ذیشان خان

Administrator
تو آخر کس کی طرف رجوع کیا جائے گا؟

✍: فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان حفظه الله
ترجمہ: شیخ عنایت اللہ مدنی حفظہ اللہ

علماء کا احترام واجب ہے، کیونکہ وہ انبیاء کے وارث ہیں.
ان کی تحقیر در حقیقت ان کے مقام و مرتبہ، اور ان کے نبی ﷺ کے وارث ہونے کی تحقیر ہے، نیز اس علم کی بھی توہین ہے جس کے وہ حامل ہیں.
اور جو علماء کو حقیر جانے گا وہ دیگر مسلمانوں کو بدرجۂ اولی حقیر جانے گا.
لہذا علماء کا احترام واجب ہے،
کیونکہ وہ علم والے ہیں،
امت میں ان کا مقام ہے،
نیز ان پر ذمہ داری ہے جسے وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں،
اور اگر علماء پر اعتماد نہیں کیا جائے گا تو بھلا کس پر اعتماد کیا جائے گا؟
اگر علماء سے اعتماد اٹھ جائے گا تو مسلمان اپنی مشکلات کے حل اور شرعی احکام کی وضاحت کے لئے کس سے رجوع کریں گے؟
تب تو امت تباہ ہو جائے گی اور ہر طرف بے نظمی اور انارکی کا دَور دَوره ہو جائے گا.
عالم اگر اجتہاد کرے اور درستی پالے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور اگر اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو ایک اجر ہے اور اس کی غلطی معاف ہے.
اور جو بھی علماء کی تحقیر کرے گا وہ اپنے آپ کو سزا کا مستحق بنائے گا، ماضی تا حاضر تاریخ اس بات کی بہترین گواہ ہے، خاص طور پر جب یہ علماء ان ذمہ داروں میں سے ہوں جنہیں مسلمانوں کے مسائل پر غور وخوض کی ذمہ داری سونپی گئی ہو، جیسے عدالتوں کے قاضی اور کبار علماء کے بورڈ کے ممبران وغیرہم».

📚: ((الأجوبة المفيدة: ٢٠٠-٢٠٢))
 
Top