ذیشان خان

Administrator
صفا شریعت کالج میں مطالعات قرآنی کی جہات

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

[زیر مطالعہ تحریر پروفیسر خلیق احمد نظامی سنٹر فار قرآنک اسٹڈیز، علی گڑھ مسلم یونیور سٹی، علی گڑھ کے ایک سیمینار میں پیش کی گئی تھی۔ یہ سیمینار ۴،۵ ؍مارچ ۲۰۲۰ء میں منعقد ہوا تھا۔ سیمینار کا مرکزی عنوان تھا: ’’ہندوستان کے تعلیمی اداروں میں مطالعات قرآن کا منظر نامہ‘‘۔ سنٹر کے ڈائرکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی کی سربراہی میں سنٹر میں قرآن مجید کی ہمہ جہت خدمات کا سلسلہ جاری ہے، یہ سیمینار اسی کا ایک حصہ تھا۔ مقالہ کی تیاری میں مولانا عبدالواحد مدنی اور برادر عزیز محمد خالد صفاوی سے بڑی مدد ملی ہے، اس کے لیے میں ان دونوں حضرات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔رفیق سلفی]

صفا شریعت کالج مشرقی یوپی کے مشہور ضلع ’’سدھارتھ نگر‘‘ کا دینی تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کے بانی اور موسس مولانا عبدالواحد مدنی ہیں جنھوں نے جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں علوم شرعیہ کی تکمیل کی ہے اور کئی ایک ہندوستانی اور عرب اساتذہ سے استفادہ کرنے کی وجہ سے ان کا فکرونظر بڑا وسیع، ہمہ گیر اور آفاقی ہے۔ اللہ نے انھیں دل ودماغ ایسا عطا فرمایا ہے کہ وہ ملت اسلامیہ کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور ان کی کوشش رہتی ہے کہ کسی طرح ملت اپنے اس کردار میں واپس آجائے جو ماضی میں اس کا امتیاز رہا ہے۔ انھوں نے ملت کی نئی نسل کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری قبول کی ہے اور ان کا یہ احساس بجا ہے کہ تعلیم ہی کی راہ سے ملت کی سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی پس ماندگی دور کی جاسکتی ہے، اس کی اخلاقی اور سماجی کمزوریوں کو دور کیا جاسکتا ہے اور دنیا میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے جو دنیا کے تمام انسانوں کو بغیر کسی مذہبی، لسانی اور نسلی تفریق کے عدل وانصاف سے بہرہ ور کرسکتا ہے اور مساوات کے اصولوں پر سماج کی تشکیل نو کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر دینی مدارس کے ذمہ داران اور مسند درس وتدریس پر فائز ہمارے علماء نئی کتابوں اور نئے تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے لیکن مولانا عبدالواحد مدنی کا امتیاز یہ بھی ہے کہ وہ تعلیم، سیاست، معیشت اور سماجیات کے موضوع پر نئی کتابوں اور جدید افکار وخیالات سے برابر استفادہ کرتے رہتے ہیں اور پھر ہم خیال دوستوں اور ساتھیوں سے ان پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے کوئی قابل عمل رائے قائم کرتے اور ضرورت ہوتی ہے تو اس کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے دینی مدارس کی فضا میں جو جمود طاری ہے، اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم دنیا اور اس میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ یہ رجحان غیر معمولی سستی وتکاسلی کا مظہر ہے اور دوسری وجہ وہ علمی پندار ہے جو ہمارے وجود کو کنویں میں بند کیے ہوئے ہے۔ سماج ومعاشرے کو صحت مند تبدیلیوں سے ہم کنار کرنے والے اصحاب فکر ونظر اس قسم کی کمزوریوں سے خود کو دور رکھتے ہیں۔ میرا اپنا ذاتی مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ مولانا عبدالواحد مدنی کا شمار ایسے ہی اصحاب فکر ونظر میں ہوتا ہے۔ اللہ ان کی عمر وصحت میں برکت عطا فرمائے، آمین۔
