ذیشان خان

Administrator
مسلمانوں کے لئے دنیاوی مصیبت درحقیقت نعمت کبری ہے

✍: علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ (۱۸۹۰ء)

جس مرض کے بعد صحت حاصل ہو اور جس مصیبت کے بعد عافیت میسر آئے، وہ بلاء اور ابتلاء نہیں بلکہ در حقیقت احسانِ عظمیٰ اور نعمت کبریٰ ہے۔...
حدیث صہیب رومی رضی اللہ عنہ میں مرفوعاً آیا ہے کہ:
"مومن کا عجب حال ہے کہ اس کا سارا کام اچھا ہے. اگر مسرت حاصل ہو تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے بہتر ہے، اور اگر مضرت پہونچے تو صبر کرتا ہے، اور یہ بھی اس کے لئے بہتر ہے". [رواہ مسلم: ٢٩٩٩]
سعد بن ابی الوقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ:
"أيُّ النَّاسِ أشدُّ بلاءً قالَ الأَنبياءُ ثمَّ الأَمثلُ فالأَمثلُ؛ يُبتلَى الرَّجلُ علَى حسَبِ دينِهِ، فإن كانَ في دينِهِ صلبًا اشتدَّ بلاؤُهُ، وإن كانَ في دينِهِ رقَّةٌ ابتليَ علَى قدرِ دينِهِ، فما يبرحُ البلاءُ بالعبدِ حتَّى يترُكَهُ يمشي علَى الأرضِ وما علَيهِ خطيئةٌ."
[رواہ الترمذی:٢٣٩٨، قال الألباني حسن صحیح]
دنیا میں سب سے زیادہ آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے؟ فرمایا: انبیاء کی اور پھر درجہ بدرجہ آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے. اگر دین میں سخت ہو تو آزمائش بھی سخت اور اگر دین میں نرم ہو تو آزمائش بھی نرم ہوتی ہے، پس بندے پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں حتیٰ کہ وہ زمین پر اس حال میں چلنے لگتا ہے کہ اس کی تمام خطائیں معاف ہوچکی ہوتی ہیں.
یہ حدیث اس بات پر دال ہے کہ ہر شخص کی آزمائشیں دین میں اس کی بختگی کے مطابق ہوتی ہیں. اگر دین میں سخت ہے تو آزمائش بھی سخت اور اگر دین میں نرم ہے تو آزمائش بھی نرم ہوگی. انبیاء علیھم السلام پر اسی وجہ سے آزمائش سخت ہوتی تھی کہ وہ دینِ الٰہی میں نہایت درجہ شدید ہوتے تھے.
أبو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی مرفوع حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
"أشدُّ الناسِ بلاءً الأنبياءُ ثُمّ العلماء ثم الصالحونَ، وكان أحدُهُمْ يُبْتَلَى بِالقَمْلِ حتى يَقْتُلهُ، ويُبْتَلَى أحدُهُمْ بِالفَقْرِ حتى ما يَجِدُ إلَّا العَباءَةَ يَلْبَسُها، ولأحدُهُمْ كان أَشَدَّ فَرَحًا بِالبلاءِ من أَحَدِكُمْ بِالعَطَاءِ".
[رواہ الحاکم وله شواهد کثیرۃ، و صححه الألباني في صحیح الترغیب:٣٤٠٣، و صحيح الجامع:٩٩٥]
دنیا میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے پھر علماء اور پھر نیک لوگوں کی. پہلے زمانے میں جوؤں کے ساتھ بھی آزمائش ہوتی تھی حتیٰ کہ وہ انسان کو قتل کر دیتی تھی، اور کبھی آزمائش فقر کی صورت میں نازل ہوتی تھی حتیٰ کہ بدن پر لپٹی ہوئی چادر کے سوا کوئی چیز نہ ہوتی، جتنا تم عطا پر خوش ہوتے ہو، اس سے زیادہ وہ بلا پر خوش ہوتے تھے.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"يَوَدُّ أَهلُ العَافِيَةِ يَومَ القِيَامَةِ حِينَ يُعطَى أَهلُ البَلَاءِ الثَّوَابَ لَو أَنَّ جُلُودَهُم كَانَت قُرِّضَت فِي الدُّنْيَا بِالمَقَارِيضِ".
[رواہ الترمذی، وحسنه الألباني فی صحیح الترمذي:٢٤٠٢]
اہل ِعافیت روزِ قیامت جب ابتلاء رسیدہ لوگوں کے ثواب کو دیکھیں گے تو خواہش کریں گے اے کاش! ان کے چمڑوں کو (دنیا میں) قیچیوں سے کاٹ دیا جاتا (تاکہ وہ بھی یہ ثواب حاصل کر لیتے).
حدیثِ انس رضی اللہ عنہ میں فرمایا:
