ذیشان خان

Administrator
مختصر سیرت انبیاء: حرفے چند

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

نام کتاب: مختصر سیرت انبیاء
مؤلف: حمید حسن سلفی مبارکپوری
(اوقاف اہل حدیث، دہلی)

اس وقت ہمارے سامنے تعلیم و تعلم کی جو صورت حال ہے، وہ کسی حد تک خوش آیند کہی جاسکتی ہے۔ ملت کو اب یہ احساس ہوچلا ہے کہ تعلیم ہی اس کی مشکلات کا حل ہے اور تعلیم ہی کے ذریعے وہ اس ملک میں اپنے لیے باعزت مقام حاصل کرسکتی ہے۔ جگہ جگہ مدارس، مکاتب اور اسکول کھولے جارہے ہیں، ان میں طلبہ وطالبات کی تعداد میں بھی دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ بچوں کی ذہنی سطح اور ان کی ضروریات کے مطابق نصاب کی کتابیں بھی تیار کی جارہی ہیں۔ غریب سے غریب مسلمان کی خواہش ہے کہ اس کے بچے اسکول اور مدرسے جائیں اور پڑھ لکھ کر ایک اچھا انسان اور ذمہ دار شہری بنیں لیکن ملت کو اسی کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہونا چاہیے کہ اس کی نسلوں کے لیے ایسی تعلیم سم قاتل ہے جو ان سے ان کا ایمان ویقین چھین لے اور آزاد خیالی کے اس صحرا میں انھیں لاکھڑا کردے جہاں صرف تاریکی ہے اور جس کا کوئی راستہ اس منزل کی طرف نہیں جاتا جو بندۂ مومن کا مطلوب ومقصودہے۔ میری مراد اس فکری ارتداد سے ہے جس کی لہریں ہماری تعلیم گاہوں کے دروازوں تک آپہنچی ہیں۔ مسلمان ہوکر بھی مسلمان نہ رہ جانا ایک بڑی تشویشناک صورت حال ہے اور اس میں مزید شدت اس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب ایسے مسلمانوں کو مسلم سماج کے لیے آئیڈیل بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مسلم گھرانوں سے دین اسلام کا رخصت ہوجانا ہے اور دوسری وجہ وہ نصاب تعلیم ہے جو ہمارے بچے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔
اسلامی تہذیب وثقافت کے نمایاں مظاہر طنز واستہزا کا موضوع بن رہے ہیں، ان کا رشتہ دین اسلام سے جوڑنے کی بجائے ان کو ’’ملاؤں‘‘ کی غلط تعبیرات کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔ وضع قطع، لباس وپردہ اور خوردونوش کے سلسلے میں جو عملی رویے سامنے آرہے ہیں، وہ اہل اسلام کے لیے سخت اذیت کا باعث ہیں۔ غیر اسلامی مظاہر سے وابستگی کو اچھے مسلمان کی پہچان بتاکر ان مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو اسلامی مظاہر سے اپنا اٹوٹ رشتہ قائم رکھ کر اس سماج میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ایسی تعلیم جو ہمیں اسلام اور اس کی مثالی تہذیب سے دور کردے، ہمارے لیے کوئی افادیت نہیں رکھتی۔ مسلم سماج میں اب ایسی نسلیں جوان ہوچکی ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں لیکن وہ قرآن کریم کو ناظرہ بھی نہیں پڑھ سکتیں، اس کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو اپنانے کی بات تو بہت دور کی ہے۔ مردوں اور عورتوں کے لیے اسلام جس عصمت اور پاک دامنی کا مطالبہ کرتا ہے اور مردوزن کے غیر شرعی اختلاط پر جس طرح قدغن لگاتا ہے، وہ ہماری نسلوں کی ایک بڑی تعداد کو قبول نہیں، وہ اسے انسان کی آزادی کے منافی سمجھتی ہیں۔ ان کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ خوشی حاصل کرنا اور خوش رہنا، ان کا بنیادی حق ہے اور اپنے اس حق کو حاصل کرنے کے لیے وہ کسی حد تک بھی جاسکتی ہیں۔ظاہر ہے کہ اسلام کی نظر میں اس قسم کی آزادی ہر مسلمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
ہندوستان میں ہمارے لیے ایک بڑی آزمائش یہ بھی ہے کہ ملک کے سیکولر آئین کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے اور اپنے اسلام سے بھی وابستہ رہنا ہے اور بیک وقت دو مختلف کشتیوں پر سوار ہوکر دریا سے کیسے پار اترنا ہے، اسی کی تفہیم ہمیں اپنی نسلوں کو کرانی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے لیے اسلامیات کا جو نصاب ہم ترتیب دیں، اس میں اس کی بھرپور رعایت ضروری ہے۔ عصری تقاضوں سے غفلت ہمیں غربت وجہالت کی طرف لے جائے گی اور بغیر سوچے سمجھے دنیا کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے بھاگنے سے ہم اسلام سے بچھڑ جائیں گے۔ہمارے پرائیویٹ اسکول اور ہمارے مدارس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ اپنے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم وتربیت میں صورت حال اور ملی ضرورت کے اس پہلو کو ضرور سامنے رکھیں۔
