ذیشان خان

Administrator
کتب_علم_مصطلح_الحديث (1)

✍⁩حافظ عبدالرحمن المعلمی

اہل علم نے کتب مصطلح الحدیث کو دو انواع میں تقسیم کیا ہے ۔

1)وہ کتب جو امام ابن الصلاح سے قبل لکھی گئی ہیں
2)وہ کتب جو امام ابن الصلاح اور ان کے بعد کے ادوار میں لکھی گئی ہیں ۔

سب سے پہلے اس فن میں کلام کرنے والے امام شافعی رحمہ اللہ (ت204) ہیں جنھوں نے اپنی مشھور کتاب "الرسالہ" میں اس پر گفتگو فرمائی ہے ۔

امام حمیدی کا اصول الروایۃ میں ایک جزء ہے جب کہ امام مسلم نے اپنی "الصحیح " کے مقدمہ میں اس پر کلام کیا ہے

امام ابوداؤد نے اہل مکہ کی طرف جو رسالہ لکھا اس میں بھی اصول حدیث پر کلام کیا گیا تھا ۔

امام ترمذی رحمہ اللہ نے العلل الصغیر میں کافی مباحث کو ذکر کیا ہے ۔

یہ تمام کتب دوسری اور تیسری صدی ہجری کے درمیان لکھی گئی ہیں۔

امام ابن حبان نے اپنی کتب " الصحیح " ، "الثقات" اور "المجروحین " کے مقدمے میں مصطلح الحدیث پر پر سیر کلام فرمایا ہے

امام خطابی رحمہ اللہ نے شرح سنن ابی داؤد " معالم السنن " میں علوم حدیث کا ذکر کیا ہے ۔
یہ پہلے امام ہیں جنھوں نے حدیث کے قبول و مردود ہونے کے اعتبار سے تین اقسام (صحیح/حسن/ضعیف) میں تقسیم کیا ہے ۔

امام رامھرمزی (ت 360 ) نے اپنی کتاب "المحدث الفاضل۔۔۔" میں مصطلح الحدیث پر تفصیلی کلام ذکر کیا ہے ۔

ابو الحسن علی بن محمد بن خلف القابسی (403)نے مختصر المؤطا کے مقدمہ میں ان مباحث کو ذکر کیا ہے ۔

امام ابو عبداللہ الحاکم نیشاپوری (ت405) نے اس فن میں "معرفۃ علوم الحدیث “ نامی کتاب لکھی ہے ۔

یہ وہ تمام کتبِ علوم حدیث ہیں جو چوتھی صدی ھجری میں لکھی گئی تھیں ۔

امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس فن پر مختلف کتب لکھی جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قلَّ فن من فنون الحديث إلا و قد كتب فيه كتابا مفرداً.

لیکن اصول الروایہ میں سب سے اھم کتاب "الکفایہ فی علوم الروایہ"ہے ۔

حافظ ابو یعلیٰ خلیل بن عبداللہ بن احمد الخلیلی (ت 446) نے اپنی کتاب "الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث" کے مقدمہ میں مصطلح الحدیث پر بڑا نفیس کلام ذکر کیا ہے ۔

امام بیھقی رحمہ اللہ (ت458) نے اس فن میں بنام(المدخل الی السنن الکبری) کتاب لکھی ہے ۔
لیکن اس کا مصطلح الحدیث والا حصہ مفقود ہے ۔
امام بیھقی نے اپنی دیگر کتب دلائل النبوۃ اور معرفۃ السنن و الآثار کے مقدموں میں بھی مصطلح الحدیث کی کافی مباحث کو ذکر کیا ہے۔

امام ابن عبد البر الاندلسی (ت463) نے اپنی کتاب "التمھید۔۔۔۔"کے مقدمے میں مصطلح الحدیث پر تفصیلی بحث کی ہے۔

امام ابن حزم الظاھری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "الاحکام فی اصول الاحکام " میں مصطلح الحدیث" پر تفصیلی بحث کی ہے ۔

یہ تمام کتب پانچویں صدی ھجری میں لکھی گئی ہیں ۔

قاضی عیاض رحمہ اللہ (ت544) نے اصول الروایہ پر کتاب "الالماع الی معرفۃ اصول الروایۃ وتقیید السماع"لکھی ۔
اور شرح صحیح مسلم کے مقدمہ میں بھی مصطلح الحدیث پر کلام کیا ہے۔

ابو الحفص المِیَّانِشی عمر بن عبدالحمید بن عمر القرشی (ت583) نے ایک رسالہ لکھا تھا "ما لا یسع المحدث جہلہ)

اس دور میں دیگر کئی کتب لکھی گئی جن میں مصطلح الحدیث کی مباحث ذکر کی گئی تھیں لیکن ان کا موضوع یہ نہیں تھا مثلا " شروط الآئمۃ الستہ " للمقدسی "(ت507) "شروط الآئمۃ الخمسہ" للحازمی (ت585) و غیرہ ہیں

اس کے بعد امام ابن الصلاح اور ان کے بعد کے ادوار میں لکھی جانے والی کتب شروع ہوتی ہیں جن کا ذکر ہم آئندہ کریں گے ۔
 
Top