ذیشان خان

Administrator
بدعتیوں کی ہم نشینی کا حکم

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

بدعتیوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی ممانعت میں کتاب وسنت اور سلف صالحین کے نصوص بھرے پڑے ہیں۔ اگر کسی کو اس مسئلہ میں ذرہ برابر بھی کوئی شک وشبہ ہے تو صرف دو کتابیں پڑھ لے تمام شکوک وشبہات ختم ہو جائیں گے ان شاء اللہ:
1 – امام ابن بطہ العکبری رحمہ اللہ کی ”الإبانة عن شريعة الفرقة الناجية ومجانبة الفرق المذمومة“
2 – امام لالکائی کی ”شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة“

ان دونوں کتابوں میں دونوں اماموں نے خیر القرون کے ایک دو نہیں بلکہ دو سو سے زائد نصوص ذکر کئے ہیں اور بتایا ہے کہ سلف صالحین کا متفقہ منہج ہے اہل بدعت کی مجالست سے اجتناب کیا جائے۔

امام لالکائی نے شروع میں ہی ثابت بن عجلان کے حوالے سے اس سلسلے میں سلف صالحین کا منہج بیان کیا ہے، فرماتے ہیں:
أَدْرَكْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , وَابْنَ الْمُسَيِّبِ , وَالْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ , وَسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , وَالشَّعْبِيَّ , وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ , وَعَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ , وَطَاوُسًا , وَمُجَاهِدًا , وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ , وَالزُّهْرِيَّ , وَمَكْحُولًا , وَالْقَاسِمَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَعَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ , وَثَابِتًا الْبُنَانِيَّ , وَالْحَكَمَ بْنَ عُتْبَةَ , وَأَيُّوبَ السِّخْتِيَانِيَّ , وَحَمَّادًا , وَمُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ , وَأَبَا عَامِرٍ» , - وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - , وَيَزِيدَ الرَّقَاشِيَّ , وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى , كُلُّهُمْ يَأْمُرُونَنِي فِي الْجَمَاعَةِ , وَيَنْهَوْنَنِي عَنْ أَصْحَابِ الْأَهْوَاءِ۔ [شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة (1/ 150)]

انسان کا دل بہت کمزور ہے، اور شیطان ہمیشہ اس کے ساتھ لگا ہوا کہ کب اس کے دل میں منحرف افکار یا شکوک وشبہات کے بیج ڈال دے۔ اس لئے اپنی دنیا وآخرت کی حفاظت کے لئے ایسے منحرف افکار کے حاملین سے دوری بنا کر رکھنے میں ہی عافیت ہے۔ اور مجھے یہ صراحت کے ساتھ بیان کرنے میں کوئی تردد نہیں ہے کہ اس وقت اگر سب سے زیادہ کوئی خبیث فکر ہمارے اوپر حملہ آور ہے تو وہ اخوانیت اور تحریکیت کی فکر ہے۔ ہر طرح کی خباثتوں کا گویا یہ مجموعہ ہے۔
ان کے ساتھ نشست برخاست اور ان کے بعض اچھے خیالات کی عوامی اسٹیج سے تائید کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ اپنے باطل افکار میں مگن رہتے ہیں، اور بہت سارے سادہ لوح حضرات ان کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ اور کوئی بعید نہیں کہ کچھ دنوں کے بعد آپ بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں۔
انسان یہ سوچتا ہے کہ میرا علم ومنہج قوی ہے، مجھے وہ اپنے منحرف افکار سے متاثر نہیں کر سکتے لیکن دیکھتے دیکھتے کب ان کی دنیا وآخرت اجڑ چکی ہوتی ہے انھیں پتہ بھی نہیں چلتا۔
اگر آپ کو اس بارے میں کوئی تردد ہے تو ان کبار محدثین کی سیرت پڑھ لیں جن کے اندر تصوف، اشعریت، اور شیعیت جیسی بعض بدعات سرایت کر گئی تھیں۔
کیا ان کا علم کم تھا؟ یا وہ اپنے دین وایمان کو لے کر فکر مند نہیں تھے؟
پھر کیوں ان میں اس طرح کی بعض بیماریاں داخل ہو گئیں؟

اس لئے میرے عزیز! اہل بدعت سے بچ کر رہیں۔ ان کی ہاں میں ہاں نہ ملائیں۔ خود محفوظ رہیں، اور دوسروں کو دھوکہ میں مبتلا ہونے سے بچانے میں مدد کریں۔
 
Top