ذیشان خان

Administrator
بدلہ تو مل کر رہےگا۔

✍ افتخار عالم مدنی

حدیث میں آیا ہے کہ:

{...اعمل ما شئت فإنك مجزي به...}

"...جو چاہو عمل کرو بدلہ تو مل کر رہےگا۔۔۔"

(صحیح الجامع:4355)

بےعمل کوئی نہیں ہے، ہر انسان کسی نہ کسی عمل میں لگا ہوا ہے، کوئی اچھے عمل میں لگا ہوا ہے تو کوئی برے عمل میں لگا ہوا ہے، اور عمل کا بدلہ اللہ کے یہاں مقرر ہے جو آخرت میں مل کر رہےگا، اچھے عمل پر اچھا بدلہ ملےگا اور برے عمل پر برا بدلہ ملےگا۔

اللہ سبحانہ وتعالی سے زیادہ کوئی عدل وانصاف والا نہیں، اس لئے یہ کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ اس کے یہاں عمل پر جزا اور سزا کا نظام نہ ہو؟ اور یہ کہ دنیا کی زندگی میں لوگ اعمال میں مختلف ہوں اور آخرت کی زندگی میں دونوں انجام میں برابر ہو جائیں؟

پس لازمی اور یقینی ہے کہ قیامت کا دن آئےگا، انصاف کی عدالت قائم ہوگی، حق اور باطل کا فیصلہ ہوگا، ظالم اور مظلوم کے درمیان انصاف کیا جائےگا، عقیدہ وعمل اور اخلاق و سلوک کا حساب لیا جائےگا، ہر ایک کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائےگا، جس نے اچھا کیا ہوگا اس کو جنت کا انعام ملےگا اور جس نے برا کیا ہوگا اس کو جہنم کی سزا ملےگی۔

اگر ہم جزا وسزا کے دن پر واقعی ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ ہمارا عقیدہ وعمل اور اخلاق وسلوک کیسا ہے؟ انعام کے قابل ہے یا سزا کا موجب ہے؟ پھر اگر اصلاح کی ضرورت ہو تو ضرور اصلاح کریں، اللہ ہم سب کو نیک توفیق عطا فرمائے۔۔۔
 
Top