ذیشان خان

Administrator
علم دین، سیکھنے سے آئے گا۔

عربی مضمون: شیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ

تلخیص و ترجمانی: حافظ عبدالرشید عمری

مکہ کی ایک مسجد میں 2018م میں شیخ نے ایک علمی محاضرہ (لیکچر) دیا تھا،
اسی محاضرہ کو "إنما العلم بالتعلم" کے عنوان سے مضمون کی شکل دی گئی ہے۔
راقم نے علم دوست اردو داں طبقہ کی افادیت کے پیش نظر اس علمی مضمون کی تلخیص و ترجمانی کی ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے مروی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے "إنما العلم بالتعلم" علم(دین) تعلم(محنت سے سیکھنے) ہی سے حاصل ہوگا۔
حدیث کے اس ٹکڑے کی درج ذیل چند اہم مسائل کے تحت شرح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

پہلا مسئلہ: صحیح البخاري میں اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے کتاب العلم میں باب العلم قبل القول والعمل کے تحت تعلیقا(سند کے بغیر) ذکر کیا ہے۔
اور شیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ نے کئی احادیث کی کتابوں کے حوالوں سے مذکورہ حدیث کی تحقیق کرنے کے بعد اخیر میں یہ کہا ہے۔
فالحديث أعني قوله:"إنما العلم بالتعلم" لا ينزل - إن شاءالله- عن الحسن لغيره، بسنده عن معاوية مرفوعا و يشهد له وروده موقوفا عن ابن مسعود و أبي الدرداء .
یعنی حدیث رسول کا یہ ٹکڑا" إنما العلم بالتعلم" إن شاء اللہ حسن لغیرہ سے کم درجہ کا نہیں ہے
کیوں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مرفوعا وارد ہے
اور یہی حدیث ابن مسعود اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے موقوفا مروی ہے
اس طرح یہ موقوف حدیث مرفوع حدیث کے لئے بطور شاہد ہے۔
اور شیخ نے اپنی تحقیق حدیث میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة(حدیث نمبر : 342) کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

( تفصیل کے لئے دیکھئے سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحدیث: ٣٤٢/ جلد نمبر 1/ القسم الثانی صفحہ نمبر 670 تا 672
ناشر: مكتبة المعارف للنشر و التوزيع- الرياض.
سنة الطبع: ١٤١٥ھ- ١٩٩٥م ) (مترجم)

دوسرا مسئلہ: علم سے مراد علم شرعی ہے
علم شرعی وہ ہے جو اللہ کے کلام اور اس کے رسول کی سنت پر قائم ہو
اور علم شرعی وہ ہے جو صحابہ سے منقول ہو
اس طرح ہر شرعی نص (قرآن و سنت) میں وارد علم سے مراد علم شرعی ہی ہے۔

تیسرا مسئلہ: حدیث کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ وہی علم معتبر ہے جو انبیاء و رسل اور ان کے وارثین سے علم حاصل کرتے ہوئے سینہ بہ سینہ منقول ہوا ہو،
کیوں کہ "تعلم" باب تفعل سے ہے
اور اس باب سے آنے والے فعل کی خاصیت میں کسی چیز کو محنت و مشقت سے پوری توجہ سے حاصل کرنے کا معنی پایا جاتا ہے۔

چوتھا مسئلہ: اس حدیث کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ علم دین اور شرعی احکام کی معرفت صوفیانہ اصطلاحات کشف،تجلی،اشراق اور تخلی سے حاصل نہیں ہوگی۔
یہ صوفی حضرات کہتے ہیں کہ تمہارا علم تو ایک مردہ سے دوسرے مردہ کو منتقل ہوتے ہوئے آیا ہے
اور ہمارا علم تو اس زندہ ذات کی جانب سے آیا ہے جس کو کبھی موت نہیں آئے گی۔
وہ کہتے ہیں: حدثني قلبي عن ربي
میرے دل نے میرے رب سے بات کی
علم شرعی میں اس طرح کے کشف و منامات کا کوئی اعتبار نہیں ہے
کیوں کہ علم شرعی علماء شریعت کے ذریعہ تعلم (سیکھنے) سے حاصل ہوگا۔