مولانا عبدالواحد مدنی کی نگرانی میں اس وقت لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ دو دینی مدرسے، دو جونیر ہائی اسکول اور تین انٹرکالج چل رہے ہیں۔ سرکاری بورڈ اور داخلی امتحانات کے نتائج بتاتے ہیں کہ ان کے قائم کردہ اداروں کا تعلیمی نظام قابل اطمینان اور بہت بہتر ہے اور یہ ادارے اپنے علاقے کی تعلیمی ضرورت بڑی حد تک پوری کررہے ہیں۔ ایک دینی مدرسے کے ذمہ دار عالم کی حیثیت سے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ علم کو قدیم وجدید کے خانوں میں تقسیم کرنا درست نہیں ہے، جہاں ایک مسلمان کے لیے اساسیات اسلام کی معرفت ضروری ہے تو دوسری طرف دنیا میں اپنا موثر کردار ادا کرنے کے لیے اس کے لیے جدید علوم سے آراستہ ہونا بھی ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دینی مدارس میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ محنت کرکے ہائی اسکول اور انٹر کے امتحانات میں بھی شرکت کریں، اس کے لیے ان کے یہاں مدرسے میں علاحدہ کوچنگ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور حوصلہ مند طلبہ وطالبات دونوں طرح کے علوم میں امتیاز پیدا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ ہائی اسکول اور انٹرکالج میں دینی تعلیم کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے تاکہ جدید تعلیم حاصل کرنے والے مسلم طلبہ اسلام کی بنیادی اور ضروری تعلیمات سے بے بہرہ اور ناواقف نہ رہیں۔

دینی مدارس کی اندرونی صورت حال اور ان کے نصاب تعلیم کی بعض کمزوریوں اور نظام تعلیم وتربیت کی کمیوں پر مولانا عبدالواحد مدنی کی گہری نظر ہے، اسی لیے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فراغت کے بعد جب ہندوستان میں آکر انھوں نے ایک بڑے دینی مدرسے میں اپنی تدریسی خدمات کا آغاز کیا تو وہ وہاں کے روایتی ماحول سے خود کو مطمئن نہیں کرسکے اور اپنے جذبات واحساسات کو ایک خط کی شکل میں اپنے انتہائی محترم استاذ اور مربی ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری رحمہ اللہ کی خدمت میں پیش کیا۔ ڈاکٹر ازہری کو اپنے اس ہونہار اور بالغ نظر شاگرد کی صلاحیتوں پر اعتماد تھا، انھوں نے اس طویل خط کو ماہنامہ محدث، بنارس کے دسمبر ۱۹۹۲ء کے شمارے میں ’’ہندوستان کے عربی مکاتب ومدارس اور ان کا نصاب ونظام تعلیم وتربیت‘‘ کے عنوان سے شائع کرادیا تاکہ دوسرے ارباب مدارس بھی اس سے استفادہ کرکے اپنے نصاب اور نظام تعلیم میں بہتری لائیں۔ مولانا عبدالواحد مدنی کو انھوں نے مشورہ یہ دیا کہ آپ جس طرح کے خیالات رکھتے ہیں، بہتر ہوگا کہ خود ایسا تعلیمی ادارہ قائم کریں جو آپ کے ان حسین خوابوں کی تعبیر بن سکے۔
اپنے اساتذہ، ملک کے دانشوروں اور ماہرین تعلیم سے مشورہ کرنے کے بعد پورے عزم وحوصلہ سے وہ ۱۹۹۲ء میں میدان عمل میں اترے اور دیکھتے دیکھتے علم کا ایک شہر آباد کردیا۔ یقین نہیں آتا کہ فرد واحد تن تنہا اتنے بڑے بڑے کام کیسے کرسکتا ہے لیکن اللہ اپنے کچھ بندوں کو اس کی توفیق دیتا ہے اور وہ اپنی ذات میں ایک انجمن بن کر کئی ایک ٹیموں کا کام اکیلے ہی انجام دے جاتے ہیں۔
