ذیشان خان

Administrator
تکبیرات الانتقال کے احکام
===============
مقبول احمد سلفی

نماز میں ایک حالت سے دوسری حالت میں جاتے وقت تکبیر کب کہنی چاہئے ؟
اس سلسلے میں لوگوں کے درمیان متعدد عمل پایا جاتا ہے مگر میں حدیث کی روشنی میں صحیح عمل آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں ۔
تکبیرات کے سلسلے میں ایک ہی حدیث پڑھ لینا کافی ہے۔
عن أَبي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ ، ثُمَّ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْد ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا ، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنْ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ (رواه البخاري :789ومسلم :392) .
ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے ۔ پھر جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے ہی کھڑے ربنا لک الحمد کہتے ۔ پھر جب دوسرے سجدہ کے لیے جھکتے تو تکبیر کہتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے ۔ اسی طرح آپ تمام نماز پوری کر لیتے تھے ۔ قعدہ اولیٰ سے اٹھنے پر بھی تکبیر کہتے تھے ۔
اس حدیث سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ جب قیام سے رکوع جانے لگتے تو جاتے ہی وقت یعنی حرکت کرتے وقت ہی تکبیر پڑھ لیتے اور جب رکوع سے سر اٹھانے لگتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ۔ اسی طرح جب سجدہ جانے لگتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ سے اٹھانے لگتے تو تکبیر کہتے ۔
اس لئے سنت طریقہ یہی ہے کہ ایک رکن سے دوسرے رکن جاتے ہوئے تکبیر کہے ۔ اگرتکبیر کہتے ہوئے دوسرے رکن میں چلاجائے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن بہتر ہے اس سے پہلے ہی ختم کرلے جیساکہ سنت سے ظاہرہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ تکبیرات الانتقال امام ، مقتدی اور منفرد سب کے حق میں مشروع ہے ۔ مقتدی کے تکبیر کہنے کی دلیل یہ ہے ۔
عن أبي هُرَيرةَ رضيَ اللهُ عنه، قال:كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم يعلِّمُنا يقولُ: لا تُبادروا الإمامَ، إذا كبَّر فكبِّروا، وإذا قال: ولا الضَّالِّينَ فقولوا: آمين، وإذا ركَع فاركَعوا، وإذا قال: سمِع اللهُ لِمَن حمِده، فقولوا: اللهمَّ ربَّنا لك الحمدُ۔(صحیح مسلم : 415)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نمازکی تعلیم) دیتے ہوئے فرماتے: تم امام سے جلدی نہ کرو۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو، جب وہ "لا الضالین" کہے تو تم آمین کہو، جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو، جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم"اللھم ربنا لک الحمد "کہو۔
اس حدیث سے پتہ چلا کہ مقتدی کو بھی امام کی تکبیر کے بعد تکبیر کہنی چاہئے ۔
تکبیر کے سلسلے میں چند غلطیوں کی طرف نشاندہی :
(1) اولا بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مقتدی کو بھی تکبیر کہنی چاہئے ثانیا جنہیں معلوم ہے ان میں سے بھی بہت کم لوگ اس پہ عمل کرتے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہئے کہ سارے مقتدی بھی تکبیر کہیں مگریہاں یہ جان لینا چاہئے کہ امام کی تکبیر بلند ہونی چاہئے اور مقتدی کی تکبیر سرا(آہستے) ہونی چاہئے ۔
(2) یہ طریقہ غلط ہے کہ امام بغیر حرکت کئے پہلے تکبیر کہہ دے پھر دوسری حالت میں جائے۔
(3) اسی طرح یہ بھی غلط ہے کہ ایک حالت سے دوسری حالت میں چلاجائے پھر تکبیر کہے۔
(4)عام طور سے برصغیرکے امام تکبیر کھیچ کھیچ کر(لمبی کرکے) پڑھتے ہیں جس سے سنت کی مخالفت کے ساتھ نفس پہ بھی شاق گذرتا ہے جبکہ سنت طریقہ یہ ہے کہ فطری طور پہ تکبیر کی جو ادائیگی ہوسکے بس اسی قدر کھیچنا چاہئے۔
اللہ تعالی ہمیں سنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے آمین ۔
 
Top