ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم

حصول علم میں مشقت اورسیادت

✍ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی.

بَابُ مَا ذُكِرَ فِي ذَهَابِ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي البَحْرِ إِلَى الخَضِرِ وَقَوْلِهِ تَعَالَى : ( هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا )
امام بخاری رحمہ اللہ اپنی مایہ ناز تصنیف"الجامع الصحیح" میں درج بالاباب قائم کرکے فرماتے ہیں :
"74 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : هُوَ خَضِرٌ ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ : إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى ، الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ ؟ قَالَ مُوسَى : لاَ ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُوسَى : بَلَى ، عَبْدُنَا خَضِرٌ ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الحُوتَ آيَةً ، وَقِيلَ لَهُ : إِذَا فَقَدْتَ الحُوتَ فَارْجِعْ ، فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ ، وَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الحُوتِ فِي البَحْرِ ، فَقَالَ لِمُوسَى فَتَاهُ : ( أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ) ، قَالَ : ( ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا ) ، فَوَجَدَا خَضِرًا ، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ".
"مفسرقرآن جناب سیدناعبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحثے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ خضر علیہ السلام تھے ۔ پھر ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میں اور میرے یہ رفیق موسیٰ علیہ السلام کے اس ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے انھوں نے ملاقات چاہی تھی ۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ ذکر سنا ہے ۔ انھوں نے کہا ، ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ایک دن حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ ( دنیا میں ) کوئی آپ سے بھی بڑھ کر عالم موجود ہے ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ہے ( جس کا علم تم سے زیادہ ہے ) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دریافت کیا کہ خضر علیہ السلام سے ملنے کی کیا صورت ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان سے ملاقات کی علامت قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم اس مچھلی کو گم کر دو تو ( واپس ) لوٹ جاؤ ، تب خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی ۔ تب موسیٰ ( چلے اور ) دریا میں مچھلی کی علامت تلاش کرتے رہے ۔ اس وقت ان کے ساتھی نے کہا جب ہم پتھر کے پاس تھے ، کیا آپ نے دیکھا تھا ، میں اس وقت مچھلی کا کہنا بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر بھلا دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا ، اسی مقام کی ہمیں تلاش تھی ۔ تب وہ اپنے نشانات قدم پر ( پچھلے پاؤں ) باتیں کرتے ہوئے لوٹے ( وہاں ) انھوں نے خضر علیہ السلام کو پایا ۔ پھر ان کا وہی قصہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں بیان کیا ہے" ۔
[صحیح البخاری مع الفتح :1/ 221]
