ذیشان خان

Administrator
کیا علماء کی شاگردی اختیار کیے بغیر حصول علم ممکن ہے؟

✍ حافظ علیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ
ایم.اے. فقہ اسلامی

حدیث رسول اور اقوال سلف کی روشنی میں
(پہلی قسط)

گزشتہ چند سالوں سے ایسے کئی چہرے سامنے آئے ہیں جن کا علمی نسب یا تو مجہول ہے یا وہ علمی طور سے بے نسب ہیں.
جنہوں نے علماء سے دوری اختیار کر کے کتابوں کو اپنا استاد بنا لیا اور سوشل میڈیا پر اپنا مسند افتاء و تدریس جما لیا.
کسی استاد کی راہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے کئی جگہ غوطے کھائے، بے شمار غلطیاں کیں، حتی کہ بعض نے جرأت کرتے ہوئے صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کی.
یہ نتیجہ اس لیے سامنے آیا کیونکہ انہوں نے علم اس طریقے سے نہیں لیا جو نبی اکرم ﷺ اور سلف صالحین کا طریقہ تھا.
لہذا یہ خود بھی بھٹکے اور دوسروں کے بھٹکنے کا سبب بھی بنے.

میں ان شاء اللہ ذیل کے سطور میں، استاد کے پاس بیٹھ کر علم حاصل کرنے کی اہمیت و ضرورت اور صرف کتاب سے علم لینے کی مذمت کے سلسلے میں احادیث رسول اور اقوال سلف پیش کروں گا.

پہلی حدیث:
نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها وحفظها ثم أداها إلى من لم يسمعها فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه
(مسند أحمد: 16738، مستدرك حاكم: 294، صحيح الجامع: 6766)

ترجمہ: اللہ اس بندے کو تر و تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اسے سمجھ کر پھر یاد کیا اور ان لوگوں تک پہنچایا جنہوں نے اسے سنا نہ ہو، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ حدیث سننے والا غیر فقیہ ہوتا ہے اور بسا اوقات حدیث پہونچانے والے سے زیادہ حدیث کا سننے والا زیادہ فقیہ ہوتا ہے.

بعض حدیث کے الفاظ ہیں: "سمع منا حديثا" اور بعض دوسری حدیث میں "سمع منا شيئا" کے الفاظ ہیں۔

محترم قارئین! نبی اکرم ﷺ نے علم اور اس کی فضیلت کے حصول کیلیے جو طریقہ متعین کیا اسے اس حدیث سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

۱۔ نبی اکرم ﷺ سے ثابت شدہ دینی علم حاصل کرنا.

اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے: "سمع منا حديثا" مجھ سے کوئی بات یا کوئی حدیث سنی۔

۲۔ اس کی فہم حاصل کرنا۔

اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ قول ہے: "فوعاها" پھر اسے سمجھا۔

۳۔ سمجھنے کے بعد اسے حفظ کرنا۔

اس کی دلیل نبی اکرم ؔﷺ کا یہ فرمان ہے: "وحفظها" اور اسے یاد کیا۔

۴۔ اس علم کی تبلیغ کرنا۔

اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے: "ثم أداها إلى من لم يسمعها" پھر اسے ان لوگوں تک پہونچایا جنہوں نے اس سنا نہیں ہے۔

اس حدیث سے دو باتیں سامنے آئیں:

۱۔ دین کی تبلیغ کرنے سے پہلے دین کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔

۲۔ علم دین اساتذہ سے لیا جاتا ہے، کیوں کہ کتاب پڑھ کر آپ قاری تو کہلا سکتے ہیں سامع نہیں، جبکہ حدیث میں علم کی سماعت کاذکر ہے۔ لہذا سننے کیلیے استاد کے پاس بیٹھنا لازم ہے۔

دوسری دلیل:
"إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى إذا لم يبق عالما اتخذ الناس رؤوسا جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا". (صحيح بخاري: 100)
ترجمہ: اللہ رب العالمین علم کو لوگوں کے سینوں سے سلب کر کے نہیں اٹھائے گا، بلکہ علماء کو اٹھا کر کے علم اٹھا لے گا، پھر جب کوئی بھی عالم نہ بچے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، پھر ان سے سوال. کیا جائے گا اور بلا علم جواب دے کر خود بھی گمراہ ہونگے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے.

