممتاز علماء میں ہوتا ہے۔ اپنی متنوع دینی خدمات اوراپنے کردار وعمل کی وجہ سے انھوں نے ہزاروں اور لاکھوں دلوں میں اپنے لیے محبوبیت پیدا کی اور بھرپور زندگی گزار کر جب اس جہان فانی سے رخصت ہوئے تو اپنے پیچھے ایسے تابندہ نقوش وآثار چھوڑکر گئے جو آج بھی اہل علم کو روشنی عطا کرتے ہیں۔جن ہندوستانی علماء نے عالم اسلام بالخصوص عالم عرب میں اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے اور جن کی علمی اور تصنیفی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے،ان میں نواب صاحب کا اسم گرامی سرفہرست ہے۔

محمد صدیق حسن خاں بن سید اولاد حسن قنوجی ۱۹؍جمادی الاولی ۱۲۴۸ھ مطابق ۱۲؍اکتوبر ۱۸۳۲ء کو اپنے ننہال بانس بریلی میں پیدا ہوئے۔ ہاشمی خاندان سے آپ کا تعلق تھا۔ پانچ برس کی عمر میں یتیم ہو گئے، گھریلو سازوسامان میں صرف اجداد کی کتابیں ورثہ میں ملیں۔ ابتدائی تعلیم محلہ کے مکتب سے اپنے برادرکبیر سیداحمد حسن عرشی سے حاصل کی، پھر فرخ آباد میں کتب درسیہ پڑھیں ۔ مزید حصول علم کے لیے دہلی روانہ ہوئے۔ وہاں ایک سال ۸؍ماہ رہ کر صدرالافاضل مولاناصدر الدین سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، ۲۱؍سال کی عمر میں علوم متداولہ سے فراغت کے بعد ۱۸۵۳ء میں اپنے وطن قنوج واپس آ گئے، پھر تلاش معاش کی فکردامن گیر ہوئی۔ اس سلسلے میں بھوپال پہنچے اور ۳۰؍ روپے ماہانہ منشی گیری کی ملازمت ملی۔ پھر میردبیر کا عہدہ سونپ دیا گیا، کچھ دنوں بعد ملازمت سے معزول کر دیے گئے۔ لہٰذا قنوج واپس آنا پڑا، یہاں پہنچے ،چند ایام گزرے تھے کہ۱۸۵۷ ء کے غدر میں ملک میں بدامنی پھیل گئی۔ آپ کا علاقہ بھی متاثر ہوا۔ چنانچہ ہجرت کرکے بلگرام آ گئے۔ یہ زمانہ اتنہائی کسمپرسی اور افلاس میں گزرا۔ جب حالات معمول پرآئے تو دوبارہ قنوج آکر گھروالوں کو وہاں چھوڑ کر تلاش معاش کے لیے دوبارہ بھوپال کا سفر کیا لیکن ملازمت نہ ملی اور ٹونک چلے گئے۔ وہاں ۸؍ ماہ قیام کیا لیکن یہاں کے طرز معاشرت سے دل برداشتہ ہوگئے۔ لہٰذا ۱۸۵۹ء میں تیسری مرتبہ بھوپال گئے اور وہاں ریاست کی تاریخ نگاری کی خدمت تفویض کی گئی۔ حالات کافی بہتر ہو گئے تو والدہ اور بہنوں کو بھی بلا لیا اور مستقل سکونت اختیار کر لی۔

ان کے اساتذہ میں صدر الافاضل علامہ مفتی صدر الدین ، شیخ عبد الحق محدث بنارسی تلمیذ علامہ شوکانی رحمہ اللہ، شیخ قاضی حسین بن محسن انصاری خزرجی ،شیخ یحیی بن محمد الحازمی قاضی عدن ، علامہ سید خیر الدین آلوسی زادہ جیسے اعلام اور اعیان سرفہرست ہیں۔

عقد اول

مدار المہام منشی جمال الدین خاں نے جو ریاست بھوپال کے نائب اول تھے آپ کی علمی صلاحیت اور علم وفضل سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی ذکیہ بیگم کا نکاح آپ سے کر دیا۔

شاہ جہاں بیگم کی تخت نشینی

سکندر جہاں بیگم کے انتقال کے بعد ۱۸۶۸ء میں شاہ جہاں بیگم تخت نشیں ہوئیں۔ اس دوران سید صدیق حسن خاں کو پہلے مدارس سلیمانیہ کا نگران، پھرامیر الانشائی کا عہدہ ملا۔ نواب شاہ جہاں بیگم کے شوہر نواب باقی محمد خاں کا انتقال ان کی تخت نشینی سے پہلے ہی ۱۸۶۷ء میں ہو چکا تھا۔

عقدثانی

بیگم شاہ جہاں نے سید صدیق حسن خاں کی ذہانت، متانت اور فطانت کو دیکھ کر ۸؍مئی۱۸۷۱ ء کوان سے نکاح کر لیا، اور سید صدیق حسن خاں، نواب والا جاہ، امیر الملک صدیق حسن خاں بھوپالی بن گئے۔

شاہ جہاں بیگم ان کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ان کے گھرانے کے کئی ایک افراد کو یہ رشتہ منظور نہیں تھا۔آگے چل کر نواب صاحب پر وہابیت وغیرہ کی تبلیغ اور انگریزوں کی مخالفت کرنے کے جو سنگین الزامات عائد کیے گئے ،ان میں ان خاندانی رقابتوں کا بھی نمایاں حصہ تھا۔

نواب صاحب نے ریاست کے کاموں میں پورے لگن اور ایمان داری سے حصہ لیا،اس کی کئی ایک ذمہ داریاں خود سنبھالتے رہے اور ریاست کی تعمیر وترقی میں مصروف عمل رہے۔تمام مناصب چھن جانے کے باوجود گوشہ نشین ہوکر علمی وتصنیفی کاموں میں شب وروز لگے رہے ۔

۵۹؍سال،تین ماہ اور چھ دن عمر پاکر ۲۹؍جمادی الاخری ۱۳۰۷ھ (۱۷؍فروری ۱۸۹۰ء) کو آخر ارض ہند کا یہ عالم کبیر اور لعل درخشاں ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اللہ ان کی حسنات کو شرف قبولیت بخشے اور اپنے محبوب بندوں میں انھیں جگہ عطا فرمائے۔ آمین(۱)

نواب صاحب کی تصنیفات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ عربی،فارسی،اردو تینوں زبانوں میں انھوں نے ۳۲۳؍کتابیں تصنیف کیں۔وہ دنیائے اسلام کے کثیر التصانیف عالم دین تھے۔ تفسیر، حدیث، شروح حدیث، فقہ وعقائد، تاریخ وسیر، تصوف واخلاق، ادبیات اور خلافیات وغیرہ ہر موضوع پر انھوں نے کتابیں لکھیں جو اہل علم اور اصحاب قلم کے نزدیک بے حد اہمیت کی حامل قرار پائیں۔(۲)

قرآنیات پر ان کی تصانیف بہت وقیع ہیں،انھوں نے تفسیر،علوم قرآن اور فضائل کلام الہٰی پر جو کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں،وہ مندرجہ ذیل ہیں:

(۱) فتح البیان فی مقاصد القرآن (عربی تفسیر)

(۲) ترجمان القرآن بلطائف البیان (اردو تفسیر)

(۳) نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام

(۴) اکسیر فی اصول التفسیر

(۵) تذکیر الکل بتفسیر الفاتحۃ واربع قل

(۶) افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ

(۷) فصل الخطاب فی فضل الکتاب(۳)

زیر مطالعہ تحریر میں چوں کہ ان کی اردو تفسیر’’ترجمان القرآن بلطائف البیان‘‘ کا تفصیلی جائزہ لینا ہے، اس لیے پہلے قرآن سے متعلق باقی کتابوں کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے:

فتح البیان فی مقاصد القرآن

نواب صاحب کی یہ تفسیر عربی زبان میں ہے اورمکمل قرآن کی تفسیر ہے۔اپنی جملہ تصانیف میں وہ اس تفسیر کوسب سے زیادہ اہمیت دیتے اور محبوب رکھتے تھے۔چار جلدوں میں اس کی اولین طباعت مطبع صدیقی بھوپال سے ۱۲۹۳ھ میں عمل میں آئی تھی۔مصنف نے بعد میں اس میں متعدد مقامات پر بہت سے اضافے کیے اور پھر خود ہی دس جلدوں میں اسے مطبعۃ الجوائب الکائنۃ مصرسے طبع کرایا۔یہ ایڈیشن بڑے سائز کے چار ہزار سے زائدصفحات پر محیط ہے۔اس کا جدید ایڈیشن المکتبۃ العصریۃ صیدا، بیروت سے ۱۴۱۲ھ؍۱۹۹۲ء میں عبداللہ بن ابراہیم انصاری کی تقدیم اور مراجعہ کے ساتھ پندرہ جلدوں میں شائع ہوا ہے۔اس کے صفحات کی تعداد ۶۶۳۴ہے۔

ڈاکٹرسالم قدوائی اس تفسیر کے سلسلے میں لکھتے ہیں:

’’امام جلال الدین سیوطی کی تفسیر در منثور روایتی نقطہ نظر سے خاص طور سے صاحب موصوف کے پیش نظر رہی ہے۔اس کے ضروری مطالب کے ساتھ دوسری تفسیروں سے مناسب معلومات جمع کردی ہیں۔ضعیف روایتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے اور متضاد روایتوں میں ترجیح کی صورتیں بیان کردی ہیں۔اعراب کی مشکلات دور کی ہیں۔قرا ٔت کے اختلافات کا ذکر کیا ہے۔ الغرض روایتی اور درایتی دونوں قسم کی تفسیروں کے بہترین اقتباسات اس کتاب میں اکٹھا کردیے ہیں۔(۴)

نواب صاحب نے اپنی اس عربی تفسیر کا ایک مبسوط مقدمہ تحریر فرمایا ہے،اس میں حمد وصلوۃ کے بعد اس حقیقت کی وضاحت فرمائی ہے کہ علم تفسیر قدرومنزلت، شرف وفضیلت اوراسلامی شریعت کی اساس کے اعتبار سے تمام علوم میں افضل واعلی ہے۔انھوں نے علم تفسیر کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:
ھو علم باحث عن نظم نصوص القرآن، وآیات سورالفرقان بحسب الطاقۃ البشریۃ وبوفق ما تقتضیہ القواعد العربیۃ۔(۵)

’’علم تفسیرایساعلم ہے جو انسانی طاقت کے بقدر عربی قواعد کے تقاضوں کے مطابق نصوص قرآن اور اس کی سورتوں کی آیات کے نظم سے بحث کرتا ہے۔‘‘

علم تفسیر کا مقصد اوراس کافائدہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’علم تفسیر کا مقصد نظم قرآن کے معانی اورشریعت کے عملی احکام کی معرفت حاصل کرنا ہے۔اس کافائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے صحیح طور پر شرعی احکام کے استنباط کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔اس کاموضوع اللہ سبحانہ کا کلام ہے جو تمام حکمتوں کا منبع ہے۔

قرآن اللہ کاوہ عربی کلام ہے جو محمدﷺ پر نازل کیا گیا ہے،جس کی چھوٹی سی چھوٹی سورۃ سے بھی چیلنج کیا گیا ہے اور جو تواتر سے منقول ہے ۔قرآن سے استفادہ کی دوصورتیں ہیں:ایک تفسیر ہے جس کاادراک صرف نقل سے ہوتا ہے جیسے اسباب نزول اور دوسری صورت تاویل کی ہے۔تاویل کاادراک عربی قواعدکے ذریعے ممکن ہے ،اس کاتعلق درایت سے ہے۔ (۶)

تاویل کے جواز کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
والسر فی جواز التأویل بشروطہ دون التفسیر،أن التفسیر کشھادۃ علی اللہ وقطع بأنہ عنی بھذا اللفظ ھذاالمعنی ولایجوز الا بتوقیف،ولذا جزم الحاکم بأن تفسیرالصحابی مطلقاً فی حکم المرفوع،والتأویل ترجیح لأحد المحتملات بلاقطع، فاغتفر۔ (۷)

’’تفسیر کے علاوہ اپنی شرطوں کے ساتھ تاویل کے جائز ہونے کاراز یہ ہے کہ تفسیر ایک طرح سے اللہ کی طرف سے شہادت دینا ہے اور قطعی فیصلہ دینا ہے کہ اللہ نے اس لفظ سے یہی مراد لیا ہے اور یہ جائز نہیں ہے جب تک اسے توقیفی نہ سمجھا جائے۔اسی لیے امام حاکم نے قطعیت کے ساتھ یہ بات کہی ہے کہ مطلق طور پر صحابی کی تفسیر مرفوع کے حکم میں ہے۔جب کہ تاویل کئی احتمالات میں سے کسی ایک کوبغیر قطعیت کے ترجیح دینے کا نام ہے۔ اسی لیے اس میں صادر ہونے والی غلطی معاف ہے۔‘‘