پانچواں مسئلہ: علم شرعی صرف عقل کے بل بوتے پر کبھی بھی حاصل نہیں ہوگا
اس لئے عقل کے کسی چیز کو اچھا سمجھنے یا برا سمجھنے کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
اللہ تعالٰی کی شریعت میں تین قسم کی حکمتیں ہیں۔
پہلی حکمت: یقینا کسی قوم میں نبی کے مبعوث ہونے سے قبل اور شریعت کے نزول سے قبل بھی کوئی فعل اچھا اور کوئی فعل برا ہو سکتا ہے
جس طرح عدل سے دنیا میں امن قائم ہوتا ہے
اور ظلم سے دنیا میں فساد برپا ہوتا ہے
ایک فعل کا اچھا ہونا اور دوسرے فعل کا برا ہونا عقل اور شریعت دونوں سے معلوم ہوتا ہے
لیکن نبی کی بعثت سے قبل کوئی قوم اگر کسی برے فعل کی مرتکب ہوتی ہے
تو اللہ تعالٰی اس فرد اور قوم کو آخرت میں سزا نہیں دے گا۔
عقل کے ذریعے کسی فعل کو اچھا اور کسی فعل کو برا قرار دینے والے عقل پرست حضرات کہتے ہیں کہ نبی کی بعثت سے قبل بھی کسی قوم کو اس کے برے فعل پر آخرت میں سزا دی جائے گی۔
حالانکہ اس طرح کا غلط تصور قرآن و سنت کے نصوص سے ثابت صحیح عقیدہ کے خلاف ہے ۔
دوسری حکمت: شریعت میں دوسری قسم کی حکمت یہ کہ شریعت جس فعل کا حکم دے،
تو وہ حسن(اچھا) ہے ۔
اور شریعت جس فعل سے منع کرے،
تو وہ قبیح(برا) ہے ۔
نزول شریعت کے بعد عقل کا کسی چیز کے بارے میں اچھا یا برا خیال کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔
(بلکہ شریعت میں صرف شریعت کے ہی حسن و قبیح کا اعتبار ہوگا۔)

تیسری حکمت: اور شریعت میں تیسری قسم کی حکمت یہ ہے کہ شارع کسی چیز کا حکم دیتا ہے
تو شارع کی جانب سے بندہ کی صرف اطاعت و عصیان کا امتحان مقصود ہوتا ہے ،
بندہ کا مامور چیز کو انجام دینا شارع کا مقصود نہیں ہوتا ہے۔
جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالٰی اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا ۔
اسی طرح صحیح حدیث سے ثابت قصہ میں کوڑھے گنجے اور اندھے تینوں أشخاص کو اللہ تعالٰی نے فرشتوں کو بھیج کر ان تینوں کی خواہش کے مطابق ان کے جسمانی أمرض سے شفایابی دیا اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا
پھر اس کے بعد اللہ تعالٰی کا فرشتوں کو بھیج کر ان تینوں کا امتحان لیا،
جس میں کوڑھا اور گنجا دونوں ناکام ہوگئے
اور اندھا شخص کامیاب ہو گیا۔
تینوں سے مال لینا مقصود نہیں تھا
صرف امتحان مقصود تھا۔
معتزلہ نے شریعت میں وارد احکامات کی حکمتوں کو نہیں سمجھا،
اور یہ عقل پرست حضرات باطل دعوی کر بیٹھے کہ شریعت کے احکام کے بغیر بھی ہم عقل سے کسی فعل کے اچھا ہونے اور برا ہونے کو سمجھ سکتے ہیں۔
اس قسم کا غلط تصور درحقیقت ان کا شریعت کو کماحقہ نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔
اور اشاعرہ نے دعوی کیا کہ شریعت سے پہلے بھی اور شریعت کے بعد بھی شارع کی جانب سے بندوں کو دئے گئے اوامر و نواہی میں حسن اور قبیح صفت اور منفعت و مضرت کا کوئی اعتبار نہیں ہے
بلکہ شرعی تعلیمات کا مقصد صرف اور صرف امتحان ہے
لیکن اہل سنت و جماعت کے عقیدہ کے حامل شرعی احکام میں کار فرما حکمتوں اور اسرار سے واقف شرعی علوم کے ماہر علماء اور حکماء شریعت میں مذکورہ تینوں حکمتوں کو ثابت کرتے ہیں۔

چھٹا مسئلہ: علم شرعی کے حصول میں مختلف قسم کی صوفیانہ عملی ریاضتوں(مشقتوں)، تنہائیوں اور خرق عادت کرامتوں کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے۔
بلکہ علم دین کے حصول کا صحیح طریقہ قرآن و سنت کے نصوص اور فہم سلف ہے۔
اور اس علم دین کو انبیاء کے وارثین علماء کرام کی مجلسوں میں بیٹھ کر حاصل کرنا ہے۔