اپنی مثبت اور تعمیری سوچ کی وجہ سے انھوں نے کئی ایک تعلیمی اداروں کے قیام کے بعد دینی مدارس میں زندگی پیدا کرنے کی طرف قدم بڑھایا۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم امت نے اپنی فقہی ترجیحات کو اپنے مدارس کا بھی مابہ الامتیاز بنا رکھا ہے اور فقہ وحدیث پر جو توجہ دی جاتی ہے، وہ قرآن کریم پر نہیں دی جاتی۔ عام طور پر دینی مدارس میں دو ایک ابتدائی جماعتوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کرانے کے بعد تفسیر جلالین، تفسیر بیضاوی، مدارک التنزیل اور کہیں کہیں تفسیر ابن کثیر اور تفسیر فتح القدیر کے منتخبات کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے لیکن فارغین مدارس کی ذہنی اور فکری تربیت ان تعلیمات سے ہم آہنگ نہیں ہے جو قرآن کی ترجیحات ہیں۔ قرآن کریم میں جو موضوعات زیر بحث آئے ہیں، فارغین مدارس کی ان پر گرفت بھی مضبوط نہیں ہوپاتی بلکہ غیر حافظ فارغین مدارس میں کم ہی طلبہ ایسے ملیں گے جو متن قرآن ہاتھ میں لے کر عقائد، عبادات، معاملات، اخلاقیات اور دیگر اہم موضوعات سے متعلق آیات تک رسائی حاصل کرسکیں۔ جس کتاب الٰہی کی تفہیم کے لیے دینی مدارس کا قیام عمل میں آیا ہے اور شرعی علوم کی کہکشاں سجائی گئی ہے، اس کتاب الٰہی کے سلسلے میں فارغین مدارس کی یہ معلومات سخت اضطراب میں مبتلا کرنے والی ہیں۔ کافی غور وفکر کے بعد مولانا عبدالواحد مدنی اس نتیجے پر پہنچے کہ مدارس میں قرآن مجید کا نصاب نظر ثانی کا محتاج ہے اور اس کے طریقۂ تدریس میں بھی خاصی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
اس کے لیے انھوں نے قومی سطح پر ایک بڑے سیمینار کے انعقاد کا فیصلہ کیا اور’’ مدارس کے نصاب تعلیم میں قرآن کریم کا مقام اور اس کا منہج تدریس‘‘ کے مرکزی عنوان کے تحت ۲۰۰۵ء میں یکم اور دو مارچ کو یہ سیمینار منعقد ہوا جس میں ملک کے کئی ایک بڑے علماء اور مدارس اور جامعات کے اسکالرس نے شرکت کی۔ ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری اور پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی وغیرہ نے اپنے تجربات، افکار وخیالات سے شرکائے سیمینار کو مستفید کیا۔ اس سیمینار کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ملت کے تمام مکاتب فکر کی نمائندگی تھی اور تمام مکاتب فکر سے وابستہ مدارس میں قرآن کا جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، وہ مقالات کی شکل میں پیش کیا گیا۔ جولائی ۲۰۰۷ء میں سیمینار کے مقالات کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے جو ۴۰۰؍صفحات پر مشتمل ہے۔ مولانا عبدالواحد مدنی نے راقم سطور پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے اس سیمینار کا کنوینر منتخب کیا اور پھر مقالات مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی تفویض کی۔ اس طرح کے علمی کاموں میں اپنی ذاتی دل چسپی سے میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور کتاب الٰہی سے متعلق ایک دستاویزی کتاب منصۂ شہور پر آگئی۔ اللہ اسے شرف قبول بخشے اور کتاب وسنت کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ اہل علم کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اس کتاب کی پی ڈی ایف کاپی کتاب وسنت ڈاٹ کام پر موجود ہے، اس سائٹ پر اسے پڑھا بھی جاسکتا ہے اور ضرورت کے مطابق اس کو پرنٹ بھی کیا جاسکتا ہے۔
