ذیشان خان

Administrator
شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ کے ۴۵ مطبوع اور غیر مطبوع مقالات کا مجموعہ: ایک تعارف

مقالات فضیلۃ الشیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ

✍ حافظ شاہد رفیق

افتتاحیہ

برصغیر پاک و ہند کے علمی حلقوں میں شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ آپ ایک بلند پایہ مصنف اور ژرف نگاہ محقق ہیں۔ اردو اور عربی زبان میں اب تک آپ کی متعدد تحقیقات اور مقالات و مضامین منظرِ عام پر آکر حلقۂ اہلِ علم سے دادِ تحسین پا چکے ہیں۔
شیخ محمد عزیر حفظہ اللہ کی پیدایش دسمبر ۱۹۵۶ء میں مغربی بنگال (ہندوستان) کے ضلع ’’مرشد آباد‘‘ کے علاقے ’’صالح ڈانگہ‘‘میں ہوئی جہاں آپ کے والد اور اپنے عہد کے جلیل القدر عالم مولانا شمس الحق سلفی (وفات: ۱۹۸۶ء) ایک دینی ادارے میں بہ سلسلۂ تدریس مقیم تھے۔ آپ نے حصولِ علم کا آغاز مدرسہ فیضِ عام مئو سے کیا اور بعد ازاں ہندوستان کے نامور اداروں: دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ بہار، جامعہ رحمانیہ بنارس، جامعہ سلفیہ بنارس میں طلبِ علم میں مشغول رہے اور ۱۹۷۶ء میں تمام علومِ متداولہ کی تحصیل سے فراغت پائی۔ پھر آپ ۱۹۷۸ء میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ چلے گئے اور چار سال تک عربی زبان و ادب میں تخصص کا کورس کیا۔ ۱۹۸۵ء میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ سے ایم فل کیا اور ’’حالی کی تنقید اور شاعری پر عربی اثرات‘‘کے عنوان سے مقالہ سپردِ قلم کیا۔ بعد ازیں اسی جامعہ سے پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا تہیہ کیا اور ’’ہندوستان میں عربی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ کے موضوع پر اپنا تھیسس مکمل کیا۔
شیخ عزیر شمس حفظہ اللہ ان تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد وطن لوٹ آئے، لیکن کچھ عرصہ بعد اﷲ تعالیٰ نے دوبارہ ارضِ حرمین میں قیام کی سبیل پیدا کر دی اور فروری ۱۹۹۹ء میں مکہ مکرمہ واپس آگئے جہاں آپ نے کئی علمی اداروں سے منسلک ہو کر کام کیا جن میں جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ، مجمع الملک فہد مدینہ منورہ اور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ شامل ہیں۔ آپ ۱۹۹۹ء ہی سے مستقل طور پر مکہ مکرمہ کے مشہور علمی و تحقیقی ادارے ’’دار عالم الفوائد‘‘سے بھی وابستہ ہیں جس میں آپ نے امام ابن تیمیہ، امام ابن قیم اور علامہ معلمی کی بہت سی کتابوں کی تحقیق و تدوین کے فرائض سر انجام دیے ہیں۔
شیخ محمد عزیر شمس حفظہ اللہ نے تحریر و نگارش کا آغاز اردو مضمون نگاری سے کیا اور اپنا پہلا مضمون ’’مولانا شمس الحق عظیم آبادی‘‘ کے عنوان سے علامہ عظیم آبادی کی سیرت و خدمات سے متعلق لکھا جو ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ کی دو اشاعتوں (ستمبر و اکتوبر ۱۹۷۵ء ) میں شائع ہوا۔(۱) بلاشبہ انیس برس کی عمر میں’’معارف‘‘جیسے گراں قدر اور موقر مجلے میں اس مضمون کی اشاعت لکھنے والے کی خداداد صلاحیتوں کا واضح ثبوت اور روشن مستقبل کی نوید تھی جنھیں آپ کے آیندہ علمی کارناموں نے واقعتا سچ کر دکھایا۔
پھر اس سے اگلے سال (۱۹۷۶ء) ہی میں آپ نے علامہ شمس الحق عظیم آبادی کی عربی کتاب ’’رفع الالتباس عن بعض الناس‘‘ کو ایڈٹ کیا اور اس پر عربی زبان میں تعلیقات لکھیں۔ یہ کتاب جامعہ سلفیہ بنارس کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ یوں آپ نے اردو اور عربی زبان میں تحقیق و تصنیف کا جو سفر شروع کیا تھا، وہ آنے والے دنوں میں روز افزوں رہا اور بتوفیقہ تعالیٰ اب تک آپ ایک صد سے زائد تحقیقات و تصنیفات کی تکمیل کر چکے ہیں جن کی تفصیل آگے آئے گی۔
