ذیشان خان

Administrator
سورہ فاتحہ پڑھنے کا محل قیام ہے
================
مقبول احمد سلفی
قراءت فاتحہ اور قراءت قران کا محل قیام کی حالت ہے ۔ سورہ فاتحہ پڑھنے والی تمام روایات اس کی دلیل ہیں ۔ آپ کے سامنے چند دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔
(1)عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال : كنا خلف النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الفجر ، فقرأ فثقلت عليه القراءة ، فلما فرغ ، قال : " لعلكم تقرءون خلف إمامكم ؟ قلنا : نعم ، يا رسول الله قال : لا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب ، فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها (ابوداؤد :823)
ترجمہ: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے پیچھے فجر کی نماز میں تھے تو آپ نے قراءت کی اور آپ پہ قراءت بوجھل ہوگئی ۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا :شاید تم لوگ امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ تو صحابہ نے کہا ہاں اے اللہ کے رسول ۔ تو آپ نے فرمایا: فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھو کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو فاتحہ نہیں پڑھتا۔
٭ ترمذی ، دارقطنی نے اس کی سند کو حسن اور بیہقی نے صحیح قرار دیا ہے ۔
گوکہ اس روایت میں کھڑے ہونے کا ذکر نہیں ہے مگر قرآن کی قراءت قیام میں ہی ہوتی ہے ۔ اسی لئے جہری نماز میں قیام کی حالت میں بلند آواز سے اور سری نماز میں آہستے سے قرات کی جاتی ہے ۔ سورہ فاتحہ بھی قراءت ہے اور قرآن کی ایک سورت ہے ۔
(2) عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنْ الرُّكُوعِ۔(صحيح أبي داود:744)
ترجمہ : علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اور جب قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے تھے۔
اس روایت میں صریح طور پہ قیام کی حالت میں قرات کا ذکر ہوا ہے ۔
(3) ألا إنِّي نُهيتُ أنْ أقرأَ راكعًا أو ساجدًا، أمَّا الرُّكوعُ فعظِّموا فيه الرَّبَّ، وأمَّا السُّجودُ فاجتَهِدوا في الدُّعاءِ فقَمِنٌ أنْ يُستجابَ لكم(صحيح مسلم : 1896)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میں رکوع اور سجدے میں قرآن حکیم پڑھنے سے منع کیا گیا ہوں۔ پس تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں خوب دعا مانگو۔ تمہاری دعا قبولیت کے لائق ہوگی۔
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ قرآن کی قرات رکوع و سجدے کی حالت میں منع ہے ، اس طرح صرف قیام کا محل بچتا ہے ، اس لئے فاتحہ پڑھنے کا محل صرف قیام ہے۔
(4) عن أبي بكرة أنه انتهى إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم وهو راكعٌ، فركَع قبلَ أن يصِل إلى الصفِّ، فذكَر ذلك للنبيِّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم فقال : زادَك اللهُ حِرصًا ولا تَعُدْ(صحيح البخاري:783)
ترجمہ : حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نماز پڑھنے کے لئے حضرت محمدﷺ تک پہنچا تو آپﷺ رکوع میں جا چکے تھے، تو ابوبکره نے صف تک پہنچنے سے پہلے ہی رکوع کرليا، جب آنحضرتﷺ کے پاس یہ فعل ذکر کیا گیا تو آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تیری حرص میں برکت کرے آئندہ ایسا نہ کرنا۔
یہ روایت بھی ہمیں بتلاتی ہے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو رکوع کی حالت میں پایا تو وہ قرات نہیں کی بلکہ رکوع میں چلے گئے اوریہ معلوم ہے کہ رکوع میں قرآن کی قرات نہیں بلکہ نبی ﷺ نے تسبیح سکھلائی ہےاور اس حالت میں قرات سے منع فرمایا ہے ۔
ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ صرف قیام کی حالت میں پڑھی جائے اور قیام ہی سورہ فاتحہ کا محل ہے ۔
واللہ اعلم
 
Top