ذیشان خان

Administrator
مقتدیوں کا بعض قرآنی آیات کا جواب دینا

مقبول احمد سلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر،شمالی طائف (مسرہ)
بعض جگہوں پہ مقتدی قرآن کی بعض آیات کا جواب دیتے ہیں ، اور بعض جگہ یہ عمل نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں یہ بات جاننے کی فکر ہے کہ صحیح کیا ہے ؟ قرآنی آیات کا جواب دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟
آئیے ان آیات کی طرف چلتے ہیں جن کا نماز میں بعض جگہوں پہ جواب دیا جاتا ہے ۔
(1) اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں کہ جب امام "غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین" کہے تو مقتدی آمین کہے ۔ اختلاف آہستہ اور زور سے کہنے میں ہے ۔ دلائل سے زور سے آمین کہنا ثابت ہے ۔ دلیل :
عن أبي ھریرۃ رضي اللہ عنہ أن رسول اللہ ﷺ قال إذا أمن الإمامفأمنوا، فانہ من وافق تأمینہ تأمین الملائکۃ غفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ (صحیح بخاری مع الفتح 2 / 262)
ترجمہ : ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نےفرمایا: جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، اس لئے کہ فرشتے بھی آمین کہتےہیں، اور جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل جائے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیےجائیں گے۔
وضاحت : اس حدیث پہ امام بخاری نے باب قائم کیا ہے" باب جھرالإمام بالتأمین "یعنی یہ باب ہے امام کے آمین بالجہر کہنے کا ۔اس حدیث سےپتہ چلا کہ جب امام زور سے آمین کہے گا تو مقتدی اسے سن کے وہ بھی زور سے آمین کہےگا۔
(2) رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَارَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّاوَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔[البقرة:286]
جب امام قرآن کی اس آیت کی تلاوت کرتے ہیں تو بعض لوگ آمین کہتےہیں مگر کسی حدیث سے یہاں مقتدی کا آمین کہنا ثابت نہیں ہے ، اس لئے یہاں آمین نہیں کہا جائے گا۔
(3) فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُون (مرسلات :50)
سورہ مرسلات کی آخری آیت پہ "آمنا باللہ" کہنے سے متعلق حدیث وارد ہے مگر وہ ضعیف ہے۔ روایت اس طرح ہے ۔
مَن قَرأَ منكُم ( وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ) فانتَهَى إلى آخرِها ( أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ) فليقل بلى وأَنا على ذلِكَ منَ الشَّاهدينَ ومن قرأَ ( لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ) فانتَهَى إلى (أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى ) فليقُلْ بلَى ومَن قرأَ ( والْمُرْسَلاتِ ) فبلغَ ( فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ) فليقُل آمنَّا باللَّهِ۔
ترجمہ: تم میں سے جو "وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ" پڑھےاور اس آیت پہ پہنچے "أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ" تو وہکہے"بلى وأَنا على ذلِكَ منَ الشَّاهدينَ" ۔ اور جو"لَا أُقْسِمُبِيَوْمِ الْقِيَامَةِ" کی تلاوت کرے اور اس آیت "أَلَيْسَ ذَلِكَبِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى" پہ پہنچے تو وہ کہے"بلَى"۔ اور جو مرسلات کی تلاوت کرے اور یہاں پہنچے"فَبِأَيِّحَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ" تو کہے "آمنَّا باللَّهِ"۔
