ذیشان خان

Administrator
دنیا کی ناپائیداری

✍: علامہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ (١٨٩٠ء)

اس دارِ ناپائیدار میں زندگی کا وقفہ بہت کم ہے، اس لئے کہ میں نے اپنے آنکھ سے دیکھا ہے کہ ہزارہا لوگ جو مجھ سے کم عمر تھے مرگئے، اقران میں سے بھی بہت سے لوگ چل بسے، اور بڑی عمر کے لوگ بھی نہ رہے.
اور اس امت کے افراد کی اوسط عمر ساٹھ، ستر کے درمیان ہے، بشرطیکہ آفات و امراض سے سلامت رہے، اس عرصہ سے تجاوز کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے. بلکہ بچے جوانوں کی بہ نسبت اور جوان بوڑھوں کی بہ نسبت زیادہ فوت ہوتے ہیں.
لہذا ان لوگوں کے حال، قال اور افعال پر بڑا تعجب ہوتا ہے جو حیاتِ فانی اور انتظامِ خانہ داری کے لئے صدہا سال کا بندو بست کرتے ہیں. اور کبھی انہیں موت یاد نہیں آتی.
لوگوں کا مرنا تو دیکھتے سنتے ہیں، لیکن اپنے مرنے کا انہیں یقین نہیں ہے.
اگر یقین ہوتا اور اللہ چاہتا تو دنیا میں اتنے منہمک اور لہو و لعب اور سیئات و منکرات میں اتنے محو نہ ہوتے بلکہ ان کے گناہ نیکیوں سے کم ہوتے، اور یہ اہلِ نجات میں داخل رہتے.
لیکن شیطان نے اپنے دامِ غررور میں اس طرح پھانس رکھا ہے کہ ہم خوابِ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہو رہے. ورنہ عبرت کے لئے صدہا آیاتِ بینات موجود ہیں.
﴿وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا﴾ [مريم: ٩٨]
اور ہم نے ان سے قبل کتنی ہی بستیاں ہلاک کر دیں، کیا تو ان میں سے کسی کو دیکھتا ہے یا ان کے واسطے کوئی آہٹ سنتا ہے».

📚: ((خود نوشت سوانح حیات نواب محمد صدیق حسن خان: ١٨٤، ١٨٥))
 
Top