ذیشان خان

Administrator
"جنات کا وجود ،مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ"

✍ حافظ محمد طاھر

”جن“ اللہ تعالی کی مخلوق ہیں ان کے وجود پر ایمان لازم ہے، کیونکہ قرآن ، سنت اور اجماع ان کے وجود پردلالت کرتے ہیں ، اسی لیے علماءِ امت کا اجماع ہے کہ جو شخص جنات کے وجود کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے ایک پوری سورت ”الجن“ کے نام پر نازل فرمائی اور اس کا آغاز یوں فرمایا:
قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا.
”آپ کہہ دیجئے کہ : مجھے وحی کی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے (اس قرآن کو) غور سے سنا پھر (جاکر اپنی قوم سے) کہا کہ : ہم نے بڑا عجیب قرآن سنا ہے۔“
(الجن : 72/1، ترجمہ شیخ کیلانی رحمہ اللہ)
اسی مضمون کا ذکر اللہ تعالی نے سورہ الاحقاف میں بھی فرمایا. (سورہ الاحقاف : 46/29 ومابعدہ)
جنوں کی تخلیق کا مقصد بھی وہی ہے جو انسانوں کی تخلیق کا ہےارشاد فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ .
”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیاہے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ (الذاریات :51/56، ترجمہ شیخ کیلانی رحمہ اللہ)
جنوں کی تخلیق انسانوں سے بھی پہلے کی ہے اور انہیں آگ سے پیدا کیا گیا ہے۔(الحجر :15/27)
سورہ الرحمن میں اللہ تعالی نے بار بار انسانوں اور جنوں کو مخاطب کر کے اپنی نعمتوں کی یاد دہانی کروائی ہے۔ (سورہ : 55/پارہ:27)

اجماعِ امت:
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ)فرماتے ہیں:
”جنوں کا وجود کتاب اللہ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے سلف و ائمہ کے اتفاق سےثابت ہے۔“ (مجموع الفتاوی :24/ 276)
اسی طرح فرماتےہیں:
مسلمانوں کی تمام فرقوں میں سے کسی نے بھی جنوں کے وجود میں کوئی اختلاف نہیں کیااور نہ ہی اس میں اختلاف ہے کہ محمد ﷺ ان کی طرف بھی رسول ہیں،اکثرکفاربھی جنات کا ثبوت مانتے ہیں اور اہلِ کتاب یہود ونصاری بھی مسلمانوں کی طرح ان کا وجود مانتے ہیں اگرچہ جس طرح مسلمانوں میں جمہور ائمہ و فِرق کے اقرار کے باوجود بعض غالی معتزلہ انکار کرتے ہیں اسی طرح اُن میں سے بھی بعض انکار کرتے ہیں۔(مجموع الفتاوی :19/10)
امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ (م :456ھ)نے جنات کے وجود کے حق ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ (مراتب الاجماع،ص :174)

منکرین کی مضحکہ خیزیاں:
بعض منکرینِ حدیث نے جنات کا نہ صرف انکار کیا بلکہ اس کی مضحکہ خیز تاویلات بھی کیں ہیں۔
چنانچہ منکرِ حدیث پرویز نے لکھا ہے:
”جن و انس انسانوں کی ہی دو جماعتیں ہیں۔انس شہروں کی مہذب آبادی اور جن صحرا کے بادیہ نشین ۔جوشہری آبادی کی نگاہوں سے اوجھل اور بیابانوں میں رہتے تھے۔لہذا قرآن میں جہاں جہاں جن وانس کا ذکر ہوگا، اس سے مراد انسانوں کی ہی دو جماعتیں ہونگی۔“ (آدم وابلیس: 108، نیز دیکھئے : تفسیر مطالب الفرقان : 5/ 99)
اسی طرح لکھا ہے:
”حضرت سلیمان کے عہد کے جنات سے مراد وہ وحشی اور خانہ بدوش قبائل ہیں جو شہر والوں کی والوں کی نگاہ سے اوجھل رہتے تھے، حضرت سلیمان نے ان قبائل کو اکٹھا کیا ، اور ان سے ہیکل کی تعمیر میں مزدوروں کا کام لیا۔“ (برق طور : 255)
یہاں اب سوال پیدا ہو گیاتھا کہ اگر جن انسان ہی ہیں تو سورہ الحجر میں تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ نے انسانوں سے قبل جنوں کو پیدا کیا تھا؟ یہاں پرویز صاحب کے پاس بات کو گول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا چنانچہ لکھتے ہیں:
”قرآن کی رو سے ، انسانی کی پیدائش سے پہلے یہاں کوئی مخلوق آباد تھی ، جس کا اب انسانوں سے کوئی واسطہ نہیں، اسے آتشیں مخلوق کہا جاتا ہے، اس کے علاوہ قرآن میں ”جن وانس“ کے ضمن میں جن جنات کا ذکر ہے اس سے مراد صرف عرب کے صحرا نشین ، خانہ بدوش قبائل ہیں اور بس۔“ (ابلیس و آدم :102)
کبھی انہیں یہ سوجھی کہ انسانی جذبات کو ہی جن کا نام دے دیا جائے چنانچہ لکھا :
”ہر وہ قوت جو انسانی نگاہوں سے اوجھل ہوجن کہلاتی ہے اور انسانی جذبات چونکہ آنکھو ں سے دیکھے نہیں جا سکتے ۔ اس اعتبار سے انہیں جن کہا گیا ہے۔“
(آدم وابلیس : 90)
منکرینِ حدیث اور فلاسفہ انکار تو کرتےہیں لیکن ان کے پاس انکار کی کوئی دلیل نہیں اسی لیے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جنات کا انکار کرنے والے کے پاس کوئی قابلِ اعتماد دلیل نہیں جو نفی پر دلالت کرتی ہو، ان کے پاس عدمِ علم ہی ہے۔(مجموع الفتاوی :19/32)
باقی رہیں قرآن کی نصوص کی یہ ساری تاویلات بلا شک و شبہ باطل اور کفر ہیں۔

