ذیشان خان

Administrator
مومن خوشی وغمی ہر حال میں اللہ کی تعریف کرتا ہے

✍ الطاف الرحمن سلفی

⦿ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی ایسی چیز دیکھتے جو آپ کو پسند ہوتی تو فرماتے:’’الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ‘‘، سب تعریفیں اس اللہ کے لئے جس کے فضل وانعام سے نیک کام (اور مقاصد) پورے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی ناپسندیدہ چیز (یا بری صورت حال) سامنے آتی تو فرماتے:’’الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ‘‘ ہر حال میں اللہ کی تعریف اور اس کا شکر ہے۔ [سنن ابن ماجہ: ۳۸۰۳، حسنہ الألبانی بشواھدہ]
⦿ نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَى كُلِّ حَالٍ؛ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ‘‘ . [سنن النسائی: ۱۸٤۲، وصححہ الألبانی]
مومن ہر حال میں بہتر ہوتاہے؛ حتی کہ اس کی جان نکالی جا رہی ہوتی ہے تب بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف کررہا ہوتا ہے۔

تشریح:
دنیاوی زندگی خوشی وغمی سے عبارت ہے، یہاں خوشی وغمی کا لاحق ہونا فطری امر ہے، مومن پر بھی یہ دونوں کیفیت طاری ہوتی رہتی ہے، البتہ اس کا معاملہ اوروں سے مختلف ہوتا ہے، اس کی خوشی وغمی دونوں تعلیماتِ اسلام کی روشنی میں ہوتی ہے۔ مومن بھی پسندیدہ چیزوں پر خوش ہوتا ہے، بسا اوقات اس کا مظاہرہ بھی کرتا ہے لیکن اسلام کے دائرہ میںرہ کر، اورمشکلات و ناپسندیدہ چیزوں پر غمگین بھی ہوتا ہے، اور بسا اوقات آنسو بھی بہاتا ہے لیکن اسلام کے دائرہ میں رہ کر۔
چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس سلسلہ میں بھی اپنے قول وعمل کے ذریعہ امت کی بہترین تربیت فرمائی ہے کہ ایک مومن خوشی وغمی ہر حال میں صبر وشکر کا دامن تھامے ہوئے اللہ کی تعریف کرتا رہے۔
خوشی کے وقت اللہ کا شکر اس لئے کیونکہ دنیا کی ساری کامیابی اور نعمتوں کا حصول اس کے احسان وتوفیق سے ہی ہوا ہے، لہذا مومن بندہ اس کا اعتراف کرتے ہوئےحمد وشکر بجا لاتا ہے۔
اور غمی کے وقت بندہ صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے الحمدللہ علی کل حال اس لئے کہتا ہے، کیونکہ اللہ سے محبت کا تقاضا اسے لاچار بندوں کے سامنے شکوہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، چنانچہ وہ اللہ کے متعلق حسنِ ادب کا مظاہرہ کرتا ہے، اُسے یقین ہوتا ہے کہ ہمارے لئے اس میں بھی کوئی نہ کوئی خیر کا پہلو ضرور ہے، {وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [البقرۃ : ٢١٦]
نیز اس لئے بھی کہ دنیاوی مصائب ومشکلات پر صبر بندے لئے کفارۂ سیئات اور رفع درجات کا سبب ہے۔ لہذا وہ بے فائدہ جزع فزع اور مخلوقات کے سامنے شکوہ کے بجائے ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کو عقلمندی سمجھتا ہے۔ ایک مومن اللہ رب العالمین کی غیروں سے شکوہ شکایت کا تصور بھی نہیں کرسکتا، وہ تو مرتے ہوئے بھی اللہ رب العالمین کی تعریف کررہا ہوتا ہے۔
 
Top