مجموعۂ مقالات میں ناظرہ قرآن کی تعلیم، حفظ قرآن کا نصاب اور طریقۂ کار، ترجمۂ قرآن مجید: مشکلات ومسائل کے علاوہ ہندوستان کے سلفی مدارس، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، جامعہ دارالسلام عمرآباد، مدرسۃ الاصلاح سرائے میر، جامعہ اشرفیہ مبارک پور، ہندوستان کے شیعی مدارس میں تدریس قرآن کے نصاب اور طریقۂ تعلیم پر مقالات شامل ہیں۔ اسی طرح اس میں تفسیر ابن جریر طبری، تفسیر فتح القدیر، تفسیر بیضاوی، الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، الاتقان فی علوم القرآن اور مقدمہ فی اصول التفسیر لابن تیمیہ کے طریقۂ تدریس واستفادہ پر بھی علمی مضامین شامل ہیں۔ نظریاتی مباحث میں تفسیر ماثور، تفسیر بالرائے اور اسرائیلی روایات، سائنسی تحقیقات سے استفادہ وغیرہ پر مقالات موجود ہیں۔ اپنی نوعیت کا یہ ایک منفرد سیمینار تھا جس میں ملک کے مختلف مدارس کے فضلاء نے شرکت کی تھی۔ سیمینار کی تجاویز اور سفارشات میں چند ایک یہ بھی تھیں:
(۱)بڑے مدارس کے اساتذہ اور ذمہ داران کا ایک اجتماع طلب کیا جائے جس میں قرآن کے متعلق نصاب اور اس کے طریقۂ تدریس پر تفصیل سے غور کیا جائے۔
(۲)اس سیمینار کا ایمان ہے کہ قرآن کریم امن عالم کی ضامن کتاب ہے۔ دنیا میں اس وقت جو فتنہ وفساد اور قتل وخوں ریزی کا بازار گرم ہے، وہ قرآن کے پیغام کو ترک کردینے کا نتیجہ ہے، لہذا ضروری ہے کہ اس کی تعلیم سے دنیا کو روشناس کرایا جائے۔
(۳)اسلام دشمن عناصر اپنی تحریروں اور تقریروں میں قرآن اور اس کی تعلیمات پر جو جارحانہ تنقیدیں کرتے ہیں اور اس کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پھیلاتے ہیں، ان کا سنجیدگی سے علمی جواب دیا جائے اور ہر طرح کی جذباتیت سے دور رہنے کی پوری کوشش کی جائے۔
قرآن کی تعلیمات کو عام کرنے اور اس کے احکام ومسائل پر غور وفکر کرنے کے لیے صفا شریعت کالج نے ۲۰۰۶ء میں ’’معاشی بحران کا قرآنی حل‘‘ کے مرکزی عنوان سے ایک دوسرا سیمینار منعقد کیا جس میں ملک کے کئی ایک ماہرین معاشیات اور دینی مدارس کے علماء نے شرکت کی اور قرآن مجید کی معاشی تعلیمات کے کئی ایک پہلو مقالات میں زیر بحث آئے۔ بعض مقالہ نگاروں نے موجودہ دنیا کے معاشی بحران کی تصویر پیش کی اور اس کے اسباب بیان کیے۔ شرکائے سیمینار کا احساس تھا کہ موجودہ دنیا جو معاشی عدم توازن کا شکار ہے، اہل اسلام قرآن کے معاشی افکار ونظریات کو ایک متبادل کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بعض مسلم ممالک اور مسلم ماہرین معاشیات کی خدمات اور ان کے اقدام کا تذکرہ بھی ہوا۔ دو ایک مقالات میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ اسلام کے معاشی نظریات کی عملی تطبیق میں دشواریاں اور مشکلات کیا ہیں اور ان کو دور کرنے کی کیا تدابیر زیر عمل لائی جاسکتی ہیں۔ صفا شریعت کالج کا یہ ایک انتہائی اہم سیمینار تھا، افسوس کسی وجہ سے سیمینار میں پیش کردہ مقالات کا مجموعہ شائع نہیں کیا جاسکا۔ مولانا عبدالواحد مدنی سے درخواست ہے کہ جلد سے جلد مجموعۂ مقالات شائع کرنے کا انتظام کریں۔ صفا شریعت کالج کی یہ بھی ایک غیر مسبوق قرآنی خدمت ہے۔ مجموعہ شائع ہوجاتا تو اہل علم اس سے استفادہ کرتے۔ صفا کالج کے اساتذہ اگر مصروف ہیں اور ان کو وقت نہیں مل پاتا تو راقم اس خدمت کو انجام دے سکتا ہے بلکہ اسے اپنے لیے باعث سعادت سمجھے گا۔
صفا شریعت کالج نے دینی مدارس وجامعات کے طلبہ میں قرآنی علوم سے دل چسپی پیدا کرنے اور ان کے ذہن کو قرآن کی طرف مائل کرنے کے لیے ملکی سطح کا ایک تحریری انعامی مقابلہ کرایا۔ میرے چھوٹے بھائی مولانا اشتیاق احمد رئیس مدنی، جو اس وقت اسی صفا شریعت کالج میں استاذ تھے، کی قیادت میں کئی ایک اساتذہ نے تقریبا پانچ سو سوالات ترتیب دیے، جن کا تعلق قرآن کی ترتیب وتدوین، قرآن کے نزول کی کیفیات، مختلف کتب تفاسیر، اصول تفسیر، قرآن کے احکام وقوانین، شان نزول، تفسیر میں اسرائیلی روایات، مشہور مفسرین، تفسیر بالماثور اور تفسیر بالرائے سے تھا۔ کئی جامعات ومدارس کے طلبہ نے اس میں شرکت کی اور زیادہ نمبرات حاصل کرنے والے طلبہ کو گراں قدر انعامات سے نوازا گیا۔ اساتذہ نے جو سوالات ترتیب دیے تھے، اس کے صحیح جوابات بھی تحریر کردیے تھے، کاش سوال وجواب کے اس سلسلے کو کتابی شکل میں مرتب کرکے شائع کردیا جاتا تو طلبہ واساتذہ کے لیے ایک اعلی درجے کی علمی چیز سامنے آجاتی اور اردو زبان میں علوم قرآن سے متعلق ایک اہم کتاب تیار ہوجاتی۔ مجھے امید ہے کہ مولانا عبدالواحد مدنی صاحب اس کی طرف بھی توجہ فرمائیں گے۔
ایک دینی مدرسہ ہونے کی حیثیت سے صفا شریعت کالج میں شعبۂ حفظ وتجوید کے علاوہ اس کی مختلف جماعتوں میں لازمی نصاب کے مطابق قرآن کی تدریس بھی ہوتی ہے لیکن اس کا امتیاز یہ ہے کہ عربی کی تمام جماعتوں میں قرآن کریم اور تفسیر کے دو پیریڈ رکھے گئے ہیں۔ تدریس قرآن کے باب میں ادارے کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ معروف کتب تفاسیر کے علاوہ یہاں قرآن کریم کی تحلیلی اور موضوعی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ تحلیلی میں استاذ زیر درس سورہ کی بنیادی باتیں طلبہ کو املا کراتا ہے اور پھر سورہ کا درس اس طرح دیتا ہے کہ ایک ایک لفظ کی تشریح کرتا ہوا آیت کا مفہوم اور مطلب واضح کرتا ہے۔ اس طرح پوری سورہ طلبہ کی گرفت میں آجاتی ہے۔ موضوعی کا طریقہ یہ ہے کہ عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاقیات کے ذیلی عناوین قائم کرکے بہ تدریج کئی ایک جماعتوں میں ان مضامین سے متعلق قرآنی آیات کا مطالعہ کرایا جاتا ہے۔ استاذ کی رہنمائی میں طلبہ آیات کا انتخاب کرتے ہیں اور پھر کئی ایک تفاسیر کی روشنی میں آیت زیر درس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اس کا سب سے زیادہ مفید پہلو یہ ہے کہ اسلامی تراث کے تفسیری ادب سے طلبہ کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے اور امت کے مفسرین کرام کے تفسیری رجحانات کی تفہیم بھی ہوتی ہے اور عمر کے اس مرحلے میں صرف متن قرآن سے قرآن کی تفسیر کرنے کا جو رجحان عام کیا جارہا ہے اور جس کے نتیجے میں اسلاف سے رشتہ کمزور ہورہا ہے، اس طریقہ تدریس سے کوئی خاص فائدہ سامنے نہیں آرہا ہے بلکہ عمر کے اس مرحلے میں طلبہ انتشار ذہنی کے شکار ہوجاتے ہیں اور ایک ہی استاذ کے افکار وخیالات میں ان کے فہم وفکر کی دنیا سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ اساتذہ کئی ایک تفاسیر کا مطالعہ کرکے آتے ہیں اور طلبہ کو بھی مکلف کیا جاتا ہے کہ وہ متداول کتب تفاسیر دیکھ کر آئیں لیکن دو چار حساس طلبہ کے علاوہ کوئی اس کی طرف توجہ نہیں دے پاتا اور استاذ کے لیے جس کے ذمہ کئی ایک پیریڈ ہوتے ہیں، کیسے ممکن ہے کہ وہ روزانہ پابندی کے ساتھ کئی ایک تفاسیر کا مطالعہ کرسکے گا۔ مناسب یہ ہے کہ پہلے معتبر نمایندہ تفاسیر سے طلبہ کو روشناس کرادیا جائے اور مفسر نے جس آیت سے جو بات سمجھی ہے، اس کے طریقۂ استدلال اور طریقۂ تفہیم کی نشان دہی کردی جائے، اس کے بعد تخصص کی جماعتوں میں طلبہ کو مکلف کیا جائے کہ متن قرآن پر غور کریں اور قرآن کی حکمتوں کو سامنے لائیں۔ ندوہ، اصلاح اور فلاح میں متن قرآن سے تدریس کا سلسلہ جاری ہے لیکن اب تک ہمارے سامنے اس کا کوئی مثبت پہلو سامنے نہیں آیا ہے۔ اس کے برعکس کئی ایک طلبہ غلام احمد پرویز، اسلم جیراجپوری اور جاوید احمد غامدی کی بے اعتدالیوں کی گرفت میں آچکے ہیں۔ ان کے پاس اگر اسلامی تراث کا تفسیری ادب ہوتا تو انتشار ذہنی کی یہ بیماری عام نہ ہوتی۔

