ذیشان خان

Administrator
اتحاد ملت: پس منظر اور امکانات

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

(زیر نظر تحریر جامعہ آل رسول، مارہرہ، ایٹہ(یوپی) کے ایک سیمینار میں پیش کی گئی تھی جو 21/22/ فروری 2020 کو منعقد ہوا تھا اور جہاں مختلف مکاتب فکر کے علماء موجود تھے، سلفی نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے راقم سطور کو دعوت دی گئی تھی۔ شرکائے سیمینار نے اسے پسند کیا، اب افادہ عام کے لیے فری لانسر پر پیش کیا جارہا ہے، راقم کو اپنے گھر کے نوجوان قلمکاروں کے تاثرات کا انتظار رہے گا۔ رفیق سلفی)

ملکی اور عالمی حالات پر جن حضرات کی گہری نظر ہے، ان کے لیے یہ سمجھنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ ملت اسلامیہ کا اتحاد وقت کی سب سے بڑی اور اولین ضرورت ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف اسلام کی بقا اور حفاظت کے لیے لازمی ہے بلکہ اپنے وجود، تہذیب اور تشخص کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو اسلام دنیائے انسانیت کے لیے امن وسلامتی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے اسے ایک شدت پسند مذہب بتایا جارہا ہے، خاتم الانبیاء محمد عربی ﷺ کی ذات گرامی کو جو سارے جہاں کے لیے سراپا رحمت ہیں، ایسے ایسے اہانت آمیز القاب وآداب سے یاد کیا جاتا ہے جن کو سن کر شرافت اور انسانیت کو پسینہ آجائے، اسلام کے قوانین اور اس کی تعلیمات کو ”مہذب دنیا“ کے لیے غیر مفید بلکہ نقصان دہ بتایا جارہا ہے۔ مسلمان جن جن ممالک میں اقلیت میں ہیں، ان کے سامنے کئی ایک مسائل اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، بنیادی انسانی حقوق اور عدل ومساوات کے تقاضوں کو تو جانے دیں، بعض ممالک میں تو ان کے دینی شعائر بلکہ ان کی شہریت تک کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ ملت اسلامیہ پر منڈلاتے یہ سیاہ بادل اس وقت تک نہیں چھٹ سکتے جب تک ملت متحد ہوکر سیسہ پلائی دیوار نہیں بنتی اور جائز حدود میں رہ کر شعائر اسلامیہ کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار نہیں ہوجاتی۔
اتحاد ملت کی ضرورت کا احساس آج ہر مسلمان کو ہے، ہمارے علماء اور عوام سب کی خواہش یہی ہے کہ تمام مسلمان اپنے سارے اندرونی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آجائیں، لیکن یہ سب کیسے ہوگا، طریقہ کار کیا اپنانا ہوگا اور وہ مشترکہ بنیادیں کیا ہوں گی جن پر ہم سب کو جمع کرسکیں گے۔ اسی سوال کا جواب آج اس مجلس کو دینا ہے۔ میں بڑے احترام کے ساتھ سیمینار کے باوقار ذمہ داروں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے وقت کی آواز پر لبیک کہا اور مختلف مکاتب فکر کے علماء اور دانش وروں کو ایک اسٹیج پر جمع کرکے کوئی حل تلاش کرنے کی منصوبہ بندی کی، اللہ ان کی کوششوں کو بارآور فرمائے اور ہم ایک بڑے دینی مرکز سے کوئی ایسا متفق علیہ پیغام تمام ہندوستانی مسلمانوں کو دے سکیں جو وہ شرح صدر کے ساتھ قبول کرکے موجودہ مشکلات سے باہر نکل سکیں۔