٭اسے شیخ البانی نے ضعیف الجامع اور ضعیف ابوداؤد میں ذکر کیا ہے ۔
(4) أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى۔(سورة القيامة:40)
اس آیت کے جواب میں" سبحانک فبلی کہنے" کا ثبوت ملتا ہے۔ روایت یہ ہے ۔
كانَ رجلٌ يصلِّي فوقَ بيتِهِ وَكانَ إذا قرأَ أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى قالَ سبحانَكَ فبلى فسألوهُ عن ذلِكَ فقالَ سمعتُهُ من رسولِ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ۔
ترجمہ: ایک آدمی اپنے گھر کی چھت پہ نماز پڑھ رہا تھا ، جب اس نے"أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى" کی تلاوت کی تو کہا"سبحانَكَ فبلى'۔ پس لوگوں نے اس سے اس کے متعلق پوچھا تو اس نے کہاکہ یہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ۔
اس حدیث کو البانی ؒ نے صحیح قرار دیا ہے ۔ (صحیح ابوداؤد: 884)
اس حدیث سے مقتدی کا جواب دینا ثابت نہیں ہوتا۔ یہ امام یامنفردکے متعلق ہے ۔
(5) سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى(سورہ الاعلی:1)
اس کے جواب میں "سبحان ربی الاعلی "کہنے کی دلیل ملتی ہے،روایت دیکھیں :
أنَّ النَّبيَّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ كانَ إذا قرأَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قالَ سبحانَ ربِّيَ الأعلى
ترجمہ: نبی ﷺ جب "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" کی تلاوت کرتے تو آپ کہتے "سبحانَ ربِّيَ الأعلى"۔
اس کو شیخ البانی نے صحیح قرار دیا ہے ۔ (صحٰح ابوداؤد: 883)
اس حدیث سے بھی امام / منفرد کا جواب دینا ثابت ہوتا ہے ۔
(6) سورہ غاشیہ کے آخر میں" اللهم حاسبني حساباً يسيراً "پڑھنےسےمتعلق کوئی روایت نبی ﷺ سےمجھے نہیں ملی ۔
ایک روایت اس طرح آتی ہے :سیدہ عائشہ رضى الله عنها فرماتی ہیں :كان النبي، صلى الله عليه وسلم ، يقول في بعض صلاته: "اللهم حاسبني حساباً يسيراً".فقالت عائشةرضي الله عنها:ما الحساب اليسير؟قال:أن ينظر في كتابه فيتجاوز عنه (رواه أحمد وقال الألباني : إسناده جيد)
ترجمہ : نبی کریمﷺ اپنی بعض نمازوں میں"اللهم حاسبني حساباًيسيرا" پڑھا کرتے تھے۔سیدہ عائشہ نے دریافت کیا کہ آسان حساب سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا:اللہ اعمال نامہ کو دیکھے اور بندے سے درگزر کردے۔
اس حدیث سے بس یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک دعا ہے جسے نبی ﷺ اپنی بعض نمازوں میں پڑھا کرتےتھے، اسے سورہ غاشیہ یا اس کی آخری آیت" إن إليناإيابهم، ثم إن علينا حسابهم"سے خاص کرنا صحیح نہیں ہے ۔
(7) فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ(سورہ رحمن)
اس آیت کے جواب سے متعلق حسن درجے کی ایک روایت ہے جس میں "لا بشَيءٍمن نِعَمِكَ ربَّنا نُكَذِّبُ فلَكَ الحمدُ" کہنا مذکور ہے ۔ روایتدیکھیں :
خرجَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ على أَصحابِهِ،فقرأَ عليهم سورةَ الرَّحمنِ من أوَّلِها إلى آخرِها فسَكَتوا فقالَ: لقد قرأتُهاعلى الجنِّ ليلةَ الجنِّ فَكانوا أحسَنَ مردودًا منكم، كنتُ كلَّما أتيتُ علىقولِهِ فَبِأيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ قالوا: لا بشَيءٍمن نِعَمِكَربَّنا نُكَذِّبُ فلَكَ الحمدُ
