ذیشان خان

Administrator
پس کیا وہ نہیں جانتا جب اکھاڑا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے

إبن عثيمين رحمه الله نے فرمایا:

میرے مسلمان بھائی! الله تبارك وتعالى فرماتا ہے (پس کیا وہ نہیں جانتا جب اکھاڑا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے۔
اور جو دلوں میں ہے وہ ظاہر کیا جائے گا)

بدنی(ظاہری) اعمال کو ہرکوئی اچھے اور حسن طریقہ سے پیش کرسکتا ہے ، مگر دلوں کے اعمال کا مسئلہ مشکل ہے۔ اسی لئے بعض اسلاف کہا کرتے تھے کہ میں نے کسی چیز کو درست کرنے کی اتنی کوشش نہیں کی جتنی کہ اخلاص کو درست کرنے کی کوشش کی۔

اخلاص جسے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال میں مخلص ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے اسلاف اپنے نفوس کے اخلاص کو درست کرنے کی بہت کوشش کیا کرتے تھے۔

لہذا میرے بھائی اپنے دل کو ڈھونڈو کہ کیا اس میں ریاکاری ہے؟ حق کے حوالے سے کراہت ہے؟ مومنین کے تعلق سے حسد ہے؟ اس لئے کہ دل کو دھونا کپڑوں کو دھونے سے زیادہ اہم ہے۔ اپنے دل کو صاف رکھو ۔ اللہ نے فرمایا: (یہ وہی لوگ ہیں جن کے حق میں اللہ نے نہیں چاہا کہ وہ ان کے دل پاک کرے) اپنے دل کو پاک رکھو۔

اے پروردگار! ہمارے دلوں کو صاف فرما، اے پروردگار ہمارے دلوں کو ریاکاری سے صاف رکھ ، اے پروردگار ہمارے دلوں کو مسلمانوں کے حوالے سے حسد اور بغض سے پاک رکھ ، اے پروردگار ہمارا خوش بختی پر خاتمہ فرما ، اور ہمارا شمار ان لوگوں میں کر جن کے حق میں جنت اور تیرا دیدار لکھا ہے

📚 اللقاء الشهري 72/2
 
Top