اس کے بعدنواب صاحب نے مقدمے میں یہ ذکر فرمایا ہے کہ اساطین امت صحابہ کرام، تابعین عظام ،ائمہ لغت اور دیگر بہت سے علمائے اسلام نے قرآن کی تفسیر کی ہے اور اس کی حکمتوں کو واضح فرمایا ہے۔ صحابہ کرام میں انھوں نے حضرات ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان غنی، علی بن ابی طالب، ابن مسعود، ابن عباس، ابی بن کعب، انس بن مالک، ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوموسی اشعری، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہم کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔

تابعین میں وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تلامذہ مجاہد بن جبر، سعید بن جبیر، عکرمہ، طاوس بن کیسان یمانی، عطاء بن ابی رباح اور حضرت ابن مسعود کے تلامذہ علقمہ بن قیس، اسود بن یزید وغیرہم کا ذکر کرتے ہیں۔ اس کے بعد سفیان بن عیینہ، وکیع بن جراح، شعبہ بن حجاج، یزید بن ہارون، عبدالرزاق، آدم بن ابی ایاس، اسحاق بن راہویہ، روح بن عبادہ، عبداللہ بن حمید اور ابوبکر بن ابی شیبہ کا ذکر کیا ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جنھوں نے صحابہ وتابعین کے اقوال پر مشتمل کتب تفاسیر تحریر فرمائیں۔ اس کے بعد دوسرے طبقات کا اجمالی ذکر کیا ہے۔

دوراول کے مفسرین کے برعکس بعد کی صدیوں میں مفسرین نے جو تفسیریں لکھیں، ان میں انھوں نے سندیں حذف کردیں اور بعض دوسرے اقوال بھی تفسیر میں شامل کردیے۔پھر یہ تمیز مشکل ہوگئی کہ کون سے اقوال سلف صالحین یعنی صحابہ وتابعین سے مروی ہیں اور کون سے بعد کااضافہ ہیں۔ علامہ جلال الدین سیوطی کا وہ یہ قول نقل کرتے ہیں کہ میں نے {غیر المغضوب علیھم ولاالضالین} کی تفسیر میں دس اقوال دیکھے ہیں ،جب کہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ وتابعین سے یہی منقول ہے کہ اس آیت سے یہود ونصاری کے علاوہ کوئی دوسرا مراد نہیں ہے۔ ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مجھے اس آیت کے سلسلے میں مفسرین کے کسی اختلاف کاعلم ہی نہیں ہے۔ (۸)

اس کے بعد وہ دور بھی آیا جب بعض مفسرین نے اپنے اپنے فن اور علمی اختصاص کی بنیاد پر تفسیریں لکھیں۔ نحویوں نے قرآن کی تفسیر میں نحوی مسائل بھر دیے، قصص وواقعات سے دل چسپی رکھنے والوں نے تفسیر میں واقعات کی بھرمار کردی، فقہاء نے بعض آیات سے زبردستی فقہی مسائل کشید کیے اور متکلمین اور فلاسفہ نے قرآن کو کلامی اور فلسفیانہ بحثوں کا مرجع قرار دے دیا۔

نواب صاحب نے اسی مقدمے میں تفسیر کے لیے چند شرطوں کاذکر کیا ہے۔اگر کوئی ان شرطوں کو پوری نہیں کرتا تواسے تفسیر کرنے کاحق حاصل نہیں ہے۔مفسر کے لیے ضروری ہے کہ وہ عربی زبان، نحو، صرف، اشتقاق، معانی، بیان، بدیع، قراتیں، اصول دین، اصول فقہ، اسباب نزول، قصص، ناسخ ومنسوخ، فقہ، مبہم اور مجمل کی تفسیر کرنے والی احادیث سے واقف ہو اور ساتھ ہی ساتھ اسے اللہ کی طرف سے وہبی علم بھی عطا ہوا ہو۔(۹)

نواب صاحب نے بعض معتبر تفاسیر کاذکر کرتے ہوئے اس ضمن میں ابن ابی حاتم عبدالرحمن بن محمد رازی (م۲۹۵ھ)، ابوجعفر محمد بن جریر طبری (م۳۱۰ھ)، جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر سیوطی(م۹۱۱ھ)، ابن کثیر ابوالفداء اسماعیل بن عمر قرشی (م۷۷۴ھ)، ابن المنذر ابوبکر محمد بن ابراہیم نیسابوری(م۳۱۸ھ)، نحاس ابوجعفر احمد بن محمد مصری(م۳۳۸ھ) اور ابوالعباس احمد بن عمار تیمی مہدوی(م بعد ۴۳۰ھ) کی تفسیروں کا نام لیا ہے۔ آگے لکھتے ہیں:

’’میرے نزدیک علامہ محمد بن علی بن محمد شوکانی یمنی (م۱۲۰۵ھ) کی تفسیر روایت ودرایت کی جامع سب سے اچھی تفسیر ہے۔ یہ تفسیر چار جلدوں میں ہے۔‘‘(۱۰)

ایک عرصے سے میرے دل میں یہ خیال آرہا تھا کہ کوئی ایسی تفسیر لکھوں جو روایت اور درایت دونوں کی جامع ہو۔اس میں تفسیر بالرائے کا کوئی دخل نہ ہو۔ لیکن اس کے لیے جو مہلت اور فرصت درکار تھی وہ مجھے کثرت مشاغل کی وجہ سے حاصل نہیں تھی۔میں ایک قدم آگے بڑھاتا تھا لیکن پھر پیچھے کھینچ لیتا تھا۔ اسی طرح ماہ وسال گزرتے رہے۔لیکن جب مجھ سے اہل علم کی ایک جماعت نے اصرار کیا تو میں ان کی بات رد نہ کرسکا اور یہ تفسیر لکھی۔مفسرین نے جو تفسیری سرمایہ جمع کردیا ہے، اس میں اضافہ کرنے کی بہت کم گنجائش ہے لیکن ہر دور میں قرآن کی خدمت کی جانی چاہیے تاکہ خواب غفلت میں پڑے لوگ بیدار ہوجائیں اور شائقین علم کے شوق میں اضافہ ہوجائے۔یہ تفسیر نہ بہت مختصر ہے اور نہ مطول بلکہ متوسط تفسیر ہے۔میں نے اس میں آسان زبان استعمال کی ہے اور اقوال میں تعارض نظر آیا ہے تو راجح قول کی تعیین کی ہے۔قرآن کے مشکل الفاظ کی تشریح بھی کی ہے اوراحادیث رسول، اقوال صحابہ اورآثار تابعین سے پوری پوری مدد لی ہے۔بعض مقامات پر قرأتوں کے اختلاف کوواضح کیا ہے۔ میں نے کئی ایک تفسیروں سے ا س میں مدد لی ہے جو مشہور اور علمائے اسلام کے یہاں معتبر تسلیم کی جاتی ہیں۔میں نے اس تفسیر کا نام’’فتح البیان فی مقاصد القرآن‘‘ رکھا ہے۔ یہ تاریخی نام ہے۔(۱۱)

قرآن کے فضائل پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک بحث یہ اٹھائی ہے کہ اس تعلق سے جواحادیث مروی ہیں،ان کا مطلب قرآن کو سمجھ کر پڑھنا اور اس کی تلاوت کرنا ہے۔کیوں کہ تلاوت قرآن کاحاصل یہی ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھنے والے کے لیے مناسب ہے کہ وہ قرآن کے احکام وقوانین کو سیکھے تاکہ اللہ نے اس پر جو کچھ فرض کیا ہے، اس کو سمجھ سکے۔ اسی سے اسے تلاوت کرنے کا فائدہ ہوگا اور وہ جن آیات اور سورتوں کی تلاوت کرے گا،ان میں مذکور احکام پر عمل کرے گا۔ قرآن کاوہ حامل کتنا بدنصیب ہے کہ وہ قرآن کے احکام اور اس کے فرائض کی زبانی تلاوت کرے لیکن اس کا معنی ومفہوم سمجھنے سے قاصر ہو۔پھر جس کا مطلب وہ نہیں سمجھتا،اس پر عمل کیوں کر کرسکتا ہے۔

اسی طرح اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکی اور مدنی سورتوں اور آیات کی سمجھ حاصل کرے۔ تاکہ ناسخ اور منسوخ کا علم اسے رہے اور ابتدائے اسلام میں کیا چیز فرض تھی اور بعد میں کیا احکام وقوانین نازل کیے گئے، ان تمام باتوں کی اسے شناخت رہے۔

قرآن کے فضائل میں کئی ایک احادیث کاذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’ہر ہر سورہ کی فضیلت میں ذکر کی جانے والی احادیث کے بارے میں احادیث کاعلم رکھنے والوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ موضوع اور جھوٹی ہیں۔ان احادیث کے گھڑنے والے نے خود اس کااقرار کیا ہے اور اقرار کے بعد پھر کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔ علامہ زمخشری نے ہر سورہ کے آخر میں ان کے فضائل میں جو احادیث نقل کی ہیں،ان سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیوں کہ وہ اگرچہ لغت اور دوسرے علوم آلیہ کے امام ہیں لیکن وہ صحیح ترین اور جھوٹی ترین احادیث کے درمیان فرق کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ بات ان کے اس علم کے لیے قادح نہیں ہے جس میں وہ تحقیق کی بلندی پر فائز ہیں۔ہر فن کے الگ الگ ماہرین ہوا کرتے ہیں ۔اللہ نے اپنے بندوں کے درمیان طرح طرح کے فضائل تقسیم کردیے ہیں۔ علامہ زمخشری نے یہ احادیث تفسیر ثعلبی سے نقل کی ہیں اور علم حدیث کی عدم معرفت میں ثعلبی بھی زمخشری ہی کی طرح ہیں۔‘‘(۱۲)

نیل المرام من تفسیرآیات الأحکام

یہ کتاب جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے،قرآن کریم کی ان آیات کی تفسیر ہے جن سے احکام شرعیہ کااستنباط ہوتا ہے۔ اس کا اولین ایڈیشن مطبعہ علوی ،لکھنؤ سے ۱۲۹۲ھ میں شائع ہوا تھا۔ اس ایڈیشن میں صفحات کی تعداد ۱۹۶ ہے۔ دوسرا ایڈیشن مطبعہ رحمانیہ مصر سے ۱۳۴۷ھ ۔۱۹۲۹ء میں احمد یوسف کے مقدمہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس کے صفحات کی تعداد۳۵۴ ہے۔ ایک تیسرا ایڈیشن دارالکتب العلمیہ بیروت سے ۲۰۰۳ء میں محمد حسن اسماعیل اور احمد فرید المزیدی کی تحقیق کے ساتھ چھپا ہے۔ اس میں صفحات کی تعداد ۴۷۱ ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں تمام قرآنی آیات پر نمبر لگادیے گئے ہیں جب کہ تیسرے ایڈیشن میں ترقیم آیات کے ساتھ ساتھ نصوص کی تخریج بھی کردی گئی ہے۔ مکتبہ محمدیہ لاہور نے اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی شائع کردیا ہے۔ ترجمہ حافظ ابوبکر نے کیا ہے۔ ۴۶۷؍صفحات پر مشتمل مترجم کتاب کا تیسرا ایڈیشن اس وقت پیش نظر ہے جو مئی ۲۰۱۵ء میں شائع ہوا ہے۔(۱۳)

مقدمہ کتاب میں نواب صدیق حسن خاں نے ذکر کیا ہے کہ قرآنی شرعی احکام کی رغبت رکھنے والے کے لیے آیات احکام کی معرفت ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد پانچ سو ہے لیکن یہ درست نہیں بلکہ یہ کل دوسو یا اس سے کچھ زیادہ آیات ہیں۔اگر نحویوں کی اصطلاح کے مطابق ہر جملہ مفیدہ کوایک مستقل آیت تسلیم کرلیا جائے توان کی تعداد پانچ سوسے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔

کیااحکام کی آیات کا حفظ کرنا ضروری ہے؟اس سوال کا وہ جواب یہ دیتے ہیں کہ مجھے علم نہیں ہے کہ کسی عالم نے ان آیات کو حفظ کرنا ضروری قرار دیا ہے بلکہ صرف یہ شرط رکھی ہے کہ ایک فقیہ کوان کے مقامات کاعلم ہونا چاہیے تاکہ بوقت ضرورت ان کی طرف بآسانی رجوع کرسکے۔اگر کوئی ان آیات کوالگ سے کاپی میں لکھ لے یا کوئی مستقل کتاب تیار کردے تو اس کے لیے یہی کافی ہوگا۔