اﷲ تعالیٰ نے شیخ محترم کو گوناگوں خوبیوں اور متنوع علمی کمالات سے نوازا ہے۔ اگرچہ آپ کا تعلیمی دورانیہ زیادہ تر عربی زبان و ادب کی تحصیل اور تاریخ و رجال کے مطالعے میں گزرا، تاہم علومِ ادبیہ کے علاوہ عقیدہ، تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، سیرت و تاریخ اور دیگر فنون پر بھی آپ کی گہری نظر ہے اور ان موضوعات میں سے جس فن سے متعلق بھی آپ گفتگو کرتے یا لکھتے ہیں، اس کی جزئیات اور تفصیلات کا یوں احاطہ کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے یہی آپ کا مخصوص موضوع ہے۔ اس بات پر آپ کے مقالات و محاضرات بہ خوبی گواہ ہیں۔
شیخ محترم کو اﷲ تعالیٰ نے جن متنوع علمی صفات سے نوازا ہے، ان میں ایک نمایاں ترین وصف یہ ہے کہ جہاں آپ مختلف علوم و فنون کی مطبوع کتابوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہیں دینی و ادبی مصادر کے نایاب قلمی نسخوں اور مخطوطات پر بھی عمیق نگاہ رکھتے ہیں۔ کس فن میں اب تک کیا لکھا گیا ہے اور وہ مطبوع ہے یا مخطوط، پھر مخطوطات میں سے کون سا قلمی نسخہ کتنی اہمیت کا حامل ہے اور وہ کس حالت میں دنیا کے کس کونے میں موجود ہے، یہ اور ایسی ہی دیگر دقیق معلومات آپ کے نوکِ زبان پر رہتی ہیں جن سے آپ سے ملنے والے محققین اور علما و طلبہ مستفید ہوتے رہتے ہیں، اور آپ کی نگارشات میں بھی یہ خوبی ہر جگہ محسوس ہوتی ہے۔
اسی مجموعے میں آپ کا ایک مقالہ ’’غزالی یا غزّالی‘‘ کے عنوان سے شامل ہے جس میں آپ نے یہ بحث کی ہے کہ امام ابو حامد غزالی کے لقب میں’’ز‘‘مشدد ہے یا اس کا تلفظ بدون شدّ راجح ہے۔ بہ ظاہر اس معمولی نظر آنے والی بات سے متعلق آپ نے دسیوں مصادر کی روشنی میں یہ مقالہ لکھا ہے جن میں مطبوعہ مآخذ کے ساتھ ساتھ قلمی مصادر سے بھی استفادہ کیا ہے۔ اس مضمون کی اسی اہمیت اور تحقیقی حیثیت کے پیشِ نظر ہندوستان کے ممتاز مجلے ’’برہان‘‘ دہلی نے اسے اشاعت کا شرف بخشا اور یہ مضمون اس جریدے میں دو قسطوں (اکتوبر، نومبر ۱۹۷۶ء) میں شائع ہوا تھا۔
شیخ محترم نے جب مذکورہ بالا مقالہ لکھا، اس وقت آپ عمرِ عزیر کی صرف بیسویں منزل میں تھے۔ بدوِ شعور ہی سے آپ کے یہاں اس امتیازی صفت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آپ کو دورِ طالب علمی ہی سے اسلامی علوم کی ہمہ اقسام سے گہری دلچسپی پیدا ہوگئی اور آپ نے ان فنون سے متعلق ذخیرۂ مطبوعات کے ساتھ ساتھ مخطوطات کا بھی وسیع مطالعہ کیا۔ پہلے آپ خدا بخش لائبریری پٹنہ سے مستفید ہوئے جہاں مطبوعہ کتابوں کے علاوہ قلمی کتابوں کا بھی بڑا حصہ موجود ہے۔ یہاں آپ نے مخطوطات کی فہرست سازی بھی کی جس کی بدولت یہ قلمی سرمایہ آپ کی نظر سے گزر گیا، پھر یہی مشغلہ آپ نے مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران میں بھی جاری رکھا، اور وہاں جامعہ اسلامیہ اور جامعہ ام القریٰ کے قلمی ذخیرے سے بھرپور استفادہ کیا جس کی بدولت آپ کو ان نوادر اور غیر مطبوع کتابوں سے گہری واقفیت حاصل ہوگئی جو عموماً علماء و محققین کی نظروں سے اوجھل ہی رہتی ہیں۔ اسی بنا پر آپ کا رجحان تحقیق و تدوین کی طرف زیادہ رہا اور آپ نے بیسیوں کتب کو از سر نو ایڈٹ کر کے عالمِ اسلامی میں متعارف کروایا جس سے علما و طلبہ کے لیے استفادے کی سبیل پیدا ہوئی۔
اس سلسلے میں اس امر کا اظہار بھی خوش آیند معلوم ہوتا ہے کہ مختلف علوم و فنون اور ان سے متعلقہ مطبوع و غیر مطبوع ذخیرۂ کتب سے واقفیت میں شیخ محترم کی مثال مکمل طور پر اپنے محبوب اور راہنما عالم محدث العصر علامہ عطاء اﷲ حنیف بھوجیانی مرحوم کی مانند ہے۔ جیسا کہ عزیر صاحب خود ہی ایک جگہ مولانا بھوجیانیؒ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مولانا مرحوم تفسیر و حدیث، فقہ و عقیدہ، تاریخ و تذکرہ، کتابیات اور مولفین پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے۔ انھیں کسی موضوع پر قلم اٹھاتے وقت سارے اہم مآخذ و مصادر کا علم ہوتا تھا۔ اس سے متعلق علمائے سلف اور معاصرین کی تحقیقات اور نگارشات ان کے سامنے ہوتیں۔ وہ ان کے اقوال کو کتاب و سنت کے دلائل اور تاریخی واقعات و حقائق کی روشنی میں پرکھتے اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز کرتے۔ مولانا ساری زندگی فقہی و حدیثی مباحث کی تحقیق و تنقیح، تاریخی و علمی حقائق کی نقاب کشائی، قدیم و جدید کتابوں کے نقد و پرکھ، مولفین کے اوہام و اغلاط پر تعاقب و استدراک میں مشغول رہے۔ مختلف موضوعات سے متعلق ان کتابوں میں موجود مواد گویا ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ اس طرح وہ کم سے کم وقت میں کسی موضوع سے متعلق پوری بصیرت حاصل کر لیتے تھے اور اس سے متعلق کچھ لکھنا ان کے لیے دشوار نہ ہوتا۔‘‘
شیخ محمد عزیرحفظہ اللہ نے ارضِ حرمین میں قیام کی بدولت زیادہ تر عربی زبان ہی میں لکھا اور اسی کو وسیلۂ اظہار بنائے رکھا جس کی بنا پر اردو زبان میں بہت کم لکھنے کی نوبت آئی۔ گذشتہ بیس پچیس برس سے تو آپ امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم کے علوم و معارف کی تدوین ہی کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں جس کی بنا پر عنانِ قلم نے اردو کی طرف کم ہی رخ کیا، تاہم اس دوران میں بھی آپ نے وقتاً فوقتاً اردو میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا اور مضمون نگاری کو جاری رکھا۔
شیخ محترم نے گذشتہ ۴۵ برس میں وقتاً فوقتاً جو اردو مقالات و مضامین حوالہ قرطاس کیے، وہ اپنے موضوع اور مواد کی اہمیت کے پیشِ نظر انتہائی وقیع اور قیمتی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان میں جہاں ہمیں تحقیقی اسلوب اور وسعتِ مطالعہ جیسی مزایا نظر آتی ہیں، وہیں ان میں محققین اور طلبائے علم کے لیے راہنمائی کا مکمل سامان بھی موجود ہے کہ کسی بھی موضوع پر لکھنے کے لیے اس کی ترتیب کیسی ہو، معلومات کا ذریعہ کیا ہو اور مصادر و مراجع سے استفادہ کیوں کر کریں، پھر اظہارِ مدعا میں زبان اور منہج و اسلوب کیسا اپنائیں، کسی کتاب یا مضمون پر نقد و تبصرہ اور تجزیہ کرنے کا مفید طریق کیا ہوتا ہے؛ طلبہ و محققین کے لیے ان تمام مفید اور بنیادی سوالوں کا جواب شیخ محترم کے تحریری اسلوب میں بہ درجہ اتم نظر آتا ہے اور قارئین بہ آسانی حصولِ معلومات کے علاوہ ان نگارشات سے یہ باتیں بھی سیکھ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر اس مجموعہ مقالات میں شیخ محترم کے ایک مضمون کا عنوان ہے: ’’خلیفۃ اﷲ کا مفہوم‘‘۔ اس آرٹیکل میں جناب صبیح الدین انصاری کی ایک تحریر’’خلیفہ اور خلافت کا مفہوم، قرآن و حدیث کی روشنی میں‘‘ پر تنقیدی تبصرہ کیا گیا ہے جس میں صاحبِ تحریر نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ کسی کو خلیفۃ اﷲ کہنا درست نہیں اور یہ عقیدۂ توحید کے منافی امر ہے۔
شیخ محترم نے اس مضمون پر تنقید و تجزیہ کرتے ہوئے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس میں آپ نے تفسیر، حدیث، لغت و ادب اور دیگر مصادر کی مدد سے اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی اور صاحبِ تحریر کی علمی اغلاط واضح کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نگارشارت میں موجود منہجی اخطا سے بھی آگاہ کیا۔ اس مضمون کے آغاز ہی میں آپ نے طریقۂ تحقیق اور اسلوبِ تحریر سے متعلق راہنما ہدایات بھی بیان کی ہیں اور بتایا ہے کہ ایک محقق کو کس طرح اپنی تحریر کو مزین و مدلل کرنا چاہیے۔ شیخ محترم لکھتے ہیں:
’’کسی بھی اسلامی موضوع پر تحقیق کے لیے ہمیشہ تین بنیادی کام ضروری ہیں:
