ذیشان خان

Administrator
تنقید شخصیت پر ہو یا نظریہ پر؟

فاروق عبد اللہ نراین پوری

محترم قارئین! آپ نے یہ وائرل میسیج ضرور پڑھا ہوگا، ہو سکتا ہے اس سے متاثر بھی ہوئے ہوں۔

(تنقید کا ایک سنہرا وعمدہ اصول: اچھے دماغ کے لوگ ہمیشہ خیالات پر تنقید کرتے ہیں جب کہ کمزور دماغ کے لوگ ہمیشہ شخصیات پر تنقید کرتے ہیں)

یہ اصول سننے میں جتنا بھی اچھا لگے اور دماغ جتنی بھی داد دے کوئی اسلامی اصول نہیں ہے۔ بلکہ اگر آپ غور کریں تو یہ اصول آپ کو اسلام اور سلف صالحین کے منہج سے متصادم نظر آئےگا۔
اسلام تنقید کے وقت شخصیت کو پہلے دیکھتا ہے، اگر وہ کسی مسلم مستقیم شخص سے صادر ہو تو نظریہ پر تنقید کرتا ہے شخصیت پر نہیں۔”ما بال أقوام يفعلون كذا“ کا اسلوب یہاں اپناتا ہے۔

لیکن اگر کسی اسلام دشمن عنصر سے صادر ہو، کسی منحرف فکر کے حامل شخص یا کسی بدعتی سے صادر ہو تو یہاں شخصیت پر بھی اسی طرح تنقید کرتا ہے جس طرح نظریہ پر۔ اس وقت نام لے کر اس کی گمراہیوں سے لوگوں کو بچنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اس وقت ”تبت يدا أبي لهب وتب” اور ”بئس أخو العشيرة“ کا اسلوب اپناتا ہے۔

سلف صالحین کی پوری زندگی اسی اصول سے عبارت ہے۔ انھوں نے نظریات کے ساتھ ساتھ ان فاسد نظریات کے حاملین پر بھی خوب خوب رد کیا ہے۔
صرف ”الرد علی فلان“ کے عنوان سے ان کی تحریریں جمع کی جائیں تو پورا مکتبہ بھر جائےگا۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی بے شمار تحریریں اس کی بین دلیل ہے۔ ان کی ”الرد علی الاخنائی“، ”الرد علی البکری“ جیسی متعدد شاہکار تصنیفات اصول سلفیت کی زندہ مثالیں ہیں۔

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے "میزان الاعتدال في نقد الرجال" میں ایسے بے شمار لوگوں پر تنقید کی ہے جن کا روایت حدیث سے کوئی تعلق نہیں ہے، صرف لوگوں کو ان کی گمراہیوں سے بچانے کے لئے ان کا ذکر کیا ہے۔

اس فاسد اصول سے اخوانیوں کو بہت لگاو ہے، بلکہ سلفیوں اور اخوانیوں کے مابین یہ ایک خط تمییز ہے۔

ہمارے علما نے منحرف افکار رکھنے والوں پر نام لے کر رد کرنے میں کبھی کوئی تردد محسوس نہیں کی۔ اور آج بھی الحمد للہ سلفی علما اس اصول پر عمل پیرا ہیں۔

امام حرم مکی شیخ دحلان نے جب قبر پرستوں کی حمایت کی اور اسلام کے نام پر شرک وبدعات کی تبلیغ واشاعت شروع کر دی تو ہمارے ہندوستان سے ہی علامہ محمد بشیر سہسوانی رحمہ اللہ (متوفى: 1326ھ) نے ان کا نام لے کر دندان شکن جواب لکھا۔ آج بھی توسل اور وسیلہ کے باب میں ان کی کتاب ”صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان“ سب سے بے نظیر کتاب مانی جاتی ہے۔
بلکہ حال ہی میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ کی کتابیں اٹھا لیں سلفیت اور اخوانیت کا فرق معلوم ہو جائےگا۔ حافظ رحمہ اللہ نے نام لے کر مولانا مودودی، امین احسن اصلاحی اور غامدی جیسے منحرف افکار کے حاملین پر زبردست رد لکھا۔
اسی طرح آج بھی ہم میں سے اکثر وبیشتر حضرات سلمان ندوی کے ہفوات پر نام لے کر ان کا رد لکھ رہے ہیں۔

تو میرے بھائیو! یہ کوئی کمزور دماغ والوں کی پہچان نہیں بلکہ عین سلفیت ہے۔ ہمارے نزدیک ضرورت ہو تو نام لے کر رد کرنا انتہائی ضروری ہے، اور یہی ہمارے سلف صالحین کا طرہ امتیاز رہا ہے، لا یخافون فی اللہ لومۃ لائم۔

اللهم أرنا الحق حقًا، وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا، وارزقنا اجتنابه.
 
Top