ذیشان خان

Administrator
فتنہ شکیلیت: کیا اور کیوں؟

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

مختلف ذرائع سے پتا چلا ہے کہ کوئی شکیل بن حنیف نامی شخص ہے جو اصلاً دربھنگہ (بہار) کا رہنے والا ہے اور جس نے کئی سال دہلی میں گزارے ہیں، اس نے امام مہدی ہونے کا دعوی کردیا ہے اور خود کو مسیح موعود بھی کہتا ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ دس ہزار مسلمان اس کے ہاتھ پر بیعت کرکے اسے امام مہدی اور مسیح موعود تسلیم کرچکے ہیں۔اس کے متبعین میں اسی فیصد تعداد ان مسلمانوں کی ہے جو تبلیغی جماعت سے وابستہ رہے ہیں۔ اب مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں کسی نے ایک بڑا علاقہ خرید کر اس کے سپرد کردیا ہے جہاں اس کی تنظیم کے دفاتر وغیرہ زیر تعمیر ہیں۔ ملک بھر میں اس نے اپنے داعی پھیلادیے ہیں، ہر داعی تیس سے پینتیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پاتا ہے اور خفیہ طور پر دعوت کا کام کرتا ہے اور حالات کے مارے ہوئے بے دین اور کم علم مسلمانوں کو اس فتنے کا شکار بناتا ہے۔ اس فتنے کے داعیوں کا ظاہری حلیہ، شرعی وضع قطع، عمامہ پگڑی، تہجد گزاری اور اوراد و وظائف میں غیر معمولی انہماک دیکھ کر بہت سے لوگ ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔
ماہ اکتوبر ۲۰۱۹ء کے آخری ہفتے میں میرے انتہائی عزیز اور محترم دوست مولانا عبدالرحمن انصاری سینئر استاذ جامعہ عالیہ عربیہ مئو کی بیٹی کی شادی میں مئو جانا ہوا تو وہاں پتا چلا کہ مئو کے کئی ایک لوگ اس شکیل نامی شخص کے متبع اور مرید بن چکے ہیں۔ عام مسلمانوں میں کافی بے چینی پائی جارہی ہے اور علمائے اسلام اس نئے فتنے سے عوام کو جمعہ کے خطبات اور دیگر دینی مجالس میں باخبر کررہے ہیں۔ ضلعی جمعیۃ اہل حدیث مئو کے محترم ذمہ داروں نے اسی موقع سے مرزا ہادی پورہ کی وسیع مسجد اہل حدیث میں ایک پروگرام کے انعقاد کا اعلان کردیا اور راقم کو حکم ملا کہ مجھے اس فتنے کے تعلق سے عوام کو خطاب کرنا ہے۔ مولانا سہیل احمد مدنی، مولانا سرفراز احمد فیضی اور مولانا عبیدالرحمن فیضی صاحبان میرے لیے حددرجہ قابل احترام ہیں، ان کے حکم کو ٹالنا میرے لیے ممکن نہیں تھا اور ویسے بھی جب بھی مئو جانا ہوتا ہے تو جامعات میں اور دوسرے مقامات پر خطاب کرنے کا موقع ملتا ہے اور میں اس اعزاز کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھتا ہوں۔ اللہ تمام دوستوں اور بزرگوں کو خوش رکھے، وہ آنے والے مہمانوں کا جس خوشی سے استقبال کرتے ہیں، اس کی مثال دوسری جگہوں پر کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اسی سے پتا چلتا ہے کہ اہل مئو اپنی دین داری، شرافت اور وضع داری کے ساتھ ساتھ علم اور اہل علم سے محبت کرنے میں بھی ممتاز ہیں۔ مئو کی جماعت اہل حدیث کافی سرگرم ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی سمجھتی ہے، اللہ سے برابر یہی دعا کرتا رہتا ہوں کہ دوسرے مقامات کی بیماریوں سے یہ سرزمین محفوظ رہے، عہدے اور منصب کی رساکشی میں جو لوگ اس شہر کو بھی اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے اختلاف و انتشار سے دوچار کرنے میں مصروف ہیں، اللہ انھیں نیک سمجھ دے اور آخرت کا خوف ان کے دلوں میں پیدا کرے تاکہ وہ ملت کے جنازے پر اپنا سیاسی تاج محل تعمیر کرنے کا خیال دل سے نکال دیں۔