(۱)اس موضوع سے متعلق قدیم مآخذ میں جو بھی نصوص، روایات، اقوال اور بیانات موجود ہیں، ان سب کو جمع کیا جائے۔ قدیم مآخذ سے صرفِ نظر کر کے اور متاخرین اور عصرِ حاضر کے مولفین پر اعتماد کر کے کبھی ہم صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ شرعی مسائل کی تحقیق کے لیے عربی زبان کے اصل مآخذ سے استفادہ ضروری ہے۔ اردو، فارسی، انگریزی وغیرہ کی کتابوں اور ترجموں کا سہارا لے کر تحقیق کی گاڑی نہیں چلائی جا سکتی۔
(۲)پھر ان تمام نصوص، روایات اور اقوال کی تحقیق اور چھان پھٹک کی جائے اور کھرے کھوٹے کی تمیز کی جائے۔ روایات کی تحقیق کے جو اصول محدثین نے بنائے ہیں، آج تک ان سے بہتر اصول کہیں وضع نہیں کیے جا سکے، اس لیے ان سے واقفیت اور ان کی عملی مشق ضروری ہے۔ پرانے مصنفین کا طریقۂ روایت اور سند و متن کی اہمیت جب تک محقق پر واضح نہ ہو، اس وقت تک وہ کسی روایت کے انتخاب و ترجیح کا کام نہیں کر سکتا۔ وہ اس سلسلے میں عموماً اپنی عقل یا ذوق کا سہارا لے گا، پھر خود بھی گمراہ ہو گا اور دوسروں کی گمراہی کا سامان بھی کرے گا۔
(۳)پھر صحیح اور ثابت شدہ نصوص اور اقوال پر غور و خوض کا سلسلہ شروع کیا جائے اور استنباط و استدلال کی عمارت کھڑی کی جائے۔ اس سلسلے میں عربی زبان کے اسالیب کی رعایت ضروری ہے۔ ساتھ ہی مآخذ اور قائلین کی تاریخی ترتیب بھی نظر میں رکھنا مناسب ہے، تاکہ ایک کے دوسرے سے اخذ و استفادے کا پتا چلایا جا سکے۔
اوپر جس طریقۂ کار کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا تعلق تمام اسلامی علوم اور فنون و موضوعات سے ہے۔ ہم خواہ تفسیرِ قرآن سے بحث کر رہے ہوں یا حدیث سے، فقہی مباحث ہوں یا اعتقادی، تاریخ و سیرت کے موضوعات ہوں یا زہد و تصوف کے، اسلامی تہذیب و تمدن موضوعِ گفتگو ہو یا اسلامی سیاست و اقتصاد و قانون وغیرہ، لسانیات و ادبیات پر تحقیق مقصود ہو یا مسلمانوں کے فلسفہ و سائنس پر۔ مختصر یہ کہ اسلام سے متعلق کسی بھی موضوع پر کام کرنے کے لیے ان مبادیات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ان کے بغیر جو بھی تحقیق پیش کی جائے گی وہ ادھوری یا غلط ہو گی۔
ہمارے محققین کو اس کا علم ہونا چاہیے کہ کسی بھی اسلامی موضوع پر کام کرنے کے لیے کن بنیادی مآخذ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے، ان سے استفادہ کیسے کیا جائے، ان کا حوالہ کیسے دیا جائے، پچھلے محققین کی اب تک کی تحقیقات کا خلاصہ کیا ہے اور کیا یہ حرفِ آخر ہے یا ابھی مزید بحث کی گنجایش باقی ہے؟ یہ اور ان جیسے دیگر سوالات کسی بھی موضوع پر تحقیق کرنے والے کے پیشِ نظر ہونے چاہئیں۔‘‘
بعد ازیں شیخ محترم نے اس مضمون میں پہلے تو جناب انصاری صاحب کی تحریر میں موجود غلطیوں پر گرفت کی ہے اور پھر اس مصطلح کے جواز پر دسیوں تفاسیر، کتبِ احادیث، لغت و ادب اور علماء و فقہاء کے اقوال کی روشنی میں اپنی تحریر کو مدلل کیا ہے جو قابلِ دید بھی ہے اور قابلِ داد بھی۔
اسی طرح اپنے ایک دوسرے مضمون میں، جو ’’مجموعہ ابو الکلام آزاد‘‘سے متعلق ہے اور ہمارے اس مجموعے میں بھی شامل ہے، محققین کے لیے تدوینِ متن کے اصول و ضوابط بیان کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’کسی بھی مفکر ، ادیب یا شاعر کا مجموعہ تیارکرنے اور اس کا مستند متن مدون کرتے وقت حسبِ ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے :
(۱)اس کی تمام تحریروں کی (خواہ مطبوعہ ہوں یا قلمی) ایک مکمل فہرست تیار کی جا ئے ۔ قدیم ترین مطبوعات اور دستیاب مخطوطات جمع کیے جائیں ۔ انھیں تاریخی ترتیب پر مرتب کیا جائے ۔
(۲)دستیاب شدہ تمام تحریریں جمع کرنے کے بعد ان کے مختلف قلمی اور اہم مطبوعہ نسخوں کا جائزہ لیا جائے۔ اگر بخطِ مصنف کوئی مسودہ یا مبیضہ مل جائے یا اس کے زیرِ استعمال مطبوعہ نسخہ حاصل ہوجائے جس میں جا بہ جا تصحیحات و اضافات اس کے قلم سے ہوں، ایسے نسخے تدوین کے وقت سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ہوں گے ۔
