ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم

تاریخ اسلام کے ایسے بھی وزراءتھے

✍ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی.

عمیدالجیوش،ابوعلی، الحسین بن ابی جعفر، ملک العراق بھاء الدولۃ کے خدمت گاررہے، جس نے اسے عراق کی نیابت سے سرفرازکیا،حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وخدم أبو علي بهاء الدولة فاستنابه على العراق ، فقدمها في سنة 396 والفتن ثائرة بها ، فضبط العراق بأتم سياسة ، وأباد الحرامية ، وقتل عدة ، وأبطل مآتم عاشوراء ، وأمر مملوكا له بالمسير في محال بغداد وعلى يده صينية مملوءة دنانير ، ففعل ، فما تعرض له أحد لا في الليل ولا في النهار . ومات نصراني تاجر من مصر ، وخلف أموالا ، فأمر بحفظها حتى جاء الورثة من مصر ، فتسلموها .
وكان مع فرط هيبته ذا عدل وإنصاف ، ولي العراق تسع سنين سوى أشهر" .
"آپ بھاء الدولۃ کے خادم رہے،جس نے آپ کوعراق کی نیابت عطا کی. سنہ 396 ھ کوآپ اس وقت عراق آئے جب وہاں فتنے منڈلارہے تھے ،آپ نے مکمل سیاسی بصیرت سے عراق کو اپنی گرفت میں کرلیاتھا، حرامیہ(فرقے) کوتباہ وبربادکرکے رکھ دیا،(ان کے) بہت سے لوگ قتل کیے، عاشوراء کے روزماتم کوختم کیا، اپنے ایک غلام کو دیناروں سے بھری ایک سینی(ٹرے) دےکربغدادکے محلوں میں چکرلگانے کاحکم دیا،وہ دن رات (بغدادکے گلی کوچوں میں)گھومتارہاکسی نے بھی(لوٹ مار کی غرض سے) اس کی چھیڑچھاڑنہیں کی(وہاں بغداد میں)مصری ایک عیسائی تاجرفوت ہوگیاجس نے اپنے پیچھے کافی سارامال چھوڑاتھا، آپ نے اس کی حفاظت کاحکم دیا، یہاں تک کہ مصرسے اس کے ورثاآئے جنہوں نے آپ سے وہ مال لیا".
(حافظ ذہبی فرماتے ہیں) :آپ اپنی کثیرالھیبۃ ہونے کے باوجود عدل وانصاف کے مالک تھے،نوسال سے کچھ کم ماہ عراق کے والی رہے" [سیراعلام النبلاء :17/ 231]
 
Top