میں اس فتنے سے بہت زیادہ واقف نہیں تھا، بہ عجلت تمام ادھر ادھر سے معلومات جمع کیں تو اس طرح کے دوسرے تمام فتنوں کی طرح اس فتنے کی کہانی بھی سمجھ میں آگئی۔ امت کی تاریخ میں اس نوعیت کے اٹھنے والے فتنوں پر جن حضرات کی نظر ہے اور جو ان کے اسباب و عوامل سے واقفیت رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہے کہ اسلام دشمن عناصر اس طرح کی سازشوں میں ہمیشہ پیش پیش رہے ہیں۔ کوئی طالع آزما اور شہرت کا بھوکا شخص بڑی آسانی سے ان کے دام میں پھنس جاتا ہے اور اپنی تمام خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے ملت اسلامیہ میں ایک نئے فتنے کی طرح ڈال دیتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی تاریخ جن کو معلوم ہے وہ جانتے ہیں کہ انگریزوں نے ایک ایسے وقت میں قادیانیت کے فتنے کو کھڑا کیا جب مسلمانوں کو اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ۱۸۵۷ء میں ہندوستانیوں کے انقلابی قدم کو جس بے دردی سے انگریزوں نے کچلا تھا اور اس کے لیے جتنے انسانوں کا انھوں نے خون کیا تھا، اس سے خود ان کا ضمیر چیخ اٹھا تھا اور اس قدر خونریزی کی کوئی توجیہ وہ کرنہیں پارہے تھے۔ اسی وقت ان کے تھنک ٹینک نے یہ فیصلہ کیا کہ اب اس ملک پر غلبہ و تسلط قائم رکھنے کے لیے دوسرے حربے استعمال کیے جائیں۔ ان کا ایک کامیاب حربہ یہ تھا کہ یہاں مختلف مذاہب کے درمیان جنگ و جدال کی صورت پیدا کردی جائے اور وہ اپنے اپنے مذہب کی حفاظت کے لیے اس قدر سرگرم ہوجائیں کہ حکومت وقت کی طرف توجہ دینے کی انھیں فرصت ہی نہ ملے اور وہ یہاں بآسانی اپنا قبضہ و تسلط برقرار رکھیں۔ اسلام کے خلاف عیسائی مشنریز، آریوں اور سناتن دھرمیوں کی زہر افشانی انگریزوں کے ذریعے ترتیب دیے گئے اسی پروگرام کا حصہ تھا۔
انگریزی حکومت نے دوسرا حربہ یہ استعمال کیا کہ مسلمانوں کے درمیان سے ایسے افراد کھڑے کیے جنھوں نے خانوادۂ ولی اللہی کے متفقہ دینی مرکز کو متنازعہ بنادیا اور اسی خانوادہ کی عظیم دینی شخصیت شاہ اسماعیل شہید کے خلاف ایسا طوفان کھڑا کیا کہ ملت اسلامیہ ہند عقائد و افکار کے باب میں کئی ایک خانوں میں تقسیم ہوگئی۔ عقیدۂ توحید جو ملت کی اساس اور اس کی روح تھا، وہ مشتبہ ہوگیا اور ایک مسلمان جسے صرف خدائے واحد کا پرستار ہونا تھا، وہ احترام و عقیدت کے غیر شرعی تصور کے زیر اثر نامعلوم کتنے جھوٹے خداؤں کا پرستار بن گیا ہے۔ طرفہ تماشہ یہ کہ جو ان کے جھوٹے خداؤں کی خدائی پر سوال کھڑا کرے وہ بدعقیدہ، بد مذہب، گستاخ اولیاء اور گستاخ رسول ہے اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے بلکہ جو ایسے لوگوں کو مسلمان سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ بعض انقلابی فکر و نظر کے حامل افراد اس گروہ کے خلاف توحید عقائد و نظریات کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اظہار رائے کی آزادی کے مغربی تصور کا سہارا لے کر اسے ان کے پرسنل لا میں شمار کرنے لگتے ہیں جب کہ زمینی حقیقت اس کے خلاف ہے، وہ اپنے سے مختلف عقائد کے حامل مسلمانوں کو مسلمان تسلیم کرنے کے لیے آج بھی تیار نہیں ہیں۔ اس گروہ نے ظلمت و جہالت کی وہ تاریکی پھیلائی ہے کہ اسلام کا روشن چہرہ داغ دار ہوکر غیر مسلم دنیا کے لیے اپنی کشش کھوچکا ہے۔