ترجمہ: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہعلیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم پر سورہ رحمن شروع سے آخر تک پڑھیاور صحابہ خاموش رہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سورہ میں نے جنوں والی رات جنوں پر پڑھی،وہ تم سے اچھا جواب دیتے تھے۔جب ہر بار میں اس آیت پر پہنچتا تھا"فبای الا ء ربکما تکذبن "تو وہ جواب میں کہتے"لا بشیء من نعمک ربنا تکذب فلک الحمد"(اے ہمارے رب تیری نعمتوں میں سے ہم کسی چیز کو نہیں چھٹلاتے ۔ پس تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں)۔
یہ روایت شیخ البانی ؒ کے نزدیک حسن ہے ۔ (صحیح الترمذی : 3291)
اس روایت میں نماز کا ذکر نہیں ہے ، لہذا اسے نماز سے خاص نہیں کیاجائے گا بلکہ عام حالات پہ محمول کیا جائے گا۔
(8) أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ۔(سورہ التین: 8)
اس کے جواب میں "بلى.وأنا على ذلك من الشاهدين" کہنے کی روایت آئی ہے مگر وہ قابل استدلال نہیں ہے جیساکہ تین نمبر میں بتلایا گیا ہے ۔
خلاصہ کلام:
٭مذکورہ بالا کلام کی روشنی میں سورہ فاتحہ کے آخر میں آمین کہنےکے سوا مقتدی کے لئے قرآن کی کسی آیت کا جواب دینا ثابت نہیں ہے۔
٭ مقتدی کو نماز میں سورہ فاتحہ کے علاوہ کچھ پڑھنے سے منع کیا گیاہے ۔
٭جن بعض صحیح روایات سے قرآن کی بعض آیات کا جواب دینا ثابت ہے وہ سب امام کے لئے ہے ۔
٭مسلم شریف میں ہے کہ نبی ﷺتسبیح والی آیت پڑھتے توتسبیح فرماتے،دعا والی آیت پڑھتے تو دعا فرماتے اورجب تعوذ والی آیت پڑھتے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتےتھے۔
عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَافْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقُلْتُ يَرْكَعُ عِنْدَ الْمِائَةِ ثُمَّ مَضَى فَقُلْتُ يُصَلِّي بِهَا فِي رَكْعَةٍ فَمَضَى فَقُلْتُ يَرْكَعُ بِهَا ثُمَّ افْتَتَحَ النِّسَاءَ فَقَرَأَهَا ثُمَّ افْتَتَحَ آلَ عِمْرَانَ فَقَرَأَهَا يَقْرَأُ مُتَرَسِّلًا إِذَا مَرَّ بِآيَةٍ فِيهَاتَسْبِيحٌ سَبَّحَ وَإِذَا مَرَّ بِسُؤَالٍ سَأَلَ وَإِذَا مَرَّ بِتَعَوُّذٍتَعَوَّذَ۔(مسلم:772)
ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی، میں نے دل میں کہا: سو آیات پر ایک رکعت فرمائیں گے، لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ ایک رکعت میں پوری سورت پڑھیں گے لیکن آپ نے جاری رکھا، پھر میں نے خیال کیا کہ آپ سورہ مکمل کرکے رکوع فرمائیں گے لیکن آپ نے اس کےبعد سورہ نساء شروع کی، اورپھر سورہ آل عمران شروع کردی اور اسے بھی مکمل کیا، آپ ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے تھے، آپ جب کسی ایسی آیت سے گذرتے جس میں تسبیح ہوتو اللہ کی پاکی بیان فرماتے، اور جب کسی سوال والی آیت سے گذرتے تو اللہ سے سوال کرتے اور جب پناہ والی آیت سے گذرتے تو اللہ کی پناہ طلب کرتے۔
یہ حدیث بتلارہی ہے کہ آپ کی نماز فرضی نہیں تھی بلکہ نفلی تھی۔
٭نفل نماز میں امام یا مقتدی بھی قرآنی آیات کا جواب دے سکتا ہے جيساکہ نبی ﷺ سے ثابت ہے لیکن فرض نماز میں ایسا کرنا صحیح نہیں کیونکہ فرض نماز میں اگرآپ ﷺ قرآنی آیات کا جواب دیتے تو صحابہ کرام سے حرف حرف وہ باتیں منقول ہوتیں مگرایسا نہیں ہے ۔
واللہ اعلم
 
Top