نواب موصوف نے اس کتاب میں دوقسم کی آیات احکام کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ایک وہ آیات جن کی دلالت واضح اور بدیہی ہے۔جن میں غور وفکر اور استنباط کی ضرورت نہیں ہے جیسے {وأقیمواالصلوۃ وآتواالزکوۃ}۔ دوسری قسم ان آیات کی ہے جن کے بارے میں مجتہدین کااختلاف ہے کہ یہ کسی معین حکم پر دلالت کرتی ہیں یا نہیں۔ وہ اس مسئلہ میں نہ واضح ہیں اور نہ ان کی دلالت قطعی ہے۔جیسے گھوڑے کے گوشت کی حرمت پر آیت {لترکبوھا وزینۃ} سے استدلال کرنا۔کتاب میں صرف ان آیات احکام کاذکر کیا گیا ہے جن کی دلالت واضح ہے تاکہ احکام کے طالب ان پر پوری توجہ کرسکیں۔(۱۴)

اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:
وھاأنا أفسر تلک الآیات المشار الیھا بتفسیر وجیز جامع لمالہ وما علیہ،ولم آخذ فیھا من الأقوال المختلفۃ الاالأرجح؛ومن الدلائل المتنوعۃ الاالأصح الأصرح۔(۱۵)

’’جس قسم کی آیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،میں نے ان کی مختصر لیکن مالہ وماعلیہ کو جامع تفسیر پیش کی ہے۔ اختلافی اقوال میں صرف راجح قول کو اور متنوع دلائل میں صرف صحیح ترین اور واضح دلیل کو اختیار کیا ہے۔‘‘

نواب صاحب کی یہ کتاب علامہ شوکانی کی تفسیر فتح القدیرسے مستفاد ہے۔کہیں کہیں کسی آیت کے ذیل میں’’قلت‘‘کہہ کر انھوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے یا کچھ اضافہ کیا ہے۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بات کا ذکر انھوں نے کتاب کے مقدمے میں نہیں کیا ہے جب کہ عام طور پر وہ اپنی تصانیف کے مقدمے میں ان کتابوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن سے وہ استفادہ کرتے ہیں۔

اپنی اس کتاب کاتعارف انھوں نے ’’اکسیر فی اصول التفسیر‘‘ میں ان الفاظ میں پیش کیاہے:

’’نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام للعبد الضعیف ابی الطیب صدیق بن حسن (بن) علی بن لطف اللہ الحسینی البخاری القنوجی نزیل بھوپال وایں دوصد وسی وشش آیت ست کہ حفظ آں مجتہد راکافی ست وآنکہ گویند پانصد آیت ست صحیح نیست۔اگرچہ جمعی ازاہل علم بداں رفتہ وتفسیرآں پرداختہ واگر ہر جملہ مفیدہ راآیت گویند زیادہ از پانصد می شود۔واولہ الحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی محمد الامین۔‘‘(۱۶)

’’نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام بندہ ناتواں ابوالطیب صدیق بن حسن بن علی بن لطف اللہ الحسینی البخاری القنوجی نزیل بھوپال کی تصنیف ہے۔یہ کل دوسو چھتیس آیات ہیں جن کا حفظ کرلینا ایک مجتہد کے لیے کافی ہے۔جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ ایسی آیات پانچ سو ہیں،ان کی بات صحیح نہیں ہے۔اگرچہ اہل علم کی ایک جماعت یہی جانتی ہے اور اس نے ان کی تفسیر بھی کی ہے۔اگر ہر جملہ مفیدہ کو ایک آیت کہا جائے توان کی تعداد پانچ سو سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔نواب صاحب نے اس کتاب میں قرآن کی چونتیس سورتوں میں سے ۲۳۶ آیات احکام کی تفسیر کی ہے۔

سورہ بقرہ آیت:(۲۲۹) {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَان} سے جو حکم شرعی مستنبط ہوتا ہے ،اس کی تفصیل اس طرح پیش کرتے ہیں:

’’الطَّلَاقُ‘‘ یہ طلاقیں‘‘، یعنی طلاق کی تعداد جس میں رجوع کا حق ہے۔یہاں طلاق سے مراد طلاق رجعی ہے۔اس کی دلیل وہ لفظ ہے جو آیت میں موجود ہے ،وہ ہے: ’’مرتان‘‘ دو مرتبہ، یعنی پہلی اور دوسری جب کہ تیسری کے بعد رجوع نہیں۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے لفظ ’’مرتان‘‘ (دو مرتبہ) فرمایانہ کہ دو طلاق کا اور دو مرتبہ کالفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ طلاق علاحدہ علاحدہ اوقات میں ایک مرتبہ کے بعد دوسری مرتبہ ہوگی نہ کہ دونوں طلاقیں ایک ہی مرتبہ،مفسرین کی ایک جماعت کا بھی یہی خیال ہے۔

دوسری طلاق کے بعد دو باتوں میں سے کسی ایک کو اپنانا لازم ہے یا تو تیسری طلاق دے کہ اس کو زوجیت سے علاحدہ کردے یا اسے روک کر نکاح قائم ودائم رکھے اور تیسری طلاق نہ دے۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے (فَإِمْسَاک) فرمایا یعنی جس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دینے کے بعد رجوع کے بعد روک لیا۔ {بِمَعْرُوف} یعنی جو طریقہ لوگوں میں اچھے انداز سے زندگی گزارنے کا ہے اس کے مطابق۔ {أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَان} یعنی تیسری طلاق دے کر بغیر کسی تکلیف ومصیبت کے چھوڑنا ہے۔ایک دوسرے قول کے مطابق اچھے طریقے سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسری طلاق کے بعد رجوع کرلے یا احسان کرتے ہوئے چھوڑنا یعنی دوسری طلاق کے بعد رجوع نہ کرنا حتی کہ عدت گزر جائے مگر پہلا معنی ہی صحیح ہے۔

اہل علم نے تین طلاقیں ایک مرتبہ دینے میں اختلاف کیا ہے۔کیا تینوں واقع ہوجاتی ہیں یا ایک ہی؟ پہلا موقف جمہور کا ہے اور دوسراان کے علاوہ دوسروں کا اور یہی صحیح ہے۔ امام شوکانی فتح القدیر میں فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تصنیفات میں اس مسئلہ کی وضاحت کردی ہے اور اس مسئلہ پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔

میں بھی یہی کہتا ہوں اور اسی موقف کو امام ابن تیمیہ حرانی رحمہ اللہ اور حافظ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ اور ان کے علاوہ پرانے اور نئے بڑے بڑے علماء کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔میں نے اس موضوع پر مسک الختام شرح بلوغ المرام میں بہت عمدہ بالتفصیل اور انتہائی واضح طریقہ سے لکھا ہے۔(۱۷)

افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ
فارسی زبان میں نواب صاحب کی یہ کتاب علوم قرآن سے متعلق ایک اہم تصنیف سمجھی جاتی ہے۔مقدمہ کتاب سے پہلے انھوں نے اس کا جو ابتدائیہ تحریر فرمایا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ کتاب احباب کی ایک جماعت کی مدد سے ۱۲۸۶ھ میں تحریر فرمائی تھی۔اس کی اولین اشاعت مطبع نظامی کانپور سے ۱۲۸۸ھ میں عمل میں آئی تھی جوبڑی تقطیع کے ۸۴؍صفحات پر مشتمل ہے۔اس کا ایک دوسرا ایڈیشن مطبع محمدی لاہور سے ۱۳۱۸ھ (۱۹۰۰ء) میں شائع ہوا تھا۔اس ایڈیشن کے صفحات کی تعداد ۱۲۴؍ہے۔

نواب صاحب نے خود اپنے قلم سے اس کتاب کا جوتعارف اپنی دوسری کتاب’’اکسیر فی اصول التفسیر‘‘ میں کرایا ہے ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کتاب کتنی اہمیت رکھتی ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں:
’’افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ لکاتب الحروف صدیق بن حسن بن علی القنوجی نزیل بلدۂ بھوپال از ممالک مالوۂ دکن۔ دروے ناسخ ومنسوخ قرآن وحدیث ہر دورا جمع ساختہ واز کتب ورسائل متقدمین ومتاخرین کہ دریں باب تالیف یافتہ است بے نیاز ساختہ۔‘‘(۱۸)

’’افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ کاتب الحروف صدیق بن حسن بن علی قنوجی نزیل بھوپال (مالوہ دکن کی ایک ریاست) کی تصنیف ہے۔اس میں قرآن وحدیث دونوں کے ناسخ ومنسوخ کو جمع کردیا گیا ہے۔اس موضوع پر علمائے متقدمین و متاخرین کی جانب سے جو چھوٹی بڑی کتابیں تالیف کی گئی ہیں،ان سے بے نیاز کردینے والی ہے۔‘‘

ابتدائیہ میں خطبۃ الکتاب کے بعد مصنف نے علم ناسخ ومنسوخ کی اہمیت اور ضرورت بیان کی ہے اور لکھا ہے کہ کتاب وسنت پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ناسخ اور منسوخ کا علم ہو۔ علم نہ ہونے کی صورت میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی ایسی چیز کے جواز کا فتوی دے دیا جائے جس کا حکم منسوخ ہوگیا ہویا اس چیز کو حرام کردیا جائے جس کا حکم منسوخ ہوکر جواز میں تبدیل ہوگیا ہو۔ ائمہ ملت اور سلف کا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ولہذا ایمۂ ملت وسلف امت گفتہ اند کہ جائز نیست ہیچ یکے را کہ تفسیر کند کتاب خدا را یا تمسک نماید بسنت مگر بعد معرفت ناسخ آں از منسوخ وے۔ واز علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مروی ست کہ واعظے را گفت ناسخ ومنسوخ می شناسی؟ گفت: نہ۔ فرمود ہلاک شدی وہلاک کردی۔‘‘(۱۹)

’’اسی لیے ملت کے اماموں اور امت کے اسلاف نے کہا ہے کہ ناسخ اور منسوخ کی معرفت حاصل کیے بغیر کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ کی کتاب کی تفسیر کرے یا سنت سے تمسک اختیار کرے۔علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ انھوں نے ایک واعظ سے پوچھا: کیا ناسخ ومنسوخ پہچانتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: خود ہلاک ہوگے اور دوسرے کو بھی ہلاک کروگے۔‘‘

صحابہ میں یہی نقطہ نظر عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر اور حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم کا رہا ہے۔ کوئی صحابی اس مسئلے میں ان کا مخالف نہیں ہے۔ گویا ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس علم کی معرفت حاصل کرنا اور قرآن وحدیث میں ناسخ اور منسوخ کے علم کے بغیر گفتگو نہ کرنا واجب ہے۔(۲۰)

اسی ابتدائیہ میں نواب صاحب نے بعض مشہور مصنفین کے اسمائے گرامی کا ذکر فرمایا ہے جنھوں نے علوم قرآن وحدیث کے اس خاص شعبے میں کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ قرآن کے ناسخ ومنسوخ سے متعلق مصنفین میں انھوں نے علی بن ابی طالب قیسی مقری، ابوجعفر نحاس، ابوبکر محمد بن عبداللہ بن عربی، ابوداؤد سجستانی، ابوعبید قاسم بن سلام، ابوسعید عبدالقاہر بن طاہر تیمی، شیخ جلال الدین سیوطی، امام ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن سلامہ بن نصر مفسر مقری نحوی بغدادی، ابوالحسین،ابن المناوی اور علی ہمدانی کا نام ذکر کیا ہے۔ اس موضوع پر ان علما کی تصانیف ہیں جن سے اہل علم استفادہ کرتے رہے ہیں۔

زیر مطالعہ کتاب کی ضروت کیوں محسوس ہوئی،اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ہمارے اس دور میں علمائے متقدمین کی کتابیں نایاب ہیں،ہمارے ملک کے اہل علم کی ان تک رسائی نہیں ہے ،اس لیے میں نے یہ کتاب ترتیب دی ہے تاکہ اس فن سے لوگ واقف ہوسکیں۔(۲۱)

یہ کتاب ایک مقدمہ، دوابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔مقدمہ میں مصنف نے نسخ کے معنی اور اس کے احکام پر روشنی ڈالی ہے۔ پہلے باب میں سورتوں کی ترتیب کے مطابق ناسخ اور منسوخ آیات قرآنی کی تفصیل پیش کی ہے۔ دوسرا باب ناسخ ومنسوخ احادیث کے لیے خاص کیا ہے جب کہ خاتمہ میں فقہ اسلامی کے اصولوں: کتاب، سنت، اجماع، قیاس اور اس کے ارکان اور اجتہاد وتقلید پر گفتگو فرمائی ہے۔موضوع کی مناسبت سے یہاں ہماری گفتگو صرف اس کے مقدمہ اور باب اول تک محدود ہے۔

