ذیشان خان

Administrator
اہل البدع کی کتابوں کو پڑھنے کا حکم.
آڈیوز اور وڈیوز سننے کا بھی یہی حکم ہوگا

فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ.
تلخیص و ترجمہ: حافظ علیم الدین یوسف

اس سوال کا جواب دینے سے قبل شیخ رحمہ اللہ نے ایک سوال کیا کہ اگر کسی کو تیراکی نہیں آتی ہے اور اسے سمندر میں ڈال دیا گیا تو انجام کیا ہوگا؟؟
طلاب نے جواب دیا: کہ ڈوب جائے گا.
فرمایا: یہی معاملہ اہل البدع کی کتابوں کو پڑھنے کا ہے.
یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دجال سے دور بھاگنے کا حکم دیا ہے، کیوں کہ اس کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہوگا.
اہل البدع کی کتابیں بھی فتنہ دجال کی طرح ہیں دونوں کے قریب جانے سے بھٹکنے کا خدشہ ہے اور دور رہنے میں سلامتی کی ضمانت ہے.
البتہ وہ شخص جس کے پاس اچھا خاصا علم ہو جس کے ذریعے وہ حق و باطل کے درمیان فرق کر سکے اور ساتھ ساتھ اہل باطل کی فریب کاری، باطل کی تزیین کاری اور ان کی چالوں کو سمجھتا ہے تو اس کیلیے صرف اس صورت میں ان کتابوں کا پڑھنا جائز ہے جب اس کی غرض نقد کی اور غلطیوں کی نشاندہی کی ہو.

رہی بات ان کتب کو بغرض استفادہ پڑھنا تو یہ جائز نہیں ہے. کیونکہ اہل البدع کی کتابوں میں کوئی فائدہ نہیں.

 
Top