ذیشان خان

Administrator
"شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی رحمہ اللہ،عظیم محدث وشارح"

✍ حافظ محمد طاھر بن محمد

گزشتہ دنوں ایک حدیث کی شرح کے حوالے سے تردد تھا ، فتح الباری میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے دواحتمالات پیش کر کے سکوت فرمایا تھا، مختلف شروحاتِ حدیث دیکھنے کے دوران اسی تردد میں تھا کہ شیخ محمد اثیوبی رحمہ اللہ کی مایہ ناز شرحِ صحیح مسلم بنام "البحر المحیط الثجاج" کی طرف رجوع کیا،شیخ رحمہ اللہ نے نہایت سادگی سے وہی دونوں احتمالات ذکر کرنے کے بعد فرمایا:"حدیث کے ظاہری الفاظ پر غور کرلیں تو پہلا احتمال ہی زیادہ اولیٰ ہے۔"اور واقعی ہی جیسے ہی حدیث کے الفاظ پر دوبارہ نظر دوڑائی تو شیخ کی بات بالکل دل کو لگی اور اضطرب ختم ہوا۔ دل میں شیخ رحمہ اللہ کی سلامتی و صحت وعافیت کے ساتھ طولِ عمر کی دعائیں کیں، ابھی دو دن ہی گزرے تھے کہ جمعرات 21 صفر 1442ھ(8 اکتوبر 2020ء)کو شیخ کی وفات کی خبر ملی، غم و پریشانی کی کیفیت طاری ہوگئی ، یقینا علماء و مشایخ کی وفات الم ناک حادثہ ہےاور یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے۔(صحیح بخاری :100)

نام ونسب اور ابتدائی تعلیم :
شیخ رحمہ اللہ کاپورا نام محمد بن علی بن آدم بن موسی اثیوبی تھا، افریقہ کے علاقے ایتھیوپیا میں لگ بھگ 1366ہجری کو پیدا ہوئے، والدِ گرامی شیخ علامہ علی بن آدم رحمہ اللہ کا بھی اپنے علاقے کے کبار علماء میں شمار ہوتا تھا اور وہ قاضی بھی تھے۔ صغرِ سنی میں ہی قرآنِ مجیدکی تعلیم حاصل کر لی،پھر مقامی مدرسے کے نصاب کے مطابق کچھ درسی کتب پڑھیں۔
علومِ شرعیہ کے فنون کی کتب اپنے والد محترم سے ہی پڑھیں،جن میں اصول فقہ ، نحو ،صرف اور بلاغت کے علوم شامل ہیں، چونکہ مقامی لوگوں کا فقہی مذہب حنفی تھا تو آپ کے والد نے حنفی کتبِ فقہ مختصر قدوری مع شروحات، کنز الدقائق مع شرح علامہ عینی وغیرہ پڑھائیں،شیخ نے اکثر تعلیم اپنے والدِ محترم سے حاصل کی تھی ،اس لیے ان کا حد درجہ احترام کرتے،بلکہ اپنی مولفات پر نام لکھتے وقت یوں لکھا کرتے: محمد ابن الشیخ العلامہ علی بن آدم۔
اس کے بعد شیخ نے اپنے علاقے کے مختلف اہلِ علم و مشایخ سے استفادہ کیا اور بہت سی کتبِ حدیث کا سماع بھی کیا جن میں صحیح البخاری ، صحیح مسلم مع شرح نووی،سنن ابو داود، جامع الترمذی، سنن ابن ماجہ ، اور السنن الکبری للبیہقی کے ابتدائی ابواب وغیرہ۔

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت:
بچپن سے ہی شیخ کو علمِ حدیث کا شوق ولگن پید اہوگیا،فرماتے ہیں:جب میرے والد صحیح بخاری پڑھاتے تو میں دیوار کے پیچھے چھپ کر سنتااور میرا دل حدیث کو سننے کے لیے تڑپتاپھر اس کے بعد میں دورانِ تعلیم،صحیح احادیث کو تلاش کرتا اور ان پر عمل کی کوشش کرتا،میرے علاقے والے چونکہ حنفی تھے اورحدیث پر عمل کا رجحان نہ تھا،لیکن میں نے احادیث پڑھ لینے کے بعد رفع الیدین شروع کر دیاتھا۔(الموقع الرسمی للشیخ)