وتعویذ گنڈے، اوہام و خرافات، رسوم و روایات اور شگونی و بدشگونی کی ایک پوری دنیا آباد کرکے اسلام کی تصویر مسخ کردی ہے۔ اب تو اس گروہ نے تصوف اور صوفیاء کی محبت اور انسانیت بھری تعلیمات کا سہارا لے کر دہشت گردی کے عالمی مسئلے کو بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے مخالفین کے سر چسپاں کردیا ہے اور پوری دنیا میں اس کے بے لگام واعظین زرد رنگ والوں کی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ کہتے سنے جاسکتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سارے وہابی دہشت گرد ہیں لیکن دہشت گردی میں ملوث سارے افراد وہابی ہیں۔
انگریزوں نے ایک تیسرا حربہ یہ استعمال کیا کہ بعض مسلمانوں کو اپنی ضرورت کے لیے استعمال کیا اور دینی پلیٹ فارم سے ایسی باتیں کہلوائیں جو ان کے مفاد میں تھیں لیکن ظاہر ہے کہ اس کام کے لیے کوئی عام مسلمان مفید نہیں ہوسکتا تھا، اس کے لیے تو انھیں کوئی ایسا چمتکاری شخص چاہیے تھا جو ایمان و عمل سے محروم مسلمانوں کے درمیان امید کی کرن بن کر نمودار ہو۔ مرزا غلام احمد قادیانی اسی طرح کا ایک چمتکاری شخص تھا جس نے مہدی، مسیح موعود اور پھر نبی ہونے کا دعوی کیا اور مسلمانوں کا چمتکاری مسیحا بن کر ان کے سامنے آیا۔ حالات اس قدر نازک اور اہل اسلام کے لیے اس قدر پرخطر تھے کہ ہر کوئی جان و مال کے تحفظ کے لیے پریشان تھا، معمولی شبہ پر بھی مسلمانوں کو پابند طوق و سلاسل کردیا جاتا تھا یا پھر انھیں تختۂ دار پر کھینچ دیا جاتا تھا۔نئے جھوٹی نبی کے حلقے سے وابستہ ہوجانے والے ہر قسم کی آزمائشوں سے محفوظ ہوجاتے تھے۔ اس طرح بدعقیدگی، بے عملی، بے علمی، خوف اور لالچ نے خاصی بڑی تعداد کو مرزا غلام احمد قادیانی کا امتی بنادیا اور ایک ایسا گروہ وجود میں آگیا جس کا استعمال اسلام دشمن عناصر آج تک کررہے ہیں۔

ایسے فتنوں کی کامیابی کے اسباب
اس قسم کی سری اور خفیہ جماعتوں کے عزائم اور ان کے مقاصد کو سمجھنا آسان نہیں ہے، اگر ایک مسلمان کے اندر دینی بصیرت و بصارت موجود ہے تو وہ سمجھ سکتا ہے کہ ایک ایسے دور میں جب کہ انسان کی روزی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، بڑی مشکلوں سے ایک شخص اپنے بچوں کے لیے کھانا پانی فراہم کرپاتا ہے، وہ کون سا ’’دست غیب‘‘ ہے جو اس طرح کی جماعتوں اور گروہوں کے لیے دراز ہوتا ہے اور آن واحد میں زندگی کی ساری سہولتیں بغیر کسی خاص محنت و مشقت کے فراہم ہوجاتی ہیں۔ لاکھوں کے اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں اور کون ہے جو اس طرح کی جماعتوں اور گروہوں کو اپنی خصوصی عنایتوں سے شاد کام کرتا ہے۔ دست غیب کام کیسے کرتا ہے؟ اس کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ بسااوقات دست غیب علانیہ نمودار ہوتا ہے اور آمنے سامنے خرید وفروخت ہوتی ہے لیکن کبھی کبھی یہ دست غیب ذرا دور سے اپنا کام کرتا ہے اور متعلقین کو یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ اللہ کی تائید اور نصرت ہمارے ساتھ ہے اور اللہ ہماری مدد کررہا ہے۔