سابقہ باب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے علم میں رشک کے حوالے سے عنوان قائم کرکے اس کے تحت حدیث اور آثارنقل کرکے اس کی حقیقت بیان فرمائی، جسے ہم نے اپنے تجزیے اور تبصرے کے ساتھ نذرقارئین کیا.جس کو کسی کے علم کے ساتھ اگررشک ہوجائے توایسے شخص کو حصول علم میں مشقت آسکتی ہے، اور اگرہ "سیادت" یاکسی عہدہ ومنصب پرفائزہوتواسے اس کایہ عہدہ وسیادت مانع نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ اس وقت اگر یہ چیزیں حصول علم سے مانع رہیں توبہت حدتک ممکن ہے وہ رشک کے بجائے حسد کی بیماری میں گرفتارہوسکتاہے. امام بخاری رحمہ اللہ نے درج بالاباب قائم کرکے اور اس میں پھرسیدناموسی اورجناب خضرعلیھماالسلام کاواقعہ درج فرماکر حصول علم میں مشقت کاہونااور سیادت کے بعد علم حاصل کرنے کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں.کیونکہ سیدناموسی علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی اوررسول تھے،رسالت اورنبوت سے بڑھ کربھلاکونسامنصب ہوسکتاہے. مگراس کے باوجود آپ نے حصول علم کے لیے بری اوربحری سفرطےکیا،ظاہرہے انہیں اس سفرمیں مشقت اٹھانی پڑی تھی،اوراسی مشقت کی طرف امام بخاری رحمہ اللہ نے درج بالاباب منعقدکرکے اس میں یہ حدیث درج کرتے ہوئے اشارہ فرمارہے ہیں.حافظ ابن حجررحمہ اللہ درج بالا باب کی ماقبل کے باب سے مناسبت کے حوالے سے فرماتے ہیں :
"هَذَا الْبَابُ مَعْقُودٌ لِلتَّرْغِيبِ فِي احْتِمَالِ الْمَشَقَّةِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لِأَنَّ مَا يُغْتَبَطُ بِهِ تُحْتَمَلُ الْمَشَقَّةُ فِيهِ وَلِأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَمْنَعْهُ بُلُوغُهُ مِنَ السِّيَادَةِ الْمَحَلَّ الْأَعْلَى مِنْ طَلَبِ الْعِلْمِ وَرُكُوبَ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ لِأَجْلِهِ فَظَهَرَ بِهَذَا مُنَاسَبَةُ هَذَا الْبَابِ لِمَا قَبْلَهُ".
" یہ باب(ایک تو) طلب علم میں مشقت کے پائے جانے کے احتمال کی ترغیب پرمنعقدکیاگیاہے، کیونکہ رشک کردہ چیزمیں (بہرحال) مشقت کاہوناممکنات میں سے ہے،اور( دوسرا) یہ کہ موسی علیہ السلام السلام کوبلند وبالامقام پرفائزہوجانے کے بعد بھی یہ بات طلب علم اوراس کے لیےبری وبحری سفرکرنے سے بھی مانع نہ ہوسکی، یہاں سے اس باب کی ماقبل باب سے مناسبت ظاہر ہوجاتی ہے".(ایضا)
ہمارے ہاں عجیب رواج نکل چکاہے، کوشش ہوتی ہے کہ تحقیق وغیرہ محنت ومشقت کے بغیرہی ہو. اس لیے نوجوان طبقہ محض گوگل پرانحصارکرتے ہوئے حدیث وغیرہ کی تحقیق کرتے نظرآتے ہیں، بلکہ ہم نے تویہاں تک مشاہدہ کیاہے کہ ایک اہل علم نے کسی طالب سے کہاکہ اللہ کے بندو! اول اول تخریج حدیث ہوتی ہے، اس کے بعدتحقیق حدیث میں باقی مراحل طے کرنا ہوتے ہیں،تواس طالب نے جواب دیاکہ :آج کل تخریج حدیث کوئی مشکل کام نہیں.سرچنگ سے سب کچھ بآسانی مل جاتاہے".سوچیے! جونوجوان سرے سے تخریج کامطلب ہی نہ سمجھتے ہوں، تحقیق حدیث میں وہ کیاکیاگل نہ کھلاتے ہونگے. ان کے مطابق جس طرح دوسری مادی چیزوں میں جدت آگئی ہے اسی طرح تحقیق حدیث میں بھی یہی بات کارگرہوگی.اللہ کے ان بندوں کومعلوم ہوناچاہئے کہ بیشک اس علم کی تحقیق میں جدت اورآسانی ضرورہوئی ہے اور اس سے استفادہ بھی ہوناچاہیے. لیکن اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوتاہے کہ تحقیق میں کلی اورپوراانحصار ہی اس پرکرلیا جائے. کاش کہ یہ نوجوان، اہل علم کی مجالس میں بیٹھے ہوتے جوانہیں تخریج حدیث اورتحقیق کامطلب اچھی طرح ذہن نشین کراتے.
بہرکیف! علم اورتحقیق مشقت اورمحنت چاہتے ہیں، چاہے آپ کتنے ہی بڑے عالم ادیب، اورمحقق بن جائیں. جس دن آپ نے آسانی کوترجیح دیتے ہوئے تحقیق کے راستے میں مشکل امورکونظراندازکرناشروع کردیں گا، حقیقی علم سے محرومی آپ کامقدربن جائےگی.
 
Top