ذیشان خان

Administrator
حیادار بیٹی کا روشن مستقبل

✍ محمد معاذ أبو قحافة

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، وبعد!

ہر لڑکا ایک اچھی لڑکی کا متمنی ہوتا ہے، اور لڑکی بھی اچھے شوہر کا خواب دیکھتی ہے۔

جو باپ اپنی بیٹی کی تربیت کرتا ہے، اس کو دین سکھاتا ہے، اس میں موجود حیاء کو جلا بخشتا ہے تو وہ اپنی بیٹی کی شادی کے لئے ( بإذن الله تعالى ) ایک بہترین داماد پالے گا۔

غور کریں

موسیٰ علیہ السلام اپنی ہونے والی بیوی کا مہر (( دس سال مزدوری )) سے ادا کئے۔

اتنی مہنگی لڑکی؟ جس کے لئے موسیٰ علیہ السلام اس قدر مشقت کے لئے تیار؟

کیا تھا اس لڑکی میں؟؟ بہت خوبصورت تھی؟؟ گفتگو کا انداز بہت نرالا تھا؟ لڑکی بہت مالدار تھی؟ کیا تھا اس میں؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ فَجَآءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِيْ عَلَى ٱسْتِحْيَاءٍ﴾
پھر ان دونوں میں سے ایک لڑکی شرم وحیا سے چلتی اس کے پاس آئی۔ ( القصص: 25 )۔

اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان لڑکی کا جو بنیادی وصف بتایا ہے وہ ( حیاء ) ہے، اس کی پاکدامنی ہے، عفت ہے۔

ایک اور بات پر غور کریں، قرآن مجید کا ہر ایک پہلو اور ہر ایک بات کے لئے استعمال گیا لفظ بہت ہی معنی رکھتا ہے۔

قرآن نے اس نوجوان لڑکی سے متعلق کہا: ﴿ تَمْشِيْ﴾ یعنی چلتے ہوئے آئی۔

کیا صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ سواری کرکے نہیں بلکہ (( پیدل چلتے ہوئے ) آئی ہے؟ یا کچھ خاص بات کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے؟

( چلنا ) پر دلالت کرنے والے الفاظ

قرآن مجید میں ( چلنا ) پر بہت سے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں، مثلاً:

١)- دَبَّ ( هود: 6 ).
٢)- اِنْطَلَقَ ( الكهف: 71 ).
٣)- سَارَ ( القصص: 29 ).
٤)- رَجِلَ ( الحج: 27 ).
٥)- سَلَكَ ( النحل: 69 ).
٦)- مَضَى ( الكهف: 60 ).
٧)- قَصَّ ( القصص: 11 ).
٨)- سَرَبَ ( الكهف: 61 ).
٩)- دَأَبَ ( إبراهيم: 33 ).
١٠)- نَقَّبَ ( ق: 36 ).
١١)- سَرَى ( الفجر: 4 ).
١٢)- مَشَى ( الفرقان: 7 ).

ان سب کا معنی صرف (( چلنا )) ہی نہیں ہے، بلکہ ہر لفظ چلنے کی خاص صفت کو بیان کرتا ہے۔ قرآن ہر لفظ اسی جگہ استعمال کیا ہے جہاں چلنے کی وہ کیفیت مقصود ہے جسے اس مقام پر بیان کیا گیا ہے۔

بس ایک مثال دیتا ہوں ہر لفظ کے لئے مثال بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

(( اِنْطَلَقَ )) کہتے توقف کے بعد چلنا، یعنی آدمی رکا ہوا تھا اب چلنے لگا ہے اس کے لئے یہ لفظ بولا جاتا ہے، (( سورة الكهف )) میں موسیٰ اور خَضِر علیہما السلام کا واقعہ پڑھ لیں۔

(( مَشَى )) یہ عربی زبان میں چلنے پھرنے کے لئے عام لفظ ہے، بلکہ انسان کی عام رفتار اور اس کی اپنی معمول والی رفتار بتانے کے لئے بھی آتا ہے۔

یہ نوجوان لڑکی اپنی چلن میں عام رفتار اختیار کی ہوئی تھی، حیاء غالب تھی، اس چلن میں مائل کرنے والے جراثیم نہیں تھے۔

نوٹ

نوجوان لڑکیوں سے متعلق ماں باپ وہ کام کریں جو انہیں کرنا ہے، یعنی ان کی تربیت، اچھی تعلیم، ان کی حیاء کی حفاظت، ان کے اخلاق کی درستگی وغیرہ۔

ان کے لئے ایک شوہر کا انتخاب وہ (( خالق رب العالمین )) کا کام ہے، اس کے لئے دعائیں ضرور کریں، اور صحیح طریقہ اپنائیں۔

مگر لڑکیاں جلد بازی میں غلط تعلقات قائم کرکے (( حیاء )) کا سودا کر دیتی ہیں، اللہ تعالیٰ پر حسن ظن، آپ کی حیاء ۔۔۔ یہ بہت بڑا سرمایہ ہے۔

آپ حیادار بنیں، یقین مانیں آپ کے لئے پاکباز شوہر ہی ملے گا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ اَلْخَبِيْثَاتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَٱلْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطِّيِّبِيْنَ وَٱلطَّيِّبُوْنَ لِلطِّيَّبَاتِ﴾
خبیث عورتیں خپیث مردوں کے لائق ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لائق ہیں، اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لائق ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے لائق ہیں۔ ( النور: 27 ).
 
Top