ایک معتبر شخصیت کا بیان کردہ ایک واقعہ یہاں ذکر کروں گا جس سے اس دست غیب کی کارفرمائی کو سمجھنا آسان ہوسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہم حضرت (نام لینا مناسب نہیں سمجھتا) کے پاس حدیث شریف کا درس لے رہے تھے کہ باورچی خانے کے ذمہ دار نے اطلاع دی کہ جس دکان سے مطبخ کے لیے راشن آتا ہے، اس کا بل پچہتر ہزار روپے ہوگیا ہے۔ دکان دار رقم کا تقاضا کررہا ہے۔ حضرت نے جواب دیا کہ کوئی بات نہیں، اللہ کا کام ہے، وہی مدد فرمائے گا۔ تھوڑی دیر بعد ایک اجنبی کلاس روم میں آیا اور اس نے حضرت کی خدمت میں ایک بند لفافہ پیش کیا۔ حضرت نے ایک طالب علم کو حکم دیا کہ لفافہ کھول کر دیکھو، اس میں کیا ہے۔ طالب علم نے کھولا تو پتا چلا کہ اس میں پچاس ہزار روپے ہیں۔ حضرت نے بڑی بے نیازی سے فرمایا کہ لفافہ اجنبی کو واپس کردو، یہ اس وقت کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی اس اجنبی کو گئے ہوئے چند منٹ ہی گزرے تھے کہ ایک دوسرا اجنبی کلاس روم میں آیا اور اس نے بھی ایک بند لفافہ حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت نے پہلے کی طرح اس لفافے کو بھی کھولنے کا حکم دیا۔ طالب علم نے لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں پورے پچہتر ہزار روپے تھے۔ حضرت نے اجنبی کے شکریے کے ساتھ اسے قبول فرمایا اور مطبخ کے انچارج کو بھجوادیا کہ دکان دار کو یہ رقم دے دی جائے۔ ایک ثقہ آدمی کے ذریعے بیان کردہ اس واقعے کی حقیقت پر میں سالوں غور کرتا رہا۔ دل میں یہ خیال بار بار آتا رہا کہ مستجاب الدعوات نبی محترم اپنے صحابہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی اسلامی ریاست کو محفوظ رکھنے کے لیے خندق کھود رہے ہیں، بھوک سے برا حال ہے، پیٹوں سے پتھر بندھے ہوئے ہیں لیکن جنت سے کوئی دستر خوان نہیں اترتا اور یہاں دور دراز کی ایک بند مسجد میں جھاڑو دے کر نماز کے قابل بنانے والے بھوکے پیاسے محو عبادت ہیں، بستی کے کسی انسان نے نہ نماز پڑھی اور نہ ان کی مہمان نوازی کی لیکن تھوڑی دیر بعد سفید لباس میں ملبوس خوبصورت اجنبی انسان ہاتھوں میں انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی ہوئی بڑی بڑی تھال لے کر آموجود ہوئے اور اللہ والوں نے اس لذیذ کھانے سے اپنی بھوک مٹاکر آسودگی حاصل کی اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ ان حکایتوں اور کہانیوں کو پڑھتے ہوئے ان وضاعین اور کذابین کی تصویر نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے جو لوگوں میں شوق اور رغبت پیدا کرنے کے لیے ہر طرح کی احادیث وضع کیا کرتے تھے۔
ہمارا دشمن بڑا شاطر ہے، اسے ہماری مشکلات اور ضرورتوں کا پورا پورا علم ہے، اس کے جاسوس ہماری صفوں میں موجود ہیں جو ہماری تمام سرگرمیوں کی اطلاعات انھیں فراہم کرتے ہیں، عہد نبوی اور عہد صحابہ پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ روح پرور اور کامیاب عہد ہے، اس میں آرام و آسائش کی وہ اشیاء موجود نہیں ہیں جو آج ان خفیہ گروہوں سے وابستہ افراد کو حاصل ہیں۔ کیا ان کا زہد و اخلاص اس عہد میمون کے زہد و اخلاص سے بڑھا ہوا ہے۔تفریق بین المسلمین کے لیے جب ہم کوئی قدم اٹھاتے ہیں تو اس کا دست غیب اسی طرح اپنا کام کرتا ہے۔ مجھے تو دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تعلم کے نام پر امت کی زکوۃ و عطیات کو ایر کنڈیشن آفسوں، چمچماتی گاڑیوں، برقی قمقموں سے آراستہ بڑی بڑی کانفرنسوں، سفر اور ٹیلی فون پر ہونے والے اخراجات پر آج تک شرح صدر نہیں ہوا۔بیماروں، غریبوں، معذوروں، یتیموں اور بیواؤں کے نام سے حاصل کردہ رقم کو کس بے دردی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اس پر بہت زیادہ لکھنے اور بولنے کی ضرورت نہیں، اگر آپ کا ضمیر زندہ ہے تو ملت کی اس بربادی کا تماشہ آپ خود بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہیں سے وہ چور دروازہ کھلتا ہے جہاں سے فتنہ پرور کامیابی کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور ہمارے پاس ان کے سوالوں کا جواب نہیں ہوتا۔