موضوعی طریقۂ تدریس کا ایک دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے کہ قرآن کے مضامین پر طلبہ کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور وہ بوقت ضرورت ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور اپنے علمی اور دعوتی کاموں میں زیادہ سے زیادہ قرآنی آیات کا استعمال کرسکتے ہیں۔
صفا شریعت کالج میں قرآن اکیڈمی کا بھی قیام عمل میں آیا ہے جس میں آیندہ کے لیے پروگرام یہ ہے کہ قرآن مجید کے تعلق سے علمی اور تحقیقی کتابیں تیار کی جائیں گی اور ان اعتراضات کے جواب د،ے جائیں گے جو قرآن کریم پر مختلف حلقوں کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔اسی اکیڈمی سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں ڈپٹی نذیر احمد کا ترجمہ قرآن، مولانا ثناء اللہ امرتسری کا ترجمہ قرآن مع مختصر حواشی، تفسیر احسن البیان، مولانا عبدالکریم پاریکھ کا ہندی ترجمۂ قرآن شائع کرکے تقسیم کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی کی ہندی کتاب ’’قرآن کی شیتل چھایا‘‘ بھی شائع کی گئی ہے اور اسے مفت تقسیم کیا گیا ہے۔
مدارس میں قرآن مجید کے نصاب اور اس کے طریقۂ تدریس کے سلسلے میں مولانا عبدالواحد مدنی کی فکر مندی نے انھیں ایک انقلابی قدم اٹھانے کے لیے مہمیز کیا ہے۔ وہ جلد ہی صفا شریعت کالج میں کلیۃ القرآن قائم کرنے جارہے ہیں، جس کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے اور نصاب وغیرہ مرتب ہوچکا ہے۔ کلیۃ القرآن چار سالوں پر مشتمل ہوگا، ان چار سالوں میں کل آٹھ سمسٹرس ہوں گے، ہر سال میں کل دو سمسٹرس ہوں گے۔
کلیہ میں درس وتدریس قرآن کا جو مقصد اور طریقہ کار طے کیا گیا ہے، اس کے مطابق یہ جدید وقدیم یا روایتی اور ابداعی کا حسین امتزاج ہوگا، سلف صالحین نے فہم قرآن کے جو اصول وضوابط طے کیے ہیں، ان کا التزام کیا جائے گا۔ ہر مفید اور اچھی چیز کو قبول کیا جائے گا خواہ وہ قدیم ہو یا جدید، اسی طرح ہر نقصان دہ اور خراب چیز سے دور رہا جائے گا خواہ وہ قدیم ہو یا جدید۔
پہلے سمسٹر میں گیارہ مضامین شامل کیے گئے ہیں: تفسیر موضوعی(ارکان ایمان)، تفسیر تحلیلی( پارۂ اول ودوم)، علوم قرآن(اس میں مقدمات علوم قرآن کی تدریس ہوگی )، تدوین قرآن کریم اور مستشرقین، قدیم وجدید تفسیری انحرافات، اصول تفسیر، حفظ وتجوید (سورہ بقرہ)، سیرت نبوی کے قرآنی نقوش، صحیحین میں کتاب التفسیر، عربی سے انگلش ترجمے کی مشق اور تاریخ ہند۔
دوسرے سمسٹر میں کل دس مضامین ہیں: تفسیر موضوعی(ارکان اسلام اور عبادات)، تفسیر تحلیلی(پارۂ سوم وچہارم)، علوم قرآن(اسباب نزول)، قرآن کریم پر جدید وقدیم الزامات اور شبہات، تفسیر ومفسرین(تفسیری مراجع ومصادرکا مطالعہ)، حفظ وتجوید( سورہ بقرہ)، انسان اور اخلاقی تعلقات، سنن اربعہ میں کتاب التفسیر، عربی سے انگلش ترجمے کی مشق اور تاریخ ہند۔
تیسرے سمسٹر میں دس مضامین پڑھائے جائیں گے: تفسیر موضوعی(معاشی اور پیشہ ورانہ تعلقات کی تنظیم)، تفسیر تحلیلی(پارۂ پنجمو ششم )، فقہی احکام سے متعلق آیات، حفظ وتجوید( سورۂ آل عمران)، قرآنی امثال واقسام، اعجاز قرآن، کبار صحابہ کے تفسیری آثار کا مطالعہ، کمپوٹر اور انٹرنیٹ پر موجود مکتبات سے استفادہ، عربی سے انگلش ترجمے کی مشق اور پارۂ ۲۱ اور ۲۲میں قرآنی بلاغت۔
