ذیشان خان

Administrator
أقسام أحاديث جامع الترمذي

✍⁩حافظ عبدالرحمن المعلمي

شیخ محمد بن علی بن آدم بن موسیٰ الاثیوبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:جامع الترمذی میں مذکورہ احادیث نو (9) اقسام پر مشتمل ہیں۔

1)وہ روایات جن کو امام بخاری و مسلم رحمھما اللہ نے روایت کیا ہے ۔

2)وہ روایات جن کو صرف امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔

3)جن روایات کو صرف امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے.

4)وہ روایات جن کی اسانید کے راوی صحیحین کے راویوں میں سے ہیں.

5)وہ روایات جن کی سند کے راوی صرف صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں۔

6)وہ روایات جن کی اسانید کے راوی صرف صحیح مسلم کی راویوں میں سے ہیں۔

7)وہ روایات جن کو بیان کرنے والے ثقات ہیں اگرچہ ان سے امام بخاری و مسلم رحمھما اللہ نے روایت نہیں لی.

8)وہ روایات جن کو بیان کرنے والے راویوں پر کلام(جرح) ہے لیکن امام ترمذی ان کی متابعات کو ذکر کرتے ہیں۔

9)وہ روایات جن کو بیان کرنے والے راویوں پر کلام ہے لیکن امام ترمذی رحمہ اللہ نے ان کی متابعات ذکر نہیں کیں۔

پہلی سات اقسام کی روایات بلا شک و شبہ صحیح ہیں۔

آٹھویں قسم کی روایات محل نظر ہیں اگر متابعت قوی ہوگی تو روایت مقبول ہو گی وگرنہ اس قسم کی روایات نقل کرنے میں امام ترمذی رحمہ اللہ میں تساہل ہے ۔

نویں قسم کی روایت کا حکم واضح ہے ۔اور اس قسم کی اکثر روایات نقل کرنے کے بعد امام ترمذی ان پر اپنا کلام نقل کرتے ہیں کہ یہ روایت منقطع ہے مرسل ہے ضعیف ہیں و غیرہ۔
اس قسم کی کم ہی ایسی روایات ہیں جن کو امام ترمذی نے نقل کرنے کے بعد سکوت کیا ہے ۔

#خلاصہ_کلام:بعض لوگ جو مطلقا امام ترمذی کو متساہل گردانتے ہیں یہ درست نہیں ہے بلکہ امام ترمذی کی ذکر کردہ روایات کو سابقہ اقسام کے مطابق پرکھنا چاہیے پھر انصاف کے مطابق حکم لگانا چاہیے اور مذکورہ مسئلہ میں تقلید سے بچنا چاہیے ۔

إتحاف الطالب الأحوذي بشرح جامع الإمام الترمذي 16/1

#تعلیق:شیخ محمد الاثیوبی رحمہ اللہ کا پہلی سات اقسام کی روایات کو بلا شک و شبہ صحیح قرار دینا محل نظر ہے ۔کسی روایت کی سند کے راویوں کا صحیحین کے راوی ہونے سے روایت کا صحیح ہونا لازم نہیں آتا جیسا کہ اہل علم پر مخفی نہیں ہے ۔واللہ اعلم بالصواب
 

Attachments

Top