ساتواں مسئلہ: اس حدیث سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ حصول علم میں محنت و مشقت کد و کاوش اور عرق ریزی و جاں فشانی درکار ہے
حصول علم کی راہ میں شرم، تکبر اور آرام پسندی جیسی بری صفات بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔
علم میں رسوخ حاصل کرنے کے لئے مختلف جگہوں کی خاک چھاننا، مختلف شہروں کا سفر کرنا،علم کے سمندر جیسے علماء کرام کو تلاش کرنا اور ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا حصول علم کی راہ میں لازمی شرائط ہیں۔

آٹھواں مسئلہ: علم شرعی کسی مخصوص اہل فن، کسی مخصوص اہل صنعت و حرفت،کسی مخصوص خاندان و قبیلہ اور کسی مخصوص ملک اور شہر کے ساتھ خاص نہیں ہے،
بلکہ علم دین پوری دنیا کےمسلمانوں لئے اور ساری دنیا کے انسانوں کے لئے عام ہے۔
علم دین،تعلم( محنت سے سیکھنے) ہی سے حاصل ہوگا ۔

نواں مسئلہ: اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ علم دین کوئی فری تقسیم ہونے والا تحفہ ہدیہ اور عطیہ نہیں ہے،
علم شرعی کسی مدرسہ و جامعہ سے ملنے والی شھادت ( سرٹیفکیٹ) اور کسی عالم کی جانب سے تزکیہ (علمی توثیق) کے ملنے کا نام بھی نہیں ہے
بلکہ علم دین حقیقی تعلم (حقیقی علمی و عملی کوششوں اور قربانیوں) سے حاصل ہوگا۔

دسواں مسئلہ: علم دین اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت سے فہم سلف کے مطابق حاصل ہونے والے علم کا نام ہے
تقلید یا کسی غیر شرعی طریقہ سے حاصل ہونے والے علم کا نام، علم دین نہیں ہے۔

گیارہوں مسئلہ: اس حدیث میں اس بات کی بھی ترغیب دی گئی ہے کہ علم دین میں خوب محنت کرو
اور علم دین کے حصول کا صحیح طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ علم دین براہ راست علماء سے حاصل کرو کیونکہ وہ انبیاء کے وارثین ہیں۔

بارہواں مسئلہ: اس حدیث سے یہ حکم شرعی ثابت ہوتا ہے کہ خواب میں پیش آنے والا کوئی بھی منظر یا قصہ علم دین نہیں کہلاتا ہے
کیوں کہ علم تو تعلم (سیکھنے) سے حاصل ہوگا۔
تو غیر نبی کے خواب کا علم دین میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔

تیرہواں مسئلہ: حلم(برد باری) کی صفت تحلم(برد باری کی کوشش) سے حاصل ہوگی۔
برد باری اسلامی شریعت میں ایک قابل تعریف صفت ہے
ایک مسلمان غم و غصہ کے موقع پر اپنے نفس کو اسلام کے احکام کا پابند بناتا ہے
اور بردباری کی صفت کے حامل مسلمان سے غم و غصہ کے موقع پر بھی کوئی خلاف شرع کام سرزد نہیں ہوتا ہے۔
بعض لوگوں میں یہ صفت اللہ تعالٰی فطری طور پر پیدا کرتا ہے
اور اکثر لوگوں میں یہ نیک صفت اللہ کی توفیق سے کسبی(عملی محنت) سے حاصل ہوتی ہے۔

( اس لئے ہر مسلمان کو علم و عمل سے متصف ہونے کے لئے اسلامی تعلیمات کے مطابق بہت ہی محنت اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

اللہ تعالٰی ہم علماء کرام کو تادم علم نافع حاصل کرنے اور اس کو عام توفیق عطا فرمائے، آمین۔ )

شیخ محمد بن عمر بازمول حفظہ اللہ کے 2018م میں مکہ کی ایک مسجد میں دئے گئے محاضرہ (لیکچر) کو مضمون کی شکل دی گئی ہے۔

(اردو داں طبقہ کی افادیت کے پیش نظر اسی عربی مضمون کی تلخیص وترجمانی کی گئی ہے)
 
Top