چوتھے سمسٹر میں کل نو مضامین رکھے گئے ہیں: تفسیرموضوعی(سماجی تعلقات کی تنظیم)، تفسیر تحلیلی(پارۂ ہفتم وہشتم)، فقہی احکام سے متعلق آیات، حفظ وتجوید( سورۂ آل عمران)، تدبر قرآن(اصول وآداب)، اعجاز قرآن، کمپوٹر اور انٹرنیٹ پر موجود مکتبات سے استفادہ، عربی سے انگلش ترجمے کی مشق اور پارۂ ۲۳ اور ۲۴میں قرآنی بلاغت۔
پانچویں سمسٹر میںکل سات مضامین ہوں گے: تفسیر موضوعی(عدالتی اور سیاسی تعلقا ت کی تنظیم) تفسیر تحلیلی(پارۂ نہم،د ہم،ویازدہم )، علم القراءات، حفظ وتجوید (سورہ نساء ومائدہ)، تفسیر القرآن بالقرآن، نظم قرآنی اور پارۂ ۲۵ اور۲۶میں قرآنی بلاغت۔
چھٹے سمسٹر میں بھی کل سات مضامین ہوں گے: تفسیر موضوعی(مشاہداتی علمی انکشافات اور حقائق)، تفسیر تحلیلی(پارۂ دوازدہم، سیزدہم و چہاردہم)، حفظ وتجوید(سورہ نساء ومائدہ)، قرآن کریم میں آیات کونیہ کا مطالعہ، جہاد کی آیات اور مغازی کے مباحث، تفسیر القرآن بالقرآن اور پارۂ ۲۷ اور۲۸میں قرآنی بلاغت۔
ساتواں سمسٹر آٹھ مضامین پر مشتمل ہے: تفسیر موضوعی(قرآن کریم میں بنواسرائیل کی تاریخ)، تفسیر تحلیلی(پارۂ ۱۵،۱۶،۱۷)، علم القراء ات(امام جزری کی شاطبیہ کا حفظ ومطالعہ)، تربیت برائے تحقیق وریسرچ، قرآن کریم اور دیگر آسمانی کتابوں کا تقابلی مطالعہ، حفظ وتجوید(سورۂ الانعام)، قرآن اور سائنس، پارۂ ۲۹ اور ۳۰ میں قرآنی بلاغت۔
آٹھویں سمسٹر میں مضامین کی تعداد سات ہے: تفسیر موضوعی(قرآن کریم میں دعوت اور داعیان کے اسالیب)، تفسیر تحلیلی(پارۂ ۱۸،۱۹،۲۰)، علم القراء ات( شاطبیہ کا حفظ ومطالعہ)، تربیت برائے تحقیق وریسرچ، حفظ وتجوید(سورۂ اعراف)، قرآنی واقعات اور قرآن میں تاریخی مباحث، قرآن اور سائنس۔
کلیۃ القرآن کا یہ نصاب دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ شاید ہمارے ملک میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد کالج ہوگا جو چار سالوں میں قرآن کریم میں طلبہ کو تخصص کرائے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ قرآن کے ان مضامین کی تدریس کے لیے قابل اور تجربہ کار اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں گی کیوں کہ نصاب خواہ کتنا ہی اچھا اور متوازن کیوں نہ ہو، اگر اس کو پڑھانے والے اساتذہ باذوق اور محنتی نہیں ہیں تو نتائج امید افزا نہیں ہوں گے۔ دینی مدارس میں فنون کے ماہرین تیار کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ باذوق اور محنتی اساتذہ کو ادارے سہولتیں فراہم کریں، ہر سال ان کے مضامین تبدیل نہ کیے جائیں، اگر ایسا کیا جائے تو بہت جلد علوم وفنون کے ماہرین کی کمی پر ہم قابو پالیں گے۔
صفا شریعت کالج کے کلیۃ القرآن میں صرف وہ طلبہ داخلہ پانے کے مجاز ہوں گے جنھوں نے کسی دینی ادارے سے سند عالمیت حاصل کی ہو۔ اس میں ترجیح ان طلبہ کو دی جائے گی جو قرآن مجید سے خصوصی دلچسپی رکھتے ہوں اور جو تخصص کرکے دینی مدارس میں شیخ التفسیر کی مسند کو زینت بخشنے کا جذبہ رکھتے ہوں یا تحریر وخطابت کے ذریعے قرآن کی تعلیمات کو عام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ ہماری سستی اور بے توجہی کی وجہ سے اعلی پیمانے کی قرآنی تحقیقات کا سلسلہ تھم سا گیا ہے، گزشہ پچاس سالوں میں فقہ وحدیث پر جو علمی وتحقیقی کام ہوئے ہیں، وہ قابل رشک بھی ہیں اور باعث اطمینان بھی لیکن اس کے بالمقابل قرآن مجید پر ہماری توجہ کم رہی ہے۔ امید ہے کہ ہمارے دوسرے ادارے بھی اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور اپنے وسائل وذرائع کے مطابق قرآن مجید کی خصوصی اور اضافی تعلیم کا انتظام کریں گے۔ صفا شریعت کالج کے کلیۃ القرآن میں داخلہ پانے والے طلبہ کے وظائف کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ وہ مکمل سکون کے ساتھ قرآن مجید میں تخصص کا یہ مرحلہ بحسن وخوبی طے کرسکیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ شعبہ بہت جلد حرکت میں آجائے گا اور اپنے بلند مقاصد کی تکمیل میں مصروف ہوجائے گا۔
