ذیشان خان

Administrator
رد فتنۂ بردرس

ایک اور بردر کی علمی جرات ملاحظہ فرمائیں!

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

العلم يجعل الإنسان في ذلة إذا عكس طريق طلبه

بردرس پر یہ جملہ صد فیصد صادق آتا ہے۔

اگر انسان معروف طریقے سے علم حاصل نہ کرے، تو یہ علم خود اسے اہل علم کے مابین ذلیل ورسوا کر دیتا ہے۔ چنانچہ اپنی جہالت کی بنا پر وہ عجیب وغریب چیزیں پیش کرتا رہتا ہے جس پر اہل علم ہنستے ہیں۔ گرچہ اہل علم کی طرف سے اس پر رد نہ ہو لیکن ان کے مابین وہ اپنی جہالت کا جھنڈا گاڑ دیتا ہے۔
وہ سوچتا ہے کہ تمام علما اس مسئلہ میں غلط ہیں، میں ہی درستگی تک پہنچ پایا ہوں۔ لیکن افسوس کہ وہ یہ بھی نہیں جانتا کہ میں نہیں جانتا ہوں۔ وہ اپنی جہالت کے بارے میں بھی جاہل ہوتا ہے۔

اگر کوئی درزی کپڑا کاٹتے اور سیلتے ہوئے یہ سوچنے لگے کہ میں آپریشن بھی کر سکتا ہوں، میں بھی انسانی اعضا کو کاٹ اور سل سکتا ہوں تو اسے کیا کہا جائےگا؟

افسوس کہ بردرس آج یہی کر رہے ہیں۔ بلکہ ایک درزی آپریشن کرکے کسی مریض کو اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا یہ بردرس شریعت کو پہنچا رہے ہیں۔

ایک بردر کا خون کے آنسو رلا دینے والا ایک قصہ سنیں:

مجمع ملک فہد سے جو قرآن کریم کے نسخے چھپتے ہیں اہل علم کے نزدیک وہ پوری دنیا میں سب سے ٹھوس اور غلطیوں سے پاک نسخے مانے جاتے ہیں۔
یہاں ایک ایک صفحہ چیکنگ کے پانچ پانچ مرحلوں سے گزرتا ہے۔ دنیا کے سب سے معروف ومشہور حفاظ وقراء کی ٹیم اسے چیک کرتی ہے، جس کے صدر مسجد نبوی کے امام اور رئیس القراء شیخ حذیفی حفظہ اللہ ہیں۔
قرآن کریم میوزیم میں جب میں بطور گائیڈ کام کرتا تھا اس وقت زائرین کو پریکٹیکل دکھاتا تھا کہ مجمع ملک فھد میں پڑنٹنگ سے پہلے کن کن احتیاطی مراحل سے ہر صفحہ گزرتا ہے۔
اب کوئی جاہل ہی یہ سوچ سکتا ہے کہ مجمع ملک فہد سے چھپے قرآن کریم کے نسخوں میں پوری دنیا کے معروف قراء كرام کی نظروں سے بے شمار غلطیاں اوجھل رہ گئیں، اور میں ہی صرف اسے پکڑ پایا ہوں۔
کسی عالم کے دماغ میں اگر اس طرح کا بے تکا خیال آئے بھی تو وہ اپنے آپ کو متہم کرےگا، اور تمام علما وقراء کو متہم کرنے کا جاگتی آنکھوں سے تو دور خواب میں بھی نہیں سوچےگا۔

لیکن ایک بردر نے اپنا ایک مقالہ نشر کیا جس کا عنوان تھا: "تنبيهات على الأخطاء الموجودة في مصحف مجمع الملك فهد".
اس میں انھوں نے صفحہ نمبر کے ساتھ (اپنی جہالت کی بنا پر) ان غلطیوں کو بیان کیا تھا جو مجمع ملک فھد کے مصحف میں انھیں نظر آیا تھا۔ لیکن اس عاصم کو پتہ نہیں تھا کہ میرے ہاتھ میں جو مصحف ہے وہ حفص عن نافع کی قراءت پر نہیں، ورش عن نافع کی قراءت پر ہے۔ اب یہ جاہل سمجھ رہا تھا کہ اس مصحف میں بے شمار غلطیاں ہیں۔

شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ (عضو هيئة كبار العلماء) نے اپنے ایک درس میں طلبہ کو یہ قصہ سنایا، اور فرمایا کہ میں نے وہ مقالہ پڑھا ہے۔

صحیح راستے سے علم حاصل نہ کرنے کی بنا پر علم نے اس بردر کو لوگوں کے مابین ذلیل ورسوا کر دیا۔ اس نے خود اپنے آپ کو نقصان پہنچایا، کسی دوسرے کو نہیں۔

یہی حال ہر بردر کا ہے وہ اپنی جہالت کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ تمام ائمہ اور علماے کرام سے سمجھنے میں غلطیاں ہو گئیں، میں اور میری طرح کے بردرس ہی صرف صحیح سمجھ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی مجال نہیں کہ بغیر اعراب کے عربی کی کوئی ایک عبارت بھی صحیح صحیح پڑھ لیں، سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

اسی طرح کی ایک جرات کئی دن پہلے ایک بردر نے کی تھی۔ امام بیہقی کے سنن ثلاثہ کے پانے مسئلے میں حافظ ذہبی سے لے کر تمام ائمہ کرام کی تغلیط کر رہے تھے، میں نے ان کا جواب دیا تھا، اور ائمہ کرام کی عبارت کا مقصود بیان کیا تھا۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ تحریر کافی تھی، لیکن جنھوں نے ابھی مصطلح الحدیث کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی کسی استاد سے نہ پڑھی ہوں، صرف علما کی چند تحریریں جن کی کل پونجی ہوں ان کے لئے ان مسائل کو سمجھنا آسان نہیں ہے۔

اس وقت بھی وہ بردر دکتور نجم عبد الرحمن خلف کی کتاب ”موارد الإمام البيهقي في كتابه السنن الكبرى“ سے اسکرین شاٹ بھیج کر خوش ہو رہے تھےکہ میری ہی بات صحیح ہے، تمام ائمہ کرام سے مسئلہ کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ حالانکہ وہ ائمہ کرام کی تغلیط کی نہیں عربی زبان اور علم حدیث سے اپنی لا علمی کی دلیلیں ارسال کر رہے تھے۔ اگر اس شریف علم کو سمجھے ہوتے تو پورے مبحث کو پڑھنے کے بعد قطعا وہ ارسال نہ کرتے۔
لیکن اللہ تعالی کی توفیق سے امید ہے کہ وہ صحیح راستے پر آنے والے ہیں۔ اور دعا کرتا ہوں کہ سلفی منہج کے مطابق علم طلب کریں اور پھر علم کی نشر واشاعت کریں۔ اللہ تعالی توفیق دے۔

اس سب کے باوجود آج ایک بردر نے وہی بات دہرائی ہے جس کا میں پہلے ہی پردہ فاش کر چکا ہوں۔ اس بردر نے کئی دن پہلے مجھے ایک سوال بھیجا تھا۔ پہلے سوال کا نص پڑھ لیں: (شیخ محترم آپ ہم جیسے نکمّے طلباء کو بہت ہی زبردست علم سے مستفیض کرتے رہتے ہیں،
فجزاك الله خير
شیخ محترم آپ کی تحریروں سے اور دوسرے اہلِ علم کی کتب سے میں نے ایک بات اخذ کی ہے اگر دُرست ہو تو مطلع فرمائیں کہ: اگر کوئی شخص آپ کی تحریروں کو اور علماء کی کتب کو صحیح سے مطالعہ کرے تو علامہ تو نہیں بن سکتا لیکِن طالب علم ضرور بن جاتا ہے، اور طالب علم بھی ایسا جِس کے پاس صحیح علم ھو)

