ذیشان خان

Administrator
’’صفۃ صلاۃ النبی‘‘ میں علامہ البانی کی علمی وفقہی ترجیحات

✍ رفیق احمد رئیس سلفی

علامہ محمد ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی مشہور زمانہ اور مقبول عام کتاب ’’صفۃ صلاۃ النبیﷺ‘‘جس کا ترجمہ دنیا کی کئی ایک زبانوں میں ہوچکا ہے ،نما ز کے مسائل کے سلسلے میں ایک اہم مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔الجھے ہوئے بعض فقہی مسائل کی تنقیح جس سلیقے اور دوٹوک انداز میں علامہ البانی نے کی ہے ،وہ ان کا اپنا امتیاز ہے جو معاصر علماء کے یہاں بہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔مسلکی تعصبات سے اوپر اٹھ کر انھوں نے ٹھوس دلائل کی روشنی میں تکبیر تحریمہ سے لے کر سلام پھیرنے تک کے مسائل نماز کو قلم بند کیا ہے۔اپنے خاص انداز تصنیف کے مطابق متن وحواشی میں جگہ جگہ بیش قیمت علمی افادات سے قاری کو مستفید کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور مختصر الفاظ میں ایسی نادر معلومات فراہم کردیتے ہیں جو سیکڑوں کتابوں کی ورق گردانی کے بعد بہ مشکل ہاتھ آئیں گی۔اردو زبان میں اس کے دوترجمے ہوچکے ہیں۔پہلا ترجمہ مولانا محمد صادق خلیل(م۲۰۰۴ء) نے کیا تھا جس کی اشاعت پاکستان میں عمل میں آئی اور دوسرا ترجمہ محترم ڈاکٹر عبدالباری فتح اللہ حفظہ اللہ کے قلم سے سامنے آیا۔یہ دوسرا ترجمہ متن سے زیادہ قریب اور اس سے بڑی حد تک ہم آہنگ ہے۔فضیلۃ الدکتور نے اردو ترجمہ کے اپنے مفصل مقدمہ میں کتاب کے اولین ترجمہ کی کئی ایک خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کی ہے ۔ڈاکٹر صاحب نے کتاب کو نہ صرف اردو میں منتقل کیا بلکہ اس کے کئی ایک ایڈیشن شائع کرکے مفت تقسم کیے ۔ان کے برادر خردشیخ محمد ہاشم عالیاوی حفظہ اللہ نے مجھے بتایا تھا کہ اب تک ہم کتاب کے پچپن ہزار نسخے مفت تقسم کرچکے ہیں۔اللہ اس دینی اور علمی خدمت کو شرف قبول عطا فرمائے اور مترجم محترم کی عمر وصحت میں برکت عطا فرمائے۔آمین
طالب علمی کے دور میں یہ کتاب میرے زیر مطالعہ نہیں آسکی تھی ،عملی زندگی میں جب میں نے قدم رکھا اور عوام کے درمیان پہنچا تو ضرورت محسوس ہوئی کہ فقہی مسائل کا ذرا تفصیل سے مطالعہ کیا جائے کیوں کہ عوام کی طرف سے عام طور پر اسی قسم کے سوالات سامنے آتے ہیں۔مدرسہ کی چہار دیواری میں ہم نصابی مطالعہ کے موضوعات عام طور پر فکری رہے اور ماضی اور حال کے مفکرین اور مصلحین کو پڑھنے اور سمجھنے میں بیش تر ماہ وسال بیت گئے۔اس مطالعہ نے دنیا کو سمجھنے اور برتنے کا سلیقہ بھی عطا کیا اور اس کشمکش سے بھی آگاہ کیا جو اسلام اور کفر کے درمیان روزازل سے جاری ہے۔لیکن چوں کہ عوام کا ان فکری موضوعات سے کوئی خاص واسطہ نہیں ہوتا،اس لیے میدان عمل میں قدم رکھتے ہی ان کی ترجیحات کو اپنی ترجیح بنانا ایک بڑی ضرورت تھی اور اس کی تکمیل کے لیے جن کتابوں کو مجھے باریکی اور پوری تفصیل کے ساتھ پڑھنا تھا ،ان میں ایک اہم کتاب علامہ البانی رحمہ اللہ کی ’’صفۃ صلاۃ النبی‘‘بھی تھی۔
