ذیشان خان

Administrator
کیا واقعی میدان جنگ میں بھی جماعتِ نماز معاف نہیں ہے؟

✍کفایت اللہ سنابلی

یہ بات بہت زور شور سے کہی جارہی ہے کہ جب میدان جنگ میں بھی نماز کی جماعت معاف نہیں ہے تو کسی بیماری کے سبب جماعت معاف کیسے ہوسکتی ہے؟
عرض ہے کہ مطلقا یہ کہنا ہی غلط ہے کہ میدان جنگ میں بھی جماعت معاف نہیں ، اورحقیقت یہ ہے کہ خود اللہ رب العالمین نے بھی میدان جنگ میں شدید خوف کے سبب جماعت کی معافی دیتے ہوئے کہا ہے:
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا﴾
{اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل یا سوار ہوکر نماز پڑھو} [البقرة: 239]
اب غور فرمائیں کہ پیدل یا سوار ہوکر نماز پڑھنے میں کیا ترک جماعت کی رخصت نہیں ہے ؟ کیونکہ جماعت کے ساتھ تو ایسی نماز ممکن ہی نہیں ہے۔

مزید اس بات پر بھی غور کریں کہ میدان جنگ کی مصیبت بڑی ہے یا سردی اور بارش کی مصیبت ؟
ظاہر ہے کہ میدان جنگ کی مشکل کے سامنے سردی اور بارش کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ، تو کیا یہ کہہ دیا جائے جب جنگ کے سبب جماعت معاف نہیں تو سردی اور بارش کے سبب جماعت کیسے معاف ہوسکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں کہا جاسکتا کیونکہ سردی اور بارش کے سبب ترک جماعت کی رخصت پر صحیح و صریح احادیث موجود ہیں ۔
دراصل سردی اور بارش میں لوگوں کا جماعت کے لئے اکٹھا ہونا ہی مشکل ہے ، جب کہ حالت جنگ میں اگر خوف شدید نہ ہو تو لوگوں کے اکٹھا ہونے میں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے ، بلکہ لوگ پہلے سے ہی اکٹھا ہوتے ہیں، اس لئے جنگ کی حالت میں جماعت کا حکم ہے ، لیکن جنگ میں بھی جب لوگوں کا اکٹھا رہنا مشکل ہوجائے تو یہاں بھی فورا جماعت معاف ہوجاتی ہے ۔
لہٰذا علی الاطلاق یہ کہنا غلط ہے کہ میدان جنگ میں بھی نماز کی جماعت معاف نہیں ہے۔
 
Top