ذیشان خان

Administrator
سورہ نوح پند و نصیحت کی روشنی میں

✍ از قلم: حافظ آفتاب عالم
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انبیاء و رسل کو اس لئے مبعوث فرمایا تاکہ وہ افراد انسانی کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں، اسکے احکام و فرامین کو بجا لانے کا پابند بنائیں، انبیاء کرام اپنی قوم کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتے اور برے اخلاق سے روکتے، نیکی کا حکم دینے کے ساتھ انہیں گناہوں کے آلائشوں سے پاک رکھتے، نیز وہ اپنے متبعین کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کے لئے برابر انہیں وعظ و نصیحت کرتے اور انہیں شیطان کے مزین کردہ برے کاموں سے آگاہ کرتے تھے۔
مذکورہ بالا سطور میں بیان کئے گئے کاموں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بہت سارے برگزیدہ بندوں کو مامور فرمایا تھا، انہیں میں سے ایک جلیل القدر پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام بھی ہیں جنہیں یہ شرف حاصل ہے کہ آپ کا نام سب سے پہلےاولو العزم پیغمبروں کی فہرست میں آتا ہے، آپ تقریباً ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں دعوت و تبلیغ کے عظیم فریضہ کو انجام دیتے رہے، علاوہ ازیں یہ بات بھی معروف ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام اس روۓ زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں۔
قرآن مجید میں بہت ساری سورتوں کے نام اللہ تعالیٰ نے اپنے منتخب کردہ بندوں کے ناموں پر رکھا ہے انہیں میں سے ایک سورہ کا نام" نوح" ہے جس میں کچھ نصیحت کی باتیں موجود ہیں، ذیل کے سطور میں ان پند و موعظت کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے۔

: نیکیاں انسان کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ اور اسکی عمر میں برکت کا سبب ہیں۔
: توبہ و استغفار ہر صاحب ایمان کو دنیاوی نعمتوں کے ساتھ اخروی نعمتیں بھی عطا کریں گی۔
: نیک لوگوں کی مجالس میں بیٹھیں، انکی صحبت اختیار کریں، برے لوگوں کی صحبت سے بچیں کیونکہ وہ دنیاوی و دینی اعتبار سے آپ کے لئے خسارے کا سبب ہیں۔
: قوم نوح کو اس لئے ہلاک کیا گیا کیونکہ انہوں نے اپنے رسول کی تکذیب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بھی نافرمانی کی، لہذا اپنے آپ کو ہر اس کام سے باز رکھیں جو عذاب الٰہی کو دعوت دیتا ہو۔
: سب سے پہلے شرک کا ظہور قوم نوح میں ہوا، جسکی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنی قوم کے پانچ افراد ( ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر) کی تعریف میں مبالغہ آرائی سے کام لیا، اس لئے صالحین کے طبقے میں ہر شخص کو اتنا ہی مقام دیں جسکا وہ لائق ہے، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہمیں معلوم بھی نہیں ہوگا کہ کب ہم شرک کے دلدل میں جا گرے۔
: دعا کے لئے جب بندہ مومن اللہ تعالیٰ کے دربار میں اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو جہاں وہ اپنے لئے بھلائی، رب کی بخشش مانگتا ہے وہیں وہ اپنے مومن بھائی کے لئے بھی مغفرت کی دعا کرے۔
 
Top