ذیشان خان

Administrator
علم حاصل کرنے کی فضیلت

✍ علامہ ابن رجب حنبلی/ابن القیم الجوزی رحمہ اللہ/امام غـزالی رحمھم اللہ

علم کی فضیلت اور اہمیت پر آیات اور احادیث بکثرت موجود ہیں ،ان میں سے چند بطور نمونے کے درج ذیل ہیں:

یرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنٙ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جن کو علم عطا کیا گیا ہے اللہ ان کو درجوں میں بلند کرے گا (المجادلہ:۱۱)

قلۡ ہَلۡ یَسۡتَوِی الَّذِیۡنَ یَعۡلَمُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ
کہو کہ کیا علم جاننے اور نا جاننے والے سب برابر ہو سکتے ہیں ؟(الزمر:۹)

اور فضیلتِ علم کے سلسلہ میں احادیث::

اللہ عزوجل جس کے ساتھ کوئی بھلائی اور خیر کا ارادہ چاہتا ہے تو اس کو دین کی سمجھ بوجھ عطافرماتا ہے“(بخاری)

جوشخص کسی ایسے راستے پر چلے جس میں علم کو تلاش کر رہا ہو تو اللہ تعالٰی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتے ہیں “(ترمذی)

علم کی تلاش کے لئے:: سفر کرنے اور کسی جگہ جانے میں وہ حقیقی راستہ بھی داخل ہے جیسے دور دراز کا سفر طے کرکے علماء اور فقہاء کے یہاں حاضر ہوا جائے اور اس تلاش علم کے اندر وہ معنوی راستہ داخل ہے جو علم کے حصول کا ذریعہ او ر سبب ہوتا ہے ،جیسے علم کا یاد کرنا اور اس کا سمجھنا اور علم کا مذاکرہ وغیرہ ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کا قول مبارک ”سہل اللہ لہ طریقاََ الی الجنتہ" “یعنی جس علم کو اس نے طلب کیا ہے اللہ تعالٰی اس کے لئے آسان فرمادے گا اور راستہ کی دشواریاں دور فرما دے گا ،اور علم ہی سے جنت کی طرف راستہ ملتاہےـ

کسی کا قول ہے:: کوئی علم کا طالب ہے جس پر اس کی مدد اور اعانت کی جائے“اور اس سے مراد قیامت کے دن جنت والا راستہ بھی ہوسکتا ہے ۔اور وہ صراط مستقیم ہے اور جو اس علم سے ماقبل و ما بعد ہے ۔

اللہ تعالٰی کی طرف پہنچنے کا قریب ترین راستہ:: علم کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے ،لہٰذا جو اس راہ پر گامزن ہوگا وہ اللہ اور جنت کی طرف سب سے قریب ترین راہ سے پہنچے گا ،اور علم ہی کے ذریعہ جہالت ،شکوک و شبہات کی تاریکی میں راہنمائی حاصل کریگا اس وجہ سے اللہ تعالٰی اپنی کتاب عزیز کو ”نور“فرمایا ہے

صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ جناب رسولﷺ نے فرمایا : اللہ تعالٰی اس علم کو لوگوں کے سینوں سے نکال کر قبض نہیں فرمائے گا ۔بلکہ علماء کو قبض فرما کر علم کو (بھی ) قبض فرمائے گا جب علماء باقی نہ رہ جائیں گے تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنالیں گے ۔تو یہ لوگ ان سے مسئلہ دریافت کریں گے تو وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے ۔خود گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کریں گے(متفق علیہ)

سیدنا عبادہ بن صامت ؓ سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا :اگر تم اس کا معنی جاننا چاہتے ہو تو تم کو بتلاتا ہوں کہ سب سے پہلا علم جو لوگوں سے اٹھے گا وہ خشوع ہوگا

حضرت عبادہ ؓنے یہ اس لیے فرمایا کیونکہ علم کی دو قسم ہے ،ان سے ایک یہ کہ اس کا نتیجہ اور پھل انسان کے دل میں ہوتا ہے اور یہ علم اللہ کی خشیت ،اس کے جلال ،اس کی محبت ،اس سے امید اور اس پر توکل کا مقتضی ہوتا ہے اور یہی علم نافع ہے

جیسا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا: کچھ ایسے لوگ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں ان کے نرھٹیوں سے متجاوز نہیں ہوتا ہے،لیکن جس وقت دل میں اترجائے اور اس میں راسخ ہوجائے تو فائدہ مند ہوگا

حضرت حسن بصری ؒ نے فرمایا علم دوطرح کا ہوتا ہے علم لسانی (یعنی زبان کا علم) تو یہ علم ابن آدم کے خلاف حجت ہوگا ،جیسا کہ حدیث میں آیا ہے ”القرآن حجتہ لک او علیک “ یعنی قرآن تمہارے موافق حجت ہوگا یا مخالف ،اور ایک علم کی قسم باطنی ہے جو دل میں ہوتا ہے اور یہی عـــلم نافع ہے ،اور سب سے پہلا علم جو اٹھے گا وہ یہی علم نافع اور مفید ہے اور اسی علم کا نام علم باطن بھی ہے جو دل میں پیوست ہوکر اصلاح کرتا ہے اور (آخر زمانہ میں) علم ظاہر باقی رہ جائے گا ،لوگ اس کے ساتھ سستی اور لاپرواہی برتیں گے اور اصحاب علم اور انکے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کے تقاضوں پر عمل نہیں کریں گے ۔پھر یہ علم کے رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ مٹ جائے گا ۔اور قیامت بد ترین لوگوں پرقائم ہو جائے گی

📒پیشکش: مجموعہ اللؤلؤ والمرجان
 
Top