ذیشان خان

Administrator
جہری نماز میں تعوذ و بسملہ کا مسئلہ
=================
مقبول احمد سلفی
(1) تعوذ: نماز میں قراء ت سے پہلے نبی ﷺ سے تعوذ کرنا ثابت ہے ۔ وہ تعوذ "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" اس طرح نہیں بلکہ اس میں تھوڑی زیادتی کے ساتھ تعوذ کے دوصیغے آپ ﷺ سے ثابت ہیں ۔
پہلا صیغہ: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه۔
دلیل :عن أبي سعيد رضي الله عنه قال : كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا قام من الليل كبَر, ثمَ يقول : ( لا إله إلا الله ثلاثا)، ثمَ يقول : (الله أكبر كبيرا، ثلاثا، أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، من همزه ونفخه ونفثه، ثم يقرأ). [إرواء الغليل 341]
ترجمہ : ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قیام اللیل کرتے تو تکبیر کہتے پھر تین مرتبہ لاالہ الااللہ کہتے ، پھر تین مرتبہ اللہ اکبرکبیرا کہتے اور کہتے"أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، من همزه ونفخه ونفثه" پھر قرات کرتے ۔
دوسرا صیغہ: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه۔
دلیل : عن أبي سعيد الخدري قال : " كان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - إذا قام من الليل كبر ثم يقول : (سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك، ثم يقول : لا إله إلا الله ثلاثا ثم يقول : الله أكبر كبيرا ثلاثا، أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه ثم يقرأ) (صحيح أبي داود:775)
ترجمہ: ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب قیام اللیل کرتے تو تکبیر کہتے اور پڑھتے "سبحانك اللهم وبحمدك، وتبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك" پھر تین مرتبہ لاالہ الااللہ کہتے ، پھر تین مرتبہ اللہ اکبرکبیرا کہتے اور کہتے"أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه" پھر قرات کرتے ۔
اور صرف "أعوذ بالله من الشيطان الرجيم" کے متعلق شیخ البانی نے تمام المنۃ میں لکھا ہے کہ یہ مراسیل حسن بصری میں سے ہے ۔
(2) بسملہ : نماز میں قرات سے پہلے بسملہ یعنی بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پڑھنا بھی نبی ﷺ سے ثابت ہے ۔ یہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ جہری نماز میں بسم اللہ جہرا پڑھا جائے گا یا سرا؟
تو اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ بسم اللہ سرا پڑھا جائے گا۔
پہلی دلیل : عن أبي هريرة رضي الله عنه: "عن النبي صلى الله عليه وسلم من صلى صلاة لم يقرأ فيها بأم القرآن فهي خداج ثلاثاً غير تمام"، فقيل لأبي هريرة رضي الله عنه: إنا نكون وراء الأمام فقال: اقرأ بها في نفسك، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ((قال الله تعالى قسمت الصلاة بيني وبين عبدي نصفين، ولعبدي ما سأل، فإذا قال العبد: {الْحَمْدُ للّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قال الله تعالى: حمدني عبدي، وإذا قال:{الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ} قال الله تعالى: أثنى علي عبدي، وإذا قال: {مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قال: مجدني عبدي، (وقال مرة: فوض إلى عبدي)، فإذا قال: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قال هذا بيني وبين عبدي ولعبدي ما سأل، فإذا قال: {اهدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنعَمتَ عَلَيهِمْ غَيرِ المَغضُوبِ عَلَيهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ}، قال: هذا لعبدي ولعبدي ما سأل)) (صحیح مسلم :395)
ترجمہ : حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے کہ جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناتمام ہے ، ناتمام ہے ، ناتمام ہے ۔پس ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اپنے نفس میں پڑھو۔کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں ۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : میں نے نماز (یعنی سورۃ الفاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ۔ پس اس کا نصف حصہ میرا ہے اور نصف میرے بندے کا ہے ۔ اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا۔ "(پھربات جاری رکھتے ہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم نے فرمایا:"(سورۃ فاتحہ) پڑھو، جب بندہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کہتا ہے تو اللہ عز و جل فرماتا ہے " میرے بندے نے میری حمد بیان کی"(بندہ) کہتا ہے الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ،تو اللہ عز و جل فرماتا ہے "میرے بندے نے میری ثنا بیان کی"۔بندہ کہتا ہے مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ،تو اللہ عز و جل فرماتا ہے "میرے بندے نے میری عظمت بیان کی"بندہ کہتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ،تو اللہ فرماتا ہے "یہ (حصہ) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا"بندہ کہتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ،تو اللہ فرماتا ہے "یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کو وہ ملے گا جس کا اس نے سوال کیا"۔