کتاب اپنے پاس تھی نہیں اور نہ علی گڑھ میں کوئی عالم ایسا تھا جس کے پاس اس کے ہونے کا امکان ہو ،اس لیے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی سنٹرل لائبریری’’مولانا آزاد لائبریری‘‘ کا رخ کیا ،وہاں کٹیلاگ سے پتا چلا کہ چھوٹے سائز میں شائع شدہ ’’المکتب الاسلامی ‘‘کا نسخہ موجود ہے۔اس کی فوٹو کاپی کرائی اور اسے مجلد بھی کرایا۔نماز کے مسائل کوتفصیل سے تحقیقی انداز میں چوں کہ سمجھنا مقصد تھا ،اس لیے اطمینان سے بالاستیعاب پڑھا ۔دوسری بار پڑھنے کی بھی ضرورت محسوس ہوئی ،اس بار پنسل لے کر پڑھا اور جہاں جہاں مجھے لگا کہ علامہ البانی نے میری معلومات کی حد تک کچھ نیا کہا ہے اور کوئی اہم بات لکھی ہے ،اس کو ایک ایک کرکے نوٹ کرتا گیا ،اس کے لیے مجلد کتاب میں موجود سادے ورق ہی کا استعمال کیا گیا۔دوسری بار جب مطالعہ مکمل ہوا تو پتا چلا کہ بہت سی باتیں کتاب کے سادہ ورق میں آچکی ہیں۔
بعض بزرگوں اور دوستوں نے کتاب کا یہ نسخہ دیکھا تو خوشی ظاہر کی اور بتایا کہ یہ تو اس کتاب کا لب لباب سامنے آگیا ہے اور یہ کتاب اپنی جن تحقیقات کے لیے جانی جاتی ہے،وہ ساری یہاں مختصر طور پر لکھ دی گئی ہیں۔ پچیس تیس سال پہلے کے اسی حاصل مطالعہ کو آج قارئین کے سامنے پیش کررہا ہوں ۔امید ہے کہ عام قارئین اس سے مستفید ہوں گے ۔میں نے اسے علامہ البانی رحمہ اللہ کی علمی و فقہی ترجیحات کا عنوان دیا ہے جس کے لیے عربی تعبیر ’’الاختیارات‘‘ استعمال کی جاتی ہے۔
علامہ البانی کی ان ترجیحات پر دلائل کی روشنی میں گفتگو کی جاسکتی ہے اور کئی ایک مسائل پر نقد وتبصرہ کیا بھی گیا ہے ۔اس سے نہ علامہ البانی کی عظمت کم ہوتی ہے اور نہ دلائل کی روشنی میں بحث کرنے والے اہل علم کی نیت پر کوئی سوال کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔ علمی مسائل میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے لیکن نقطۂ نظر کے اس اختلاف کو مخالفت کی تاریک اور مہیب گلیوں تک نہیں پہنچنا چاہیے۔علماء کے درمیان بغض وعداوت کی ایک بڑی وجہ یہی رہی ہے کہ اختلاف اور مخالفت کے درمیان موجود باریک فرق کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔سلفی منہج اس علمی اختلاف کو نہ صرف انگیز کرتا ہے بلکہ اس کی پوری تاریخ میں اس کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔فکری انحرافات اور علمی کمزوریوں کے در آنے کے بعد اب اس منہج سے تعلق رکھنے والے یا تعلق رکھنے کا دم بھرنے والے بہت سے حضرات اس نوع کے اختلافات سے دلوں میں دوریاں پیدا کرتے ہیں اور امت کو سیسہ پلائی دیوار بنانے کی بجائے اسے صحرامیں ریت کا ٹیلہ بنانے میں مصروف ہیں۔واللہ المستعان