"إِنَّ عِظَمَ الْجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَاءِ وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ".
[رواہ الترمذی، وحسنه الألباني في :صحيح الترمذي: ٢٣٩٦]
بڑی جزا بڑی آزمائش ہی سے ملتی ہے، اللہ جس قوم سے محبت رکھیں اسے متبلائے آزمائش کر دیتے ہیں، جو راضی ہو جائے اس کے لئے رضا مندی اور جو ناراض ہو اس کے لئے ناراضگی ہے.
رضا کے دو مرتبے ہیں:
① ایک یہ کہ بلا پر مسرور ہو یہ اعلیٰ درجہ ہے.
② دوسرا یہ کہ بلا پر شکوہ نہ کرے، تنگ دل نہ ہو، یہ ادنیٰ درجہ ہے.
کاش ہم ایسے نالائقوں کو یہ ادنیٰ درجہ ہی نصیب ہوجائے.
حدیثِ أبو ھریرہ رضی اللہ عنہ میں مرفوعاً آیا ہے:
"إنَّ الرجلَ ليكون له المنزلةُ عند اللهِ فما يبلغُها بعملٍ، فلا يزال اللهُ يبتليه بما يكره حتى يبلغَه إياها".
[رواہ ابن حبان فی صحیحه، قال الألباني في: السلسلة الصحيحة: ٢٥٩٩ صحيح بشواهده]
(بعض اوقات) آدمی کے لئے اللہ کے یہاں ایک مقام مقرر ہوتا ہے، جس تک وہ اعمال کے ذریعہ رسائی حاصل نہیں کر پاتا، تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی چیزوں میں مبتلا کرتا رہتا ہے جو اسے ناپسند ہوتی ہیں، حتیٰ کہ وہ اس مقام تک پہونچ جاتا ہے.
ابوداود میں بھی اس حدیث کا ایک شاہد ہے جس میں یہ بھی ذکر ہے کہ ابتلاء جسم یا مال یا اولاد میں ہوتی ہے.
حدیثِ أبو سعید خدری رضی اللہ عنہ میں مرفوعاً یوں آیا ہے کہ:
"مَا يُصِيبُ الْمُؤمن مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ وَلَا حُزْنٍ، وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ".
[رواہ الشیخان، صحيح البخاري: ٥٦٤٢، صحيح مسلم:٢٥٧٣]
یہ حدیث صحیح ونص صریح اس بات پر دال ہے کہ ہر قسم کی تکلیف و ایذا پر اجر ملتا ہے حتیٰ کہ کانٹا لگنے پر بھی. لیکن یہ اسی وقت ہے جب تکلیف اور مصیبت کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر صبر کرے، اور حصولِ اجر کی نیت رکھے، کیونکہ نیت کے بغیر کوئی عمل معتبر نہیں ہوتا.
اکثر لوگ مصائب پر صبر تو کرتے ہیں لیکن صبر کی نیت سے نہیں بلکہ درماندگی و حیرانی کی وجہ سے، اس صبر کی کوئی حقیقت نہیں.
بعض لوگ دن رات آفات کا شکوہ کرتے ہیں اور پھر اپنے تئیں صابر سمجھتے ہیں. اور یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دشمن کو وہاں سمجھ لے گا، اور خود بھی دن رات دشمنوں کو کوستے رہتے ہیں، یہ صبر نہیں بلکہ ایک دوسری بلا ہے. اگر صبر شرعی کرتے تو اجر پاتے.
ابن عباس رضی اللہ سے مرفوع رایت ہے کہ:
"من أصيبَ بمصيبةٍ في مالِهِ أو في نفسِهِ فَكَتمَها ولم يشكُها إلى النَّاس كانَ حقًّا على اللَّهِ أن يغفرَ لَهُ"
[رواہ الطبرانی، ضعفه الألباني في ضعيف الجامع:٥٤٣٥، وقال في :السلسلة الضعيفة: ١٩٨ موضوع، وصححه الهيثمي المكي في: الزواجر: ١؍ ۱٦٤]
جسے کوئی مصیبت پہونچی اور اس نے اسے چھپایا اور لوگوں کے پاس اس کا شکوہ نہ کیا تو اللہ کے ذمہ ہے کہ اس کی مغفرت فرمائے.
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مصیبت کا مخفی رکھنا، مغفرت کا سبب ہے. وللہ الحمد!
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے:
"إذا كثُرتْ ذُنوبُ العبدِ ولم يكن له من العمل ما يُكفِّرُها، ابتلاه اللهُ بالحزنِ ليُكفِّرَها عنه"
[رواہ احمد، حسنه الهيثمي في مجمع الزوائد:١٠؍۱۹۵، وضعفه الألباني في: السلسلة الضعيفة:۲٦٩٥]
جب بندے کے گناہ بکثرت ہوں اور اس کا کوئی ایسا عمل نہ ہو جو ان کا کفارہ بن سکے تو اللہ تعالیٰ اسے حزن و غم میں مبتلا کر دیتے ہیں تاکہ اس کے گناہوں کو مٹا دیں.