یہ ایک المیہ ہے کہ جس ملت کا کلمہ ایک، جس ملت کا رب ایک، جس کی کتاب ہدایت ایک اور جس کا رسول ایک، وہ خود مختلف فرقوں، مسلکوں، جماعتوں اور ٹولیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اختلاف وانتشار کی شدت کا عالم یہ ہے کہ اس کے تمام فرقے باہم ایک دوسرے کو سچا مسلمان تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں پڑھنے کے روادار نہیں، مخالف مسلک کے لوگوں کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے اور ایک دوسرے سے رشتہ ناطہ کرنے سے بھی اجتناب کرتے ہیں حتی کہ یہ فتوی بھی موجود ہے کہ جو ہمارے کافر قرار دیے ہوئے کو کافر نہ کہے، وہ خود کافر ہے۔ برصغیر میں پائے جانے والے تینوں بڑے گروہوں: اہل سنت والجماعت(بریلویوں)، دیوبندیوں اور اہل حدیثوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا تجزیہ کیجیے، تصویر بالکل صاف ہوجائے گی۔

اعتصام بحبل اللہ اور علیکم بالجماعۃ کی سخت تاکید کے باوجود ان عوامل ومحرکات کا تجزیہ ضروری ہے جو ملت کی تاریخ کے مختلف ادوار میں انتشار وافتراق کا باعث بنے۔ حزبیت اور عصبیت سے اوپر اٹھ کر جب اس مسئلے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے گا تو کئی ایک حقائق سامنے آئیں گے۔ اگر ان حقائق کو ہم برداشت کرسکیں تو شاید ہماری مشکلات دور ہوجائیں اور ہم اپنے اس روشن ماضی کو واپس لاسکیں جس میں نقطہائے نظر میں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی مخالفت کرنے کا رجحان غالب نہیں بلکہ مغلوب تھا۔ اہل علم کی اس باوقار مجلس کو جس میں بڑی تعداد میں علمائے اسلام موجود ہیں، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ تکفیر، تفسیق اور تبدیع کا مسئلہ بڑا نازک اور کسی حد تک انتہائی سنگین ہے۔ علمائے متقدمین ومتاخرین نے اسلامی عقائد پر جو کتابیں تصنیف کی ہیں، ان میں یہ بحث ملتی ہے کہ کسی متعین شخص کے کسی متعین فعل پر اس کی تکفیر اس وقت تک نہیں کی جاسکتی جب تک وہ شرعی نصوص میں کسی جائز طریقہ تاویل کو اختیار کرکے اپنے موقف کے حق میں دلائل پیش کرتا ہو۔ زیادہ سے زیادہ اس کے سامنے نصوص کتاب وسنت سے مزین وہ دلائل رکھے جاسکتے ہیں جو اس کی نگاہوں سے اوجھل ہیں، اگر اس کی سمجھ میں بات آجاتی ہے تو بہتر ہے، ورنہ اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے گا۔کسی کے محض ایک یا چند تفردات کی بنیاد پر فتوے صادر نہیں کیے جاسکتے جب تک وہ اسلام کی اساسیات میں سے کسی کا شعوری طور پر انکار نہ کردے۔

یہی برصغیر ہے جس میں ماضی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان تینوں مکاتب فکر کے ماہرین فن اساتذہ سے بلا امتیاز مسلک ومشرب تمام طلبہ استفادہ کرتے تھے، کسی کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا جاتا تھا۔ ہر مسلک کے طلبہ اپنے اساتذہ کی عزت کرتے تھے اور استاذ کی دین داری، تقوی اور حسن اخلاص کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ان کا احترام بجالاتے تھے۔ اس کی کئی ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے اہل حدیث مسلک کے ممتاز عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری نے علم کلام اور منطق کی تعلیم کانپور میں حاصل کی جو اس وقت بریلوی مکتب فکر کا بڑا دینی مرکز تھا، فقہ کی تعلیم دیوبند میں حاصل کی جو دیوبندی مکتب فکر کا سب سے بڑا مرکز آج بھی ہے اور حدیث شریف کی تعلیم سید میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے حاصل کی جو مسلک اہل حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔ ہمارے ایسے علماء کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے مسلک پر عمل کرتے ہوئے، دوسروں کے سلسلے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں، ان پر کچھ لکھتے بولتے وقت تہذیب وشائستگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ تعصب، منافرت اور تشدد کو کسی حد تک اس طرح بھی کم کیا جاسکتا ہے کہ ہمارے دینی مدارس دوسرے مسلک کے ممتاز علماء کو اپنے یہاں دعوت دیں، ان سے درخواست کریں کہ وہ طلبہ کو خطاب کریں اور جن ترجیحات کو انھوں نے اپنے مسلک کی علامت بنایا ہے، ان پر کھل کر گفتگو کریں اور طلبہ کے سوالوں کا جواب دیں۔ اس سے ہمیں دوسروں کے موقف کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور کم تر درجے میں اس کا اتنا تو فائدہ ضرور ہوگا کہ ہم سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے ہوائی تیر تکے نہیں چلاتے بلکہ کتاب وسنت سے اپنے حق میں دلائل رکھتے ہیں۔

مختلف مکاتب فکر سے وابستہ ہمارے محترم علماء ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں، باہم تبادلہ خیال کرتے رہیں، ایک دوسرے کے قریب جانے ہی سے دلوں کی دوریاں مٹیں گی، فاصلے کم ہوں گے اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہوگا۔ جماعت اہل حدیث کے ممتاز عالم دین مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ کا ایک دوسرا واقعہ جو میں نے ان کے ہفت روزہ اخبار ”اہلحدیث، امرتسر“ میں پڑھا تھا، بڑا بصیرت افروز ہے۔ مولانا امرتسری اپنے کسی دعوتی سفر سے کلکتہ سے واپس لوٹ رہے تھے، راستے میں ان کو خیال ہوا کہ کیوں نہ بریلی ریلوے اسٹیشن پر اتر کر مولانا احمد رضا خاں بریلوی سے ملاقات کی جائے۔چنانچہ وہ بریلی اسٹیشن پر اتر کر سیدھے مولانا احمد رضا خان کے گھر پہنچ گئے۔ دونوں کا غائبانہ تعارف پہلے سے تھا، صرف نام بتانے کی دیر تھی۔ مولانا امرتسری لکھتے ہیں کہ میں مولانا کا مہمان ہوا، گھنٹوں ہماری کئی ایک موضوعات پر گفتگو رہی۔ مولانا اپنے تفردات پر مصر رہے، البتہ وہ ایک ملنسار اور خلیق انسان ہیں۔ مولانا احمد رضا نے گھر آنے والے مہمان کو عزت دی اور ان سے مسائل پر گفتگو کی۔ ایک وہابی عالم گھر میں مہمان رہا، عزت پائی، ساتھ میں اٹھنا بیٹھنا ہوا اور لازمی طور پر ساتھ ساتھ جاکر نمازیں ادا کی ہوں گی۔ یہ تھا ہمارے بزرگوں کا طرز عمل، کیا آج اس کی ضرورت نہیں ہے؟ پھر ہم اس تعلق سے کوئی پیش قدمی کیوں نہیں کرپاتے ہیں؟

ملت اسلامیہ ہند میں شدید اختلاف کی ابتدا شاہ اسماعیل شہید کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ سے ہوتی ہے۔ جو قابل اعتراض عبارتیں عوام کے سامنے لائی گئیں، وہ صراط مستقیم کی تھیں، جو سید احمد شہید کے ملفوظات کا مجموعہ ہے اور فارسی زبان میں ہے۔ اسے اردو جامہ مولانا اسماعیل شہید اور مولانا عبدالحئی بڈھانوی نے پہنایا ہے۔ کمال یہ ہے کہ قابل اعتراض عبارت اس حصے میں ہے جس کا ترجمہ مولانا بڈھانوی نے کیا ہے۔ اسی اختلاف نے خانوادہ ولی اللہٰی کے اس متفقہ دینی مرکز کی حیثیت کو کمزور کردیا جو ایک طویل عرصے سے مسلمانوں کے لیے رشد وہدایت کا ذریعہ بنا ہوا تھا۔ خیرآباد اور بدایوں کے ہمارے کئی ایک محترم علماء کو بعض کتابوں کی چند ایک عبارتوں سے اختلاف تھا۔امتناع نظیر اور خدا جھوٹ بولنے پر قادر ہے یا نہیں جیسے مسائل نے دینی مجالس کو گرمایا۔ یہی وہ دور تھا جب برصغیر کی دینی فضا میں نجد کے مشہور عالم شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب نجدی اور ان کی معروف کتاب ”کتاب التوحید“ کا چرچا عام ہوا۔ کتاب التوحید کے نام سے ایک جعلی کتاب شائع کی گئی جس میں خلاف اسلام باتیں تحریر تھیں، ظاہر ہے کہ اسلام کے خلاف باتیں پڑھ کر عوام کی بڑی تعداد کتاب اور اس کے مصنف کے خلاف ہوگئی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی کو دہلی میں برائے تعلیم مقیم شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کے پوتے سے کتاب التوحید کا ایک قلمی نسخہ مل گیا اور انھوں نے اصل کتاب اردو ترجمے کے ساتھ شائع کردی تب صحیح صورت حال کا اندازہ ہوا۔اسی غلط فہمی کا نتیجہ تھا کہ برصغیر کی عظیم دینی تحریک جسے تاریخ میں تحریک شہیدین کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی تمام تر قربانیوں اور اخلاص کے باوجود متہم ہوگئی۔ ابتدا میں اختلاف علمی نوعیت کا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے مخالفت کی شکل اختیار کرلی، علماء تقسیم ہوگئے، گروہ وجود میں آگئے، دعوتی مراکز علاحدہ ہوگئے، مدارس ومساجد کی تقسیم عمل میں آگئی، دونوں طرف سے مناظرے ہونے لگے اور پھر نوبت تکفیر، تفسیق اور تبدیع تک پہنچ گئی۔ اپنے اپنے تفردات کے لیے نصوص کتاب وسنت کی تلاش ہونے لگی۔ مسلکی عصبیت میں ہم نے اپنے اسلاف کرام کے بعض مقررہ اصولوں سے بھی انحراف کیا۔ تفسیر، حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ اور علم کلام کا تمام علمی سرمایہ دیکھیے، پتا چل جائے گا کہ متقدمین اور متاخرین کی آراء اور نقطہائے نظر میں کتنا اختلاف ہے، گویا کہ ہم نے اسلامی علوم وفنون کے بعض مسلمہ اصولوں کو بھی مشتبہ بناڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کسی ایک اختلافی مسئلے کو حل کرنے میں ہم ناکام ہیں۔
بشریت رسول، حیاۃ النبی، رسول کا عالم الغیب ہونا، رسول کے حاضر وناظر رہنے کا مسئلہ، سماع موتی، وفات یافتہ شخصیات سے وسیلہ، بزرگوں کی تاریخ وفات پر ان کے عرس کا انعقاد، دسویں محرم، بارہ ربیع الاول اور پندرہویں شعبان کو اسلامی شعار کے طور پر ایک اجتماعی تیوہار کی حیثیت سے منانے کا مسئلہ، بزرگوں کے نام پر ذبیحہ اور ان کو مشکل کشا سمجھنا اور ان سے فریاد کرنا وغیرہ بیسیوں ایسے مسائل ہیں جن پر دونوں طرف سے اتنی کتابیں لکھی جاچکی ہیں کہ کئی ایک الماریاں بھر جائیں گی لیکن مسائل جہاں تھے، آج بھی وہی ہیں کیوں کہ فریقین اپنے اپنے موقف کی تائید میں جن نصوص سے استدلال کرتے ہیں، ان کی صحت، استناد اور ان کے مفہوم کی تعیین کے سلسلے میں نقطہائے نظر میں موجود اختلافات دور کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہو پا رہے ہیں۔
ایسی صورت میں ایک راستہ تو یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان اختلافات کو علی حالہ باقی رہنے دیں اور مسلم عوام کو یہ سمجھائیں کہ ان مسائل پر ایمان کی صحت اور عدم صحت موقوف نہیں ہے اور نہ اسلامی اخوت کا رشتہ کمزور ہوتا ہے یا پھر عوام نہیں بلکہ اہل علم باہم مل بیٹھ کر ان مسائل کے سلسلے میں فریقین کے دلائل کا محاکمہ کرکے کسی نتیجے تک پہنچ جائیں۔ اتحاد ملت کے لیے ایسا کرنا ہمارے لیے ضروری ہے۔ اللہ کرے کہ اس سیمینار سے ہم ایسا کوئی مثبت پیغام دے سکیں جو ملت کے حق میں مفید ثابت ہو۔