علامہ البانی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا ایک تحقیقی مطالعہ ’’الاختیارات الفقہیۃ للألبانی من خلال کتاب صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کے عنوان سے ایک خاتون اسکالر ’’ہندا کنی‘‘ نے کیا ہے جو ان کے ماجستر کا مقالہ ہے جسے انھوں نے ڈاکٹر نصر سلمان کے اشراف میں الجزائر کی یونیورسٹی ’’امیر عبدالقادر للعلوم الاسلامیہ‘‘ میں پیش کیا تھا۔کتاب کا پہلا ایڈیشن ’’دار ابن حزم‘‘ بیروت، لبنان سے ۲۰۰۹ء میں شائع ہوا ہے۔پہلی نظر میں مصنفہ کا انداز بہتر نظر آیا ہے،انھوں نے مسائل فقہیہ کا محاکمہ ومقارنہ انتہائی سنجیدگی کے ساتھ کیا ہے ۔ابھی میں نے غور سے اس کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے، اس لیے اس کے بارے میں کوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔اپنے نوجوان سلفی اخوان سے امید کرتا ہوں کہ اس کتاب کا ضرور مطالعہ کریں گے اور ممکن ہو تو حاصل مطالعہ قلم بند کرکے ہمارے علم میں اضافہ فرمائیں گے۔ کتاب ’’المکتبۃ الوقفیۃ‘ پر اپلوڈ ہے ۔میں خود بھی فرصت نکال کر اس تحقیقی مقالے کا ان شاء اللہ مطالعہ کروں گا۔
علامہ البانی نے اپنی اس کتاب کے آغاز ہی میں تقلید اعمی پر بھرپور علمی تنقید کی ہے اور بتایا ہے کہ بعد کی صدیوں میں جن ائمۂ دین اور فقہائے اسلام کے حوالے سے امت کو فرقوں اور مسلکوں میں تقسیم کیا گیا اور نماز جیسی ام العبادات کے کئی ایک مسائل میں شدید اختلافات پیدا کیے گئے ،خود ان کا منہج فکر وعمل اتباع کتاب وسنت تھا،بار بار وہ اپنے تلامذہ کو تلقین کرتے رہے کہ میرے اقوال وفتاوی کو کتاب وسنت کی روشنی میں دیکھو ،اگر کہیں ٹکراؤ یا تضاد نظر آئے تو میرے اقوال کو پس پشت ڈال کر صرف کتاب وسنت کی پیروی کرو۔مستند اور معتبر حوالوں سے مدلل کتاب کا یہ ابتدائیہ روشنی کا بلند مینار ہے۔تقلید وجمود کی تاریکیاں اسی سے دور کی جاسکتی ہیں۔
کتاب کا جوایڈیشن میرے پیش نظر رہا ہے، ممکن ہے وہ ہر جگہ دستیاب نہ ہو ،اس لیے میں نے صفحات کے حوالوں کے لیے ’’مکتبۃ المعارف، الریاض‘‘ کا وہ ایڈیشن استعمال کیا ہے جس پر سنہ طباعت ۱۹۹۱ء درج ہے اور جس پر ’’الطبعۃ الأولی للطبعۃ الجدیدۃ‘‘ لکھا ہوا ہے۔مسائل نماز کے سلسلے میں علامہ البانی کی بعض تحقیقات اور ان کی ترجیحات مندرجہ ذیل ہیں:
٭دعائے ثنا؍استفتاح’’سبحانک اللھم‘‘کی سند صحیح ہے۔(ص:۹۳)
٭شیخ البانی سورہ فاتحہ سے پہلے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘بالجہر پڑھنے کے قائل نہیں ہیں۔(۹۶)
٭قرآن کی ہر آیت پر ٹھہرنا چاہیے،ایک آیت کو دوسری آیت سے ملانا صحیح نہیں ہے۔(ص:۹۶)
٭جسے سورہ فاتحہ یاد نہ ہو،وہ سبحان اللہ،الحمد للہ،لاالہ الااللہ،اللہ اکبر اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ پڑھے۔(ص:۹۸)
٭جسے قرآن کی کوئی سورہ یاد نہ ہو،وہ تحمید،تکبیر اور تہلیل پڑھے۔(ص:۹۸)
٭جہری نماز میں مقتدی کے حق میں سورہ فاتحہ کی قراء ت منسوخ ہے۔ (ص: ۹۸۔ ۱۰۰)
٭سورۃ التین کی آخری اور سورۃ الأعلی کی پہلی آیت کا جواب دینا چاہیے۔(ص: ۱۰۵)
٭جہری نماز کی پہلی دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر اکتفا کرنا بھی جائز ہے۔ (ص:۱۰۶)
٭نماز فجر کی دونوں رکعتوں میں نبی اکرم ﷺ نے سورہ الزلزال پڑھی ہے۔ (ص:۱۱۰)
٭ظہر اور دیگر چار رکعات والی نمازوں کی آخری دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورہ بھی ملاسکتے ہیں۔(ص:۱۱۳)
٭تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں ہے۔(ص:۱۱۹۔۱۲۰)