شکیل نامی شخص کے اس فتنے کے پیچھے اسی قسم کا دست غیب کارفرما ہے۔ جاہل اور بے علم مسلمان اس قسم کے چمکتار وں سے بہت جلدی متاثر ہوتے ہیں اور خواہشات کے غلام جہاں کہیں اپنی خواہشات کی تکمیل ہوتے دیکھتے ہیں، اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، انھیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے، ایمان اور عقیدہ کی اہمیت کیا ہے اور ہماری نجات کا دارومدار کس چیز پر ہے۔

پس چہ باید کرد
اس قسم کے فتنوں سے افراد ملت کو بچانے کے لیے کیا پیش بندی کی جائے، کون سی حکمت عملی اختیار کی جائے کہ فتنے کا دائرہ وسیع بھی نہ ہو اور اسلام دشمن عناصر اسلام اور اہل اسلام کے خلاف اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرسکیں۔ ہماری سب سے زیادہ توجہ اسی پہلو پر ہونی چاہیے۔ اہل علم اپنے اپنے علم اور تجربات کی روشنی میں ملت کی رہنمائی فرمائیں۔ ایک اندیشہ یہ بھی ہے کہ اگر اس فتنے کا پرچار ہم نے اپنے اسٹیج سے بڑے پیمانے پر کیا تو فتنہ مزید وسعت اختیار کرے گا اور ہم غیرشعوری طور پر اپنے وسائل سے اسی کے مددگار ثابت ہوں گے۔ جوش و جذبات سے مغلوب ہوکر اگر تشدد پر مبنی کوئی قدم اٹھایا گیا تو حکومت وقت اسے تحفظ فراہم کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائے گی اور وہ میڈیا میں موضوع بحث بن کر اسلام کی ایک سیکولر تعبیر کی شکل میں سامنے آجائے گا اور اس کے افکار و خیالات اظہار رائے کی آزادی کے نام پر قبول عام کا درجہ حاصل کرلیں گے اور خود نام نہاد مسلمان اس کی مدافعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ قادیانیت کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو یہی کچھ دیکھنے اور سمجھنے کو ملے گا۔
ابھی فتنے کی ابتدا ہے، بظاہر اہل سنت والجماعت کے دین سے ہٹ کر کوئی بات سربازار نہیں کہی جائے گی لیکن جوں جوں فتنہ بڑھے گا، اس میں وسعت اور استحکام پیدا ہوگا، نئی اور خود ساختہ شریعت اپنی تمام دفعات کے ساتھ سامنے آجائے گی۔ شیعوں کی تاریخ میں جو کچھ ہوا ہے، اسے ہم اچھی طرح جانتے ہیں، اہل بیت کی محبت کے معصومانہ جذبے سے جس جتھے کی داغ بیل ڈالی گئی تھی، اس نے آگے چل کر ملت کو کتنی آزمائشوں سے دوچار کیا اور وہ آج شریعت اسلامی کی ایک نئی اور خود ساختہ تعبیر کے ساتھ میدان میں ہے اور ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر امت کی مقدس ترین جماعت کی عدالت و ثقاہت کو مجروح کرکے اپنی نوایجاد شریعت کو صحیح دین اسلام باور کرانے میں مصروف ہے۔ امت کی بدقسمتی دیکھیے کہ کتنے انقلابی مفکرین اُس شیعیت کے دام میں پھنس چکے ہیں جس کے وجود کا بنیادی پتھر ہی اہل سنت والجماعت کی مخالفت میں رکھا گیا تھا اور جس کی شریعت کی ایک بنیادی دفعہ یہ ہے کہ اہل سنت کو اذیت دینا کار ثواب ہے اور دوسری دفعہ میں یہ کہا گیا ہے کہ جس بستی میں اپنا مجتہد موجود نہ ہو، سنی عالم سے فتوی لے کر اس کے خلاف عمل کیا جائے تو عمل سو فیصد درست ہوگا۔