مقدمہ میں مصنف نے نسخ کے کئی ایک مسائل پر گفتگو کی ہے اور ان مباحث کو اختصار سے سمیٹ دیا ہے جو نسخ کے سلسلے میں زیر بحث آتے ہیں۔

نسخ کے لغوی معنی اور اس کی اصطلاحی تعریف بتانے کے بعد یہ بحث اٹھائی ہے کہ نسخ عقلاً جائز ہے اور حقیقت میں نسخ واقع ہوا ہے۔مصنف نے نسخ کے لیے سات شرطوں کا ذکر بھی کیا ہے۔جب ہم منسوخ کا عقیدہ رکھتے ہیں تو نسخ کا ہونا کیوں کر جائز نہیں ہوسکتا۔اسی طرح نسخ کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ لازمی طور پر اس کا بدل بھی پایا جائے۔ نسخ بدل کی کئی ایک صورتیں ہیں۔نسخ صرف احکام ہی میں نہیں بلکہ اخبار میں بھی جائز ہے۔

کتاب کے باب اول میں انھوں نے سورتوں کی قرآنی ترتیب کے لحاظ سے یہ بتا یا ہے کہ کون سی آیت کس آیت سے منسوخ ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اپنے پیش رو علماء کے حوالے درج کیے ہیں، اگر کہیں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، تو اس کی بھی وضاحت کردی ہے۔

تذکیرالکل بتفسیر الفاتحۃ وأربع قُل

یہ کتاب قرآن کریم کی پانچ چھوٹی سورتوں: ’’سورہ ٔفاتحہ، سورۂ اخلاص، سورۂ الکافرون، سورہ ٔالفلق اور سورہ الناس‘‘، کے ترجمہ اور ان کی مختصر تفسیر پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کا پہلا ایڈیشن مفید عام آگرہ سے شائع ہوا تھا جب کہ اس کی دوسری اشاعت جمعیت اہل حدیث، مئو ناتھ بھنجن (یوپی) سے شعبان ۱۴۲۸ھ۔ ستمبر ۲۰۰۷ء میں زیر عمل آئی ہے۔ دوسرے ایڈیشن میں تخریج وتعلیق وترجمہ نصوص عربی وفارسی کا اہم علمی کام مولانا ضیاء الحسن محمد السلفی نے انجام دیا ہے۔ یہ ایڈیشن ۸۰؍صفحات پر مشتمل ہے۔

نواب صدیق حسن خاں نے یہ رسالہ اس لیے تحریر فرمایا تھاتاکہ مسلمانوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ جن سورتوں کو وہ نماز میں بکثرت پڑھتے ہیں، ان کا معنی ومفہوم کیا ہے۔ ان پانچ سورتوں میں بطور خاص اسلام کے تصور توحید کو نکھارا گیا ہے،اللہ کی احدیت اور صمدیت کو واضح کیا گیا ہے اور کفر وشرک سے بے زاری کا اظہار کیا گیا ہے،اس کو تفصیل سے سمجھے بغیر عبادت کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔نواب صدیق حسن خاں نے عوام کی تربیت اور ان کے دل ودماغ میں عقیدہ ٔتوحید کو راسخ کرنے کے لیے یہ مختصر تفسیر تحریر فرمائی۔اپنے دور کے لحاظ سے اس کی اردوزبان سادہ اور سہل رہی ہے۔ مقدمہ کتاب میں حمد وصلاۃ کے بعد لکھتے ہیں:

’’اس رسالۂ مختصر میں ترجمۂ ضروری پنج سورۂ قرآن کا لکھا جاتا ہے جن کی تلاوت کا اتفاق رات دن ہر مسلمان کو نماز میں ہوا کرتا ہے۔مراد ان پانچ سورتوں سے فاتحۃ الکتاب وہر چہار قل ہیں۔یہ ہر پنج سورہ توحید پر خداوند مجید کی دلیل ہیں،جس نے ان کے معنی سمجھ لیے وہ پکا سچا مسلمان ہوگیا۔اب اس کی عبادت ٹھیک ہوگی اور وہ شرک سے بچ جائے گا۔‘‘(۲۲)

فصل الخطاب فی فضل الکتاب

یہ کتاب اردو میں ہے ۔کتاب کے آخر میں نواب صاحب نے لکھا ہے: ’’الحمد للہ کہ آج ۴؍ربیع الاول ۱۳۰۵ھ کو یہ رسالہ چار دن میں تمام ہوا۔‘‘(۲۳) میرے سامنے اس کتاب کاوہ ایڈیشن ہے جو دارالکتب السلفیہ لاہور نے جولائی ۱۹۸۴ء میں شائع کیا ہے۔اس کے صفحات کی تعداد ۹۵ ہے۔اس ایڈیشن پر تصدیر کے عنوان سے مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی (م۱۹۸۷ء) نے ایک مختصر مقدمہ لکھا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں:

’’یہ رسالہ ۱۳۰۵ھ میں تحریر فرمایا گیا۔ مولف امام کی زندگی میں متعدد بار طبع ہوا۔ میرے سامنے مطبع فاروقی دہلی کا مطبوعہ (۱۸۹۶ء؍۱۳۱۴ھ) ہے جو حضرت مولانا حمیداللہ سراوی (م۱۳۳۰ھ) میرٹھی کے حواشی ’’حدیث التفاسیر‘‘ کے ساتھ چھپا تھا۔‘‘(۲۴)

مولانا محمد اسحاق بھٹی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:

’’یہ کتاب اردو میں ہے اور قرآن مجید کے فضائل پر محیط ہے۔ا س موضوع کی یہ منفرد نوعیت کی کتاب ہے۔پہلے بھوپال میں طبع ہوئی۔پھر ۱۳۱۴ھ (۱۸۹۷ء) میں مطبع فاروقی دہلی سے شائع کی گئی۔بڑے سائز کے ۳۲؍صفحات پر مشتمل ہے۔‘‘(۲۵)

نواب صاحب کی یہ کتاب سید محمد حقی نازلی(م۱۳۰۱ھ) کی کتاب’’خزینۃ الاسرار جلیلۃ الاذکار‘‘ کی تلخیص ہے، جو دارالکتب العربیۃ الکبری، مصر سے ۱۳۲۷ھ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کے حاشیہ پر علامہ جزری کی کتاب ’’الحصن الحصین من کلام سیدالمرسلین‘‘زچھپی ہوئی ہے۔ کتاب ۱۹۸؍صفحات پر مشتمل ہے۔ نواب صاحب نے اس کتاب کے اقتباسات کثرت سے نقل کیے ہیں اور اس کے بعض مباحث کا خلاصہ اپنے لفظوں میں پیش کیا ہے۔ قرآن سے متعلق باتوں ہی کوانھوں نے اس کتاب سے اخذ کیا ہے جب کہ تصوف سے متعلق باتیں نظرانداز کردی ہیں۔ بعض بحثوں کااضافہ انھوں نے ’’عدۃ الحصن الحصین‘‘ از علامہ جزری، ’’تحفۃ الذاکرین بعدۃ الحصن الحصین‘‘ ازعلامہ شوکانی، ’’الوابل الصیب من الکلم الطیب‘‘ از امام ابن قیم الجوزیہ، ’’نزل الابرار بالعلم الماثور من الادعیۃ والاذکار‘‘ از مصنف وغیرہ سے کیا ہے۔کہیں کہیں بعض فوائد خود بھی تحریر فرمائے ہیں۔ذیل میں کتاب کے مباحث کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے:

کتاب کی تمہید میں نواب صاحب لکھتے ہیں:

’’اس رسالہ میں احادیث صحیحہ واقوال ائمہ دین سے جو عارف خصائص ومزایائے فرقان کریم تھے،قرآن عظیم کے کچھ فوائد ومنافع لکھے جاتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ اللہ کے کلام کو وہی فضیلت باقی کلاموں پر حاصل ہے جو خود اللہ تعالیٰ کو سائر مخلوق پر ثابت ہے۔اگر سارے انس وجن مجتمع ہوکر یہ چاہیں کہ قرآن کی طرح کاکلام بنالائیں تو ہرگز نہیں لاسکتے اگرچہ بعض بعض کے ظہیر ونصیر کیوں نہ ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس کلام مقدس میں ایک ایک تذکیر کے لیے کئی کئی مثالیں ذکر کی ہیں کہ ان کو علماء ہی جانتے ہیں۔یہ وہ کلمات طیبات ہیں کہ اگرسارے درخت قلم ہوں اور سات دریاسیاہی ہوں تب بھی ختم نہ ہوسکیں۔اس کلام مبارک کے ہوتے ہوئے بشر کے کسی کلام کا وظیفہ کرنا اور ترتیبات مشائخ وعلماء پر مائل ہوناکتنی بڑی بے ادبی ونادانی ومحرومی ہے۔ اسی وجہ سے میں نے اس رسالہ میں آیات کتاب اللہ اور اس کی سورتوں پر زیادہ گفتگو کی ہے اور قدرے ماسوا پر۔‘‘(۲۶)
تساھل العلماء وتسامحواحتی استحبواالعمل فی الفضائل والترغیب والترھیب بالحدیث الضعیف مالم یکن موضوعاً والی ھذا ذھب الجمہور وبہ قال النووی والیہ نحا السخاوی وغیرہ ولکن الصواب الذی لامحیص عنہ ان الأحکام الشرعیۃ متساویۃ الأقدام فلاینبغی العمل بحدیث حتی یصح أو یحسن لذاتہ أو لغیرہ أو انجبر ضعفہ فترقی الی درجۃ الحسن لذاتہ أو لغیرہ۔وانماقلت ھذہ المقالۃ لانہ یجیء فی مطاوی فحاوی ھذہ الرسالۃ احادیث أنص علی بعضھا بالصحۃ وعلی بعضھا بالحسن وعلی بعضھا بالضعف أوأسکت عن بعضھا لذھول عن ذلک أو غیرہ فینبغی لمن یشح بدینہ اذا طالع کتب الحدیث المؤلفۃ فی الفضائل أن یقف عند ھذا الموقف ویختار لنفسہ ماھوأصح الصحیح وأحسن الحسن وأقوی الضعیف فی ھذاالأبواب۔(۲۷)

’’علما نے تساہل برتا ہے اور اغماض سے کام لیا ہے یہاں تک کہ انھوں نے فضائل اور ترغیب وترہیب کے باب میں ضعیف حدیث پر اگر وہ موضوع نہ ہو،عمل کرنے کو مستحب قرار دے دیا ہے۔جمہور کا یہی مسلک ہے،امام نووی کا بھی یہی خیال ہے اورامام سخاوی وغیرہ نے بھی یہی نقطہ نظراپنایا ہے لیکن حقیقت جسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں،یہ ہے کہ احکام شرعیہ ایک درجے میں ہیں۔کسی حدیث پر عمل اس وقت تک مناسب نہیں ہے جب تک وہ صحیح،حسن لذاتہ،حسن لغیرہ نہ ہو یااس کے ضعف کی تلافی اس طرح ہوجائے کہ وہ حسن لذاتہ یا حسن لغیرہ کے درجے میں پہنچ جائے۔میں نے یہ بات اس لیے عرض کی ہے کہ اس کتاب کے صفحات میں بہت سی احادیث ہیں،میں نے بعض کے صحیح،بعض کے حسن اور بعض کے ضعیف ہونے کی نشان دہی کردی ہے یا بھول وغیرہ کے سبب بعض پر کوئی حکم نہیں لگایا ہے۔ دین سے رغبت رکھنے والے کے لیے مناسب ہوگا کہ جب فضائل پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کرے تو اس وقت یہی موقف اختیار کرے اوراپنے لیے صرف وہ احادیث منتخب کرے جوان ابواب میں سب سے زیادہ صحیح ہوں، سب سے زیادہ حسن ہوں یاسب سے کم ضعیف ہوں۔‘‘

اکسیر فی اصول التفسیر

یہ کتاب فارسی میں ہے اور بڑی تقطیع کے ۱۳۰؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ مطبع نظامی کان پور سے ۱۲۹۰ھ (۱۸۷۳ء) میں معرض اشاعت میں آئی۔کتاب مقدمہ، دو مقاصد اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ مقدمے میں مصنف نے کلام اللہ کی عظمت وفضیلت قرآنی آیات، احادیث نبویہ اور آثار صحابہ کی روشنی میں بیان کی ہے۔ کتاب کامقصد اول اصول تفسیر پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے امام ابن تیمیہ کے مقدمہ فی اصول التفسیر،شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب الفوز الکبیر کے مباحث کی تلخیص کی ہے اور بعض دوسری کتابوں سے بعض مباحث میں اضافے کیے ہیں۔مقصد دوم میں مفسرین کے طبقات کے حساب سے ان کی کتب تفاسیر کے اسماء ذکر کیے ہیں ، بعض تفاسیر پر دوچار جملوں میں تبصرہ بھی کیا ہے۔مصنف نے لکھا ہے کہ جس طرح امام سیوطی نے اپنی مفصل تفسیر کے لیے الاتقان کو بطور مقدمہ لکھا تھا، اسی طرح میں نے اپنی کئی جلدوں پر مشتمل عربی تفسیر ’’فتح البیان فی مقاصد القرآن‘‘ کے لیے اسے بطور مقدمہ تحریر کیا ہے۔ کتاب کا نام انھوں نے تاریخی رکھا ہے۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے مولانا محمد مستقیم سلفی لکھتے ہیں:

’’یہ کتاب ایک مقدمہ،دو مقصد اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔مقدمہ میں تفسیر کے لغوی وشرعی معنی کی تحقیق اور اس کی فضیلت کا بیان ہے۔مقصد اول میں علم تفسیر کے اصول اور ثانی میں تیرہ سو تفسیروں کا مع ان کے مولفین کا ذکر ہے۔(۲۸)

اب ہم نواب صاحب کی اہم اردو تفسیر کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں جو پیش نظر مقصد کے لیے اہم بھی ہے اور اس وقت اسی کا تفصیلی تعارف بھی کرانا ہے۔

ترجمان القرآن بلطائف البیان

نواب صاحب نے قرآن کریم کی ا پنی اردو تفسیر کا نام ’’ترجمان القرآن بلطائف البیان‘‘ رکھا ہے۔ عمر کے آخری دورمیں ۱۳۰۲ھ(۱۸۸۵ء) میں لکھنا شروع کی تھی۔ پہلے انتیسویں اور تیسویں دوپاروں کی تفسیر ایک جلد میں مکمل کی۔ اس کے بعد ابتدائے قرآن یعنی سورہ فاتحہ سے آغاز کیا اور سورہ کہف کے آخر تک چھ جلدیں سپرد قلم کیں۔اس طرح سات جلدیں تکمیل کو پہنچ گئیں تواپنے شاگرد رشید اور ممتاز عالم سید ذوالفقار احمد نقوی (م ۲۱؍محرم ۱۳۴۰ھ ۔۲۴؍ستمبر۱۹۲۱ء) سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں اورقوی میں اضمحلال آگیاہے،اس لیے اس سے آگے تفسیر لکھنا میرے لیے ممکن نہیں، البتہ دوسرے موضوعات سے متعلق چھوٹی چھوٹی کتابیں اور رسالے لکھ سکتا ہوں۔ بہتر یہ ہے کہ سورہ مریم سے سورہ تحریم تک تفسیر آپ لکھیں۔ سید ذوالفقار احمد نے پہلے تو عذر پیش کیے لیکن جب ۲۹؍جمادی الاخری ۱۳۰۷ھ (۱۷؍فروری۱۸۹۰ء) کو نواب صاحب وفات پاگئے تو سید صاحب ممدح نے اس اہم کام کی تکمیل کا فیصلہ کرلیا۔انھوں نے ۲۳؍صفر ۱۳۰۸ ھ (۸؍اکتوبر۱۸۹۰ء) کو چہارشنبہ اور پنجشنبہ کی درمیانی رات کو اس کارخیرکا آغاز کیا اور ذی قعدہ ۱۳۱۵ھ (اپریل ۱۸۹۸ء) میں آٹھ جلدیں لکھ ڈالیں۔اس طرح پندرہ جلدوں میں تفسیر مکمل ہوگئی۔یہ تفسیر سب سے پہلے مطبع احمدی لاہور سے شائع ہوئی تھی۔بڑی تقطیع کے تقریباً پانچ ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔(۲۹)

نواب صاحب کے دل میں اس تفسیر کے لکھنے کاخیال کیسے اور کیوں پیدا ہوا ،اس کی ضرورت کیوں پیش آئی،اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:

’’اللہ کا کلام عربی زبان میں ہے، ہندوستانی کواس کا سمجھنا محال تھا،اس لیے پہلے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے فارسی ترجمہ کلام اللہ کا لکھا،فتح الرحمن نام رکھا۔پھر ان کے فرزند بزرگوار شاہ عبدالقادر اردومیں ترجمہ لکھ گئے، موضح القران نام رکھ گئے۔اس ترجمہ ہندی سے ہندوستانیوں کو بڑانفع ہوا ،جس طرح ترجمہ فارسی سے اہل علم نے فائدہ اٹھایا۔ قرآن شریف کی تفسیریں دنیا میں بے گنتی ہیں۔تیرہ سو تفسیر کا پتا کتاب اکسیر میں دیا گیا ہے۔پھر وہ تفسیریں عربی میں بہت،فارسی میں تھوڑی دوچار، اردو میں ایک دو ہیں۔اس لیے مدت سے ایک جماعت اہل دین کی مجھ سے یہ بات کہہ رہی تھی کہ تم اردو زبان میں ایک ایسی تفسیر لکھ دو جو نہ بہت لمبی چوڑی ہو،نہ مختصر بلکہ متوسط ووسط ہو،قرآن پاک کا مطلب سمجھاوے، کم علموں کو ہدایت کا رستہ بتاوے۔مجھ کو اتنی فرصت کہاں تھی کہ میں اس کام کا ارادہ کرتا لیکن جب تقاضازیادہ ہوا تو چار ناچار غرہ رمضان ۱۳۰۲ھ روز دوشنبہ سے میں نے لکھنا اس تفسیر کا شروع کیا۔موضح القرآن کو اس کے مولف نے ۱۲۰۵ھ میں لکھا تھا جس کو تین برس کم سو برس ہوئے،وہ ترجمہ تھا اب یہ تفسیر ہے۔‘‘(۳۰)

نواب صاحب نے اس تفسیر میں قرآنی آیات کا ترجمہ موضح القرآن سے لیا ہے اوراس کے فوائد بھی شامل کتاب کیے ہیں لیکن ترجمہ جوں کا توں نہیں لیا ہے بلکہ کچھ تبدیلی کی ہے۔لکھتے ہیں:

’’عبارت موضح القرآن کو مطابق روز مرہ حال کے کرلیا ہے،بالکل موافق اصل کے نہیں رکھا ،اس لیے کہ تین کم سو برس کی مدت میں بعض محاورے اردوزبان کے بدل گئے ہیں۔‘‘(۳۱)

شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (۱۱۶۷ھ۔۱۲۳۰ھ) نے سورہ فاتحہ کا ترجمہ اس طرح کیاہے:

’’سب تعریف اللہ کو ہے جو صاحب سارے جہان کا، بہت مہربان نہایت رحم والا، مالک انصاف کے دن کا، تجھی کو بندگی کریں اور تجھی سے مدد چاہیں، چلاہم کوراہ سیدھی، راہ ان کی جن پر تونے فضل کیا نہ ان کی جن پر غصہ ہوا اور نہ بہکنے والے۔‘‘

اسی سورہ کانواب صاحب نے یہ ترجمہ کیا ہے:

’’سب تعریف اللہ کو جوصاحب ہے سارے جہان کا، بہت مہربان نہایت رحم والا، مالک انصاف کے دن کا، تجھ ہی کو ہم بندگی کرتے ہیں اور تجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں، دکھا ہم کو راہ سیدھی، راہ ان لوگوں کی جن پر تونے فضل کیا، نہ جن پر تو نے غصہ کیا اور نہ بہکنے والے۔‘‘(۳۲)

نواب صاحب نے متن قرآن کے ترجمہ میں تھوڑی بہت تبدیلی کی ہے اور اسے اپنے دور میں مروج اردوزبان کے مطابق بنایا ہے۔

تفسیر کے مآخذ کی تعیین نواب صاحب نے کردی ہے اور یہ بتادیا ہے کہ ان کی اس تفسیر کے اہم مراجع کیا ہیں۔لکھتے ہیں:

’’اس تفسیر میں ترجمہ آیتوں کا مع فوائد کے موضح القرآن سے لیا ہے، باقی مطالب تفسیر حافظ ابن کثیر، تفسیر قاضی محمدعلی شوکانی، تفسیر فتح البیان سے لے کرلکھے ہیں۔‘‘ (۳۳)

اپنی تفسیر کامقصد اورقرآن کے صحیح طریقہ تفسیر پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’اس تفسیر سے یہ غرض ہے کہ عامہ اہل اسلام اپنی بولی میں اللہ کا کلام سمجھ لیں، قرآن شریف کا مطلب بوجھ لیں۔ اسی سبب سے جو باتیں علمی تھیں، جن کوعام لوگ نہیں سمجھ سکتے ہیں جیسے مسئلے علم صرف، نحو، معانی، بیان، قراء ت وغیرہا کے، وہ اس تفسیر میں نہیں لکھے، فقط مقصود کتاب اللہ پر اکتفا کیا گیا۔ جو تفسیر قرآن شریف کی حدیث رسول اللہ ﷺ سے یا صحابہ یاتابعین یا تبع تابعین یالغت عرب سے ثابت ہوئی ہے، وہی اس تفسیر میں لکھی گئی ہے کیوں کہ جیسامطلب اللہ کے کلام پاک کا رسول خدا ﷺ واہل قرون ثلثہ مشہود لہا بالخیر سمجھتے تھے ،ویسا مطلب ہر کوئی عالم بیان نہیں کرسکتا ہے۔ علاوہ اس کے قرآن کے معنی اپنی رائے یاغیر کی رائے سے بیان کرنا یاعلم معقول کااس میں ملانا بڑا گناہ ہے۔ بھروسے کی تفسیر تو وہی ہے جو سلف سے نقل ہوکر ہم تک پہنچی ہے۔‘‘(۳۴)

مصنف نے تفسیر کاایک تفصیلی مقدمہ تحریر فرمایا ہے۔ اس میں انھوں نے مختلف بحثیں چھیڑی ہیں اور کئی ایک مضامین وموضوعات پر گفتگو کی ہے۔مثال کے طورپر قرآن ایک مکمل اور جامع کتاب ہے،اس میں ہر چیز کا اشارہ موجود ہے۔تمام علوم وفنون کا سرچشمہ قرآن مجید ہے،ہر طرح کی صنعت وحرفت کی بھی قرآن نشاندہی کرتا ہے۔ نواب صاحب نے علوم وفنون میں علم قراءت، علم اصول دین، علم اصول فقہ، علم فروع وفقہ، علم تاریخ وقصص، علم خطابت، علم تعبیر رؤیا، علم فرائض، علم طب، علم ہیئت، علم ہندسہ، علم جدل، علم جبر و مقابلہ وغیرہ کوشمار کیا ہے۔جب کہ صنعت وحرفت میں خیاطت، حدادت، بنا، مغزل، نجارت، نسج، فلاحت، صید، غوص، صیاغت، زجاجت، فخارت، ملاحت، طباخت، خبازت، زجارت اور حجارت وغیرہ کے نام ذکر کیے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:

’’سو کوئی باب ومسئلہ کسی علم کا ایسا نہیں ہے جس کی کچھ اصل وبنیاد قرآن شریف میں نہ ہو۔ضرور ہی قرآن میں کوئی نہ کوئی دلالت اس باب یامسئلے پر ہوتی ہے۔اگر ہم نے اس کو نہ پایا تو یہ ہمارے علم وفہم کا قصور ہے،نہ کتاب اللہ کا فتور۔‘‘(۳۵)

قرآن مجید میں نبی اکرم ﷺ کی سیرت پاک بھی بیان کی گئی ہے اورآپ کی حیات طیبہ کے کئی واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔اس سلسلے میں ان کی تحریر ملاحظہ ہو:

’’قرآن شریف میں اعتناء بذکر رسول ﷺبھی فرمایا گیا ہے۔آپ کا مبعوث ہونا،ہجرت کرنا،دعوت ابراہیم، بشارت عیسیٰ علیہما السلام ہونا ذکر کیا ہے۔من جملہ غزوات کے ذکر غزوہ بدر کا سورہ انفال میں،غزوہ احدکا سورہ آل عمران میں،غزوہ خندق کا احزاب میں،بنی نضیر کا سورہ حشر میں،حدیبیہ کا سورہ فتح میں،تبوک کا سورہ براءت میں،حجۃ الوداع کا مائدہ میں۔پھر قصہ نکاح زینب بنت جحش کا،تحریم سریہ،تظاہر ازواج،قصہ افک عائشہ صدیقہ،قصہ شب معراج کا،قصہ انشقاق قمر کا،قصہ سحر یہود کا مفصلاً یا مجملاً جیسا جس جگہ مناسب وضرور تھا، نازل کیا ہے۔رسول خدا ﷺ کی عمر وحیات وبات چیت کی قسم کھائی ہے: {لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سَکْرَتِھِمْ یَعْمَھُوْنَ} {وَقِیْلِہ یَا رَبِّ}۔ سارے کتب سیر اسلام گویا انھیں حالات وواقعات ومقالات کی شرح ہیں۔‘‘(۳۶)