قرآن کریم کے تعلق سے صفا شریعت کالج کی یہ خدمات ہیں، اس کے بانی اور موسس مولانا عبدالواحد مدنی کو موجودہ دور میں قرآن کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت کا احساس ہے، وہ جس طرح اپنے قائم کردہ اداروں میں قرآن کریم کے نصاب اور اس کے طریقۂ تعلیم وتدریس پر غور وفکر کرتے رہتے ہیں، اسی طرح عوام میں قرآن کے پیغام کو پہنچانے کی تدابیر بھی زیرعمل لایا کرتے ہیں۔ وہ دینی مدارس کی کمزوریوں سے بھی واقف ہیں اور ذمہ داران سے مسلسل رابطے میں رہ کر ان کو دور کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ اپنے وسائل وذرائع کے مطابق وہ آگے بھی قرآن کی ہمہ جہت خدمات کا یہ علمی اور بابرکت سلسلہ جاری رکھیں گے۔
ان کے ادارے کو بہت ہی تجربہ کار استاذ اور انتہائی علمی شخصیت مولانا ابوالعاص وحیدی حفظہ اللہ کی خدمات حاصل ہیں، عربی اور اردو کا خصوصی ادبی ذوق رکھنے کے علاوہ انھیں تمام علوم وفنون کی تدریس کا طویل تجربہ ہے۔ کاش درس میں ان کی تقریروں کے محفوظ رکھنے کا ہم کوئی انتظام کرپاتے۔ ان کی یہ تقریریں صرف طلبہ ہی کے لیے نہیں بلکہ اساتذہ کے لیے بھی مفید ہوں گی۔ مرحومین پر سیمینار کرکے آہ اور واہ کی صدا بلند کرنے والے حضرات کاش باحیات اور اپنی صفوں میں موجود مہ وانجم کی قدر کرپاتے اور ان کی صلاحیتوں کا فیض عام کرنے کی طرف اپنی توجہ مبذول کرپاتے۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ نئے اساتذہ کی تربیت کے لیے بھی ان کی خدمات حاصل کی جاتیں۔ اگر مولانا محترم کی صحت اجازت دے تو مدرسے کی تعطیلات کلاں میں دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کے لیے خصوصی پروگرام منعقد کیے جائیں۔ مولانا عبدالواحد مدنی اس طرح کے تربیتی پروگرام کرتے بھی رہے ہیں اور اس کی افادیت کا انھیں احساس بھی ہے۔
صفا شریعت کالج کے دوسرے جواں سال اور انتہائی ذہین اور ہونہار استاذ برادر عزیز مولانا محمد خالد صفاوی ہیں جنھوں نے جامعہ ام القری مکہ مکرمہ سے فقہ اسلامی میں ماجستر کیا ہے۔ وہ میرے ہم وطن بھی ہیں اور میرے خاندان کے لیے باعث فخر بھی۔ اللہ نے انھیں بڑی خوبیوں اورصلاحیتوں سے نوازا ہے، ذہانت اور حفظ واتقان کے خاص عطیۂ الٰہی سے وہ سرفراز ہیں۔ میں انھیں بار بار تاکید کرتا رہتا ہوں کہ مدرسے کے انتظامی امور کے علاوہ اپنے علمی وتحقیقی ذوق کی بھی آبیاری کرتے رہیں۔ وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے، اسی جوانی میں جو علمی پیش رفت ہوجائے گی، اسی کے مفید نتائج سامنے آئیں گے۔ اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ مولانا عبدالواحد مدنی کے دست وبازو بن کر اسی طرح ادارے کی خدمت کرتے رہیں اور مولانا مدنی نے ملت کے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے لیے جو حسین خواب دیکھے ہیں، ان کی صحیح اور سچی تعبیر بن کر ان کے خاکوں اور منصوبوں میں رنگ بھرتے رہیں۔ دینی مدارس کے منتظمین میں کم لوگ ایسے ہیں جن کو اخلاص اور صالحیت کے علاوہ انتاجی صلاحیت بھی خداداد ملی ہو، مولانا عبدالواحد مدنی کی یہی وہ خصوصیت ہے جس کی وجہ سے میں ہمیشہ ان کی قدر کرتا رہا ہوں اور میرے دل میں ان کے لیے بڑا احترام ہے۔
 
Top