وجہ استدلال: اگر صرف کتابوں سے علم کا حصول ممکن ہوتا تو علماء کے اٹھ جانے سے علم کے ختم ہونے کی بات نہ ہوتی.
کیوں کہ کتابیں تو علماء کے اٹھ جانے کے باوجود بھی موجود رہیں گی، لیکن چونکہ بغیر علماء کے علم کا حصول نا ممکن امر ہے اس لیے علماء کا عدم وجود علم کے عدم وجود کی دلیل بن گئی.
(یہ عظیم فائدہ میں نے فضیلۃ الشیخ عبد اللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے بیان سے حاصل کیا ہے، اللہ شیخ محترم اور تمام علماء ربانیین کی حفاظت فرمائے. آمین)

تیسری دلیل:
"إن العلماء ورثة الأنبياء، إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما، إنما ورثوا العلم". (سنن الترمذي: 2682) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے.
ترجمہ: یقیناً علماء انبیاء کے وارث ہیں، یقیناً انبیاء نے دینار و درہم نہیں چھوڑا ہے بلکہ انہوں نے علم کی وراثت چھوڑی ہے.

وجہ استدلال: نبی اکرم ﷺ انبیاء کے علم کا وارث علماء کو بنایا ہے، کتابوں کو نہیں.
لہذا اس وراثت کو حاصل کرنے کیلیے آپ کو لازماً وارثین کے پاس جانا ہوگا.
اگر آپ نے وارثین کے پاس آئے بغیر اس وراثت کے حصول کی کوشش کی ہے تو آپ نے غلط طریقہ اختیار کیا ہے.

چوتھی دلیل:
[إِنَّما العلمُ بِالتَّعَلُّمِ] (رواه أبو خيثمة في كتاب العلم، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے، صحیح الجامع: 2328)

حدیث کی شرح میں ائمہ حدیث کے اقوال:

1- حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والمعنى ليس العلم المعتبر إلا المأخوذ من الأنبياء وورثتهم على سبيل التعلم."
[فتح الباري لابن حجر (1/ 161)، كوثر المعاني الدراري في كشف خبايا صحيح البخاري (3/ 149)].
ترجمہ: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو انبیاء اور وارثین انبیاء سے اس طریقے سے لیا گیا ہو جو حصول علم کا (بنیادی) طریقہ ہے.

2- ملا علی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وفيه إشارة إلى أن العلم بالتعلم وأنه يجب التجويد وأنه يؤخذ من أفواه المشايخ.
[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4/ 1477)].
ترجمہ: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ علم، سیکھنے سے آتا ہے، اور علم اچھے سے سیکھنا واجب ہے اور یہ کہ علم، علماء سے سن کر لیا جائے گا.

3- علامہ مناوی فرماتے ہیں: أي ليس العلم المعتبر إلا المأخوذ عن الأنبياء وورثتهم على سبيل التعليم وتعلمه طلبه واكتسابه من أهله وأخذه عنهم حيث كانوا فلا علم إلا بتعلم من الشارع أو من ناب عنه منابه.
[فيض القدير (2/ 569)]
ترجمہ: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو انبیاء اور وارثین انبیاء سے اس طریقے سے لیا گیا ہو جو حصول علم کا (بنیادی) طریقہ ہے. اور اسے سیکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ طلب علم میں نکلا جائے اور اسے علماء سے حاصل کیا جائے خواہ وہ کہیں بھی ہوں.
لہذا علم جب تک نبی اکرم ﷺ یا ان کی نیابت کرنے والے علماء سے نہ لیا جائے وہ علم نہیں کہلاتا.

4- امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أي ليس العلم المعتبر إلا ما أخذ عن الرسل وورثته على سبيل التعلم فلا علم إلا بتعلم من الشارع وأخذه عنه. [(التنوير شرح الجامع الصغير (4/ 185)].
ترجمہ: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ صرف وہی علم معتبر ہے جو انبیاء اور وارثین انبیاء سے اس طریقے سے لیا گیا ہو جو حصول علم کا (بنیادی) طریقہ ہے. لہذا جب تک علم سیکھ کر اور نبی اکرم ﷺ سے حاصل نہ کیا جائے وہ علم نہیں کہلاتا.

5- امام کرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: أي ليس العلم المعتبر إلا المأخوذ من الأنبياء وورثتهم علي سبيل التعلم.
[الكواكب الدراري في شرح صحيح البخاري (2/ 30/31)].
ترجمہ: علم وہی معتبر ہے جو انبیاء اور وارثین انبیاء سے بطور تکسب لیا گیا ہو.

یہی معنی صحابی رسول ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے،
چنانچہ فرماتے ہیں کہ: "لاَ تَكُونُ عَالِماً حَتَّى تَكُونَ مُتَعَلِّماً" (سنن الدارمی)
جب تک تم شاگردی اختیار نہیں کر لیتے اس وقت تک تم عالم نہیں بن سکتے.

لہذا بغیر شاگردی اختیار کیے کوئی بھی شخص عالم نہیں بن سکتا.

(جاری)
 
Top