(۳)کسی تحریر کا قدیم ترین مطبوعہ یا مصنف کا نظر ثانی شدہ ایڈیشن یا اس کا بخطِ مصنف قلمی نسخہ یا دیگر اچھے قلمی نسخے مل جائیں تو اُن کے تقابل کے بعد نسخوں کے درمیان اختلافات کا بیان بھی حاشیے میں ہو۔
(۴)مجموعے کے شروع میں ہر تحریر و تصنیف اور اس کے قلمی و مطبوعہ نسخوں کا تعارف اور اس کی قدر وقیمت اور اہمیت کا تذکرہ ہو ۔
(۵)حواشی میں متن سے متعلق بعض ضروری امور کی وضاحت ، اس میں مذکورہ آیات، احادیث، اشعار، واقعات اور کتابوں کے اقتباسات کی توثیق اور تخریج بھی محقق کا اہم فریضہ ہے ۔
(۶)مجموعے یا کتاب کے اخیر میں ضروری فہرستیں اور اشاریے بھی دیے جائیں، تاکہ کتاب سے استفادہ آسان ہو ۔
یہ چند ضروری کام ہیں جن سے ہر محقق کو واقف ہونا چاہیے اور تدوین کا کام کرنے سے پہلے دیکھنا چاہیے کہ اس کے اندر ان تمام مراحل سے عہدہ برآ ہونے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔‘‘
ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ شیخِ محترم کی نگارشات کے چند امتیازی پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
(۱)شیخ محترم کے یہاں موضوع کے انتخاب میں اس کی واقعی ضرورت اور علمی افادیت ایک نمایاں صفت نظر آتی ہے۔ یہ بات آپ کی تحریرات کے جملہ عناوین سے بہ خوبی عیاں ہے اور درحقیقت یہی ایک محقق کی بنیادی صفت ہے کہ وہ کسی موضوع کی ضرورت و اہمیت ہی کے پیشِ نظر اس پر خامہ فرسائی کرتا ہے۔
(۲)تحقیق و تصنیف کے لیے کسی موضوع کے انتخاب کے بعد اگلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ اسے لکھتے ہوئے معلومات کی ترتیب، تحریر کی زبان، بنیادی مصادر سے استفادہ ، ثانوی مآخذ سے تائید و تاکید اور اس موضوع سے متعلق پہلے سے لکھے ہوئے مواد پر بھی گہری نظر ہو اور حسبِ ضرورت ان سے استفادہ اور ان پر نقد و تبصرہ بھی جاری رہے۔ یہ وہ بنیادی خوبیاں ہیں جو کسی بھی تحریر کو مفید و محکم بناتی ہیں اور قارئین دیکھیں گے کہ اس مجموعے میں شامل شیخِ محترم کی جملہ نگارشات انھی صفات کی حامل ہیں اور ہمیں جا بہ جا یہ سبھی امتیازی پہلو ان مضامین میں نظر آئیں گے۔
(۳)کسی نئی تحریر کی افادیت میں اسی طور اضافہ ہوتا اور وہ پڑھنے والوں پر دیرپا اثر چھوڑتی ہے کہ لکھنے والے نے اس میں کیا اضافی معلومات پیش کی ہیں اور اس موضوع سے متعلق پہلی قلمی کاوشوں میں کیا خلل تھا جس کی تلافی اب کی گئی ہے۔ اس نقطۂ نظر سے جب ہم شیخ محترم کی نگارشات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ان میں یہ امتیازی وصف بھی نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی جملہ تحریرات میں اضافی معلومات اور زیرِ بحث مسئلے کے نئے نئے افق وا کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ نے جب علامہ عظیم آبادی کے قلمی فتاویٰ کو بڑی عرق ریزی سے مدون کیا تو اس کے آغاز میں ایک مفصل علمی مقدمہ بھی لکھا جس میں فتاویٰ کے لغوی و اصطلاحی مباحث سے لے کر ہر دور کے مطبوع و غیر مطبوع ذخیرۂ فتاویٰ اور ان کے اسالیب و مزایا کا بھرپور تذکرہ کیا، اور پھر علمائے اہلِ حدیث کی کتبِ فتاویٰ اور امتیازی صفات کا بھی احاطہ کیا جس سے قارئین کی معلومات میں اضافہ تو ہوتا ہی ہے ساتھ میں ان مصادر کی علمی و استنادی حیثیت بھی نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔ بلاشبہ یہ اپنے موضوع پر ایک جامع اور راہنما تحریر ہے۔ اس کی افادیت اور مقبولیت کا اندازہ لگانے کے لیےیہی امر کافی ہے کہ اس کے معرضِ تحریر میں آنے کے بعد ہند و پاک میں کئی لوگوں نے اسے اپنے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے آغاز میں درج کیا اور کئی مجلات و رسائل نے شائع کیا۔ بلکہ بعض لوگوں نے جب اس موضوع پر لکھنا چاہا تو شیخ محترم ہی کی اس تحریر کا چربہ تیار کیا اور معمولی رد و بدل کے ساتھ اسے اپنی طرف منسوب کر لیا۔ ان گزارشات سے مقصودیہ ہے کہ آپ کے ایسے مفید اور تحقیقی مقالات نے قارئین کے وسیع حلقے کو متاثر کیا اور ہند و پاک میں اہلِ علم نے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