ملک کے مختلف حصوں اور مسلم اداروں کی طرف سے دیگر مضامین کی طرح اسلامیات کی کتابیں بھی سامنے آرہی ہیں اور بعض باصلاحیت مصنفین اس اہم کام میں اپنی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں مواد بھی مناسب ہوتا ہے اور زبان واسلوب میں بھی بہتری نظر آتی ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض ادارے اور مصنفین محض مادی نقطۂ نظر پیش نگاہ رکھتے ہیں، ان کی شائع کردہ اور ترتیب دادہ کتابوں میں خام مواد کے ساتھ ساتھ زبان وبیان کی بھی کمیاں دکھائی دیتی ہیں، ان کے مضامین میں خشکی پائی جاتی ہے، ان کے مواد میں وہ کشش نہیں ہوتی جو بچوں کے شوق کو مہمیز کرسکے، اسی طرح ان کا اسلوب بیان بھی بڑا سپاٹ سا ہوتا ہے جس کو پڑھنے سے بچوں میں کوئی امنگ اور جذبہ پیدا نہیں ہوتا۔
زیر مطالعہ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں عزیز محترم حمید حسن سلفی مبارک پوری نے انبیائے کرام کی سیرت کے وہ پہلو نمایاں کیے ہیں، جن کی ہماری عملی زندگی میں ضرورت ہے۔ انھوں نے اس کتاب میں جو مواد پیش کیا ہے، وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کے ان منتخب اور چنندہ بندوں نے جو اسوہ انسانیت کے لیے چھوڑا ہے، وہ ہمارے لیے کس طرح مشعل راہ ہے۔ معلومات سے بھرپور یہ کتاب دل چسپ بھی ہے اور سبق آموز بھی، اسی طرح اس کا اسلوب بیان بھی موثر اورخوبصورت ہے۔ نمایاں خوبی اس کتاب کی یہ ہے کہ اس میں بچوں کی عمر اور ان کی نفسیات کی پوری رعایت کی گئی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ اپنی اس نوعمری میں انھوں نے یہ کتاب مرتب کی اور اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح اپنی ذہانت، محنت اور ستھرے ذوق کا مظاہرہ کیا۔ کتاب دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر انھوں نے اپنا یہ علمی سفر جاری رکھا توان شاء اللہ وہ تصنیف وتالیف کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ عزیز محترم کی محبت بھری خواہش کا احترام کرتے ہوئے مکمل کتاب میں نے دیکھی ہے اورکتاب کو زبان وبیان اور اسلوب کے اعتبار سے مزید بہتر اور دل چسپ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ایک کم علم اور بے بضاعت انسان سے جو امیدیں وابستہ کررکھی ہیں، اللہ کرے کہ انھیں کوئی مایوسی نہ ہو اور ان کا وہ حسن ظن قائم رہے جو اس فقیر کے سلسلے میں انھوں نے اپنے دل میں بسا رکھا ہے۔
علی گڑھ میں اپنی تمام ذمہ داریوں سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ پندرہ سالوں تک میں نے ایک ہائی اسکول میں اردو زبان اور اسلامیات کے استاذ کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ دوران تدریس یہ اندازہ اور تجربہ ہوا کہ اسکولوں اور کالجوں کے بچے اسلامیات کے مضامین میں دل چسپی کیوں نہیں لیتے۔ نصابی کتاب خواہ کتنی ہی بہتر اور معیاری کیوں نہ ہو، اگر اس کو پڑھانے والا استاذ بے ذوق اور بدذوق ہے تو طلبہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ ایک طرح سے وہ اسلامیات کے مضامین کو اپنے لیے ایک بوجھ سمجھ لیں گے اور ان کی تعلیمات سے غیر شعوری طور پر دور ہوتے چلے جائیں گے۔
یہاں میں اسلامیات کے اپنے محترم اساتذہ کرام سے یہ درخواست کروں گا کہ ملک کے موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول اور مسلمان طلبہ وطالبات کی ذہنی وفکری تربیت کی شدید ضرورت کے پیش نظر ایک بڑے اہم مقام پر آپ فائز ہیں۔ آپ اپنی خدمات کو مشاہرہ کے پیمانے پر نہ تولیں بلکہ یہ دیکھیں کہ جن بچوں کی اسلامی تربیت کرنے کا اللہ نے آپ کو اتنا بہترین موقع دیا ہے، اسے ضائع نہ ہونے دیں۔ اگر آپ نے اپنے تلامذہ کو بہترین مسلمان بنادیا تو وہ ان شاء اللہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ثابت ہوں گے۔ الحمد للہ میں نے علی گڑھ میں تدریس کے دوران تھوڑی بہت اس سلسلے میں کوشش کی تھی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج میرے کئی تلامذہ عقیدہ ومسلک کے باب میں میرے دست وبازو ہیں اور ان کے سہارے میں یہاں دعوت وتبلیغ کے کئی کام بآسانی کرپارہا ہوں۔ فالحمد للہ علی ذلک
اللہ سے دعا ہے کہ کتاب کو شرف قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے مکاتب اور پرائمری اسکولوں کے بچے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکیں۔ عام قارئین کے لیے بھی کتاب حددرجہ مفید ہے، ہم اپنے گھروں میں اس کتاب کی مدد سے اپنے بچوں کو انبیائے کرام کی سیرت سے واقف کراسکتے ہیں۔ امید ہے کہ محترم اساتذۂ کرام اور مدارس ومکاتب کی موقر انتظامیہ کے اراکین اس پہلو سے کتاب کا مطالعہ کرکے اسے اپنے نصاب تعلیم کا حصہ بنائیں گے۔
میں عزیز محترم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے محض اللہ کی رضا کے لیے کتاب مرتب کرکے شائع کی اور اسے عام قارئین تک پہنچانے کا انتظام کیا۔ مجھے ان سے یہ بھی توقع ہے کہ وہ اپنی علمی زندگی میں سرزمین مبارک پور کی عالمی شہرت کا پاس ولحاظ رکھیں گے اور جس علمی خاندان سے ان کا تعلق ہے، اس کے تقوی، اخلاص، شرافت، سادگی اور تواضع کی خوبصورت روایت کو مزید آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
 
Top