ذیشان خان

Administrator
بلا و آزمائش کی حکمتیں

✍ شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ لکھتے ہیں:

ترجمہ : عبداللہ عبدالرشید سلفی
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

بلا و آزمائش ، مثلا بیماریوں اور وباؤں کی حکمتوں میں ایک حکمت یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی توحید کو مضبوط کرے.
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اللہ اپنے بندے پر جو سختیاں اور پریشانیاں نازل کرتا وہ اُسے اُسکے رب کی توحید کی جانب لےجاتی ہیں.
پس وہ نہایت خلوص کے ساتھ صرف اُسی کو پکارتا ہے ، صرف اسی سے امیدیں لگاتا ہے اور اُس کا دل صرف اُسی سے لگارہتا ہے.
نتیجتا اسے اللہ پر توکل ، اِنَابَت اِلٰی اللّٰہ(ہر معاملے میں اللہ کی جانب لوٹنا) اور ایمان کی چاشنی اور مزہ حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے.
(اندازہ لگائیں کہ )یہ کتنی عظیم نعمت ہے!

بلا و آزمائش ، مثلا بیماریوں اور وباؤں کی حکمتوں میں ایک حکمت (بندوں کے)

گناہ مٹانا ہے.
چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث ہے:
کسی بھی مسلمان کو مرض کی تکلیف یا کوئی اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گراتا ہے جیسے درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے۔

ایک حدیث میں ہے:
مصیبت بندے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہے، یہاں تک کہ بندہ روئے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا!(ترمذی-صحيح)

ایک اور حدیث ہے:
بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ (سونے اور) چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے.(ابوداود-صحيح)

بلا و آزمائش ، مثلا بیماریوں اور وباؤں کی حکمتوں میں ایک حکمت

بندے کو اجر و ثواب عطا کرنا ہے.
لہذا جس نے (مصیبت پر)صبر کیا اور جائز و مشروع اعمال کو انجام دیا تو اللہ رب العالمین کے یہاں اس کا اجر و ثواب بھی بڑا ہوتا ہے.

چنانچہ حدیث میں ہے:
جتنی بڑی مصیبت ہوتی ہے اتنا ہی بڑا ثواب ہوتا ہے، اور بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو اسے آزماتا ہے، پھر جو کوئی اس سے راضی و خوش رہے تو وہ اس سے راضی رہتا ہے، اور جو کوئی اس سے خفا ہو تو وہ بھی اس سے خفا ہو جاتا ہے.(ترمذی و ابن ماجہ-حسن)

ایک اور حدیث میں ہے :
ہمارا یہی حال ہے .ہم لوگوں پر مصیبت بھی دگنی ( سخت ) آتی ہے، اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے.(ابن ماجہ- صحیح)

#رحیلیات
 
Top