بلادِ حرمین کی طرف ہجرت:
تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد شیخ نے اپنے علاقے میں ہی تدریس کا آغاز کر دیا ،بعد ازں ایتھیوپیا میں کمیونیزم آجانے کی وجہ سے شیخ نے مکہ کی طرف ہجرت کرنے کاقصد کیا،یہاں پہنچ کر تدریس کا ارادہ کیا لیکن اسناد و سرٹیفیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے المعہد الحرم المکی میں بطورِ طالبِ علم داخلہ لے لیا. بعد ازاں دار الحدیث الخیریہ میں داخلہ انٹرویو کے دوران علمی لیاقت کی خبر ہونے پر وہیں مدرس تعینات ہو گئے۔اس وقت دار الحدیث الخیریہ کی مجلس کی ادارت کے رئیس فضیلۃ الشیخ عبد العزیزابن باز رحمہ اللہ (م:1421ھ) تھے۔

آپ وہابی ہوگئے ہیں؟؟؟
شیخ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں آکر شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، عالمِ ربانی ابن القیم اور امام الدعوہ شیخ محمدبن عبد الوہاب رحمہم اللہ کی کتب کا مطالعہ کیا تو اپنے آبائی مذہب اشعری اور برے عقائد کو چھوڑ کر باقاعدہ کتاب وسنت کی راہ کو اپنا لیا۔جب میں والدسے ملنے آبائی ملک گیا تو وہاں کہنے والے نے کہا کہ آپ وہابی ہو گئے ہو۔میں نے کہا نہیں بلکہ میں تو پہلے سے اسی منہج پر تھاکہ صحیح نصوص کی پیروی کرتا ہوں۔

تالیفات:
شیخ رحمہ اللہ کی وجہ شہرت ان کی کثرتِ تصنیف ہے، ان کے متعلق معروف ہیں کہ وہ خود ہی اپنی کتب براہِ راست کمپیوٹر پر لکھاکرتے تھے، لہذا لکھنے میں بھی آسانی ہوتی اور طباعت کے اخرجات بھی کم ہوتے ، شیخ نے قریبا ہر فن میں کوئی نہ کوئی کتاب تالیف کی ہےاور خصوصا علوم حدیث میں آپ کی گراں قدر تصنیفات طلابِ علم کی علمی پیاس بجھانے کا سامان ہیں، فنون میں لکھی گئی اکثر کتب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نثر کی بجائے نظم کی صورت میں ہیں،ذیل میں شیخ کی بعض شروحات وتصانیف کا مختصر ذکر کیا جارہاہے، جن سے ان کی علمی قدر ومنزلت کا اندازہ ہوتا ہے.

شروحات ِ حدیث :
1۔ البحر المحیط الثجاج فی شرح صحیح الامام مسلم بن الحجاج ، یہ 45 جلدوں پر مشتمل ہے۔
2۔ ذخیرۃ العقبی فی شرح المجتبی ، یہ سنن النسائی کی شرح پرہے جو 42 جلدوں پر مشتمل ہے۔
3۔مشارق الانوار الوہاجہ ومطالع الاسرار البہاجہ فی شرح سنن ابن ماجہ ، یہ چار 4 مجلدات ہیں، البتہ سنن ابن ماجہ کے مقدمے کی شرح رہ گئی تھی ، جسے پورا کرنے کی خواہش رکھتے تھے.
4۔اتحاف الطالب الاحوذی بشرح جامع الامام الترمذی، یہ سنن الترمذی کی شرح ہے، اس کی متعدد جلدیں ہو چکی تھیں، ابھی نا مکمل ہے، شیخ اسے بھی مکمل کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے.

عقیدہ وتوحید:
عقیدے میں شیخ رحمہ اللہ نے ہزار اشعار پر مشتمل ایک منظومہ لکھا جس کا نام : الدرۃ المضیہ نظم توحید رب البریۃ ہے.

علوم الحدیث:
1۔شرح الفیۃ السیوطی فی الحدیث، یہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ(م:911ھ)کےمعروف نظم "الدرر فی علم الاثر"کی شرح ہے جو 2 جلدوں پر مشتمل ہے۔
2۔ قرۃ عین المحتاج فی شرح مقدمۃ صحیح مسلم بن الحجاج ،یہ امام مسلم رحمہ اللہ کی صحیح کے آغاز میں ذکر کردہ مقدمے کی شرح ہے،یہ 2 جلدوں میں ہے۔
3۔ منظومة عمدة المحتاط في معرفة أسماء من رمي بالاختلاط، یہ منظوم ان رواۃ کے متعلق ہے جن پر اختلاط کی جرح کی گئی ہے۔
4۔ الجوهر النفيس في نظم أسماء ومراتب الموصوفين بالتدليس، یہ بھی منظوم ہےجو کہ مدلس رواۃ کے اسماء اور ان کے مراتب پر مشتمل ہے۔
5۔ شافية الغلل بمهمات علم العلل : یہ ہزار اشعار پر مشتمل منظوم ہے ، شیخ نے طلاب کی تسہیل کے لیے بعض مقامات پرمختصر تعلیق بھی لگائی جسے “مزيل الخلل” کا نام دیا۔ یہ دراصل امام ترمذی رحمہ اللہ کی مایہ ناز تصنیف" العلل الکبیر" اور اس پر حافظ ابن رجب رحمہ اللہ کی شرح "علل الترمذی "کا نبذہ ہےاور شیخ کی طرف سے زیادات بھی ہیں.

