ذیشان خان

Administrator
شوہر کو حاکم سمجھیں زندگی خوشگوار بنائیں۔

ترجمہ: حافظ علیم الدین یوسف

گھریلو معاشرت کی حسن فقہ میں سے یہ بھی ہے کہ عورت اپنے شوہر کو مخاطب کرتے وقت لب و لہجہ نرم اور میٹھا رکھے، اپنے شوہر کو ایسے القاب سے پکارے جو اسے پسند ہو.
ام درداء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: مجھ سے میرے آقا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے بھائی کیلیے اس غائبانہ میں دعا کی، فرشتے اس کی دعا پر آمین کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہارے لیے بھی اسی کے مثل دعا ہے.
(مسلم)
ام درداء رضی اللہ عنہا کا قول: "سیدی" سے مراد ان کے شوہر ابو الدرداء ہیں.
یہاں انہوں نے اپنے شوہر کے بارے میں بتانے کیلیے جو جملہ بیان کیا اس میں بھی لطف اور نرمی کا معاملہ کرتے ہوئے انہیں سید کے لقب سے پکارا.
سعید بن المسیب رحمہ اللہ کی اہلیہ فرماتی ہیں کہ: ہم اپنے شوہروں سے اسی طرح گفتگو کیا کرتے تھے جس طرح تم اپنے حاکموں سے کرتے ہو.
(اسے ابو نعیم نے روایت کیا ہے)
یعنی عہد تابعین کی عورتیں اپنے شوہروں سے گفتگو کرنے کیلیے اچھے اچھے الفاظ و القاب اختیار کرتی تھیں.

(نوٹ: میں اگر علماء و ائمہ سے علمی فوائد منقول کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں ان کی مجالس میں حاضر ہوتا ہوں، اس کا مطلب یہ نہ نکالا جائے کہ میرے ان سے گہرے روابط ہیں. جزاکم اللہ خیرا)
 
Top