ذیشان خان

Administrator
فرض پڑھ کےسنت پڑھنے کے لئے جگہ بدلنا
================
مقبول احمد سلفی
احادیث کی روشنی میں پتہ چلتا ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی کے بعد سنت و نفل کی ادائیگی کے لئےجگہ بدل دینا مستحت ہے۔
جگہ بدلنے کے دلائل :
(1) عن عمرَ بنِ عطاءِ بنِ أَبي الْخُوَارِ: أَنَّ نافعَ بنَ جُبَيْرٍ أَرسلَهُ إِلَى السَّائبِ ابنِ أُختِ نَمِرٍ، يسأَلُه عن شيءٍ رآه منه معاويةُ في الصَّلَاةِ، فقال: نعم، صلَّيْتُ معه الْجُمُعَةَ في الْمَقْصُورةِ، فلَمَّا سَلَّمَ الْإِمامُ، قُمْتُ في مقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دخل أَرْسلَ إِلَيَّ فقال: لا تَعُدْ لِمَا فعلْتَ، إِذا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فلا تَصِلْهَا بصلاةٍ، حتَّى تَكَلَّمَ أَو تَخْرُجَ، فإِنَّ رسولَ اللَّه صلى الله عليه وسلم أَمَرَنَا بذلك: أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ، حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ.(صحيح مسلم:883)
ترجمہ : عمر بن عطاء بن ابی خوارکہتے ہیں کہ نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں سائب بن اخت نمر کی طرف کچھ ایسی باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں دیکھیں، سائب نے کہا کہ ہاں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقصوره میں جمعہ پڑھا ہے، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم دوبارہ ایسے نہ کرنا، جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی نماز نہ پڑھو جب تک کہ کوئی بات نہیں کرلو یا اس جگہ سے جب تک ہٹ نہ جاؤ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں کوئی بات نہ کرلیں یا کوئی جگہ بدل نہ لیں۔
امام نووی ؒ صحیح مسلم کی شرح میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اس میں ہمارے اصحاب فقہائے شافعیہ کے لئے دلیل ہے کہ سنن رواتب وغیرہ کے لئے مستحب ہے کہ فرض نماز پڑھی ہوئی جگہ سے دوسری جگہ بدل لے ۔ اور جگہ بدلنے کا سب سے افضل طریقہ گھر ہے ورنہ مسجد کی کسی جگہ یا اس کے علاوہ کوئی جگہ تاکہ سجدہ کی جگہ کی کثرت ہو اور فرض نماز کی شکل سے نفل نماز کی شکل میں فرق ہوسکے۔
(2) صلى بنا إمامٌ لنا - يُكْنَى : أبا رِمْثَةَ -، قال : صليتُ هذه الصلاةَ - أو مِثْلَ هذه الصلاةِ - مع رسولِ اللهِ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم -، قال : وكان أبو بكرٍ وعمرُ يقومان في الصفِّ المُقَدَّمِ عن يمينِه، وكان رجلٌ قد شَهِدَ التكبيرةَ الأولى من الصلاةِ، فصلى نبيُّ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم، ثم سَلَّم عن يمينِه وعن يسارِه، حتى رَأَيْنا بياضَ خَدَّيْهِ، ثم انفتل كانفتالِ أبي رِمْثَةَ – يعني : نفسَه -، فقام الرجلُ الذي أدرك معه التكبيرةَ الأولى من الصلاةِ يَشْفَعُ، فوثب إليه عمرُ، فأخذ بمَنْكِبَيْهِ فهَزَّه، ثم قال : اجلسْ ؛ فإنه لم يُهْلِكْ أهلَ الكتابِ إلا أنه لم يكن بينَ صلاتِهم فَصْلٌ ؛ فرفع النبيُّ - صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم - بَصَرَه، فقال : أصاب اللهُ بك يا ابنَ الخطابِ !(مشكاة المصابيح)
ترجمہ: حضرت ارزق بن قیس سے مروی ہے کہ ہمارے امام نے ہمیں نماز پڑھائی جن کی کنیت ابورمثہ تھی۔ انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ یہی نماز یا اس جیسی نماز پڑھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ صف اول میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب کھڑے تھے۔ ایک شخص اور تھا جس نے تکبیر اولیٰ پائی تھی۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو پورا کر چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دیکھی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح کھڑے ہوئے جس طرح ابورمثہ کھڑے ہوئے۔ پھر وہ شخض جس نے تکبیر اولیٰ میں شرکت کی تھی وہ دو نفل پڑھنے کے لئے کھڑا ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جلدی سے اس کو کندھوں سے پکڑ لیا اور اس کو جھٹک کر بٹھا دیا اور فرمایا : اہل کتاب اس لئے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے ایک نماز کو دوسری نماز سے علیحدہ نہ کیا۔ اسی وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنکھ اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : اے ابن خطاب! اللہ تعالیٰ خیر کی طرف تمہاری مزیدرہنمائی فرمائے۔
٭ اس کی سند کو شیخ البانیؒ نے مشکوۃ المصابیح کی تخریج میں صحیح قرار دیا ہے ۔(تخريج مشكاة المصابيح : 932)
(3) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ يَعْنِي السُّبْحَةَ (أبو داود :854وابن ماجه :1417)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے ایک آدمی اس بات سے قاصر ہے کہ فرض نماز کے بعد جب نفل نماز شروع کرے تو ذرا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہولیا کرے۔
سبحۃ: فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا
٭ البانی ؒ نے صحیح قرار دیا ہے ۔( صحيح ابن ماجه:1182)
(4) عن المغيرة بن شعبة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يصل الإمام في الموضع الذي صلى فيه حتى يتحول(صحيح أبي داود:616)
ترجمہ: حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ امام جب نماز ختم کرکے دوسری نماز پڑھے تو جگہ بدل دے ۔
فرض و نفل کے درمیان جگہ بدلنے کی علت :
اس کی دو علتیں بیان کی جاتی ہیں۔
(1) تاکہ پتہ چل جائے کہ فرض نماز ختم ہوگئی ہے ، یہ نفل نماز ہے جیساکہ مذکورہ احادیث کے ذریعہ آپ ﷺ کا حکم معلوم ہوتاہے کہ دونمازوں میں کلام یا تبدیلی جگہ کے لئے فصل پیدا کرنا چاہئے۔
(2) سجدے کی جگہ کی کثرت کے لئے کیونکہ سجدے کی جگہ قیامت میں گواہی دے گی ۔
فرض و سنت میں جگہ کے ذریعہ بہترین فصل گھر میں نماز پڑھنا ہے جیساکہ نبی ﷺ کا عمل رہا ہے گوکہ مسجد میں بھی پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
واللہ اعلم
 
Top