ذیشان خان

Administrator
رد فتنۂ بردرس

ایک شبہہ اور اس کا ازالہ

✍ فاروق عبد اللہ برائن پوری

بردرس کو جب کہا جاتا ہے کہ آپ پہلے کسی استاد کے پاس علم حاصل کریں پھر علم کی نشر واشاعت کریں، کسی حدیث پر حکم لگائیں، کسی پر علمی رد کریں، وغیرہ، تو یہ شبہہ پیش کرتے ہیں کہ میں نے خود حدیث پر صحت وضعیف کا حکم نہیں لگایا ہے بلکہ کسی عالم کی تحقیق کو صرف ترتیب وغیرہ دے دیا ہے۔

یہ ایک بہت بڑا شبہہ ہے بردرس کا کہ میں نے تو صرف نقل کیا ہے، اپنی تحقیق تھوڑی پیش کی ہے۔ حالانکہ یہ حضرات دھوکے میں مبتلا ہوتے ہیں۔
ذرا یہ بتائیں کہ جب ایک عالم نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک نے ضعیف تو انھوں نے کیسے فیصلہ کر لیا کہ ضعیف کہنے والے کی بات برحق ہے؟
ظاہر سی بات ہے اس کے لئے علوم حدیث کو پڑھنا ہوگا تبھی وہ فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اور اس کے لئے ایک لمبی مدت تک علما کی نگرانی میں مشق کی ضرورت ہے۔
ورنہ صحیح غلط کا فیصلہ صرف خواہشات نفس کی اتباع میں ہوگا ٹھوس علم کی بنیاد پر نہیں۔

ہاں اپنے عمل کے لئے جس عالم پر اعتماد ہو ان کی بات مان سکتے ہیں، اگر عالم سے غلطی بھی ہو تو آپ عند اللہ معذور سمجھے جائیں گے۔
لیکن دوسرے کی تحقیق کو غلط کہنے اور ان پر رد کرنے کے لئے پہلے علم حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ایک صاحب کہتے ہیں: (رہا تخریج کا مسئلہ تو ہر شخص جانتا ہے۔۔ کہ یہ روایت کہاں کہاں ہے معلوم کرنے کے لیے دو سال کے کورس کی ضرورت نہیں۔۔ بلکہ اس دور میں با آسانی مل جاتا ہے۔۔۔)

واللہ یہ تو بڑی خطرناک سوچ ہے۔ اللہ بچائے اس گمراہ اور تباہ کن فکر سے۔
کسی روایت کو کمپیوٹر کی مدد سے اکٹھا کر لینا تخریج نہیں کہلاتا، بلکہ اصل کام اس کا دراسہ ہے جو بغیر علوم حدیث (مصطلح، جرح وتعدیل، علل وغیرہ) کو پڑھے ہوئے سوچنا بھی حرام ہے۔
 
Top