ذیشان خان

Administrator
جدا تو ہونا ہے:

✍⁩افتخار عالم مدنی

حدیث میں آیا ہے کہ

{...أحبب من أحببت فإنك مفارقه...}

جس سے چاہو جتنی محبت کر لو جدا تو ہونا ہے۔

(صحیح الجامع:4355)

اس میں اس حقیقت کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ انسان جب اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ ان ساری چیزوں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے جنہیں وہ اپنی زندگی میں بےانتہا چاہتا اور بےحد عزیز جانتا اور مانتا ہے۔

چاہے وہ اہل وعیال ہوں جن کی خوشی کے لئے وہ اپنی بہت سی خوشیاں تج دیتا ہے، یا وہ مال ودولت ہو جسے کمانے کے لئے وہ اپنی پوری زندگی لگا دیتا ہے، یا وہ شہرت، عزت اور جاہ ومنصب ہو جسے پانے کے لئے وہ اپنی ساری توانائی جھونک دیتا ہے۔

اور اس پورے چکر میں وہ اپنے انجام سے بےخبر ہو جاتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ ایک دن آئےگا جب وہ اس دنیا سے چلا جائےگا اور یہ سب کچھ یہیں رہ جائےگا، صرف اس کا وہ عمل اس کے ساتھ جائےگا جس کے اچھا یا برا ہونے سے اسے کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ اسی کی بنیاد پر اس کا اچھا یا برا انجام طے ہونے والا ہے۔

معلوم ہوا کہ انسان کا اصل ساتھی اس کا عمل ہے جو دنیا میں بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس کے ساتھ ہوگا، لہذا سب سے زیادہ فکر اور جد وجہد اسی کی بہتری کے لئے ہونی چاہئے کیونکہ یہی وہ اصل سرمایہ ہے جو کام آئےگا۔
 
Top