ذیشان خان

Administrator
اہواء پرستوں کے خبیث قاعدے کا رد

كتبه ابن أبي عبدالله

اہل بدعت اور حزبی لوگوں نے حق وباطل کا فرق ختم کرنے کے لیے، اہل حق اور اہل باطل میں برابری کرنے کے لیے، اور اپنی خواہشات پوری کرنے کی خاطر ایک خبیث قاعدہ بنایا ہے (نتعاون فيما اتفقنا فيه ويعذر بعضنا بعضا فيما اختلفنا فيه) "کہ جس بات ہر ہم متفق ہیں اس میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے اور جس بات میں ہمارا اختلاف ہے اس میں ایک دوسرے کے لیے عذر پیش کریں گے۔"

محدث دیار یمن شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ اس قاعدے کے متعلق فرماتے ہیں (لا تساوي فسوة) "اس کہ حیثیت پھسکی جتنی بھی نہیں۔"
اور فرمایا (هذه القاعدة تحت الأقدام) "یہ قاعدہ ہمارے پاؤں تلے ہے یعنی بے وقعت ہے۔"
اور آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(نتعاون فيما اتفقنا فيه ونحكّم كتاب ربنا فيما اختلفنا فيه)
"جس میں ہم متفق ہیں اس میں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے اور جس میں ہمارا اختلاف ہے اس میں ہم اپنے رب کی کتاب کو فیصل بنائیں گے۔"
(دیکھیے: البشائر في السماع المباشر: 72)

جب کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اس کو اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹانا ہے ناکہ کفر وشرک اور بدعت وضلالت کا رد کرنے کی بجائے اس پر عذر اور تبریرات پیش کرنا ہے، اور اہل بدعت سے دوستیاں کرنا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے
(فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ)
جب تمہارا کسی چیز میں اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالی اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔
[سورة النساء : 59]
اور ارشاد فرمایا
(وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِن شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ)
"جس چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اس میں فیصلہ اللہ تعالی کا ہوگا۔"
[سورة الشورى : 10]

اور اللہ تعالی نے قرآن مجید کو "فرقان" بنایا ہے جو حق وباطل میں فرق کرنے والا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ کو بھی حق وباطل میں فرق کرنے والا بنایا ہے۔ (محمد فرق بين الناس) اگر اس باطل اور خبیث قاعدے کو مان لیا جائے تو انیباء ورسل کی بعثت اور انزالِ کتب کا مقصد ختم ہوجاتا ہے۔ اگر اختلاف میں ایک دوسرے سے تجاہل و تغافل برت کر اظہار حق واعلائے کلمة اللہ کو ثانوی حیثیت دے دی جائے تو ہمارا دین بھی ایسے تباہ ہوجائے گا جیسے یہود ونصاری کا دین ہوا۔

اور بعض لوگ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم الحاد کا رد کرنے کے لیے اہل بدعت کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور بعض تو الحاد کے رد کے لیے نصاری سے مل کر کام کرنے صدا دیتے نظر آتے ہیں، وإلى الله المشتكى! اور بعض سنگین اختلافات کے باوجود مشترکات میں تعاون کا نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سنگین اختلافات سے مراد چند اجتہادی مسائل ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ان کو سنگین کہنا غلط ہے کہ جس میں مصیب ومخطئ ماجور ہیں اور مصیب کی اتباع اور مخطئ کے لیے دعا ہے۔ اور اگر سنگین اختلافات سے مراد ذاتیات کی لڑائی ہے تو اس میں مشترکات اور غیر مشترکات کی بحث ہی نہیں بلکہ اس کا حل طرفین کے باہمی ذاتی اختلاف ختم کرنا اور بھائی چارہ اپنانا ہے۔ اور اگر سنگین اختلافات سے مراد عقیدہ ومنہج اور اصول دین میں اختلاف ہے تو اس صورت میں کونسے مشترکات ہوں گے؟ اور پھر ان سنگین اختلافات کے باوجود ایک دوسرے سے دوستیاں کرنا اور مل کر کام کرنا کیا اہل سنت کے اصول ومنہج کے خلاف نہیں؟ کیا صحابہ کرام نے خوارج وروافض سے مشترکات میں تعاون کا نعرہ لگایا؟ کیا ائمہ ہدی محدثین نے معتزلہ سے مل کر الحاد کا رد کیا؟ على هذا القياس ائمہ سلف میں کسی نے باطل پر عذر پیش کرکے مشرکات میں تعاون کا منہج نہیں اپنایا۔ بلکہ وہ ہمیشہ سچ کے ساتھی رہے اور باطل کا قلع قمع کرتے رہے، اور اہل بدعت کے رد، ان سے دوری، اور ان کو رسوا کرنے پر ان کا اجماع تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا آج ہمارے پاس یہ دین واضح اور روشن نہ پہنچتا۔ آج امت جس ذلت اور پستی میں مبتلا ہے اس کا سبب اہل بدعت ہی تو ہیں پھر ان کی گمراہیوں سے صرف نظر کرنا بلکہ ان کے لیے عذر پیش کرنا کونسی خدمت اور علقمندی کا کام ہے۔ ہمیں تو اہل حق کا ساتھی بننا ہے اور اہل باطل کا رد کرنا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ)
اے ایمان والو اللہ تعالی سے ڈرو اور سچوں خے ساتھی بن جاو۔
[سورة التوبة: 119]
اور فرمایا:
(قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ)
یقیناً تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھی بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم لوگ تم سے اور تمہارے معبودوں سے براءت کا اعلان کرتے ہیں جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو، ہم تمہارے دین کا انکار کرتے ہیں، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے دشمنی اور بغض کی ابتداء ہوچکی ہے، یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔
[سورة الممتحنة : 4]
 
Top