(۴)اﷲ تعالیٰ نے شیخِ محترم کو وسعتِ مطالعہ اور دقتِ نظری سے نوازا ہے، چنانچہ جب آپ کسی بھی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو اس کے متعلق بیسیوں مصادر آپ کے پیشِ نگاہ ہوتے ہیں اور ہر ایک جزء کو مدلل طور پر پیش کرتے ہیں۔ آپ نے ’’خلیفۃ اﷲ‘‘ کے جواز پر اپنے مضمون میں خلیفہ اور خلافت کے لغوی و اصطلاحی معنی کی تحقیق کے پیشِ نظر۳۸ قدیم و جدید تفاسیر کو دیکھا اور ان مآخذ کو باحوالہ درج کیا ہے۔ جبکہ اسی موضوع پر عقیدہ، حدیث، فقہ، تاریخ اور ادب کے جو بیسیوں مصادر آپ کے سامنے رہے وہ ان سے علاحدہ ہیں۔ اسی طرح ’’علامہ شمس الحق عظیم آبادی، حیات و خدمات‘‘، ’’دفاع صحیح بخاری‘‘، ’’اللمحات‘‘ اور ’’زیارتِ قبر نبوی‘‘ کے مقدمات میں جس طرح بیسیوں مصادر کا تاریخی تسلسل کے ساتھ تذکرہ و تجزیہ کیا ہے، پڑھنے والا مبہوت ہو کر رہ جاتا اور اپنے دامن کو بیش بہا معلومات سے بھرتا ہے۔
(۵)کسی موضوع پر لکھتے ہوئے آپ صرف مطبوعہ مواد ہی نہیں دیکھتے، بلکہ اس موضوع سے متعلق مخطوطات اور قلمی نسخوں پر بھی آپ کی نظر ہوتی ہے اور اپنی تحریر میں ان سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں جس کی مثالیں آپ کی ہر تحریر میں موجود ہیں۔
(۶)شیخِ محترم کو اﷲ تعالیٰ نے سبھی علوم و فنون میں گہرائی اور گیرائی سے نوازا ہے۔ جس موضوع پر بھی آپ قلم اٹھاتے ہیں اس سے متعلقہ حصولِ مواد کے لیے آپ سبھی علوم کے متنوع مراجع کھنگالتے ہیں اور ہر فن کے بنیادی مصادر کی مدد زیرِ بحث مسئلے سے متعلق تمام مفید معلومات یکجا کر دیتے ہیں۔
(۷)آپ کے بعض مقالات تنقید و تبصرہ پر مشتمل ہیں جن میں کسی کتاب یا مضمون پر نقد ہے اور اس کی علمی و منہجی اغلاط کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بھی آپ کے یہاں نقد و تبصرہ کی علمی روایات نمایاں نظر آتی ہیں اور کسی شخص کی اہانت و تحقیر سے مکمل احتراز برتتے ہیں جو بلاشبہ نوآموز محققین اور طلبائے علم کے لیے ایک راہنما امر ہے۔
(۸)شیخِ محترم اپنی تمام تحریرات میں اظہارِ مدعا کے لیے آسان الفاظ اور سادہ اسلوب اختیار کرتے ہیں جس سے تمام لوگ بہ آسانی استفادہ کر سکتے ہیں اور تحریر کی موضوعیت و مقصدیت کو سمجھنے میں قارئین کوئی ابہام اور پیچیدگی محسوس نہیں کرتے۔
سطورِ بالا میں ہم نے اختصار کے ساتھ شیخ محترم کی تحریر میں موجود چند امتیازی پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے اور طوالت کے پیشِ نظر ان کی مثالیں پیش کرنے سے صرفِ نظر کیا ہے۔ حقیقی بات یہ ہے کہ یہی وہ اسباب تھے جن کی بنا پر ہم نے ان منتشر نگارشات کی ترتیب و اشاعت کی ضرورت سمجھی اور اسے قارئین کی خدمت میں یکجا پیش کرنے کا تہیہ کیا۔
زیرِ نظر مجموعہ مقالات میں شیخ محترم کے ادب و تاریخ اور بعض موضوعات سے متعلق زیادہ تر وہی مضامین شامل ہیں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں، تاہم ان میں چند ایک غیر مطبوع تحریریں بھی ہیں جو قلمی شکل میں محفوظ تھیں اور ابھی تک ان کی اشاعت کی نوبت نہیں آئی۔ بنا بریں ہم نے ان تمام نگارشات کی علمی اہمیت کے پیشِ نظر شیخ محترم سے گزارش کی کہ ان بکھرے موتیوں کو ایک لڑی میں پرو کر شائقین کے لیے استفادہ ممکن بنانا چاہیے جس پر آپ نے آمادگی کا اظہار کیا اور ان منتشر تحریروں کو خود بھی جمع کیا اور جس طریقے سے ان کا حصول ممکن تھا، ہم نے بھی اپنے تئیں اس کی بھرپور کوشش کی اور یوں ہم قارئین کے سامنے اس اولین مجموعے کے توسط سے شیخ محترم کے ۴۵ مقالات و مضامین کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مجموعہ مقالات کی اس جلد میں شیخ محترم کے علمی و فقہی موضوعات پر لکھے ہوئے مضامین شامل نہیں ہیں۔ وہ بھی ان شاء اﷲ جلد ہی اس مجموعے کے اگلے حصے میں پیش کیے جائیں گے، فی الحال اس جلد میں آپ کے عمومی مقالات، مختلف کتب پر علمی مقدمات، وفیات اور تنقیدی تحریریں شامل کی گئی ہیں جو چار حصوں میں منقسم ہیں:
(۱)مقالات: اس حصے میں۱۳ مضامین ہیں جن میں سے کچھ تو بعض شخصیات کے سوانح اور علمی خدمات سے متعلق ہیں، جیسا کہ ’’مولانا شمس الحق عظیم آبادی؛ حیات اور خدمات‘‘، ’’مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ کی تفسیری خدمات‘‘، ’’مولانا عطاء اﷲ حنیف بھوجیانیؒ کی علمی خدمات اور ان کا طریقۂ تحقیق‘‘، اور امام ابن تیمیہ اور علامہ شبلی جیسی تحریریں ہیں، جبکہ دیگر مقالات عربی و اردو ادب سے متعلق ہیں جن میں: ’’غزالی یا غزَّالی‘‘، ’’برصغیر میں عربی زبان اور ادب کی تعلیم‘‘، ’’عربی سیکھنے والوں کے لیے چند مشورے‘‘، ’’حالی اور ابن رشیق (ایک غلط فہمی کا ازالہ)‘‘، ’’قصیدہ ’بَانَتْ سُعَادُ‘ کا استناد‘‘ اور ’’مسدسِ حالی ؔاور اس کے اثرات‘‘ شامل ہیں۔ ’’عربی مدارس کے نصابِ تعلیم وغیرہ سے متعلق چند تجاویز‘‘ کے نام سے نہایت اہم مضمون بھی اسی باب کا حصہ ہے۔ ایک مضمون ’’انگلیوں پر گننے کا پرانا طریقہ‘‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ نیز اسی حصے میں’’ذخیرۂ حدیث کی تدوین‘‘ کے موضوع پر بھی ایک مضمون ہے جس میں تدوینِ حدیث کا تذکرہ اور محدثین کی خدمات اجاگر کی ہیں اور ترکی میں سرکاری سرپرستی میں ہونے والی تدوینِ حدیث کے نام پر ایک فسوں کاری کا جائزہ لیا ہے۔
(۲)مقدمات: اس حصے میں شیخ محترم کے وہ علمی مقدمات شامل ہیں جو آپ نے عقیدہ، حدیث، فقہ، فتاویٰ، سیرت و سوانح سے متعلق مختلف کتب پر تحریر کیے ہیں۔ ان کی تعداد بھی۱۳ ہے۔ شیخ محترم کے ان مقدمات و تقریظات کا امتیازی وصف یہ ہے کہ آپ زیرِ بحث موضوع کا پس منظر، اسباب و علل، تاریخی تفصیلات اور قدیم و جدید مصادر پر یوں روشنی ڈالتے اور حقائق کی تصویر کشی کرتے ہیں کہ وہ پڑھنے والے کے ذہن میں راسخ ہو ہو جاتے ہیں اور قاری آپ کی طویل ترین تحریر سے بھی کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ جیسا کہ ’’مولانا شمس الحق عظیم آبادیؒ؛ حیات اور خدمات‘‘، ’’فتاویٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادیؒ‘‘، ’’دفاعِ صحیح بخاری‘‘، ’’زیارتِ قبر نبوی‘‘، ’’اللمحات‘‘ اور ’’تنویر العینین‘‘ وغیرہ کتب پر آپ کے مفصل و مدلل مقدمات سے عیاں ہوتا ہے۔
(۳)تنقید و تبصرہ: اس باب میں شیخ محترم کے ۱۳ تنقیدی مضامین شامل ہیں جو زیادہ تر بعض کتب سے متعلق ہیں اور بعض تحریریں کچھ مضامین کے تعاقب میں لکھی گئی ہیں۔ ان میں کچھ تحریریں تو انتہائی مفصل ہیں اور بعض اختصار کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔
(۴)وفیات: اس ضمن میں۶مضامین مندرج ہیں جو آپ نے اپنے چار جلیل القدر اساتذہ: مولانا شمس الحق سلفی (والد مکرم)، مولانا عبدالنور (نور عظیم) ندوی، مولانا صفی الرحمان مبارک پوری، ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری اور دو معاصر علما: پروفیسر عبدالجبار شاکر اور حافظ زبیر علی زئی رحمہم اللہ کی وفات پر سپردِ قلم کیے ہیں۔
اسلوبِ ترتیب:
– اس مجموعے میں شامل مضامین کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر حصے میں شامل مقالات عموماً تاریخِ اشاعت و کتابت کی ترتیب پر درج کیے گئے ہیں۔
– ہم نے ان نگارشات میں کسی قسم کا ردّ و بدل نہیں کیا، بلکہ جیسے ان کی اشاعت ہوئی اسی طرح انھیں اس مجموعے میں شامل کیا ہے، البتہ بعض مقامات پر ان مضامین کو کتابی شکل دینے کے لیے چند الفاظ کا حک و اضافہ ناگزیر تھا جو مولفِ محترم کی اجازت و اطلاع کے بعد شامل کیا گیا ہے۔
