ذیشان خان

Administrator
اچانک کی موت بذات خود قابل تعریف یا قابل مذمت نہیں ہوتی، بلکہ مرنے والے کے حال کے مطابق ہوتی ہے۔

✍⁩افتخار عالم مدنی

اچانک مرنے والا اگر نیک وصالح ہو تو یہ اس کے لئے خیر اور رحمت کا باعث ہے کہ وہ دنیا کی مشقت، مرض کی طوالت اور موت کی شدت سے راحت پا گیا۔

اور اگر اچانک مرنے والا فاسق وفاجر ہو تو یہ اس کے لئے شر اور زحمت کا باعث ہے کہ اس کو رب کے حضور توبہ اور بندوں کے حقوق واپس کرنے کی توفیق نہ ملی۔

حدیث میں ہے کہ "ہر بندہ قیامت کے دن اسی حال میں اٹھایا جائےگا جس حال میں وہ مرا تھا" (صحیح مسلم:2878) یعنی اپنے عقیدہ وعمل کے مطابق اٹھایا جائےگا۔

اللہ ہمیں خاتمہ بالخیر نصیب فرمائے۔
 
Top