٭نماز وتر کے بعد دو رکعات پڑھنی چاہیے۔(ص:۱۲۲)[علامہ البانی نے یہ بات اپنے گزشتہ نقطۂ نظر سے رجوع کرکے تحریر فرمائی ہے]
٭نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری میں سورۃ الغاشیہ کی قراء ت کرسکتے ہیں۔(ص:۱۲۳)
٭رکوع سے سراٹھانے کے بعددونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھنا گمراہ کن بدعت ہے۔(ص:۱۳۹)
٭کبھی کبھی سجدہ میں جاتے وقت بھی رفع یدین کرنا صحیح ہے۔(ص:۱۴۰)
٭سجدہ میں جاتے ہوئے پہلے دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھنا چاہیے،اس کے بعد گھٹنوں کو،اس کے برخلاف احادیث صحیح نہیں ہیں۔(ص:۱۴۰)
٭سجدوں میں پیروں کی دونوں ایڑیاں باہم ملی رہیں۔(ص:۱۴۲)
٭سجدہ سے سراٹھاتے ہوئے بھی رفع یدین کرنا صحیح ہے۔(ص:۱۵۱)
٭دونوں سجدوں کے درمیان ایڑیوں کے بل بیٹھنا بھی صحیح ہے۔(ص:۱۵۲)
٭دوسرے سجدے میں جاتے ہوئے اور دوسرے سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی بسا اوقات رفع یدین کرنا صحیح ہے۔(ص:۱۵۴)
٭نماز کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے تعوذ ثابت ہے۔(ص:۱۵۵)
٭تشہد اول میں درود پڑھنا جائز ہے۔(ص:۱۶۴)
٭نبی اکرم ﷺتیسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت کبھی کبھی رفع یدین کرتے تھے۔(ص:۱۷۷۔۱۷۸)
٭دعائے قنوت میں ہاتھ اٹھانا صحیح ہے لیکن دعا کے بعد چہرے پر ہاتھوں کو پھیرنا صحیح نہیں ہے۔(ص:۱۷۸)
٭نماز کے باہرہاتھ اٹھاکر دعا کرنااور دعا کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا صحیح نہیں ہے۔(ص:۱۷۸)
٭نماز وتر میں دعائے قنوت کبھی کبھی پڑھنی چاہیے۔(ص:۱۷۹)
٭دعائے قنوت کے آخر میں ’’صلی اللہ علی النبی الأمی‘‘کے اضافہ والی روایت کی سند ضعیف ہے لیکن سلف سے اس کے پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے لہذا اسے بدعت نہیں کہا جاسکتا۔(ص:۱۸۰)[علامہ البانی نے اس مسئلے میں اپنے قول سابق سے رجوع کیا ہے]
٭دعائے قنوت میں مروجہ مشہور جملہ’’ونستغفرک ونتوب الیک‘‘ثابت نہیں ہے۔(ص:۱۸۱)
٭ہمارے یہاں معروف دعائے قنوت میں ’’لا منجا منک الا الیک‘‘ جملہ نہیں ہے جب کہ اس کا ثبوت ملتا ہے۔(ص:۱۸۱)
٭آخری تشہد میں بیٹھتے وقت داہنے پیر کو کھڑا رکھنے کی بجائے بچھایا بھی جاسکتا ہے۔(ص:۱۸۱)
تقریباً تیس سال پہلے کا حاصل مطالعہ پیش کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ جوانی میں حوصلے کتنے بلند تھے اور ایک ایک لفظ کو باریکی سے پڑھنے اور سمجھنے کی کتنی خوبصورت عادت تھی ،اب کہاں ہے وہ قوت وتوانائی کہ کسی کتاب کو اتنی گہرائی سے پڑھا جائے۔اللہ خود ستائی سے محفوظ رکھے ،یہاں صرف اپنے نوجوان ساتھیوں کو یہ پیغام دینا تھا کہ دین کے جزئی مسائل کو سمجھنے کے لیے کس قسم کے مطالعے کی ضرورت ہے۔سوشل میڈیاپر مصروف اپنے نوجوانوں سے یہی عرض کروں گا کہ علم میں وسعت اور گہرائی کے لیے کتب بینی بہت ضروری ہے۔ملت کا مستقبل آپ کے ہاتھوں میں ہے ،وہ آپ کی قیادت کی منتظر ہے ،علم وعمل سے مسلح ہوکر سامنے آئیں اور دین کے تعلق سے اپنی منصبی ذمہ داریاں ادا کریں۔
 
Top