– کچھ مقامات پر بعض معلومات کی تصحیح و توضیح کی خاطر مختصر حواشی بھی لکھے گئے ہیں جنھیں شیخِ محترم کی مراجعت کے بعد ہم نے درج کیا ہے۔
– ہم نے اپنے تئیں بھرپور کوشش کی ہے کہ یہ مجموعہ لفظی و طباعتی اغلاط سے محفوظ رہے، بلکہ جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی اصل مصادر کی مدد سے عبارات کی تصحیح کی پوری سعی کی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی غلطی کی اطلاع دینے پر ہم قارئین کے مشکور ہوں گے اور آیندہ اِڈیشن میں ضرور اس کی تصحیح کریں گے۔
– اس مجموعے کی مراجعت و تصحیح اور اشاعت میں ہر قدم پر ہم نے شیخ محترم سے مسلسل مشاورت اور رابطہ بھی استوار رکھا، تاکہ یہ جملہ امور ان کے حسبِ منشا ہی انجام پاتے رہیں۔ ہم شیخِ محترم کے شکر گزار ہیں کہ انھوں نے کثرتِ مشاغل کے باوجود ہمیں بھرپور وقت دیا اور جہاں کسی امر کی توضیح کی بابت ان سے استفسار کیا گیا، انھوں نے برابر ہماری راہنمائی کی۔ اﷲ تعالیٰ شیخِ محترم کو صحت و عافیت سے نوازے اور ایمان و تونگری والی طویل زندگی سے سرفراز فرما کر یوں ہی دینِ حنیف کی خدمت کی توفیق دیتا رہے۔ آمین یا رب العالمین
علاوہ ازیں ہم اس مجموعے کی اشاعت میں حصہ لینے والے تمام معاونین کے بھی شکر گزار ہیں۔ بالخصوص دار ابی الطیب گوجرانوالہ کے کارپردازان فضیلۃ الشیخ فلاح خالد المطیری حفظہ اللہ (رئیس لجنۃ القارۃ الہندیہ، کویت) اور محترم المقام مولانا عارف جاوید محمدی حفظہ اللہ (مدیر مرکز دعوۃ الجالیات، کویت) ہمارے خصوصی شکریے کے سزاوار ہیں جن کے تعاون اور سرپرستی کی وجہ سے یہ کتاب قارئین کے ہاتھوں میں پہنچی۔
بحمد اﷲ تعالیٰ جب سے ’’دار ابی الطیب‘‘ (گوجرانوالہ) کا قیام عمل میں آیا ہے، اکابر علمائے اہلِ حدیث کی ۵۰ سے زائد نایاب تصنیفات اور نوادرات کا وسیع ذخیرہ زیورِ طبع سے آراستہ ہو کر قارئین کے ہاتھوں میں پہنچ چکا ہے جن میں کئی مستقل تصانیف کے علاوہ متعدد اصحابِ علم و فضل کے متفرق رسائل اور مقالات کے کئی ایک مجموعہ جات بھی شامل ہیں، جیسا کہ امام العصر نواب صدیق حسن خان کا ’’مجموعہ رسائل عقیدہ‘‘ (۱۵؍رسائل)، ’’مجموعہ علوم قرآن‘‘ (۴؍ رسائل)، ’’تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان‘‘، ’’مجموعہ مقالات و فتاویٰ علامہ شمس الحق عظیم آبادی‘‘ (۶؍ رسائل و متفرق فتاویٰ)، ’’مجموعہ فتاویٰ حافظ محمد عبداﷲ محدث غازی پوری‘‘، ’’مجموعہ رسائل حافظ محمد عبداﷲ محدث غازی پوری‘‘ (۱۱؍ رسائل)، ’’مجموعہ فتاویٰ علامہ عبدالرحمن مبارک پوری‘‘ اور ’’مجموعہ رسائل مولانا احمد دین گکھڑوی‘‘ (۵؍ رسائل و متفرق تحریریں) قابلِ ذکر ہیں۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس ادارے کے بانیان اور جملہ خدمت گاران کو یوں ہی توفیق سے نوازتا رہے اور ہمیں اس کے توسط سے خدمتِ دین اور دفاعِ توحید و سنت کی سعادت مرحمت فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین
والسلام
حافظ شاہد رفیق
1441/2/28ھ = 2019/10/28ء

حاشیہ:
(۱)شیخ عزیرحفظہ اللہ وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے علامہ عظیم آبادی کی حیات و خدمات پر پوری جامعیت کے ساتھ اصیل مصادر اور مستند مراجع کی مدد سے مفصل مقالہ لکھا۔ بعد میں یہی مضمون علامہ عظیم آبادی کے سوانح پر آپ کی اردو و عربی زبانوں میں الگ الگ تصنیف کی بنیاد بنا۔ بحمد اﷲیہ دونوں کتابیں مطبوع ہیں اور آپ کے بعد جس نے بھی اس موضوع پر قلم اٹھایا، انھی کی خوشہ چینی کی اور بہت کم اس پر کوئی اضافہ کر سکا۔ علاوہ ازیں شیخ محترم نے علامہ عظیم آبادی کی بے نظیر تالیف’’غایۃ المقصود شرح سنن أبي داود‘‘اور ان کے دیگر پندرہ رسائل کی بھی تدوین کی ہے جن میں کچھ رسائل کی تعریب بھی شامل ہے۔ امید ہے یہ مجموعہ بھی جلد شائع ہو گا۔
 

Attachments

Top