ذیشان خان

Administrator
تحیۃ الوضوء اور ان کے مسائل
=================
مقبول احمد سلفی
تحیۃ الوضوء جسے صلاۃ سنۃ الوضوء بھی کہتے ہیں مستقل نمازنہیں بلکہ یہ ایک نفل نماز ہے جو وضو کرنے کی وجہ سے پڑھی جاتی ہے۔
تحیۃ الوضوء کی حدیث:
(1) من توضأَ نحو وُضوئِي هذا ، ثم صلى ركعتين لا يُحدِّثُ فيهما نفسَه غُفِرَ له ما تقدَّمَ من ذنبِه.(صحيح البخاري:159)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص میرے اس طریقہ کے مطابق وضو کرے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور دورانِ نماز سوچ بچار نہ کرے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
(2) أنَّ النبيَّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ قال لبلالٍ عندَ صلاةِ الفجرِ : يا بلالُ ، حدِّثْنِي بأَرْجَى عملٍ عَمِلْتَهُ في الإسلامِ ، فإنِّي سمعتُ دُفَّ نعليْكَ بينَ يديَّ في الجنةِ . قال : ما عملتُ عملًا أَرْجَى عندي : أنِّي لم أَتَطَهَّرَ طَهورًا ، في ساعةِ ليلٍ أو نهارٍ ، إلا صلَّيتُ بذلكَ الطَّهورِ ما كُتِبَ لي أن أُصلِّي .(صحيح البخاري:1149)
ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فجر کی نماز کے وقت فرمایا کہ اے بلال! تم مجھے امید کا کام بتاؤ جو تم نے حالت اسلام میں کیا ہوکیونکہ میں نے رات جنت میں اپنے آگے تمہارے جوتوں کی آواز سنی ہے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اسلام میں جو عمل بھی میں نے کئے ہیں اُن میں سب سے زیادہ جس عمل سے مجھے نفع کی توقع ہے وہ یہ کے جب بھی میں نے دن یا رات میں پوری پاکی حاصل کی تو جتنے نوافل میرے لئے مقدر تھے وہ میں نے ادا کئے ۔
(3) مَا مِنْ أَحَدٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُقْبِل بِقَلْبِهِ وَوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا إِلاَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ(صحیح مسلم:234)
ترجمہ: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے اور ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہوکر (دل لگا کر) دو رکعت پڑھے اس کےلیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔
مسائل
٭یہ نماز مردوعورت دونوں کے لئے ہے یکساں ہے ۔
٭ یہ نمازکسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں خواہ نماز کے ممنوعہ اوقات ہی کیوں نہ ہوں ۔
٭ تحیۃ المسجد پڑھ لینے سے یہ نماز بھی ادا ہوجائے گی۔
٭ فجر کی اذان کے بعد صرف فجر کی سنت پڑھے جیساکہ احادیث سے پتہ چلتا ہے ۔
٭ فجر کی نماز کے علاوہ دیگر اوقات میں یہ نفل ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم جب مسجد پہنچے اور اذان ہوگئی ہو توسنت مؤکدہ کی ادائیگی کے ساتھ تحیۃ المجسد اور تحیۃ الوضوء کی نیت کرلینے سے تینوں کے لئے کفایت کرجائے گی ۔
٭ یہ نماز وضو کے فورا بعد پڑھی جائے جیساکہ حدیث سے ظاہرہوتا ہے ، تاخیر کی صورت میں نمازسنت الوضوء کا وقت فوت ہوجائے گا۔
٭ مسجد میں داخل ہوتے وقت اذان ہورہی تو اذان کا جواب دے پھر تحیۃ الوضوء پڑھے۔
عام لوگوں کو اس نماز کا علم نہیں ہے لہذا نبی ﷺ کی بے پناہ ثواب والی نمازتحیۃ الوضوء کے متعلق خبردی جائے اور انہیں بھی اس عمل عظیم پہ ابھارا جائے ۔
 
Top