فقہی مسائل میں ملت کے مختلف طبقات میں موجود اختلاف کی تفہیم بھی ضروری ہے۔ ملت کے چاروں بڑے فقہی مکاتب فکر کتاب وسنت، اجماع اور قیاس کو حجت شرعی تسلیم کرتے ہیں۔ ماضی میں ہم یہ خوش گوار منظر بھی دیکھتے ہیں کہ ائمہ اربعہ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے بھی نظر آتے ہیں، ایک مکتب فکر کے طلبہ دوسرے مکتب فکر کے محترم اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ بھی تہہ کرتے دیکھے جاسکتے ہیں، فقہی جزئیات میں اختلاف کے باوجود ان کے باہمی تعلقات میں کوئی فرق نہیں آتا، رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا دینی جذبہ موجود ہے لیکن زمانہ جوں جوں گزرتا گیا، ان فقہی مسائل میں بھی شدت پیدا ہوتی چلی گئی اور آج صورت حال یہ ہے کہ فقہی مسائل میں اختلاف رکھنے والے مسلمان ایک دوسرے سے میلوں فاصلہ بنا کر رکھتے ہیں۔ نماز کے لیے الفاظ میں نیت، سینے پر ہاتھ باندھنا، فاتحہ خلف الامام، آمین بالجہر، تکبیر فرادی ومثنی، حی علی الصلوۃ پر امام اور مقدیوں کا بالالتزام کھڑا ہونا، رکعات تراویح آٹھ یا بیس وغیرہ مسائل نے ہماری عوام کو ایک دوسرے سے برگشتہ کردیا ہے۔ ایک طرف ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ حق پر ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی تقلید ضروری قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف بعض ایسے فقہی مسائل میں شدت اختیار کرتے ہیں جو دوسرے امام فقہ کے یہاں اثبات یا نفی کی صورت میں موجود ہیں۔ علی گڑھ میں مقیم ایک دیوبندی فاضل نے اپنے ایک کتابچے میں یہاں تک لکھ دیا کہ امام شافعی کا رفع یدین سنت ہے لیکن غیر مقلدین کا رفع یدین شرارت ہے۔ دینی مسائل میں اس لب ولہجہ کی گنجائش کہاں سے اور کیسے نکال لی جاتی ہے، یہ ہماری سمجھ سے پرے ہے۔

ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے اپنے دور میں کبھی یہ نہیں کہا کہ حق ہمارے اجتہادات میں محدود ہے بلکہ ہمیں اپنی تراث میں یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ ہر ایک نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ان کی کسی بات کو آنکھ بند کرکے تسلیم کرلیا جائے بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ اگر میری کوئی بات خلاف کتاب وسنت ملے تو اسے دیوار سے دے مارو، اذا صح الحدیث فھو مذہبی ان کا اعلان عام ہے۔ ان میں ہر ایک کی تقلید کا سلسلہ بعد کی صدیوں میں اس وقت شروع ہوا جب یہ دیکھا گیا کہ بعض لوگ کتاب وسنت کا کوئی خاص علم نہیں رکھتے، تفسیر،حدیث اور فقہ کے اصولوں سے ناواقف ہیں اور زبردستی اجتہاد فرمانے بیٹھ گئے، ایسی صورت میں علمائے امت کی ایک بڑی تعداد نے فیصلہ کیا کہ جو اصول تسلیم شدہ ہیں، ان سے انحراف کرکے کسی فہم واجتہاد کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک مناسب اور بروقت اٹھایا گیا ایک اچھا قدم تھا لیکن اس کو بنیاد بنا کر تمام ایسے اہل علم کے لیے اجتہاد کا دروازہ بند کردینا جو کتاب وسنت سے بھی واقف ہیں اور امت کے نزدیک تسلیم شدہ فقہی اصولوں سے بھی، کوئی بہتر رویہ نہیں ہے اور نہ اسے اسلام کا کوئی دائمی اصول تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ جس سے انحراف کو ہواپرستی قرار دیا جائے۔
علمائے اسلام کی یہ باوقار مجلس اچھی طرح سمجھتی ہے کہ امت میں پائے جانے والے مختلف فیہ فقہی مسائل میں بڑی تعداد ایسے مسائل کی ہے جس میں اختلاف صرف راجح اور مرجوح کا ہے۔ کسی کے نزدیک زیر بحث مسئلے میں موجود نص قطعی الدلالہ ہے اور کسی کے نزدیک وہ قطعی الدلالہ نہیں ہے۔ محاکمہ کرنے والا کوئی غیر جانب دار شخص دونوں میں سے کسی ایک کے دلائل کو کلی طور پر رد نہیں کرسکتا اور نہ دوسرے کے پیش کردہ دلائل کو من وعن قبول کرسکتا ہے۔
