ذیشان خان

Administrator
امام ابن قیم کی عظیم الشان لائبریری کا دردناک انجام

✍⁩ابو تقی الدین

امام ابن قیم - رحمہ اللہ - کا شمار شیخ الاسلام ابن تیمیہ - رحمہ اللہ - کے سب سے ہونہار شاگردوں میں ہوتا ہے، انہوں نے مکمل چھبیس سال اپنے استاد کی صحبت میں گذاری، سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ ان کو کتابوں سے خوب لگاؤ اور شغف تھا، کتابیں جمع کرنے کا ان کو خوب شوق تھا، ان کا کتب خانہ بہت بڑا تھا ، مورخ صفدی نے لکھا ہے: "وما جمع أحد من الكتب ما جمع؛ لأن عمره أنفقه في تحصيل ذلك...".
یعنی "کسی کے پاس اتنا بڑا کتب خانہ نہیں تھا جتنا بڑا ابن قیم کے پاس تھا، انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی کے حصول میں صرف کر دی تھی".
حافظ ابن كثير نے لکھا ہے: "واقتنى من الكتب ما لا يتهيأ لغيره تحصيل عُشره.."
یعنی "امام ابن قیم - رحمہ اللہ - نے اتنی کتابیں اکھٹا کر لی تھیں جس کا عشر عشیر بھی کوئی جمع نہیں کرسکتا".
لیکن ان کی اولاد میں کوئی ایسا نہیں تھا جو اپنے لائق باپ کی اس عظیم وراثت کی حفاظت کر سکے، حافظ ابن حجر عسقلانی - رحمہ اللہ - نے لکھا ہے : "وكان مغرى بجمع الكتب فحصل منها ما لايحصى حتى كان أولاده يبيعون منها بعد موته دهرا طويلا...".
یعنی "حافظ ابن قیم - رحمہ اللہ - کے کتب خانہ میں اتنی کتابیں تھیں جن کا شمار ممکن نہیں، یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد لمبے عرصے تک ان کتابوں کو فروخت کرتی رہی! ".
 

Attachments

Top