ان کے نزدیک میں پہلے اہل علم میں سے تھا اور انھیں اپنی تحریروں سے زبردست مستفیض کر رہا تھا۔
جیسے کہ میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں، ہر بردر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ شروع شروع میں علما سے جڑے رہتے ہیں، نہایت ادب واحترام سے پیش آتے ہیں، بات بات پر شیخ شیخ کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی آپ نے ان کی کسی غلطی کو پکڑا، اور علم حاصل کرنے کی نصیحت کی غلطی کر دی پھر آپ سے بڑا جاہل دنیا میں کوئی نہیں۔

چنانچہ اس بردر کے ساتھ بھی یہی ہوا، دوچار دنوں بعد ہی ایسی نوبت آگئی ۔ میں نے جب یہ پوچھا کہ (آپ لوگ یہ بتائیں کہ حدیث کی تحقیق سے پہلے اس کے اصول وقواعد کے اوپر اب تک آپ لوگوں نے کون کون سی کتابیں پڑھی ہیں؟)
تو مجھے گھمنڈی، متکبر، اور متعصب شخص کہنے لگے۔

آج انھوں نے امام بیہقی کے سنن ثلاثہ پانے والے مسئلہ پر ایک پوسٹ لکھی ہے۔ کہتے ہیں:
(("کیا امام بیہقی رحمہ اللہ کے پاس جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ وغیرہ کتب نہیں تھیں؟"
در اصل یہ بات بعض آئمہ حضرات کی طرف سے کہی گئی ہے لیکِن اُن ائمہ کی کیا وجوہات تھیں انھوں نے کیوں ایسا کہا تھا، وللہ اعلم بالصواب،
لیکِن افسوس در افسوس تو جب ہوا کہ جب میں نے ایک ڈگری والے مولانا کی پوسٹ پر یہ بات پڑھی تو مجھے حیرانی ہوئی اور کُچھ دیر تک میں بھی سوچنے لگا، لیکِن دِل نے گواہی نہیں دی کہ یہ بات صحیح ہوگی تو پھر ہم نے امام بیہقی صرف ایک ہی کتاب پر نظر ڈالی "السنن الكبرى للبيهقي" اور یہ بات سو فیصد غلط ثابت ہوئی کیوں کہ امام بیہقی کی صرف ایک کتاب میں اس دعوےٰ کو تردید موجود ہے،

لیکِن مزید حیرت اُس وقت ہوئی جب اُس ڈگری یافتہ مولوی کی تقلید میں کُچھ اور ڈگری والے مولویوں نے بھی بلا تحقیق اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے اُس پوسٹ کو لائک کیا۔))

یہاں انھوں نے جن ائمہ کرام کی بات کی ہے پہلے ان کے نام سن لیں۔ یہ ہیں:
1 - حافظ ابن عبد الہادی (متوفی 744ھ)
2 - حافظ ذہبی
3 - علامہ صفدی
4 – علامہ ابو محمد عبد اللہ الیافعی
5 – علامہ سبکی
6 - اور علامہ سیوطی رحمہم اللہ جمیعا
ان کے علاوہ بھی دوسرے علما جنہوں نے امام بیہقی پر کام کیا ہے اس بات کی صراحت کی ہے۔

حضرت کی عبارت دوبارہ پڑھیں ! کہہ رہے ہیں کہ ان کے دل نے گواہی نہیں دی کہ یہ بات صحیح ہوگی۔
یہ دل نہ ہوا حق وباطل کا میزان اور معیار ہوگیا۔
اب تما م محدثین جائیں گھاس چرنے ۔ ان کا علم اور منہج تھوڑے صحیح غلط کا کوئی معیار ہے۔ معیار تو حضرت کا دل ہے۔

اپنے دل کی گواہی پر حضرت نے جب امام بیہقی کی السنن الکبری پر نظر ڈالی تو تمام ائمہ کا دعوی "سو فیصد" غلط ثابت ہو گیا۔ کیوں کہ ان کے مطابق امام بیہقی کی صرف ایک کتاب میں اس دعوی کی تردید موجود ہے۔

اللہ اکبر!!!!

