ذیشان خان

Administrator
عمل میں اخلاص پیدا کرنا

✍ علامہ ابن القیم الجوزی رحمہ الله

اخلاص:: اللہ تعالٰی کا قرب حاصل کرنے کے لئے بندے کا اپنے ارادہ اور قصد کو تمام آمیزشوں سے پاک کرنا ہے ــ

کسی نے اخلاص کی تعریف بایں طور کی ہے کہ عبادتوں میں بندے کا ساری چیزوں کی نفی کرکے اللہ تعالٰی کا اقرار اور اثبات کرنا ہےــ

اور کسی نے کہا کہ اخلاص بندہ کا خالق کی طرف دوام کرکے مخلوق کی طرف نظر اٹھانے کو بھول جانا ہے ۔

عمل صالح کے مقبول ہونے کے لئے "سنت" کی موافقت کے ساتھ "اخلاص" اس کے لئے شرط اولین ہے ،اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اخلاص پیدا کرنے کا حکم فرمایا ہے:

⚜ ومَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۙ حُنَفَآءَ

اور انہیں اس کے سوا کوئی اور حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی عبادت اس طرح کریں کہ بندگی کو بالکل یکسو ہو کر صرف اسی کے لیے خاص رکھیں (البینہ-۵)

سیدنا ابوامامہ ؓفرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں ایک صاحب نے حاضر ہوکر سوال کیا کہ یا رسول اللہﷺ :ایک شخص جہاد کرتا ہے اور ثواب اور شہرت دونوں چاہتا ہے اس کے لئے کیسا ہے ؟آپ ﷺ نے فرمایا اس کے لئے کچھ نہیں ،ان صاحب نے تین بار یہی سوال کیا اور آپ نے یہی جواب دیا ،پھر آپ ﷺ فرمایا یقینا اللہ تعالٰی صرف وہ عمل قبول کرتا ہے جوخالص اسی کے لئے ہو اور اجس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو(ابوداؤد ،نسائی/فتح الباری٦ /٢٨)

سیدنا ابو سعید خدری ؓکا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا :اللہ تعالٰی اس شخص کو تروتازہ اور شاداب رکھے جس نے میری نات سنی اور پھر اسے اچھی طرح محفوظ کرلی ہو ،بہت سے علم کے اٹھانے والے حقیقت میں عالم نہیں ہوتے ہیں ،اور تین باتیں ایسی ہیں جن پر کسی بندہِ مومن کا دل کینہ اور دشمنی نہیں رکھتا ہے

(۱) اللہ کے لئے عمل میں اخلاص کا ہونا(۲) مسلمان ائمہ کے خیر خواہ ہونا(۳) اور ان کی جماعت کو لازم پکڑو(بزار ،ابن حبان)

مفہوم حدیث: یہ کہ ان تینون خصلتوں سے قلوب کی اصلاح اور درستگی پیدا ہو جاتی ہے،اور ان سے آراستگی کے بعد دل خیانت ،فساد اور شر سے پاک و صاف ہو جاتا ہے ،شیطان کے مکر و فریب سے آدمی کو نجات اخلاص ہی کی بنا پر حاصل ہوسکتی ہے ۔جیسا کہ اللہ تعا لٰی نے فرمایا ”الا عبادك منھم المخلصین “یعنی شیطان نے کہا کہ مگر تیرے مخلص بندے ہیں میں انہیں گمراہ نہ کرسکوں گا_

اخلاص:: ایک بزرگ فرماتے تھے کہ (یا نفس اِخلصی تتخلصی ) اے نفس اخلاص پیدا کر تاکہ دوزخ سے تیری خلاصی اور نجات حاصل ہو

یقینا دنیا کی ہر لذت اور آسائش سے نفس کو سکون اور راحت حاصل ہوتی ہے اور دل کا میلان اس کی طرف اس کی طرف ہوتارہتا ہے ۔اور یہ کیفیت چاہے کم ہو یا زیا دہ ،مگر
میں جب شریک ہوجاتا ہے تو اس سے اس کی زندگی میں گدلاپن آجاتا ہے اور اس کا "اخـــلاص" بھی ختم ہو جاتا ہے بلاشبہ انسان اپنی خواہشوں اور لذتوں میں مست اور ڈوبا ہوا ہے اور اس کی عبادت اور اس کا کوئی عمل بھی دنیاوی غرض اور لذت سے بہت کم ہی پاک و صاف ہوتا ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس کی زندگی میں کوئی ایک لمحہ بھی اگر اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوگیا تو اس کو نجات مل گئی ،کیونکہ اخلاص کا پیدا ہونا بھی بہت مشکل کام ہےــ