مختصر یہ کہ اس فتنے سے نمٹنے کے لیے مضبوط حکمت عملی اختیار کی جائے اور چھوٹی چھوٹی مجلسیں منعقد کرکے افراد ملت کو اس کی قباحتوں سے باخبر کیا جائے۔ میڈیا میں بہت زیادہ پروپیگنڈہ ہمارے لیے حددرجہ نقصان دہ ہے، سوشل میڈیا پر بھی عام سرگرمی دکھانے کی ضرورت نہیں، مخصوص گروپس تک اپنی باتیں پہنچائی جائیں اور امت میں بیداری پیدا کی جائے۔
اس کے علاوہ کچھ علمی کام کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ امام مہدی اور مسیح موعود کے مسئلے میں کئی طرح کے شبہات لاحق ہیں اور ہماری تاریخ میں اس منصب اور ٹائٹل کے کتنے ہی دعوے دار سامنے آچکے ہیں۔ جبریل امین کی آمد بند ہوچکی ہے، پھر ان بہروپیوں کو کون خبر دیتا ہے کہ تم امام مہدی اور مسیح موعود ہو۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلسل کسی چیز کا دل میں وہم لانے کی وجہ سے ایک شخص خود فریبی کا شکار ہوجاتا ہے اور اپنے بارے میں جو تصورات قائم کرلیتا ہے، اسی کی تصویر اس کی نگاہوں میں پھرنے لگتی ہے اور ایک خاص قسم کی بیماری میں وہ مبتلا ہوجاتا ہے۔ میڈیکل سائنس سے میرا کوئی واسطہ نہیں، سائیکلوجی کے متخصص شاید اس بیماری کو کوئی نام دیتے ہوں۔
وقت کا ایک دوسرا علمی تقاضا یہ ہے کہ جن احادیث صحیحہ میں امام مہدی اور مسیح موعود کا تذکرہ آیا ہے، ان کے صحیح مفہوم و مصداق کی تعیین کی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ امام مہدی کی آمد اور مسیح موعود کے ظہور سے کیا ابتلا و امتحان کی وہ حالت و کیفیت بدل جائے گی جس میں حضرت انسان کو ڈالا گیا ہے۔ قیامت کی علامات کبری کے ظہور کے بعد کسی انسان کے لیے ممکن رہے گا کہ وہ حق کا انکار کرسکے۔ اگر علامات کبری اس قدر واضح اور دو ٹوک ہوں گی تو قبول حق کے لیے انسان خود کو مجبور پائے گا، اس کے سامنے دوسرا کوئی متبادل نہیں رہے گا اور یہ دارالامتحان کے اپنے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اس پہلو سے کوئی صاحب علم روشنی ڈالے تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا اور شاید ہم جھوٹے مدعیان مہدی و مسیح کے باطل دعووں کی قلعی کھول سکیں۔
اس موضوع پر عصر حاضر کی سب سے اہم علمی و تحقیقی کتاب ڈاکٹر عبدالعلیم عبدالعظیم بستوی رحمہ اللہ (۱۹۴۹-۲۰۱۶ء) نے ’’الأحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل‘‘ کے نام سے لکھی ہے جو ان کے ماجستر کا مقالہ تھا۔ بعد میں انھوں نے کتاب کو دوحصوں میں تقسیم کرکے شائع کیا۔ پہلے حصے کا عنوان ہے:

’’المہدی المنتظر فی ضوء الأحادیث والآثار الصحیحۃ وأقوال أہل العلم وآراء الفرق المختلفۃ‘‘،

جب کہ دوسراحصہ:

’’الموسوعۃ فی أحادیث المہدی الضعیفۃ والموضوعۃ‘‘ کے عنوان سے ہے۔
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے سابق صدر شیخ عبدالمحسن بن حمد العباد رحمہ اللہ کے اس تبصرے سے کیا جاسکتا ہے جو انھوں نے اپنی کتاب’’الرد علی من کذب الأحادیث الصحیحۃ الواردۃ فی المھدی‘‘،(ص۷۴)میں کیا ہے۔ شیخ کے تبصرے کا ترجمہ یہ ہے:
’’مہدی منتظر کے سلسلے میں معتبر تحقیق کے خواہش مند حضرات کو اس علمی رسالے کی طرف رجوع کرنا چاہیے جسے شیخ عبدالعلیم عبدالعظیم ہندی نے تیار کیا ہے اور جس پر انھیں قسم الدرسات العلیا، جامعۃ الملک عبدالعزیز مکہ المکرمہ (موجودہ جامعہ ام القری) نے ایم۔ اے کی سند عطا کی ہے۔ رسالہ چھ سو سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کا عنوان ہے: ’’الأحادیث الواردۃ فی المھدی فی میزان الجرح والتعدیل‘‘۔ اس رسالہ کی تیاری میں انھوں نے کئی سال لگائے ہیں، اس میں انھوں نے موضوع سے متعلق تمام احادیث و آثار جمع کرکے ان کی سندوں کی تحقیق کی ہے، ان کے راویوں کے بارے میں محدثین نے جو کچھ کہا ہے، اسے بیان کرتے ہوئے ان احادیث و آثار کی صحت و ضعف کے سلسلے میں اہل علم کے اقوال ذکر کیے ہیں، اسی طرح انھوں نے ان احادیث و آثار کے متواتر ہونے، ان کے پائے ثبوت کو پہنچنے اور ان کے قابل حجت ہونے کے سلسلے میں علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے امام مہدی کے موضوع پر کئی پہلووں سے روشنی ڈالی ہے جس کی وجہ سے میرے علم کے مطابق حقیقت میں یہ رسالہ اس مسئلے پرسب سے افضل اور وسیع ترین مرجع بن گیا ہے‘‘۔
ڈاکٹر عبدالعلیم رحمہ اللہ کا یہ تحقیقی رسالہ ایک مقدمہ، چار ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔ مقدمے میں انھوں نے مہدی کے لغوی اور اصطلاحی معنی کی وضاحت کی ہے، مہدویت کے نظریہ کے قدیم و جدید منکرین کا تذکرہ کیا ہے، اسی طرح متقدمین اور متاخرین میں جو حضرات نظریہ مہدویت کے قائل رہے ہیں، ان کا ذکر کیا ہے، مہدی کے تصور اور ان کی تعیین کے سلسلے میں مختلف فرقوں میں جو اختلافات پائے جاتے ہیں، ان کی تفصیل پیش کی ہے، مختلف مدعیان مہدویت کا تذکرہ کیا ہے، مہدی کے موضوع پر لکھی گئی کتابوں کا تجزیہ کیا ہے اور اس موضوع پر علمی تحقیق کی حاجت و ضرورت بیان کی ہے۔
کتاب کا باب اول ان صحیح احادیث و آثار پر مشتمل ہے جن میں صراحت کے ساتھ امام مہدی کا ذکر آیا ہے۔
دوسرے باب میں ان احادیث و آثار کا تذکرہ کیا گیا ہے جو ثابت تو ہیں لیکن ان میں صراحت کے ساتھ امام مہدی کا ذکر نہیں ہے۔
کتاب کا تیسرا باب ان ضعیف و موضوع احادیث و آثار پر مشتمل ہے جن میں امام مہدی کا تذکرہ صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
چوتھے باب میں ان ضعیف و موضوع احادیث و آثار کا ذکر کیا گیا ہے جن میں امام مہدی کی صراحت نہیں ہے۔
فاضل محقق نے رسالے کے خاتمے میں ان نتائج پر گفتگو کی ہے، جن تک وہ اس بحث و تحقیق کے بعد پہنچے ہیں، امام مہدی کی آمد کے عقیدے سے انکار کے عوامل و محرکات کیا ہیں، منکرین کے شبہات کیا کیا ہیں، اس عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر بار بار امت کو یرغمال بنانے اور اس کا استحصال کرنے کی جو کوشش کی جاتی ہے، اس کا مقابلہ کیوں کر کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالعلیم رحمہ اللہ کی یہ علمی کتاب معروف و مشہور ہے، انٹرنیٹ پر بھی موجود ہے، میں نے یہاں اس کا مختصر تعارف اس لیے کرادیا ہے کہ شاید ہمارے کسی نوجوان سلفی صاحب قلم کو اس کا رواں اردو ترجمہ کرنے کی توفیق مل جائے اور دوسرا مقصد اس خلاصے کا یہ ہے کہ اس سے ہمارے قارئین کو اندازہ ہوجائے گا کہ شکیلیت کا موجودہ فتنہ کوئی نیا فتنہ نہیں ہے بلکہ اسلام سے منحرف افراد اور فرقوں کا یہ بڑا محبوب مشغلہ رہا ہے اور وہ تاریخ کے مختلف ادوار میں اہل ایمان کو اس طرح کی آزمائشوں سے دوچار کرتے رہے ہیں، ہمارے ایمان و عقیدہ کے امتحان کا ایک مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے، اس قسم کے امتحانات میں اللہ سے یہی دعا کرنی چاہیے کہ وہ ہمیں ثابت قدم رکھے۔
