ذیشان خان

Administrator
صفات لمعلم

✍⁩حافظ عبدالرحمن المعلمی

امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:کوئی بھی شخص جس استاد سے علمِ حدیث حاصل کرنا چاہتا ہے حصولِ علم سے قبل مذکورہ صفات پرکھ لے۔
اگر استاد میں مذکورہ صفات پائی جائیں تو ہی اس سے علمِ حدیث حاصل کرے ۔

1)هل يعتقد الشريعة من التوحيد ؟

جس استاذ سے آپ علمِ حدیث حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کا عقیدہ کیا ہے ؟
اگر وہ موحِّد ہے تو ہی اس سے علم حاصل کرنا چاہیے ۔

(یہاں مجھے ایک واقعہ محدث گوندلوی رحمہ اللہ کے حوالہ سے یاد آیا وہ درس بخاری کے دوران کشمیری صاحب کی "فیض الباری " پر نقد کیا کرتے تھے ۔کسی نے پوچھا کیا کشمیری صاحب سے کبھی ملاقات ہوئی ہے ؟فرمانے لگے میری ملاقات تو نہیں ہوئی لیکن ایک دفعہ وہ گوجرانولہ ایک دفعہ آئے تھے ۔میرے پاس ایک عربی طالبِ علم پڑھتا تھا وہ ان کے پاس جاتا عقائد پر گفتگو کرتا کشمیری صاحب جو اشکالات بیان کرتے وہ مجھ سے حل کروا کر جاتا آخر وہ کشمیری صاحب کو یہ کہ کر آ گیا #لولا_الشيخ_محمد_لأضللتني اگر شیخ محمد گوندلوی نہ ہوتے تو آپ مجھے گمراہ کر دیتے)

2)هل يُلزم نفسه طاعة الانبياء و الرسل فيما أوحي إليهم ؟

کیا وہ استاد اپنے آپ کو وحیِ الٰہی کا پابند سمجھنے والا ہے ؟

3)هل هو صاحب هوى ؟ يدعو الناس إلى هواه فإن الداعي إلى البدعة لا يكتب عنه لإجماع جماعة من آئمة المسلمين على تركه

جس استاد سے آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں کیا وہ بدعتی تو نہیں ؟اور لوگوں کو اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا تو نہیں ؟کیونکہ جو شخص داعی الی البدعہ ہے آئمہ کی ایک جماعت اس بات پر متفق ہے کہ اس سے روایت لکھنا(علم حاصل کرنا) جائز نہیں ہے۔

4)ثم يتعرف سنّه هل يحتمل سماعه من شيوخه الذين يحدث عنهم
پھر استاد کی عمر کی معرفت حاصل کرنی چاہیے کہ راویوں سے استاد حدیث بیان کر رہا ہے کیا ان سے اس استاد کے سماع کا احتمال ہے ؟

5)ثم يتأمل أصوله أ عتيقة هي أم جديدة؟
پھر آدمی اس استاد کے منھج پر غور و فکر کرے کہ کیا وہ پرانے منھج (منھجِ سلف) پر گامزن ہے یہ کسی نئے راستے کا راہی ہے ۔

معرفة علوم الحديث ص 132/133
 
Top