ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عنعنہ اورتدلیس کی معرفت

✍ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی

ہمارے ہاں بعض احباب جہاں کہیں بھی مدلس راوی کاعنعنہ دیکھتے ہیں فوراوہاں تدلیس کاحکم لگادیتے ہیں، گویاان حضرات کے ہاں عنعنہ تدلیس کرنے کانہیں بلکہ معرفت تدلیس کاذریعہ ہے. حالانکہ یہ بات بداہتاغلط ہے.اس لیے کہ عنعنہ بذات خود تدلیس نہیں جواسے معرفت تدلیس کاذریعہ کہاجائے.بلکہ وہ تومحض تدلیس کرنے کاذریعہ ہے.جس کی بدولت مدلس راوی تدلیس کرتے ہوئے اپنے شیخ کوگراکرشیخ کے شیخ سے روایت کرتاہے.کسی ایک محدث کانام بتایاجائے کہ جس نے عنعنہ کوذریعہ تدلیس کے بجائے ذریعہ معرفت تدلیس قراردیاہو.
محدثین کرام نے معرفت تدلیس کے مختلف ذرائع بیان فرمائے ہیں، مثلا:
1-راوی کااپنااقرار
2-راوی کے تلامذہ کااقرار
3-ائمہ ناقدین کی تنصیص
4-ایک جگہ بالواسطہ اور دوسری جگہ بلاواسطہ روایت کرنا(احیانا)
5-راوی کی ثقات سے مناکیربیان کرناجس کاوہ متحمل نہ ہو. وغیرہ.
بعض احباب معترض ہوتے ہیں کہ مدلس کی تدلیس کاتعلق توسندسے ہے، اسنادی کیفیت اورحالات کودیکھ کرہی تدلیس معلوم ہوتی ہے.روایات کے متن سے تدلیس کی معرفت نہایت عجیب ترہے.یہ احباب متعجب ہوتے ہوئے روایات میں مناکیرکے ذریعے معرفت تدلیس کوباقاعدہ ایک عجوبہ قراردیتے ہیں، بلکہ اپنے تئیں اس کے قائلین پراستہزاء کرتے نظرآتے ہیں.حالانکہ انہیں معلوم ہوناچاہئے کہ مناکیرسے بھی تدلیس معلوم کرنامنہج محدثین مثل امام بخاری،امام احمد، امام ابن حبان، اور ابن حجر وغیرہ کاہے.اس حوالے سے کئی ایک امثلہ پیش کی جاسکتی ہیں. مگر سردست یہاں صرف ایک مثال پیش خدمت ہے جس سے ہمارامدعامضبوط ہوجاتاہے:
امام ابن خزیمہ فرماتے ہیں :
"احتج ببقية. حدثني أحمد بن الحسن الترمذي سمعت أحمد بن حنبل يقول توهمت أن بقية لا يحدث المناكير إلا عن المجاهيل فإذا هو يحدث المناكير عن المشاهير فعلمت من أين أتى".
قلتُ القائل ابن حجر) أتى من التدليس".
امام احمد فرماتے ہیں : میں سمجھتاتھاکہ بقیہ یہ مناکیرمحض مجاہیل سے روایت کرتے ہیں، لیکن (میں نے دیکھاکہ) وہ تومشاہیرسے بھی مناکیربیان کرتے ہیں، اور میں جانتاہوں کہ مشاہیرکی روایات میں مناکیرکہاں سےدر آئیں". ابن حجر اس پربطور تعلیق کہتے ہیں کہ : یہ مناکیربوجہ تدلیس ہی (بقیہ کی احادیث میں) در آئی ہیں. تھذیب التھذیب ،ترجمہ بقیۃ بن الولید.
یہاں واضح طورپردیکھاجاسکتاہے کہ امام احمد اور ابن حجردونوں ہی ائمہ بقیہ کے عنعنہ کے بجائے محض مشاہیرسے روایت کردہ مناکیرسے" تدلیس" کوذریعہ قراردے رہے ہیں.
 
Top