ذیشان خان

Administrator
قبر آخری ٹھکانہ نہیں ہے:

✍⁩افتخار عالم مدنی حافظ اللہ

کسی شخص (میت) کی تدفین کے بعد یہ کہنا کہ وہ اپنے آخری ٹھکانے کو پہنچ گیا شرعا درست نہیں ہے کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ قبر انسان کی آخری منزل ہے اور اس کے بعد اور کوئی منزل نہیں ہے۔

جبکہ ہر مسلمان یہ جانتا اور مانتا ہے کہ آخرت کے کئی مراحل ہیں، قبر اس کا پہلا مرحلہ ہے اور جنت یا جہنم آخری ٹھکانہ ہے، اور ان دونوں کے بیچ کئی مراحل ہیں جیسے دوبارہ زندہ کیا جانا، میدان حشر میں جمع ہونا، اعمال کی پیشی، وزن اور حساب وکتاب ہونا، پل صراط سے گزرنا اور آخر میں جنت میں داخلہ پانا یا واصل جہنم ہونا۔

یہ بات کہ قبر انسان کا آخری ٹھکانہ نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بھی بالکل واضح ہے:
"إن القبر أول منزل من منازل الآخرة، فإن نجا منه فما بعده أيسر منه وإن لم ينج منه فما بعده أشد منه"
یعنی "قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر اس سے نجات مل گئی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے آسان ہوں گی اور اگر اس سے نجات نہ ملی تو اس کے بعد کی منزلیں اس سے دشوار ہوں گی۔" (سنن ترمذی:2308)

اللہ کے اس فرمان سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ قبر زیارت کی جگہ ہے، اقامت کی جگہ نہیں ہے:
"ألهاكم التكاثر حتى زرتم المقابر"
یعنیکہ (مال ومتاع، جاہ ومنصب اور شہرت ونامورری کی) کثرت کی خواہش تمہیں (اللہ کے ذکر اور آخرت کی فکر سے) غافل کر دیتی ہے یہاں تک کہ تم قبرستان کی زیارت کر لیتے ہو (یعنی مر جاتے ہو اور اپنی قبروں میں چلے جاتے ہو۔) (سورہ تکاثر:1-2)
یہاں اللہ نے انسان کے مر کر قبر میں چلے جانے کو زیارت قرار دیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی طرح قبر کی زندگی بھی سفر اور زیارت کی ایک جگہ ہے، اقامت یعنی ہمیشہ رہنے کی جگہ نہیں ہے، تو جس طرح کسی جگہ کی زیارت کرنے والا واپس اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح انسان دنیا کے سفر اور قبر کی زیارت کے بعد ایک دن یعنی بروز قیامت اپنے رب کی طرف جہاں سے وہ آیا ہے واپس چلا جائےگا اور وہی اس کی آخری منزل ہوگی۔

قبر کی زندگی کو برزخ کی زندگی بھی کہا جاتا ہے یعنی ایسی زندگی جو دنیا اور آخرت کے بیچ حائل ہے، لہذا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبر آخری نہیں بلکہ درمیانی منزل ہے اس سے پہلے دنیا ایک منزل ہے اور اس کے بعد آخرت ہے جو سب سے آخری منزل ہے۔

پس یہ سب جاننے کے باوجود قبر کو آخری منزل کہنا کفر شمار ہوگا کیونکہ اس سے آخرت کا انکار لازم آتا ہے جو کہ ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ہے۔
 
Top