ذیشان خان

Administrator
جس نے کسی صحابی کی تنقیص کی اس نے اللہ کی تردید کی

✍: امام ابو عبد اللہ القرطبی رحمہ اللہ (٦٧١ھ)

ابو عروہ الزبیدی کہتے ہیں کہ ہم مالک بن انس کے پاس تھے، لوگوں نے ان کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی تنقیص کر رہا تھا، امام مالک رحمہ اللہ نے یہ سن کر: {مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ} سے {يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ} [الفتح:٢٩] تک تلاوت فرمائی.
اور اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ:
"مَنْ أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ فِي قَلْبِهِ غَيْظٌ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَدْ أَصَابَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ". ذَكَرَهُ الْخَطِيبُ أَبُو بَكْرٍ.
کہ جس کسی کے دل میں کسی صحابی کے تئیں غیظ وغضب اور نفرت ہو تو اس پر یہ آیت فٹ آتی ہے.

[اس کو نقل کرنے کے بعد امام قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں:]
قُلْتُ: لَقَدْ أَحْسَنَ مَالِكٌ فِي مَقَالَتِهِ وَأَصَابَ فِي تَأْوِيلِهِ.
فَمَنْ نَقَّصَ وَاحِدًا مِنْهُمْ أَوْ طَعَنَ عَلَيْهِ فِي رِوَايَتِهِ فَقَدْ رَدَّ عَلَى اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَأَبْطَلَ شَرَائِعَ الْمُسْلِمِينَ.
امام مالک رحمہ اللہ نے بڑی اچھی بات کہی ہے، اور آیت کی درست تفسیر فرمائی ہے.
پس جس شخص نے کسی ایک صحابی کی بھی تنقیص کی یا اُن کی روایات کو طعن کا نشانہ بنایا اس نے اللہ رب العالمین کی تردید کی اور مسلمانوں کی شریعت کو معطل کردیا».

📚: ((تفسير القرطبي: ١٩؍۳٤٧، ط: مؤسسة الرسالة))
الدفاع عن الصحابة

الطاف الرحمن ابوالکلام سلفی
 
Top