مصنف نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن میں بہت سی عجیب مخلوقات کا بھی ذکر ہے، اسی طرح اس میں انسان کی پیدائش، اس کی موت وحشر، قیامت، جنت وجہنم کا بھی تذکرہ ہے۔اللہ کے اسمائے حسنی بھی مذکور ہیں۔علمائے اسلام نے قرآن کے نوع بہ نوع موضوعات پر کتابیں لکھی ہیں۔ان میں سب سے اچھی کتاب ان کی نظر میں علامہ جلال الدین سیوطی کی الاتقان فی علوم القرآن ہے۔ اس کتاب کو وہ ساری امت پر ان کااحسان قرار دیتے ہیں۔ قرآن تمام انسانوں کے لیے نازل کیا گیا ہے۔اس کاانکار کرنا کفر ہے۔نواب صاحب نے قرآن کے انکار کی کئی ایک شکلیں متعین کی ہیں۔اس تعلق سے وہ لکھتے ہیں:

’’قرآن کاانکار ایک تو یوں ہوتا ہے کہ کہ سرے ہی سے اس کواللہ کا کلام ہی نہ سمجھے،رسول اللہ ﷺ کو پیغمبر خاتم الانبیاء اعتقاد نہ کرے،جس طرح عقیدہ یہود ونصاریٰ وغیرہما کا ہے۔دوسری شکل یہ ہے کہ پیغمبر کو مانے مگر کلام اللہ کو مخلوق جانے۔یہ بھی کفر ہے،جس طرح عقیدہ معتزلہ کا ہے۔تیسری صورت یہ ہے کہ قرآن اور پیغمبر دونوں پر ایمان لائے مگر بعضے حکم قرآن کے نہ مانے،جس طرح بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ہم حرمت سود کی،تقسیم فرائض کی،صحت طلاق کی نہیں مانتے۔یہ بھی کفر صریح ہے۔چوتھی صورت یہ ہے کہ قرآن کا اقرار کرے مگر قرآن پر کسی امام یاعالم یا مجتہد کی بات کو غالب رکھے،یہ بھی درحقیقت قرآن کاانکار ہے۔ مقلد مذاہب یہی کام کیا کرتے ہیں۔اسی طرح سنت صحیحہ پر کسی کے قول یا رائے یا قیاس یااجتہاد کو مقدم کرنا گویا رسول خدا ﷺ کا منکر ہونا ہے۔جب یہ کام دیدہ دانستہ کیا جاتا ہے توایمان باقی نہیں رہتا۔‘‘(۳۷)

اسی مقدمہ میں مصنف نے یہ بحث بھی چھیڑی ہے کہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ کیا ہے؟اس سلسلے میں انھوں نے لکھا ہے کہ پہلے قرآن کی تفسیر قرآن سے کی جائے۔ کیوں کہ ایک بات کہیں مجمل ہے تو دوسری جگہ اس کی تفصیل مذکور ہے۔کسی جگہ کسی حکم کو مطلق بیان کیا گیا ہے تو دوسری جگہ اس کو مقید کیا گیا ہے۔لہذا جب قرآن کی تفسیر قرآن سے کی جائے گی تو یہ تمام باتیں واضح ہوجائیں گی۔اس کے بعد سنت صحیحہ سے قرآن کی تفسیر کی جائے کیوں کہ قرآن نبی اکرم ﷺپر نازل ہوا ہے اور آپ اللہ کی جانب سے اس منصب بلند پر فائز تھے کہ مرادالہٰی کی تشریح فرمائیں اوراپنے اسوہ ٔ حسنہ سے اس کے احکام پر عمل کرکے دکھائیں۔قرآن اور حدیث میں کسی آیت کی تفسیر نہ ملے توہمیں اقوال وآثارصحابہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔کیوں کہ قرآن ان کے سامنے نازل ہوا ہے۔وہ ان احوال وقرائن سے واقف ہیں جن میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔وہ علم صحیح اور فہم تام سے متصف تھے۔یہ ناممکن ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر میں کوئی ایسی بات کہیں،جوانھوں نے رسول اللہ ﷺسے نہ سنی ہو۔ جب قرآن شریف کی تفسیر قرآن پاک،سنت صحیحہ یاقول صحابی میں نہ ملے تواکثر علماء کا یہ قول ہے کہ تابعین کے قول کواختیار کرنا چاہیے۔تابعین کے اقوال میں بسااوقات بظاہر اختلاف نظر آتا ہے لیکن اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی آیت یالفظ کے مختلف پہلو ہوتے ہیں۔ان کواختلاف پر محمول نہیں کرنا چاہیے بلکہ وہ تنوع ہے جس کی گنجائش آیت میں موجود ہے۔لیکن اگر تابعین میں اختلاف تضاد کا ہو تو پھر لغت قرآن یاسنت مطہرہ یا اقوال صحابہ یاعموم لغت عرب کی طرف رجوع کریں گے۔

اسرائیلی روایات کے تعلق سے بھی انھوں نے گفتگو کی ہے اور لکھا ہے :

’’جو بات ان دونوں صاحبوں (حضرات ابن مسعود وابن عباس رضی اللہ عنہما)نے اہل کتاب سے حکایت کی ہے، وہ لائق استشہاد کے ہوسکتی ہے نہ لائق اعتضاد کے۔کیوں کہ یہ باتیں تین قسم پر ہیں:ایک وہ بات ہے جس کی صحت ہم کو معلوم ہے،سو وہ بات صحیح ہے۔دوسری وہ بات ہے جس کا کذب ہمیں معلوم ہے،مخالف ہے ہماری ملت کے۔تیسری وہ بات ہے جس سے ہمارا دین ساکت ہے سو ہم اس پر نہ ایمان لائیں نہ اس کو جھوٹ بتائیں گواس کی حکایت کرنا جائز ہو۔‘‘(۳۸)

مقدمہ کے آخر میں مصنف نے قرآن کریم کے فضائل بیان کیے ہیں اور اس کی تلاوت،غور وفکر سے جو فوائدحاصل ہوتے ہیں ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔

اس کے بعد تفسیر کاآغاز ہوتا ہے۔نواب صاحب کا انداز یہ ہے کہ پہلے سورہ کا نام،اس کی آیات کی تعداد،اس کے مکی یا مدنی ہونے کی وضاحت،اس سلسلے میں علماء کے اختلافات اور احادیث میں وارد اس کے فضائل کا تذکرہ کرتے ہیں۔پھر سورہ کی ایک ،دو یاتین آیات نقل کرکے اس کا ترجمہ دیتے ہیں۔اگر اس آیت سے متعلق شاہ عبدالقادر محدث دہلوی نے موضح قرآن میں کچھ لکھا ہے تو اسے مکمل نقل کرتے ہیں۔اس کے بعد آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔تفسیر میں زیر بحث آیت کی تفسیر قرآنی آیات، احادیث نبویہ ،آثار صحابہ وتابعین شان نزول،اگر آیت کا تعلق کسی فقہی مسئلہ سے ہے تواس کی وضاحت،اس سلسلے میں فقہائے اسلام کے اختلافات کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں۔آخر میں اس آیت یاآیات سے متعلق جو کچھ انھوں نے اپنی عربی تفسیر فتح البیان فی مقاصد القرآن میں لکھا ہے،اس کاخلاصہ تحریر کردیتے ہیں۔آیات زیر بحث میں کئی مضامین اور موضوعات ہوتے ہیں تو ان کوالگ الگ کرکے بیان کرتے ہیں اوراس کے لیے’’ف‘‘کا حرف استعمال کرتے ہیں۔کوئی فقہی مسئلہ زیر بحث آتا ہے تواس کے لیے’’مسئلہ‘‘ کامستقل عنوان قائم کرتے ہیں۔

نواب صاحب سورتوں کے آغاز میں کس طرح کے مباحث اور مسائل کاذکر کرتے ہیں،اس کاایک نمونہ یہاں درج کیاجارہا ہے۔وہ سورہ نساء کی تفسیر شروع کرنے سے پہلے’’سورہ نساء‘‘کا عنوان قائم کرتے ہیں اوراس کے نیچے لکھتے ہیں:

’’اس میں ایک سو پچہتر(۱۷۵)آیتیں ہیں۔ساری سورت مدینے میں اتری۔ قرطبی نے کہا:مگراک آیت جو مکے میں بہ سال فتح حق میں عثمان بن طلحہ جمحی رضی اللہ عنہ کے نازل ہوئی ہے: {إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤدُّواْ الأَمَانَاتِ إِلَی أَہْلِہَا}۔ نقاش نے ذکر کیا کہ یہ سورت وقت ہجرت کے مکہ سے طرف مدینے کے اتری۔علقمہ وغیرہ نے کہا:اس کا شروع مکے کا ہے۔نحاس نے کہا:یہ آیت مکی ہے۔قرطبی نے کہا:صحیح قول اول ہے۔اس لیے کہ بخاری میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے آیا ہے کہ نہیں اتری سورہ نساء مگر میں پاس رسول خدا ﷺ کے تھی یعنی میرا بیاہ ہوچکا تھا۔ علماء کا اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ حضرت ﷺ نے بنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدینے میں کیا اور جو شخص احکام کو اس سورت کے بخوبی سمجھ لے گا وہ جان لے گا کہ یہ سورت مدنی ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ مدینے میں اتری ہے۔یہی قول ہے ابن زبیر وزید بن ثابت رضی اللہ عنہما کابھی۔ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب یہ سورت نازل ہوئی حضرت ﷺ نے فرمایا:اب حبس نہیں ہے۔حاکم نے مستدرک میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ سورہ ٔ نساء میں پانچ آیتیں ہیں،مجھے خوش نہیں آتا کہ ان کے عوض دنیا ومافیہا ملے: {إِنَّ اللّہَ لاَ یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ}{إِن تَجْتَنِبُواْ کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ}{إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ}{وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَہُمْ جَآؤُوک}{وَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْما}۔
حاکم نے کہا:یہ اسناد صحیح ہے اگر عبدالرحمن نے اپنے باپ ابن مسعود سے سنا ہو کیوں کہ ان کی سماعت میں باپ سے اختلاف ہے۔

عبدالرزاق کا لفظ ابن مسعود سے یوں ہے:پانچ آیتیں ہیں سورہ نساء کی کہ دوست تر ہیں مجھ کو ساری دنیا سے: {إِن تَجْتَنِبُواْ کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ} {وَإِن تَکُ حَسَنَۃً یُضَاعِفْہَا}{إِنَّ اللّہَ لاَ یَغْفِرُ أَن یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یَشَاء ُ}{وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ بِاللّہِ وَرُسُلِہِ وَلَمْ یُفَرِّقُواْ بَیْْنَ أَحَدٍ مِّنْہُمْ أُوْلَـئِکَ سَوْفَ یُؤْتِیْہِمْ أُجُورَہُمْ وَکَانَ اللّہُ غَفُوراً رَّحِیْما}{وَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْما}۔ رواہ ابن جریر
پھر ابن عباس سے یوں نقل کیا ہے کہ آٹھ آیتیں ہیں سورہ نساء میں،وہ بہتر ہیں واسطے اس امت کے،اس چیز سے جس پر سورج نکلااور ڈوبا۔پہلی آیت یہ ہے: {یُرِیْدُ اللّہُ لِیُبَیِّنَ لَکُمْ وَیَہْدِیَکُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ وَیَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْم}دوسری یہ ہے:{وَاللّہُ یُرِیْدُ أَن یَتُوبَ عَلَیْْکُمْ وَیُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُونَ الشَّہَوَاتِ أَن تَمِیْلُواْ مَیْْلاً عَظِیْماً}
تیسری یہ ہے: { یُرِیْدُ اللّہُ أَن یُخَفِّفَ عَنکُمْ وَخُلِقَ الإِنسَانُ ضَعِیْفا}۔
پھر مطابق قول ابن مسعود کے پانچ آیتیں مذکورہ بیان کیں۔یہ سب آٹھ ہوئیں۔‘‘(۳۹)

تمام سورتوں کے آغاز میں عام طور پر یہی طریقہ انھوں نے اختیار کیا ہے۔حافظ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں یہی انداز اپنایا ہے۔نواب صاحب نے جیسا کہ انھوں نے خودلکھا ہے کہ ابن کثیر کی تفسیر بھی ان کاایک ماخذ ہے۔

مصنف کے تفسیری منہج کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی چند مثالیں پیش کردی جائیں۔ان مثالوں سے ان کی تفسیری ترجیحات کا بھی اندازہ ہوگا اور یہ بھی علم ہوسکے گا کہ ان کا اسلوب کیا ہے۔