آج تک پوری امت میں کسی نے یہ نہیں کہا تھا کہ ان ائمہ کا دعوی "سو فیصد" غلط ہے۔
لیکن یہ بات بھی تو ہے کہ پوری امت میں حضرت کی طرح اتنا بڑا عالم ہی کہاں پیدا ہوا تھا جو اتنا سٹیک فیصلہ کر سکے۔

السنن الکبری تو ان ائمہ کرام نے پڑھی نہیں تھی۔ وہ تو بغیر پڑھے ہی اس طرح ہانک رہے تھے۔ اگر حضرت بردر مد ظلہ العالی کی طرح السنن الکبری پر ایک نظر ڈال لیتے تو ہو سکتا ہے سو فیصد نہ سہی ایک فیصد ہی اپنے دعوے کی غلطی سمجھ لیتے۔

اب کوئی یہ نہ کہے کہ حافظ ذہبی نے تو پورے السنن الکبری پر اختصار کا کام کیا ہے، اور السنن الکبری کی ایک ایک حدیث کو جانچا پرکھا ہے۔
ارے بھئی اتنا دقیق مسئلہ سمجھنے کے لئے حافظ ذہبی کے پاس تھوڑے اتنا علم تھا جتنا اس بردر کے پاس ہے۔ علوم حدیث کے ایسے دقیق مسائل علما تھوڑے سمجھ سکتے ہیں، یہ تو بردرس کی خوبی ہے جو چٹکی بجاتے ہوئے دل کی ایک گواہی پر ایسے مسائل حل کر دیتے ہیں۔

اگر یہ بردر عرض، سماع، وجادہ وغیرہ دیگر طرق تحمل کو جانتے ہوتے تو خود اپنی غلطی پر اب تک شرم سے پانی پانی ہو جاتے۔

میں نے پہلے ہی اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ ائمہ کرام کی ان تصریحات کا کیا معنی ہے۔ قارئین کرام کے لئے دوبارہ بیان کر رہا ہوں تاکہ یہ بردر اس خوش فہمی میں نہ مبتلا رہیں کہ میری دلیل کا کسی کے پاس جواب نہیں ہے۔
اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

علمائے کرام کی ایک جماعت نے جو یہ صراحت کی ہے کہ امام بیہقی رحمہ اللہ کو سنن ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نہیں ملی تھیں ان کی تصریحات سے دو باتیں بالکل واضح ہیں:

پہلی بات:
امام بیہقی کے پاس سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کی روایت نہیں تھی۔ وہ صاحب روایت محدث ہیں، اپنی اسانید سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ اور کسی کتاب کی روایت کے لئے کسی ایسے استاد سے اسے حاصل کرنا ضروری ہےجن کے پاس اس کی متصل سند موجود ہو۔
امام بیہقی نے طرق تحمل میں سے کسی طریقے سے سنن ترمذی ، نسائی وابن ماجہ کی روایت نہیں لی ہے۔ اسی لئے ان تینوں کتابوں کی احادیث ان کتب کے طریق سے وہ روایت نہیں کرتے۔ میں نے اپنی پوسٹ میں صاف طور پر یہ لکھا تھا کہ ”اسی لئے آپ ان کی کتابوں میں ان کتب کے طریق سے کوئی حدیث نہیں پائیں گے“۔ لفظ ”ان کتب کے طریق سے“ پر غور فرمائیں!! میں نے ان کتابوں کے طریق سے روایت کی نفی کی ہے۔ یہ نہیں کہا ہے کہ امام بیہقی کی سند میں ترمذی ، نسائی وابن ماجہ کا نام نہیں پائیں گے۔
حافظ ذہبی کی عبارت پر غور فرمائیں! انھوں نے جہاں اس بات کی صراحت کی ہے کہ انھیں یہ تنیوں کتابیں نہیں ملی تھیں، وہیں پر انھوں نے کہا ہے کہ ”بل عنده عن الحاكم وِقْرُ بعير أو نحو ذلك"
امام حاکم امام بیہقی کے سب سے مشہور استاد ہیں۔ ان سے ہزاروں احادیث انھوں نے روایت کی ہیں۔ اور امام حاکم نے سنن ترمذی ونسائی کی احادیث متصل سند روایت کی ہے۔ لہذا ان سے یا دیگر اساتذہ سے روایت کرتے وقت امام بیہقی کی سند میں ترمذی ونسائی کا نام آجانا بالکل عام بات ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات ہی نہیں۔
لیکن اس سے قطعا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام بیہقی نے اپنے کسی استاد سے متصل سند کے ساتھ سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کی روایت لی تھی۔
اس لئے وہ امام ترمذی کا کوئی حکم نقل کرتے وقت صراحت بھی کرتے ہیں: ”فیما بلغنی عنہ“۔
علماے حدیث اچھی طرح جانتے ہیں کہ متصل سند کے ساتھ روایت کرنے والا اس طرح کا صیغہ استعمال نہیں کرتا۔ یہ صیغہ خود سابقہ ائمہ کرام کے دعوے کی تصدیق کر رہا ہے کہ انھیں بطور وجادہ یہ ملا تھا۔ اس کتاب کی روایت انھوں نے متصل سند کے ساتھ کسی استاد سے نہیں لی تھی۔

اب ایک عجیب لطیفہ سنیں:
جس بردر کی بات چل رہی ہے انھوں نے خود اپنے خلاف دلیل قائم کرتے ہوئے امام بیہقی کی کتاب سے یہی الفاظ نقل کئے ہیں۔
چنانچہ کہتے ہیں:
((اب آئیے آتے ہیں اصل بات کی طرف امام بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب سے ہم دکھاتے ہیں کہ کتنے مقامات پر امام بیہقی نے سنن ترمذی اور سنن نسائی سے استفادہ کیا ہے،
چنانچہ امام بیہقی اپنی کتاب "سنن کبری" میں لکھتے ہیں کہ:
"قال أبو عيسى: فيما بلغني عنه حديث حسن غريب وهو أصح من حديث اسرائيل عن عبد الأعلى"
دیکھئے: بیہقی سنن کبری ۱۰/۱۰۰
یہی بات امام ترمذی نے اپنی کتاب "الجامع" میں کہی ہے،
دیکھئے: رقم الحديث: [ 1324 ] قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب وهو أصح من حديث إسرائيل عن عبد الأعلى))

اب اس علم حدیث کے یتیم بردر کو کون سمجھائے کہ یہاں ”فيما بلغني عنه“ کا صیغہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے پاس متصل سند سے سنن ترمذی کی روایت نہیں تھی۔
اگر یہ بردر مصطلح الحدیث کی کوئی چھوٹی سے چھوٹی کتاب بھی کسی استاد سے پڑھ لیتے تو اتنی بڑی حماقت نہ کرتے۔ اور ایسی عبارت سے استدلال نہ کرتے جو خود ان کے خلاف دلیل بن رہی ہے۔

یہ اسی طرح کی بات ہوگئی جس طرح ایک شیخ نے جب ایک حدیث کے بارےمیں بیان کیا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں تو ایک شخص کہنے لگا کہ میں حدیث کی کتاب میں آپ کو دکھا سکتا ہوں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔ پھر ابن الجوزی کی کتاب الموضوعات اٹھا کر لائے اور دعوی کرنے لگے کہ دیکھیں یہ حدیث موجود ہے۔