جنات کا انکار ”کفر “ہے:
جنات کے وجود پر ایمان ضروری ہے اور ان کا انکار واضح کفر ہےچونکہ اس سے بیسیوں آیات واحادیث کا انکار لازم آتا ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ (م : 456ھ)فرماتے ہیں:
”تمام مسلمانوں کا اجما ع ہے کہ ”جنات“صاحبِ عقل و تمیز مخلوق ہیں، انہیں بھی عبادت کا حکم ہے، قیامت کا وعدہ ہے ، افزائش ِ نسل بھی کرتے ہیں اور فوت بھی ہوتے ہیں، بلکہ اس بات پر تو عیسائی،مجوسی، صابی اور سامرہ کے علاوہ اکثر یہود کا بھی اجماع ہے،لہذا جو شخص جنوں کا انکار کرتا ہے،یا اس کی ایسی تاویل کرتا ہےجو اسے ظاہری معنی سے نکال دیتی ہے تو وہ کافر ومشرک ہے۔“ (الفصل فی الملل والنحل: 5/9)
امام شمس الدین قرطبی رحمہ اللہ (م:671ھ)فرماتے ہیں:
”کافر اطباء اور فلسفیوں کے ایک گروہ نے جنوں کا انکار کیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت ان پر رد کرتے ہیں۔“ (الجامع لاحکام القرآن : 19/6)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ(م :728ھ) فرماتے ہیں کہ جو شخص جنات کے وجود کا انکار کرتا ہے گویا وہ تمام امتوں اور جمہور فلاسفہ کے نزدیک اتفاقی چیز کو ٹھکراتا ہے. (الصفدیہ : 1/192)
اسی طرح فرماتے ہیں کہ فرشتوں اور جنوں کا اقرار تو تمام انسانوں کے ہاں مسلّمہ ہے، اس کا انکار بعض امتوں کے صرف شواذ لوگوں نے کیاہے۔ (النبوات: 1/194)
اسی طرح علامہ محمود آلوسی حنفی رحمہ اللہ(م:1270ھ) فرماتے ہیں:
”مخفی نہیں کہ جنات کی اس حقیقت کا انکار واضح کفر ہے ۔“ (روح المعانی :15/93)
سید نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ (المتوفی : 1303ھ)فرماتے ہیں:
جنات کا وجود خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ملائکہ، جن اور شیاطین کے وجود کا منکر کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منکر ہے، وہ اسلام سے خارج اور کفر میں داخل ہے. (مجموعہ رسائل عقیدہ :3/ 546 )
مزید فرماتے ہیں:
اسی طرح شیطان نے کسی سے ملائکہ، جنات اور شیاطین کے وجود کا انکار کرایا اور کسی کو فلسفی بنا دیا۔ یہ فلسفیت کسی امت کے ساتھ خاص نہیں ہے، یونان ہو یا ایران یا اور کوئی جائے آباد یا ویران، ہر جگہ اور ہر امت میں اس مذاق کے لوگ ہوتے ہیں، اسلام میں بھی یہ فلسفہء ِشرک و کفر خیر القرون کے بعد گھس آیا اور اکثر امت اس میں پھنس گئی۔ إلا ما شاء اللّٰہ تعالی. (مجموعہ رسائل عقیدہ :2/ 563 )

خلاصہ کلام :
جنات کا وجود قرآن و سنت سے ثابت ہے اور خیرا لقرون سمیت ہر دور کے صحیح العقیدہ علماء کا اس پر اجماع ہے، اسی طرح”جن“ کھاتے ، پیتےاور تناسل کرتے ہیں، انہیں موت بھی آتی ہے،حساب و کتاب کے بعد جنت و جہنم کا فیصلہ بھی ہوگا۔ان تمام باتوں کے دلائل قرآن و سنت میں موجود ہیں اور اہل السنہ /اہل الحدیث کا اتفاقی عقیدہ ہے۔
اس موضوع پر محمد بن عبدا للہ شبلی رحمہ اللہ (م :769) کی کتاب”آكام المرجان فی احكام الجان“کا مطالعہ مفید رہے گا۔

وما توفیقی الاباللہ علیہ توکلت وعلیہ انیب۔
 
Top