سورہ البقرۃ کی آیت(۲۳۔۲۴) کا ترجمہ اور اس کی تفسیر ملاحظہ ہو:
وَإِن کُنتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَی عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّن مِّثْلِہِ وَادْعُواْ شُہَدَاء کُم مِّن دُونِ اللّہِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ وَلَن تَفْعَلُواْ فَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ وَقُودُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ ۔

’’اگر ہو تم شک میں اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لے آؤ ایک سورۃ اس قسم کی اور بلاؤ جن کو حاضر کرتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔پھر اگر نہ کرو اورالبتہ نہ کرسکوگے تو بچوآگ سے جس کی چھٹپیاں ہیں آدمی اور پتھر ،تیار ہے منکروں کے واسطے۔‘‘

ف۔جب بیان توحید کا کردیا تواب بیان نبوت کا شروع کیا۔کافروں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ اگر تم کو اس کتاب میں جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر اتاری ہے،کچھ شک ہے اور تم اس کو طرف سے غیر اللہ کے سمجھتے ہو تو تم مثل اس کی بنالاؤ اور جس سے چاہو اس کام پر مدد لو جن کو تم پوجتے ہو اور معبود ٹھہراتے ہو،انہیں سے مدد لو۔اگر یہ کتاب اللہ جل جلالہ کا کلام نہیں تو تم بھی ایسی کتاب اکیلے یا سب مل کر بنالاؤ گے،اگر نہیں بنا لاؤ گے تو پھر انکار تمھارا اس کتاب سے ناحق ہے۔اس طرح کا دعوی قرآن پاک میں کئی جگہ آیا ہے۔منکرین کو طرف معارضہ کتاب کے بآواز بلند بلایا ہے۔سورۂ قصص میں فرمایا ہے: {قُلْ فَأْتُوا بِکِتَابٍ مِّنْ عِندِ اللَّہِ ہُوَ أَہْدَی مِنْہُمَا أَتَّبِعْہُ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْن}

سورۂ سبحان الذی میں کہا ہے: {قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَی أَن یَأْتُواْ بِمِثْلِ ہَـذَا الْقُرْآنِ لاَ یَأْتُونَ بِمِثْلِہِ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرا}

سورۂ یونس میں ارشاد کیا ہے: {وَمَا کَانَ ہَـذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَی مِن دُونِ اللّہِ وَلَـکِن تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتَابِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ أَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ قُلْ فَأْتُواْ بِسُورَۃٍ مِّثْلِہِ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّہِ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْن}

یہ ساری آیتیں مکے میں اتری ہیں۔پھر ان کے ساتھ مدینے میں بھی تحدی کی ہے۔فرمایا: تم کو اگر اس میں کچھ شک ہے تو کوئی سورہ قرآن کی سی بنالاؤ۔ اسی کو ابن جریر، زمخشری، رازی وغیرہ اور ایک جماعت صحابہ وتابعین ومحققین نے اختیار کیا ہے اور ترجیح دی ہے۔ حاصل یہ ہے کہ یہ تحدی سب کو کی گئی ہے خواہ متفرق ہوں یا مجتمع،امی ہوں یا کتابی۔اگر نرے احاد امیین کو یہ تحدی ہوتی تو اس قدر عموم وشمول نہ ہوتا۔دس آیت سے لے کر ایک آیت تک یہ کہا کہ بھلا تم مثل اس کے لے آؤ۔یہ تحدی مکے مدینے میں بارہا واقع ہوئی۔کفار کی دشمنی رسول خدا سےﷺ سے،ان کا بغض دین سے، بے حساب تھا مگر باوجود اس شدت عداوت کے مقابلہ قرآن معارضہ فرقان سے بالکل عاجز نکلے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ البتہ تم ایسا نہ کرسکو گے یعنی نہ اب، نہ آئندہ۔یہ ایک دوسرا معجزہ ہے کہ قطعی خبر دی کہ یہ بات ہرگز قیامت تک ان سے نہ بنے گی کہ قرآن کا معارضہ کرسکیں۔

ابن کثیرکہتے ہیں:ایسا ہی ہوا کہ اس زمانے سے لے کر ہمارے اس زمانے تک کسی نے معارضہ نہ کیا اور نہ یہ معارضہ ہوسکتا ہے اور کیوں کر کوئی یہ معارضہ کرسکے گا حالانکہ قرآن اللہ کا کلام ہے،جو ہر شے کا خالق ہے،بھلا کہیں مخلوق کی بات خالق کی بات کی طرح ہوسکتی ہے۔جو کوئی قرآن میں غور کرے گا اس کو بہت سے وجوہ اعجاز کے کھلے چھپے لفظاً ومعناً ہاتھ لگ سکتے ہیں۔اللہ نے فرمایا ہے:{الَر کِتَابٌ أُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ}معلوم ہوا کہ لفظ اس کتاب کے محکم ہیں،معنی مفصل ہیں یا بالعکس اس کے۔غرضیکہ کچھ بھی ہو لفظ ومعنی دونوں فصیح ومعجز ہیں۔کس کامقدور ہے کہ مقابلہ کرسکے،مثل اس کے لاسکے۔پچھلی چھپی باتیں جن کی قرآن پاک نے خبر دی ہے،کیسی کچھ کچھ ٹھیک ٹھیک ہیں۔پھر ہر خیر کا حکم کیا،ہر شر سے نہی فرمائی کماقال تعالیٰ: {وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلا}
یعنی یہ کلمے اللہ کے اخبار میں صادق،احکام میں عادل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ سارا کلام اللہ کا حق وصدق وعدل وہدی ہے،جس میں نہ کسی طرح کی گپ شپ ہے،نہ کسی قسم کا جھوٹ،نہ کسی طور کا افتراء ،جس طرح کہ اشعار عرب وغیرہ میں لاف وگزاف ہوتا ہے،دروغ بندی کی جاتی ہے۔اس لیے حق میں شعر کے یوں کہا ہے کہ شیریں تر وہی شعر ہوتا ہے جو دروغ تر ہو۔ذرا کسی قصیدہ طویلہ کو دیکھو کہ غالب اشعار اس کے وصف نساء یا اسپ یا شراب یا کسی شخص معین کی مدح یا ذکر ناقہ یا جنگ یا کسی اندیشہ درندہ یا کسی شے مشہور کے بیان میں ہوتے ہیں،جس سے سوائے قدرت متکلم کے کسی شے معین خفی یا دقیق یا اظہار واضح کا کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔پر اس قصیدے یا غزل میں ایک ہی دو شعر عمدہ ہوتے ہیں جن کو بیت القصیدہ یا بیت الغزل کہہ سکتے ہیں ،باقی سارا نظام ہذیان وطغیان کے سوا کچھ نہیں ہوتا بخلاف قرآن کریم کے کہ اول سے آخر تک نہایت درجہ فصاحت،غایت مرتبہ بلاغت میں واقع ہوا ہے۔اس بات کو وہی شخص خوب جانتا ہے جو کلام عرب کواجمالاً وتفصیلاً پہچانتا ہے، تصریف عبارت کو سمجھتا بوجھتا ہے۔قرآن کے اخبار میں تامل کرو ،دیکھو کس درجہ باحلاوت ہیں خواہ مبسوط ہیں یا مختصر،پھر خواہ مکرر آئے ہیں یا بے تکرار،پھر جو مکرر ہیں ان کی حلاوت وعلو کا کچھ ٹھکانا ہی نہیں،قند مکرر ہیں۔کتنے ہی تکرار کرو،بار بار پڑھے سنے جاؤ،پرانا ہوتا ہے،نہ علماء اس سے ملول ہوتے ہیں،نہ جی گھبراتا ہے،نہ دل وحشت میں آتا ہے۔وعد وتہدید کواگر دیکھو تو بڑے بڑے سخت درشت پہاڑ ہل جائیں۔پھر ان دلوں کا کیا ذکر ہے جن کو کچھ فہم وشعور حاصل ہے۔وعد کو دیکھو توایسے کہ جن سے دل وکان کھل جائیں،دارالسلام کاشوق پیدا ہو، عرش رحمن کی ہم سائیگی کا ذوق دوبالا ہو چنانچہ محل ترغیب میں فرمایا ہے:{فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُم مِّن قُرَّۃِ أَعْیُنٍ جَزَاء ً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُون}دوسری جگہ کہا ہے:{وَفِیہَا مَا تَشْتَہِیہِ الْأَنفُسُ وَتَلَذُّ الْأَعْیُنُ وَأَنتُمْ فِیہَا خَالِدُون}مقام ترہیب میں ارشاد کیا ہے:{أَفَأَمِنتُمْ أَن یَخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرّ }مقام زجر میں یوں کہا ہے:{فَکُلًّا أَخَذْنَا بِذَنْبِہِ }مقام وعظ میں یہ فرمایا ہے:{أَفَرَأَیْتَ إِنْ مَتَّعْنَاہُمْ سِنِینَ ۔ثُمَّ جَاء َہُمْ مَا کَانُوا یُوعَدُونَ ۔مَا أَغْنَی عَنْہُمْ مَا کَانُوا یُمَتَّعُونَ }اس طرح کے انواع فصاحت وبلاغت وحلاوت وطلاوت بے حساب سے بھرا ہوا ہے۔پھران آیات کو دیکھو جواحکام واوامر ونواہی میں آئے ہیں کہ کس طرح ہر شے معروف، ہر چیز حسن،نافع،طیب،محبوب کاامر کیا ہے،کس طرح ہر شے قبیح، رذیل،دنی سے نہی فرمائی ہے۔ابن مسعود وغیرہ سلف نے کہا ہے:جب تو قرآن میں سنے کہ اللہ تعالیٰ{یَا اَیُّھَاالَّذِیْنَ آمَنُوا}فرماتا ہے تو ذرا اس پر کان رکھ کہ یا تووہ کسی خیر کا حکم ہے یا کسی شر سے نہی فرماتا ہے چنانچہ اسی جگہ سے یہ ارشاد کیا ہے کہ{یَأْمُرُہُم بِالْمَعْرُوفِ وَیَنْہَاہُمْ عَنِ الْمُنکَرِ وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبَاتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ وَیَضَعُ عَنْہُمْ إِصْرَہُمْ وَالْأَغْلَالَ الَّتِی کَانَتْ عَلَیْہِم }۔پھر جوآیتیں وصف معاد، اہوال قیامت،وصف جنت ونار،بیان نعیم وجحیم وذکر لذت وعذاب الیم میں آئی ہیں وہ الگ، طرف فعل خیرات ،ترک منکرات کی بلاتی ہیں،دنیا میں زاہد،آخرت میں راغب بناتی ہیں،طریقہ عمدہ اور راہ مستقیم پرثابت قدم کرتی ہیں،رجس شیطان رجیم کو دلوں سے باہر نکالتی ہیں۔اسی لیے صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً آیا ہے کہ ہر نبی کو انبیاء میں سے کچھ نشانیاں دی گئی تھیں جن کے سبب سے لوگ ان پر ایمان لائے تھے۔ مجھ کو یہی وحی طرف سے اللہ کے دی گئی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے ہی تابع لوگ ہوں گے۔یہ لفظ مسلم کا ہے۔مطلب یہ ہوا کہ میں اس معجزہ وحی کے ساتھ خاص ہوں۔مجھ کو یہ قرآن معجز بشر ملا ہے۔کوئی بشر اس کا معارضہ نہیں کرسکتا بخلاف اور کتب الہٰی کہ وہ نزدیک اکثر علماء کے معجز نہیں تھیں۔پھرابن کثیر نے یہ کہا ہے کہ معجزات رسول اللہ ﷺ کے جو آپ کے صدق پر دلیل ہیں،بے گنتی ہیں۔ ان کا حصر نہیں ہوسکتا۔وللہ الحمد

بعض متکلمین نے تقریر اعجاز قرآن کی اس طرح پر کی ہے کہ قول اہل سنت ومعتزلہ دونوں کو شامل ہے یعنی اگر یہ قرآن فی نفسہ معجز ہے اور کوئی بشر اس جیسا کلام نہیں لاسکتا ہے اوران کی قوت میں معارضہ اس کا ممکن ہی نہیں تو مطلب حاصل ہوگیا اور اگر معارضہ اس کا ممکن ہے اور باوجود شدت عداوت کے معارضہ نہیں کرسکتے تو یہ عجزان کا دلیل ہے اس بات کی کہ اللہ نے ان کو معارضہ کرنے سے باوجودقدرت کے پھیر دیا ہے۔ابن کثیر کہتے ہیں کہ یہ تقریر اگرچہ پسند نہیں ہے ،اس لیے کہ قرآن فی نفسہ معجز ہے ،کسی بشر کا یہ مقدور ہی نہیں ہے کہ اس کا معارضہ کرسکے لیکن بطریق تنزل ومجادلہ ومنافحہ عن الحق کے یہ تقریر درست ہوسکتی ہے چنانچہ رازی نے بھی اسی طریقے پر جواب سوال کا سورۂ قصار کے مثل والعصر وسورۂ کوثر کے دیا ہے۔