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی ﷺ سورہ فاتحہ کی قرات کرتے، بسم اللہ کی قرات مذکور نہیں ۔
دوسری دلیل : عن أنس رضي الله عنه قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان فلم أسمع أحداً منهم يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم" (صحیح مسلم :399)،
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضي الله عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ: میں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم، ابو بکر، عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے، اور ان میں سے کسی کو بسم الله الرحمن الرحيم پڑھتے نہیں سنا ہے۔
تیسری دلیل : عن أنس رضي الله عنه"أن النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانوا يفتتحون الصلاة بالحمد لله رب العالمين" (صحیح البخاري:710)
ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نماز کی ابتداء الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے ۔
امام احمد کی روایت میں ہے :"وكانوا لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم"(12868)
یعنی وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔
اس کے علاوہ مزید دلائل ہیں جن سے جہری نماز میں بسم اللہ سرا پڑھنے کی دلیل ملتی ہے ۔ اس کے برخلاف جہری طور پہ بسم اللہ پڑھنے کی کوئی مرفوع صریح روایت نہیں ملتی ۔
جولوگ جہرا بسم اللہ کے قائل ہیں ان کی ایک دلیل یہ ہے کہ بسم اللہ سورہ فاتحہ کا حصہ ہے اور سورہ فاتحہ بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے اس لئے بسم اللہ بھی بلند آواز سے پڑھی جائے گی ۔ یہ استدلال غلط ہے بسم اللہ کے بارے میں راجح قول یہی ہے کہ وہ سورہ فاتحہ کا حصہ نہیں بلکہ وہ ایک مستقل آیت ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل اوپر مذکور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت جو مسلم شریف کی ہے۔
سرا پڑھنے کی ایک دوسری دلیل :
عن نعيم بن المجمر قال: صليت وراء أبي هريرة - رضي الله عنه - فقرأ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ثم قرأ بأم القرآن حتى إذا بلغ وَلَا الضَّالِّينَ قال: آمين، ويقول كلما سجد وإذا قام من الجلوس: الله أكبر، ثم يقول إذا سلم؛ والذي نفسي بيده إني لأشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم"(صحيح ابن خزيمة برقم :688)
ترجمہ : نُعَیم بن مجمر سے روایت ہے کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو آپ نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھی پھر سورہ فاتحہ پڑھی حتیٰ کہ جب آپ غیر المغضوب علیھم ولا الضالین پر پہنچے تو آمین کہی اور آپ ہر سجدہ کرتے وقت اللہ اکبر کہتے اور دو رکعتوں کے تشھد سے اٹھتے وقت اللہ اکبر کہتے اور جب سلام پھیرتے تو فرماتے : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ ہوں۔
حکم : اولااس حدیث کی طرف ضعف کا اشارہ ہے وہ بھی ہلکا ضعف ہے۔ ثانیا ، اسے کبھی کبھار پہ محمول کیا جائے گا یعنی آپ ﷺ کبھی کبھار بسم اللہ جہر کرتے تھے، اس لئے اگر کوئی کبھی کبھار نماز میں بسم اللہ جہر کرلے تو کوئی حرج نہیں۔
جہر کے اور بھی دلائل ہیں مگر کسی میں ضعف ہے تو کسی میں جہر کی اس حیثیت سے صراحت نہیں ملتی کہ یہ نماز کی حالت میں ہے ۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہری نماز میں قرات سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم سری طور پہ پڑھا جائے گا ، اکثریت کی یہی رائے ہے ۔
علامہ البانی ؒ کہتے ہیں کہ حق یہی ہے کہ جہرا بسم اللہ کے سلسلے میں کوئی صریح اور صحیح حدیث نہیں ہے بلکہ آپ ﷺ سے حدیث انس سے سرا ثابت ہے ۔ اور میں اس کے دس طرق پہ مطلع ہوا جس کا ذکر صفۃ صلاۃ النبی ﷺ کی تخریج میں کیا ہے ۔(13 تمام المنة :169).
شیخ ابن باز ؒ سے پوچھا گیا کہ فاتحہ و دیگر سورت کی قرات پہ جہرا بسم اللہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
تو شیخ نے جواب دیا: اس میں علماء کا اختلاف ہے جہرا بسملہ مستحب قرار دیتے ہیں تو بعض اسے ناپسند کرتے ہیں لیکن سرا ہی زیادہ پسندیدہ ہے اور یہی راحج اور افضل ہے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے وہ کہتے ہیں :
(صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخلف أبي بكر وعمر؛ وكانوا لا يجهرون ببسم الله الرحمن الرحيم)(مسلم)
ترجمہ : میں نے نبی ﷺ ، ابوبکراور عمر کے پیچھے نماز پڑھی وہ لوگ بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔
(مجموع فتاوى ابن باز11/119)
 
Top