فقہی اختلاف کی دوسری بڑی وجہ ان فقہی اصولوں کا اختلاف ہے جو فقہ کے چاروں مکاتب فکر میں پایا جاتا ہے۔ ضعیف احادیث کی حجیت اور عدم حجیت کا مسئلہ، مرسل حدیث کی استناد ی حیثیت، خبر واحد کی ظنیت، اذا تعارضا تساقطا اور اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال، عمل اہل مدینہ، راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے خلاف عمل یا فتوی جیسے دسیوں اصول ہیں جن میں فقہ کے چاروں مکاتب فکر کی آراء مختلف ہیں۔ ہر مکتب فکر فقہی مسائل کو اپنے اپنے نقطہ نظر سے دیکھتا اور اس کے مطابق فتوے دیتا ہے۔ ان چاروں کے مقابلے میں اہل حدیث مکتب فکر کا خیال ہے کہ فقہی مسائل میں آنکھ بند کرکے کسی ایک امام کی تقلید ضروری نہیں ہے بلکہ جس امام کی بات اقرب الی الکتاب والسنہ ہو، اسے تسلیم کرلیا جائے۔ اہل حدیث علماء کا یہی نقطہ نظر ان کی تحریروں اور تقریروں میں سامنے آتا ہے۔ ان کے مخالفین ان پر الزام یہ عائد کرتے ہیں کہ اس سے تو شریعت مذاق بن جائے گی، ہر شخص اپنی اپنی خواہش کے مطابق جس مسئلہ میں جس امام کی چاہے پیروی اور اقتدا کرلے گا، جہاں سے رخصت اور سہولت نظر آئے گی، ادھر کو چلا جائے گا۔ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ اہل حدیث نقطہ نظر کے سلسلے میں یہ موقف درست نہیں ہے۔ ہم چاروں مکاتب فقہ کے بڑے بڑے علماء کو دیکھتے ہیں کہ وہ بیشتر مسائل میں کسی ایک مکتب فکر کے پابند رہنے کے باوجود بسااوقات اپنی تحقیق کے مطابق اپنے امام کے مسلک کے خلاف عمل کرتے ہیں اور اس کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں۔ سید الطائفہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے قائل ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب ”حجۃ اللہ البالغہ“ میں نماز میں رفع یدین کرنے والے کو نہ کرنے والے سے بہتر بتاتے ہیں، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمہ اللہ حنفی ہونے کے باوجود اپنے وصیت نامے میں تاکید کرتے ہیں کہ میری نماز جنازہ وہ شخص پڑھائے جو نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کا قائل ہو، ہمارے دور کے مشہور اہل سنت والجماعت کے عالم حضرت پیر کرم شاہ ازہری رحمہ اللہ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک قرار دیتے تھے۔
اصول فقہ کے یہ اختلافات صدیوں سے موجود ہیں، ان کو نہ ہم ختم کر پا رہے ہیں اور نہ بہ ظاہر ان کے ختم ہونے کی کوئی امید نظر آرہی ہے۔ یہاں بھی یہی صورت قابل عمل ہوسکتی ہے کہ ان علمی اختلافات کو اہل علم تک محدود رکھا جائے اور عوام کے درمیان یہ مباحث نہ اٹھائے جائیں، اگر ضرورت آن پڑے تو دونوں نقطہائے نظر کو دلائل کے ساتھ پیش کردیا جائے اور عوام کو یہ بتادیا جائے کہ دلائل دونوں طرف موجود ہیں، کسی پر بھی عمل کیا جاسکتا ہے لیکن اپنے سے مختلف عمل کرنے والے کے تعلق سے دل میں کوئی تنگی یا چبھن نہ محسوس کی جائے۔
ملت میں اختلافات کی وجوہات پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ مختلف فیہ مسائل کی تعداد ان متفق علیہ مسائل سے کہیں زیادہ کم ہے جن میں ملت کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عام مسلمانوں کے درمیان ان مسائل کی تبلیغ کچھ زیادہ ہی کی گئی ہے جن میں مسلکوں اور جماعتوں کا شدید اختلاف تھا۔ دعوت وتبلیغ کی مجلسوں میں اختلافی مسائل کو ضرورت سے زیادہ ہوا دینے کی وجہ سے افراد ملت میں دینی بے اعتدالی اور بے عملی پیدا ہوئی ہے اور وہ اس اسلام کی عملی تصویر پیش کرنے سے قاصر ہیں، جس سے غیر مسلم دنیا اسلام کی طرف کشش محسوس کرتی اور ”یدخلون فی دین اللہ افواجاً“ کا خوش نما منظر ہمارے سامنے ہوتا۔ ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلام کی تعلیمات معاملات اور اخلاقیات کے باب میں کتنی منطقی اور سائنٹفک ہیں، لیکن آج مسلم سماج کا سب سے کمزور پہلو معاملات اور اخلاقیات ہی ہیں۔صورت حال اتنی تکلیف دہ ہے کہ جب بھی کوئی اجتماع یا دینی جلسہ ہم منعقد کرتے ہیں تو اس میں عام طور پر ہماری مسلکی ترجیحات ہی زیر بحث آتی ہیں۔ متفق علیہ اسلامی تعلیمات اور عام مسلمانوں کے لیے ضروری باتیں ہمارے محترم مقررین وواعظین کی زبانوں پر بہت کم آتی ہیں۔
علوم شریعت کے فاضل علماء کی اس باوقار مجلس سے بہ صد عاجزی یہ درخواست کروں گا کہ ہم عوام تک علمی، اعتقادی اور فقہی اختلافات کو نہ پہنچنے دیں بلکہ عوام کو اساسیات دین، عام اسلامی تعلیمات، معاملات میں اسلامی اصولوں کی پاسداری، حسن اخلاق سے مزین ہونے اور اخلاق ذمیمہ سے دور رہنے کی تاکید کریں۔ مسلمانوں کے باہمی حقوق سے انھیں متعارف کرائیں، دین میں اختلاف کرنے سے منع کریں اور جذبات پر قابو رکھنے اور غصہ پی جانے کی تعلیم دیں۔

میری دلی خواہش ہے کہ کاش وہ دن بھی ہمارے ملک میں آئے جب مختلف مسالک اور مختلف جماعتوں کے بزرگ اور سنجیدہ علماء ایک ہی اسٹیج سے عوام کو خطاب کریں۔ ایک دوسرے کے تئیں عزت واحترام کا وہ روح پرور منظر پیش کریں کہ ہمارے عوام اپنے باہمی اختلافات بھول کر باہم شیروشکر ہوجائیں اور اپنے علماء کو دوسرے مسلک کے علماء کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر اپنے درمیان کی دوریاں مٹادیں۔
الحمد للہ ہمارے تمام محترم علماء کو اس بات کا مکمل شعور وادراک ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں ہمارے اندرونی اختلافات کو زینہ بناکر ہمارے دینی جذبات کو غلط رخ دینے میں سرگرم عمل ہیں، گزشتہ سالوں میں بعض ایسے واقعات پیش بھی آئے جن میں ہمارے کچھ سیدھے اور صاف دل علماء کو یرغمال بنانے کی کوشش کی گئی لیکن بالغ نظر قابل صد احترام علماء نے بروقت اقدام کرکے اس سازش کو ناکام بنادیا۔ یہ وہی منظر تھا جو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا تھا، جب کسی دشمن اسلام نے ان سے کہا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہم آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں تو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا تھا کہ اے دشمن خدا! معاویہ کے خلاف جو تلوار اٹھے گی، اس کا جواب دینے کے لیے سب سے آگے صف اول میں علیؓ ہوگا۔ یہی ہماری تاریخ ہے، اپنی اس تاریخی روایت کو ہم یاد رکھیں اور اپنی نسلوں میں بھی اس کو عام کریں۔ ہمارے درمیان پائے جانے والے اختلافات ہمارے اپنے گھر کے ہیں، ایک ہی فیملی کے افراد میں بسااوقات اختلاف ہوجایا کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ کوئی ہمارا دشمن ہمارے اس اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ہمارے اپنے وجود کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش رچنے لگے اور ہم خاموش تماشائی بنے رہیں۔
یہ سیمینار ہندوستان کے ایک بڑے دینی مرکز سے ہورہا ہے، جس کا اثرورسوخ پورے ملک میں ہے۔ اتحاد ملت کی آواز اگر یہاں سے اٹھتی ہے تو مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمیں کامیابی عطا فرمائے گا اور اس بابرکت اور باعث خیر وسعادت عمل کا آغاز کرنے والوں کو بے حساب اجروثواب سے نوازے گا۔ وماعلینا الا البلاغ
 
Top