الجرح والتعدیل :
1۔ إتحاف النبيل بمهمات علم الجرح و التعديل،یہ سات سو (700)اشعار پر مشتمل منظوم ہے، شیخ نے "إيضاح السبيل في شرح إتحاف النبيل " کے نام سےاس کی شرح بھی لکھی ۔
2۔ تذكرة الطالبين في بيان الموضوع وأصناف الوضاعين، یہ ڈیڑھ سو(150) اشعار پر مشتمل ہے،جس میں موضوع روایت اور وضاع رواۃ کے متعلق ہے،بعد میں شیخ نے اس کی مختصر شرح بھی لکھی جو الجليس الأمين شرح تذكرة الطالبين کے نام سے ہے۔
3۔ قُرَّة العَين في تلخِيص تَراجم رجَال الصَّحِيحَين، یہ محمد بن طاہرابن القیسرانی المقدسی رحمہ اللہ کی کتاب کی تلخیص ہے ،جوصحیحین کے رجال پر مشتمل ہے، شیخ نے اس میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی تقریب التہذیب کا اسلوب اپنایا ہے۔

اصول فقہ :
1۔التحفة المرضية في نظم المسائل الأصولية على طريقة أهل السنة السَّنِية۔یہ تین ہزار سے زائد اشعار پر مشتمل ہے جس میں شیخ نے اہلِ بدعت و متکلمین کی موشگافیوں سے دور اہل السنہ /اہل الحدیث کے طریقے پر فقہ السنہ کے اصول مرتب فرمائے۔پھر ان اشعار کی تشریح کے لیے تین مجلدات پر مشتمل کتاب " المنحة الرضية في شرح التحفة المرضية" تالیف فرمائی۔
2۔الجليس الصالح النافع بتوضيح معاني الكوكب الساطع،یہ دراصل الکوکب الساطع نظم جمع الجوامع از علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی شرح ہے۔

علم النحو والصرف :
1۔فتح الكريم اللطيف شرح أرجوزة التصريف، یہ علامہ عبدالباسط البورنی المناسی (م:1413ھ) کے نظم ارجوزۃ التصریف کی شرح ہے، یہ نظم سات سو ستر(770) اشعار پر مشتمل ہے، اس کا موضوع علم الصرف ہے۔
2۔البهجة المرضية فى نظم المتممة الآجرومية لتقريب المسائل النحوية،یہ 762 اشعار پر مشتمل ہے،جو کہ علم النحو کے بہت سے مسائل کی گرہیں کھولتے ہیں۔

متفرقات:
شیخ رحمہ اللہ نےا س کے علاوہ بھی کئی چیزیں نظم و نثر کے اسلوب میں لکھیں، بعض ردود بھی لکھے جیسا کہ ڈنمارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی پر قصیدہ لکھا:الرد المبکی علی المجرم الدنمارکی، اسی طرح ایک شخص نے اہل حدیث کے متعلق زبان طعن دراز کی تو آپ نے "قصيدة في الرد على بكر بن حماد الشاعر المغربي في ذمه علم الحديث وأهله" تحریر فرمایا۔
بہرحال یہاں شیخ رحمہ اللہ کی تمام تصانیف کا احاطہ مقصود نہیں،آپ کی 76سالہ زندگی کا ماحاصل صرف یہی تصانیف نہیں بلکہ سینکڑوں طالب علم ہیں جنہوں نے آپ کے پاس دار الحدیث الخیریہ مکہ مکرمہ میں آپ کے سامنے تلمذ کی منازل طے کیں، اس کے علاوہ آپ حرمِ مکی میں بھی کئی سال مسند درس پر فائز رہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ان کی دینِ اسلام کی خدمات میں سرانجام دی گئی ان تمام کاوشوں کو قبول فرمائے،ان کی حسنات کا بہتر بدلہ عطاء فرمائے اور ہمیں بھی محدثین کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین.
 
Top