اور دل کا آمیزشوں سے خالی ہوجانا آسان نہیں ہے اور اخلاص کا پیدا ہونا اور اللہ تعالیٰ کا قرب اللہ عزوجل کی محبت اور ہمہ وقت آخرت کی فکر سے حاصل ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کے دل میں دنیا کی محبت بالکل باقی نہ رہے اپنے کھانے اور پینے میں اچھی نیت کرکے انہیں عبادت بنانے کی کوشش کرے اور جس کو یہ چیزیں حاصل نہ ہوں تو اس پر اخلاص کا دروازہ بند ہے مگر شاذونادرــ

جس دل پر اللہ تعالیٰ اور آخرت کی محبت غالب رہتی ہے تو پھر اس کا ہر عمل اور جنبش عبادت کے حکم میں ہوجاتی ہے اور اسکا ہر عمل سراپا اخلاص ہوجاتا ہے مگر جس وقت اس پر دنیا کی محبت،جاہ و اقتدار کی ہوس اور تکبر و غرور مختصر یہ کہ اللہ کے سوا ہر چیز غالب ہوجاتی ہے اور پھر اس کی تمام زندگی کے اندر یہ رنگ سرایت کرجاتا ہے یہاں تک کی اس کی نماز اور روزہ اخلاص کے جوہر سے خالی رہتا ہے مگر نادر ہی-

اخلاص پیدا کرنے کا علاج: بتایا گیا کہ نفس کو لذت کی چیزوں سے دور رکھا جائے دنیوی محبت کو ترک کرکے آخرت کی یکسو ہوا جائے، جس وقت یہ جذبہ اور روح کسی پر غالب ہوجاتی ہے تو پھر اخـــلاص کا پیدا ہونا آسان ہوجاتا ہے، بہت سے عمل انسان بڑی محنت سے کرتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ خالصتاً للہ کررہا ہے اور وہ اس کی طرف سے دھوکہ میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ اس نے ابھی تک اس کے نتائج بد کو دیکھا نہیں ہے

حکایت:: ایک حکایت ہے کہ ایک صاحب ہمیشہ صف اول میں نماز پڑھتے تھے ایک روز اتفاق سے کچھ تاخیر ہوگئی اس لئے انہوں نے دوسری صف میں نماز ادا کی اور انہیں لوگوں کی وجہ سے دوسری صف میں نماز پڑھتے ہوئے بہت ندامت گیر ہوئی، پھر ان کو یہاں پر یہ احساس ہوا کہ پہلی صف میں نماز پڑھنے پر خوشی اور دل کی راحت اسی وجہ سے تھی کہ لوگ اس کی طرف دیکھتے تھے

اخلاص کا معاملہ بہت نازک ہے: ریا اور نمود سے بہت کم عمل پاک و صاف ہوجاتے ہیں اور کم ہی لوگ اس کی طرف سے ہوشیار اور پرحذر رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس کو یہ توفیق مل جائےــ اور اس سے غافل ہی لوگ قیامت کے دن اپنی اچھائیاں برائیوں کی شکل میں دیکھیں گے اور ان آیتوں سے یہی لوگ مراد ہے ::

⚜وَبَدَا لَـهُـمْ مِّنَ اللّـٰهِ مَا لَمْ يَكُـوْنُـوْا يَحْتَسِبُوْنَ (زمر:47)

اور اللہ کی طرف سے انہیں وہ پیش آئے گا کہ جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔

⚜قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِيْنَ اَعْمَالًا، اَلَّـذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُـمْ فِى الْحَيَاةِ الـدُّنْيَا وَهُـمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّـهُـمْ يُحْسِنُـوْنَ صُنْعًا(کہف:103/104)

کہہ دو کیا میں تمہیں بتاؤں جو اعمال کے لحاظ سے بالکل خسارے میں ہیں،،وہ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں کھو گئی اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بے شک وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔

📚پیشکش: مجموعہ اللؤلؤ والمرجان
 
Top