یعنی حزن و اندوہ سے گناہ مٹتے رہتے ہیں جب کہ حزن بطریقِ شرعی ہو، خواہ دنیا کا اندوہ ہو یا دین کا غم. وللہ الحمد والمنہ!
اس باب میں تو احادیث بکثرت ہیں کہ امراضِ بدن گناہوں کا کفارہ اور تکثیرِ اجر کا باعث بنتے ہیں.
علامہ منذری رحمہ اللہ اپنی کتاب "الترغیب والترھیب" میں ان کی اچھی خاصی تعداد ذکر کی ہے.
مومن کو بیماری سے تنگ دل نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہ سمجھنا چاہئے کہ مرض میرے معاصی کا کفارہ یا میرے گناہوں کی سزا ہے. ان شاء اللہ اب گناہوں سے پاک ہو جاؤں گا. اور مغفرتِ الٰہی کے لائق ٹھہروں گا.
سیدنا أبو بکر صدیق رضی اللہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا:
"يا رسولَ اللهِ كيف الصَّلاحُ بعدَ هذه الآيةِ: {مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ} [النساء: ١٢٣] وكلُّ شيءٍ عمِلْنا جُزينا به ؟ فقال: "غفَر اللهُ لك يا أبا بكرٍ ألسْتَ تمرَضُ ألسْتَ تحزَنُ ؟ ألسْتَ تُصيبُك اللَّأْواءُ ؟" قال: بلى قال: "هو ما تُجزَوْنَ به".
[رواہ بن حبان فی صحیحه:٢٩٢٦]
اس آیت کے بعد کہ "جو کوئی برا کام کرے بدلہ دیا جائے گا" درستی أحوال کی کیا صورت ہے؟ کیونکہ ہم جو کوئی کام کریں گے اس کا بدلہ دیا جائے گا. آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں معاف فرمائے اے أبو بکر! کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تم حزن میں مبتلا نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں اندوہ نہیں پہونچتا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہی ہے جو تم بدلہ دیئے جاتے ہو.
سیدنا أبو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ:
"إنَّ الصُّداعَ والمَليلةَ لا تزالُ بالمؤمنِ وإنَّ ذنبَهُ مثلُ أُحُدٍ فما تدعُهُ وعليهِ من ذلِكَ مثقالُ حبَّةٍ من خردلٍ".
[رواہ احمد، ضعفه الألباني في :السلسلة الضعيفة: ٢٤٣٣]
مومن کے کوہ احد کے برابر گناہ ہوتے ہیں اور اسے دردِ سر یا تپ عارض ہوتا ہے تو اس کے باعث اس پر رائی کے دانہ کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا.
حدیث کے الفاظ عام ہیں اور ہر گناہ کو شامل ہیں وہ گناہ صغیرہ ہو یا کبیرہ، حقوق اللہ سے متعلق ہو یا حقوق العباد سے، لیکن دیگر دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہ اور حقوق العباد اس سے مستثنیٰ ہیں، واللہ اعلم!
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے عہد میں ایک شخص فوت ہوا تو ایک آدمی نے کہا کہ: "هنيئًا له مات ولم يُبتَلَ بمرضٍ!".
مبارک ہو اس کو کہ وفات تک کسی مرض میں مبتلا نہیں ہوا.
حضور ﷺ نے فرمایا: "ويحَك ما يُدريك لو أنَّ اللهَ ابتلاه بمرضٍ يُكفِّرُ عنه من سيِّئاتِه". [رواہ مالک مرسلا، ضعفه الألباني في :ضعيف الترغيب: ٢٠٠٥]
افسوس ہے تم پر! تمہیں کیا معلوم کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے مبتلائے مرض کرتا تو وہ مرض اس کی بعض برائیوں کا کفارہ ہوجاتا.
معلوم ہوا کہ بیمار نہ ہونا کوئی اچھی بات نہیں بلکہ مؤاخذہ و عقاب کی علامت ہے، اسی لئے حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنھا میں فرمایا ہے کہ: "الحُمَّى حَظُّ كلِّ مؤمنٍ من النَّارِ".
[رواہ البزار، صححه الألباني في صحيح الجامع:٣١٨٧]

الغرض سارے محن جو مومن پر وارد ہوتے ہیں، وہ بھی در حقیقت مِنَن ہیں. اور جو کوئی ان مِحَن پر صبر کرے ، وہ ماجور ہوتا ہے اور جو کوئی ان پر شکر بجا لائے اس کا درجہ اللہ کے نزدیک بلند ہو جاتا ہے.

📚: ((إبقاء المنن بإلقاء المحن: ٢١٢ تا ٢١٨))
 
Top