سب سے زیادہ اہم کام یہ کرنا ہے کہ دعوت و تربیت کے لیے فطری طریقۂ کار اپنایا جائے۔ مسلم نوجوانوں کو ایجوکیٹ کیا جائے، مبادیات اسلام سے انھیں واقف کرایا جائے اور کتاب و سنت پر مبنی کتابوں کے دروس کا اہتمام کیا جائے۔واعظین حضرات کی شعلہ بیانی اور ان کے لطائف و ظرائف وقتی طور پر مجلس کو گرما تو دیتے ہیں لیکن ان سے فکر و عمل کی دنیا میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ دعوت و ارشاد کے اس طریقے کو اگر افراد امت کی ذہن سازی کے لیے ہم استعمال کرسکیں تو ہماری بڑی کامیابی ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارا ہر عالم اپنا دینی فریضہ سمجھے کہ وہ اپنا حلقۂ درس بنائے گا اور بغیر کسی معاوضے کے ایک تسلسل کے ساتھ یہ خدمت انجام دے گا۔ دروس اور دعوتی کاموں میں کھانے پینے کا اہتمام اور چائے نوشی وغیرہ ہمارے کاموں کا سلسلہ نہیں رہنے دیتیں، ابتدا میں کچھ لوگ جوش اور جذبے کے ساتھ یہ کام شروع تو کردیتے ہیں لیکن بعد میں یہی ایک بوجھ بن جاتا ہے اور پھر مقابلہ آرائی شروع ہوجاتی ہے۔
آگرہ میں ہمارے کچھ اہل حدیث افراد نے ایک دعوتی سلسلہ شروع کیا، کافی لوگ جمع ہونے لگے۔ یہ کام ہر ہفتے مختلف گھروں میں ہوتا تھا۔ ابتدا میں صرف چائے پیش کی گئی، بعد میں کچھ گھرانوں نے چائے کے ساتھ وائے بھی پیش کردی، آگے چل کر کسی نے میٹھے چاول یعنی زردہ بنوادیا، پھر کسی نے زردے کے ساتھ بریانی پیش کردی۔ ذرا معاملہ اور آگے بڑھا تو داعی صاحب کی خدمت میں مٹھائی کا ڈبہ پیش کیا گیا، ایک صاحب حیثیت نے آگے چل کر داعی صاحب کی خدمت میں مٹھائی کے ڈبے کے ساتھ جوڑا جامہ پیش کردیا۔ پھر وہ دن بھی آیا کہ دعوت کا یہ کام بوجھ سا بن گیا اور آخر ایک دن یہ بساط لپیٹ دی گئی۔ یہ تماشہ ہم ہر روز دیکھتے ہیں۔ علی گڑھ میں ہفتے میں دو درس قرآن دینے کی سعادت مجھے حاصل ہے۔ ایک جگہ اس وقت ۲۷واں سی پارہ چل رہا ہے اور دوسری جگہ ۱۶واں سی پارہ، ابتد میں کچھ نوجوانوں نے کوشش کی کہ رفیق صاحب گھر چل کر اجتماعی طور پر ایک چائے پی لیتے ہیں، وہاں سامعین کو مزید استفادے کا موقع مل جائے گا لیکن میں نے سختی کے ساتھ اسے روکا اور کہا کہ میں درس کے بعد بھی پندرہ بیس منٹ مسجد میں بیٹھ کر آپ کے سوالوں کے جواب دے سکتا ہوں، چائے نوشی کا یہ پروگرام نہ شروع کریں ورنہ درس کا یہ سلسلہ جاری نہیں رہ سکے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ سلسلۂ درس جاری ہے اور کسی پر کوئی بار نہیں ہے۔
ہماری ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ آس پاس کے مسلمانوں کے حالات پر نظر رکھیں۔ غربت و افلاس اور پریشانی انسان کو کہیں بھی پہنچا سکتی ہے۔ کاد الفقر یکون کفرا، ایک سچائی ہے۔ کسی نے اس مقولے کو حدیث کہہ دیا ہے جو درست نہیں ہے، البتہ اس میں جو بات کہی گئی ہے، وہ آئے دن ہمارے مشاہدات اور تجربات میں آتی رہتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کے حالات پر نظر رکھیں، شادی شدہ بیٹا اگر روزی روٹی کو لے کر پریشان ہے تو کوئی بھی اسے اپنا شکار بناسکتا ہے۔ شکیل بن حنیف نے اپنے فتنے کو وسعت دینے کے لیے اسی قسم کے حربے استعمال کیے ہیں۔
 
Top