ف۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کواپنا بندہ کہا ہے۔یہ اضافت واسطے تشریف وتعظیم کے ہے۔ عبد کا لفظ ماخوذ ہے تعبدسے،تعبد کہتے ہیں تذلل کو ؎ داغ غلامیت کرد پایہ ٔ خسرو بلند ٭ میر ولایت شود بندہ کہ سلطان خرید۔اسی لیے اہل تجربہ نے یہ بات کہی ہے کہ بندہ بننا تو مشکل ہے مگر خدا بننا سہل ہے کیوں کہ اکثر لوگ غرور وتکبر میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔سو یہ وصف سوا خدا کے کسی کو زیبا نہیں۔متکبر گویا مدعی خدائی کا ہوتا ہے،جس طرح کہ خاکسار مدعی عبدیت کا ہوتا ہے سو جوشخص رتبہ غلامی وبندگی میں جتنا چست وچالاک ہوگا اتنا ہی نزدیک خدا کے مقبول ومقرب ٹھہرے گا۔جو شخص جتنا شخصیت وخود بینی وخود پرستی میں پھنسا ہوگا اتنا ہی خدا سے دور،رحمت سے مہجور رہے گا۔

ف۔سورت کہتے ہیں ایک ٹکڑے قرآن کو۔چھوٹی سی چھوٹی سورت وہ ہے جس میں تین آیتیں ہوں۔ایسی سورت بھی معجز ہے۔معتزلہ کا یہ کہنا کہ تعلق اعجاز کا ساتھ سارے قرآن کے ہے،کچھ ٹھیک بات نہیں ہے بلکہ مثل سورہ والعصر وسورہ کوثر کے بھی معجز ہے۔ابن کثیر نے کہا ہے:یہ قول اللہ تعالیٰ کا{فَاتُوْابِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہِ} جواس جگہ آیا ہے اور وہ جوسورہ یونس میں{بِسُوْرَۃ مِّثْلِہِ}فرمایا ہے،سو ہر سورت قرآن کو طویل ہو یا قصیر، شامل ہے۔اس لیے کہ نکرہ سیاق شرط میں اسی طرح نزدیک محققین کے عام ہوتا ہے جس طرح سیاق نفی میں،پس اعجاز قرآن کا طوال وقصار دونوں میں حاصل ہے۔میں نہیں جانتا کہ کسی نے سلف وخلف میں سے اس بات پر نزاع کیا ہو۔شافعی نے کہا ہے:لوگ اگر سورہ العصر میں غور کریں تووہ ان کو کفایت کرسکتی ہے۔

حکایت۔عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ پاس مسیلمہ کذاب کے گئے تھے اسلام لانے سے پہلے۔مسیلمہ نے کہا:کہو آج کل مکہ میں تمھارے صاحب پر کیااترا۔انھوں نے کہا:ایک مختصر سورت بہت بلیغ اتری ہے۔پھر والعصر پڑھ کر سنائی۔تھوڑی دیر سوچ کر سر اٹھا کر کہا:مجھ پر بھی اسی طرح کی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔کہا:کیا؟کہا:یا وبر یاوبر انماانت اذنان وصدر وسائرک حقر فقر۔ کہو: اے عمرو!یہ کیسی سورت ہے۔انھوں نے کہا:واللہ! تو خود جانتا ہے کہ میں تجھ کو کاذب جانتا ہوں۔

سورہ فاتحہ کی تفسیر میں انھوں نے مشہور فقہی مختلف فیہ مسئلہ قراء ت خلف الامام کے مسئلہ پر گفتگو کی ہے اور اس سلسلے میں اپناموقف واضح کیا ہے۔اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب کا فقہی رجحان کیا تھا اور کس مسلک کے وہ حامل تھے۔لکھتے ہیں:

’’ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ نمازمیں پڑھنا سورہ فاتحہ کا کچھ متعین نہیں ہے بلکہ جو کچھ قرآن سے جس جگہ سے کچھ بھی پڑھ سکے تو نماز ہوجاتی ہے۔باقی تین اماموں اور جمہور علماء کے نزدیک پڑھنااس سورت کا مقرر ہے، بدوں اس کے نماز نہیں ہوتی ۔اس لیے کہ حدیث عبادہ بن ثابت میں مرفوعاً آیا ہے:’’نہیں نماز اس شخص کی جس نے فاتحہ نہ پڑھی۔‘‘یہ حدیث صحیحین میں ہے۔ ابوہریرہ کا لفظ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’کافی نہیں ہوتی وہ نماز جس میں ام القرآن پڑھی نہ گئی ہو‘‘۔اس کو ابن خزیمہ وابن حبان نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ابن کثیر کہتے ہیں:اس باب میں بہت حدیثیں آئی ہیں۔یہی مذہب موافق ظاہر سنت کے بھی ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مقتدی بھی فاتحہ پڑھے،ورنہ اس کی نماز بھی ادانہ ہوگی۔اس مسئلہ میں اگرچہ دوتین قول ہیں مگر صحیح قول یہی ہے کہ مقتدی پر بھی پڑھنافاتحہ کا واجب ہے۔اس قول کی دلیلیں بہت صحیح اور صاف ہیں۔جو لوگ واجب نہیں کہتے ہیں،ان کی دلیلیں قوی اور غالب نہیں ہیں،ضعیف وخفیف ہیں۔‘‘ (۴۰)

نواب صاحب نے اپنی اس تفسیر میں تفسیر کے لیے آیات کے جو گروپ بنائے ہیں،ہرگر وپ کے اختتام پر ان آیات کی تفسیر اپنی عربی تفسیر فتح البیان سے بھی نقل کردیتے ہیں،البتہ اس میں اختصار ہوتا ہے۔اس طرح ان کی یہ اردو تفسیر دونوں تفاسیر کے اہم مطالب کو محیط ہے۔

اس اردو تفسیر کی تہذیب وتسہیل کردی گئی ہے۔علماء کی ایک ٹیم نے اس پر کام کیا ہے انھوں نے زبان کی قدامت کو دور کرکے آج کے قارئین کے لیے اسے آسان کردیا ہے۔ اس کی دو جلدیں اب تک ’’مکتبہ اصحاب الحدیث، اردو بازار ،لاہور سے شائع ہوچکی ہیں۔پہلی جلد کا اولین ایڈیشن ۲۰۰۳ء میں سامنے آیا ہے۔یہ جلد سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تفسیر پر مشتمل ہے جب کہ دوسری جلد میں سورہ النساء،سورہ المائدہ اور سورہ الانعام کی تفسیر ہے۔اسی طرح ان کی چار کتابوں:فصل الخطاب،تذکیر الکل،اکسیر فی اصول التفسیر اور افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمنسوخ کو ’’مجموعہ علوم قرآن‘‘کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔کتاب پر تسہیل وتخریج کے لیے حافظ عبداللہ سلیم اور حافظ شاہد محمود کا نام درج ہے ۔یہ مجموعہ ’’دار أبی الطیب للنشر والتوزیع، گوجرانوالہ،پاکستان سے مارچ ۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے۔

تعلیقات وحواشی

(۱)نواب صدیق حسن خان کی سیرت،حیات اور خدمات کی تفصیل کے لیے دیکھیں:مآثر صدیقی،نواب محمدعلی حسن خاں،نول کشور لکھنو،اشاعت:۱۹۲۵ء/ نواب صدیق حسن خاں، ڈاکٹر رضیہ حامد، ناشررضیہ حامد، اصغر منزل، بدھوارہ، بھوپال، اشاعت اول: ۱۹۸۳ء/ابجد العلوم،صدیق حسن خان، منشورات وزارۃ الثقافۃ والارشاد القومی، دمشق ۱۹۷۸ء/ابقاء المنن بالقاء المحن،نواب صدیق حسن خاں،مطبع شاہجہانیہ،بھوپال، ۱۳۰۵ھ/تراجم علمائے حدیث ہند،ابویحی امام خان نوشہروی، الکتاب انٹرنیشنل،جامعہ نگر نئی دہلی،بدون سنہ/علمائے اہل حدیث ہند اور ان کی تصنیفی خدمات، مولانا محمد مستقیم سلفی،ادارۃ البحوث الاسلامیہ،جامعہ سلفیہ،بنارس،اشاعت:۲۰۱۸ء/برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن، محمد اسحاق بھٹی،مکتبہ قدوسیہ لاہور، ۲۰۰۵ء/السید صدیق حسن القنوجی:آراؤہ الاعتقادیۃ وموقفہ من عقیدۃ السلف،دارالہجرۃ للنشروالتوزیع،الریاض،الطبعۃ الأولی:۱۹۹۶ء

(۲)برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن،ص:۱۹۸

(۳)نفس مصدر،ص:۱۹۹۔۲۰۱

(۴)ہندوستانی مفسرین اور ان کی عربی تفسیریں،ڈاکٹر محمد سالم قاسمی، ص:۱۰۲،ڈاکٹر سالم کا یہ بیان محل نظر ہے کہ انھوں نے تفسیر درمنثور سے احادیث وآثار اخذ کیے ہیں بلکہ شوکانی کی فتح القدیر سے انھوں نے زیادہ استفادہ کیا ہے۔

(۵)فتح البیان فی مقاصد القرآن، صدیق حسن خان، المکتبۃ العصریۃ صیدا،بیروت سے ۱۴۱۲ ھ؍۱۹۹۲ء، جلد۱،ص:۱۱

(۶)نفس مصدر،جلد۱،ص:۱۱۔۱۲

(۷)نفس مصدر،جلد۱،ص:۱۲

(۸)نفس مصدر،جلد۱،ص:۱۴

(۹)نفس مصدر،جلد۱،ص:۱۷

(۱۰)نفس مصدر،جلد۱،ص:۲۰

(۱۱)نفس مصدر،جلد۱،ص:۲۰۔۲۴

(۱۲)نفس مصدر،جلد۱،ص:۲۷

(۱۳)نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام،اردو ترجمہ: حافظ ابوبکر،مکتبہ محمدیہ ،اردو بازار، لاہور،طبع سوم:مئی ۲۰۱۵ء

(۱۴)نیل المرام من تفسیر آیات الاحکام،مطبعۃ الرحمانیۃ، مصر،۱۹۲۹ء،ص:۱

(۱۵)نفس مصدر،ص:۲

(۱۶)اکسیر فی اصول التفسیر،صدیق حسن خاں،مطبع نظامی کانپور،۱۸۷۱ء،ص:۹۰

(۱۷)نیل المرام ،اردو ترجمہ،ص:۹۲۔۹۳

(۱۸)اکسیر فی اصول التفسیر،ص:۳۸

(۱۹)افادۃ الشیوخ بمقدار الناسخ والمسوخ،صدیق حسن خان،مطبع محمدی لاہور،اشاعت:۱۹۰۰ء،ص:۲

(۲۰)نفس مصدر،ص:۳

(۲۱)نفس مصدر

(۲۲)تذکیر الکل بتفسیر الفاتحہ وأربع قل،صدیق حسن خان،تخریج ومراجعہ،ضیاء الحسن محمد سلفی،جمعیۃ اہل حدیث ،مئو،اشاعت:۲۰۰۷ء،ص:۱

(۲۳)فصل الخطاب فی فضل الکتاب،صدیق حسن خان، دارالکتب السلفیہ،لاہور،۱۹۸۴ء،ص:۹۵

(۲۴)نفس مصدر،ص:و

(۲۵)برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن،ص:۲۰۰

(۲۶)فصل الخطاب فی فضل الکتاب،ص:۱۔۲

(۲۷)نفس مصدر،ص:۷۔۸

(۲۸)علمائے اہل حدیث ہند اور ان کی تصنیفی خدمات، جلد دوم،ص:۱۵۔۱۶

(۲۹)برصغیر کے اہل حدیث خدام قرآن،ص:۱۹۹

(۳۰)ترجمان القرآن بلطائف البیان،صدیق حسن خاں،مطبع انصاری دہلی ومفید عام آگرہ،۱۳۰۶تا ۱۳۱۴ھ،جلد اول،ص:۲۔۳

(۳۱)نفس مصدر،ص:۳

(۳۲)نفس مصدر،ص:۲۵۔۲۹

(۳۳)نفس مصدر،ص:۳

(۳۴)نفس مصدر

(۳۵)نفس مصدر،ص:۹

(۳۶)نفس مصدر،ص:۹۔۱۰

(۳۷)نفس مصدر،ص:۱۳

(۳۸)نفس مصدر،ص:۱۶

(۳۹)نفس مصدر،ص:۵۶۴۔۵۶۵

(۴۰)نفس مصدر،ص:۲۲
 
Top