ذیشان خان

Administrator
ہاتھ سے تصویر بنانے اور مشین کے ذریعہ فوٹو لینے کے درمیان فرق کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں!!

✍: شیخ الحدیث علامہعبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ (١٩٩٤م)

سوال:
میں (محمد موسیٰ) ٹین پرنٹنگ (ٹین پر چھپائی) کا کام کرتا ہوں اور تقریبا اس کام کو کرتے ہوئے ٣٠ سال کا عرصہ گزر رہا ہے، اور میرے یہاں مسلم وغیر مسلم دونوں قسم کے لوگ مختلف چیزیں پرنٹ کراتے ہیں، ہر کمپنی والا اپنا مختلف مارکہ، لیبل اپنی تیار کردہ چیزوں پر لگاتا ہے.
بسا اوقات غیر مسلم لوگ اپنی دیوی دیتاوں کی تصویروں کو اپنا لیبل، مارکہ بناتے ہیں اور اسے ٹین کے ڈبوں، کنستر اور کاغذ پر پرنٹ کراتے ہیں.
کیا کوئی مسلم شخص جس کے یہاں پرنٹ کا کام ہوتا ہو وہ ایسی ذی روح کی مینو فکچرس (صنعت کار) ہوں یا چھوٹے کاروباری لوگ اپنے اپنے لیبل پر ذی روح مثلا مور، بطخ، پرندوں، دیوتاؤں، مورتیوں کی تصاویر کو لگانا تجارت کا جزو اعظم ہوجاتا ہے، کیونکہ اگر ان تصویروں کو بطورِ پہچان کے نہ لگائیں تو دوسری کمپنیاں بعینہ وہی چیزیں بنا لیتی ہیں، اور سابق کمپنیوں کو اس کی وجہ سے خسارہ اٹھانا پڑتا ہے.
ان احادیث کے پیشِ نظر صورت مسئولہ کے جواز وعدمِ جواز پر قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلل فیصلہ صادر فرمائیں. والسلام

جواب:
کسی بھی ذی روح کی خواہ وہ انسان ہو یا کوئی جانو، صحرائی ہو یا آبائی، درندہ ہو یاچرندہ یا پرندہ، ماکول اللحم ہو یا غیر ماکول اللحم کی تصویر بنانا یا بنوانا یا فوٹو لینا یادیوی دیوتا یا مورتی کی تصویر بنانی بغیر اضطرار اور مجبوری کے قطعاً حرام ہے.
کسی بھی ذی روح کی تصویر کا ٹین پر پرنٹ کرنا کرانا،
کلینڈروں اور رسالوں، اخبارات میں دینا،
اور گھروں میں آویزاں کرنا ،
جلسوں اور جلوس میں شریک ہونے والوں کا فوٹو لینا،
ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔
جو لوگ ہاتھ سے تصویر بنانے اور مشین کے ذریعہ فوٹو لینے کے درمیان فرق کرتے ہیں یعنی پہلی صورت کو حرام و ناجائز اور دوسری صورت کو جائز کہتے ہیں. اس فرق کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے۔
البتہ مجبوری کی صورت میں مثلاً حج یا بیرون ملک سفر کے لئے فوٹو کھنچوانا اور اس کا گھر میں رکھنا جائز ہے.
آپ یا کوئی دوسرا مسلمان؛ اس کا کاروبار کے لئے ٹین کے ڈبوں، کنستراور کاغذ پر ذی روح کی یا دیوی دیوتا کی تصویر کو لیبل، مارکہ کے لئے پرنٹ کرنا اور کرانا جائز نہیں ہے.
اس کے ذریعہ جو کمائی ہوگی اس سے انتفاع جائز نہیں ہوگا.
اللہ تعالی نے رزقِ حلال کی بے شمار صورتیں پیدا کی ہیں، آپ ٹین پر نٹنگ کے علاوہ دوسرا جائز اور حلال ذریعہ معاش اختیار کر سکتے ہیں.
ان شاء اللہ اس میں آپ کو برکت ہوگی اور آپ کی جملہ عبادات اور اعمال صالحہ مقبول ہونگے.
هذا ما ظهر لي والعلم عند الله تعالى
٢١/ ٦/ ١٤٠٩ھ _ ٣٠/ ١/ ١٩٨٩م

📚: ((فتاوی شیخ الحدیث رحمانی: ٣/ ٥٠٨، ط: مكتبة الفهيم؛ ٢٠١٨م))
التحذير_من_فتنة_التصوير
 
Top