امام بیہقی کی بعض اسانید میں ترمذی ونسائی کا نام دیکھ کر حفاظ ومحدثین کے دعوے کو غلط کہنے کی جرات اس فن کا کوئی نو سیکھیا ہی کر سکتا ہے۔

دوسری بات:
علامہ ابو محمد عبد اللہ الیافعی کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ امام بیہقی کو سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کا تھوڑا سا حصہ ملا تھا۔ انھوں نے کہا ہے: ”كل هذه ليست عنده إلا ماقل منها“۔ یہ تھوڑا سا حصہ انھوں نے بطور روایت حاصل کیا تھا یا بطور وجادہ یہ واضح نہیں۔ اگر اس تھوڑے سے حصے کے بارے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انھوں نے بطور روایت ہی اسے حاصل کیا تھا پھر بھی اسے پانا نہیں کہا جائےگا۔ کیونکہ اصول ہے للاکثر حکم الکل۔ حالانکہ اقرب یہی ہے کہ انھوں نے اسے بطور وجادہ حاصل کیا تھا، بطور روایت نہیں، کیونکہ دوسرے تمام علما نے مطلقا نفی کی ہے۔
شیخ نایف المنصوری نے اسے ہی راجح قرار دیا ہے۔ دیکھیں: السلسبيل النقي في تراجم شيوخ البيهقي (ص: 91)

اور وجادہ وروایت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔

آج بھی مارکیٹ میں یہ کتابیں دستیاب ہیں جسے کوئی بھی خرید کر حاصل کر سکتا ہے لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ کسی شیخ سے متصل سند کے ساتھ ان کتابوں کی اس نے روایت بھی لی ہے۔ کتاب حاصل کر لینا الگ بات ہے اور کسی مُسنِد شیخ سے متصل سند کے ساتھ اس کی روایت لینا بالکل الگ بات۔

انھیں بطور وجادہ تھوڑا سا حصہ ملا تھا جس سے وہ اپنی کتابوں میں نقل بھی کرتے ہیں۔ یہ چیز ان تمام ائمہ کے سامنے موجود تھی، اور اس کے باوجود انھوں نے مذکورہ دعوی کیا ہے، لہذا اس کا وہ مفہوم ہے ہی نہیں جسے یہ برادر سمجھ رہے ہیں۔
الحمد للہ ائمہ کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا وہ مفہوم ہے جسے میں نے ابھی بیان کیا ہے۔ ان کی تغلیط قطعا درست نہیں۔ اللہ اعلم ، وعلمہ اتم واحکم۔

کچھ دنوں پہلے اسی طرح ایک بردر نے ایک کتاب لکھ ماری تھی جس میں انھوں نے دعوی کیا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی غلطی کا پردہ فاش کر رہے ہیں، وہ یہ کہ کتاب ”الرسالہ“ یہ امام شافعی کی تصنیف نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان کے شاگرد ربیع بن سلیمان کی تصنیف ہے۔ اور انھوں نے مذکورہ بردر کی طرح ہی کتاب سے بعض دلائل بھی دئے تھے جن سے کسی جاہل کو یہ گمان ہو سکتا ہے کہ بات تو صحیح ہی کہہ رہے ہیں۔ حالانکہ اہل علم جانتے ہیں کہ راوی کتاب بسا اوقات استاد کی کتاب روایت کرتے وقت ایسے جملے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس سے وہ کتاب کے راوی ہی رہتے ہیں مصنف نہیں بن جاتے۔

سچ کہا ہے علما نے: "العلم يجعل الإنسان في ذلة إذا عكس طريق طلبه".

ایسے لوگ علمی میدان میں زبردستی داخل ہو کر خود اپنی ذلت ورسوائی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ اگر یہ خاموش رہیں تو ان کے عیوب پر پردہ پڑا رہے۔

اللہ تعالی ہمیں صحیح منہج کے مطابق علم نافع حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top